আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عثمان (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০ টি

হাদীস নং: ৩৯৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے ایک مرتبہ حضرت ابان بن عثمان (رض) سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ کیا محرم آنکھوں میں سرمہ لگا سکتا ہے ؟ انہوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو نبی ﷺ کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُكَحِّلُ عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ أَوْ بِأَيِّ شَيْءٍ يُكَحِّلُهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ يُضَمِّدَهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنِّي سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اس بات کا یقین رکھتا ہو کہ نماز برحق اور واجب ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَلِمَ أَنَّ الصَّلَاةَ حَقٌّ وَاجِبٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) حج کے ارادے سے نکلے، جب راستے کا کچھ حصہ طے کرچکے تو کسی نے حضرت علی (رض) سے جا کر کہا کہ حضرت عثمان (رض) نے حج تمتع سے منع کیا ہے، یہ سن کر حضرت علی (رض) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا جب وہ روانہ ہوں تو تم بھی کوچ کرو، چناچہ حضرت علی (رض) اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا احرام باندھا، حضرت عثمان غنی (رض) کو پتہ چلا تو انہوں نے حضرت علی (رض) سے اس سلسلے میں کوئی بات نہ کی، بلکہ حضرت علی (رض) نے خود ہی ان سے پوچھا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ حج تمتع سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت علی (رض) نے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے حج تمتع نہیں کیا تھا ؟ راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ حضرت عثمان (رض) نے انہیں کیا جواب دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو مَعْشَرٍ يَعْنِي الْبَرَّاءَ وَاسْمُهُ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْمَلَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَجَّ عُثْمَانُ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرَ عَلِيٌّ أَنَّ عُثْمَانَ نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَصْحَابِهِ إِذَا رَاحَ فَرُوحُوا فَأَهَلَّ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِعُمْرَةٍ فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ عُثْمَانُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ نَهَيْتَ عَنْ التَّمَتُّعِ أَلَمْ يَتَمَتَّعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا أَدْرِي مَا أَجَابَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، ابھی ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمر (رض) کا غلام جس کا نام " یرفا " تھا اندر آیا اور کہنے لگا کہ حضرت عثمان، عبدالرحمن، سعد اور حضرت زبیر بن عوام (رض) اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ فرمایا بلا لو، تھوڑی دیر بعد وہ غلام پھر آیا اور کہنے لگا کہ حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں ؟ فرمایا انہیں بھی بلا لو۔ حضرت عباس (رض) نے اندر داخل ہوتے ہی فرمایا امیرالمومنین ! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، اس وقت ان کا جھگڑا بنو نضیر سے حاصل ہونے والے مال فئی کے بارے تھا، لوگوں نے بھی کہا کہ امیرالمومنین ! ان کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور ہر ایک کو دوسرے سے نجات عطاء فرمائیے کیونکہ اب ان کا جھگڑا بڑھتا ہی جارہا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ؟ لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، پھر انہوں نے حضرت عباس علی (رض) سے بھی یہی سوال پوچھا اور انہوں نے بھی تائید کی، اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کرتا ہوں۔ اللہ نے یہ مال فئی خصوصیت کے ساتھ صرف نبی ﷺ کو دیا تھا، کسی کو اس میں سے کچھ نہیں دیا تھا اور فرمایا تھا وماافاء اللہ علی رسول منہم فما اوجفتم علیہ من خیل ولارکاب اس لئے یہ نبی ﷺ کے لئے خاص تھا، لیکن بخدا ! انہوں نے تمہیں چھوڑ کر اسے اپنے لئے محفوظ نہیں کیا اور نہ ہی اس مال کو تم پر ترجیح دی انہوں نے یہ مال بھی تمہارے درمیان تقسیم کردیا یہاں تک کہ یہ تھوڑا سا بچ گیا جس میں سے وہ اپنے اہل خانہ کو سال بھر کا نفقہ دیا کرتے تھے اور اس میں سے بھی اگر کچھ بچ جاتا تو اسے کے راستہ میں تقسیم کردیتے، جب نبی ﷺ کا وصال ہوگیا تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بعد ان کے مال کا ذمہ دار اور سرپرست میں ہوں اور میں اس میں وہی طریقہ اختیار کروں گا جس پر نبی ﷺ چلتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ إِذْ جَاءَهُ مَوْلَاهُ يَرْفَأُ فَقَالَ هَذَا عُثْمَانُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَسَعْدٌ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ طَلْحَةَ أَمْ لَا يَسْتَأْذِنُونَ عَلَيْكَ قَالَ ائْذَنْ لَهُمْ ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ هَذَا الْعَبَّاسُ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَأْذِنَانِ عَلَيْكَ قَالَ ائْذَنْ لَهُمَا فَلَمَّا دَخَلَ الْعَبَّاسُ قَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا وَهُمَا حِينَئِذٍ يَخْتَصِمَانِ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ فَقَالَ الْقَوْمُ اقْضِ بَيْنَهُمَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَأَرِحْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ صَاحِبِهِ فَقَدْ طَالَتْ خُصُومَتُهُمَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا قَدْ قَالَ ذَلِكَ وَقَالَ لَهُمَا مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَأُخْبِرُكُمْ عَنْ هَذَا الْفَيْءِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَصَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ بِشَيْءٍ لَمْ يُعْطِهِ غَيْرَهُ فَقَالَ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً وَاللَّهِ مَا احْتَازَهَا دُونَكُمْ وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ لَقَدْ قَسَمَهَا بَيْنَكُمْ وَبَثَّهَا فِيكُمْ حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهُ أَعْمَلُ فِيهَا بِمَا كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابان بن عثمان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ میں نے بھی اس موقع پر نبی ﷺ کو کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ إِلَيْهَا وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابوعبید (رح) کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت عثمان غنی (رض) اور حضرت علی (رض) کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حمران جو حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں پر تین مرتبہ پانی بہایا، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ کلی کی اور مکمل حدیث ذکر کی جو پیچھے گذر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي يَوْمِ الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ يُصَلِّيَانِ ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ فَيُذَكِّرَانِ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ يَتَوَضَّأُ فَأَهْرَاقَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) نے ایک مرتبہ اپنے پاس موجود حضرات سے فرمایا کہ کیا میں آپ کو نبی ﷺ کی طرح وضو کر کے نہ دکھاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ! چناچہ انہوں نے پانی منگوایا، تین مرتبہ کلی بھی کی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرے کو دھویا، تین تین مرتبہ دونوں بازؤوں کو دھویا، سر کا مسح کیا اور پاؤں دھوئے، پھر فرمایا کہ جان لو کہ کان سر کا حصہ ہیں پھر فرمایا میں نے خوب احتیاط سے تمہارے سامنے نبی ﷺ کی طرح وضو پیش کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ قَبِيصَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَلَا أُرِيكُمْ كَيْفَ كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا بَلَى فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ وَاعْلَمُوا أَنَّ الْأُذُنَيْنِ مِنْ الرَّأْسِ ثُمَّ قَالَ قَدْ تَحَرَّيْتُ لَكُمْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عثمان (رض) کے پاس تھے، انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیا اور فراغت کے بعد مسکرانے لگے اور فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو، میں کیوں ہنس رہا ہوں ؟ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے بھی اسی طرح وضو کیا تھا جیسے میں نے کیا اور آپ ﷺ بھی مسکرائے تھے اور دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم جانتے ہو، میں کیوں ہنس رہا ہوں ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، فرمایا جب بندہ وضو کرتا ہے اور کامل وضو کر کے نماز شروع کرتا ہے اور کامل نماز پڑھتا ہے تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد وہ ایسے ہوجاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے جنم لے کر آیا ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِىِّ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ تَبَسَّمَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّا ضَحِكْتُ قَالَ فَقَالَ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ تَبَسَّمَ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ ضَحِكْتُ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَتَمَّ وُضُوءَهُ ثُمَّ دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ فَأَتَمَّ صَلَاتَهُ خَرَجَ مِنْ صَلَاتِهِ كَمَا خَرَجَ مِنْ بَطْنِ أُمِّهِ مِنْ الذُّنُوبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی (رض) اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے ان سے کچھ کہا ہوگا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ نبی ﷺ نے اس طرح کیا ہے پھر بھی اس سے روکتے ہیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا بات تو ٹھیک ہے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں ) ۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يَقُولُ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُفْتِي بِهَا فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَوْلًا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَا كَانَ خَوْفُهُمْ قَالَ لَا أَدْرِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) لوگوں کو حج تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی (رض) اس کے جواز کا فتوی دیتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے ان سے کچھ کہا ہوگا تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ آپ جانتے بھی ہیں کہ نبی ﷺ نے اس طرح کیا ہے پھر بھی اس سے روکتے ہیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا بات تو ٹھیک ہے، لیکن ہمیں اندیشہ ہے (کہ لوگ رات کو بیویوں کے قریب جائیں اور صبح کو غسل جنابت کے پانی سے گیلے ہوں اور حج کا احرام باندھ لیں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِعَلِيٍّ قَوْلًا ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے، ایسا نہیں کہ بخل کی وجہ سے میں اسے تمہارے سامنے بیان نہ کروں گا، میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کی پہرہ داری کرنا ایک ہزار راتوں کے قیام لیل اور صیام نہار سے بڑھ کر افضل ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ إِلَّا الضِّنُّ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا وَيُصَامُ نَهَارُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر میں حصہ لیتا ہے، اللہ اس کے لئے اسی طرح کا ایک گھر جنت میں تعمیر کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابوعبید (رح) کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت عثمان غنی (رض) اور حضرت علی (رض) کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ قَالَ وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
اور میں نے حضرت علی (رض) کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے۔
قَالَ و سَمِعْت عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
محمد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ابن دارہ کے پاس آیا، ان کے کانوں میں میرے کلی کرنے کی آواز گئی تو میرا نام لے کر مجھے پکارا، میں نے لبیک کہا، انہوں نے کہا کہ کیا میں آپ کو نبی ﷺ کی طرح وضو کا طریقہ نہ بتاؤں ؟ میں نے حضرت عثمان (رض) کو بنچ پر بیٹھ کر وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے جس میں انہوں نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ اور تین تین مرتبہ دونوں بازو دھوئے، سر کا مسح تین مرتبہ (اور اکثر روایات کے مطابق ایک مرتبہ) کیا اور پاؤں دھولیے، پھر فرمایا کہ جو شخص نبی ﷺ کا طریقہ وضو دیکھنا چاہتا ہے، وہ جان لے کہ نبی ﷺ اسی طرح وضو فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ دَارَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ فَسَمِعَنِي أُمَضْمِضُ قَالَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْمَقَاعِدِ دَعَا بِوَضُوءٍ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ بن سہل (رض) سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی (رض) اپنے گھر میں محصور تھے، ہم ان کے ساتھ ہی تھے تھوڑی دیر کے لئے وہ کسی کمرے میں داخل ہوئے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کو بھی ان کی بات سنائی دیتی تھی، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لا کر فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے، ہم نے عرض کیا کہ امیرالمومنین ! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا۔ حضرت عثمان غنی (رض) فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کردیا جائے، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ فَدَخَلَ مَدْخَلًا كَانَ إِذَا دَخَلَهُ يَسْمَعُ كَلَامَهُ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ قَالَ فَدَخَلَ ذَلِكَ الْمَدْخَلَ وَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّهُمْ يَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ وَبِمَ يَقْتُلُونَنِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا فَوَاللَّهِ مَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا فِي إِسْلَامٍ قَطُّ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونَنِي حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ إِنِّي لَمَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ وَقَالَ كُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ وَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
سالم بن ابی الجعد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے چند صحابہ کرام (رض) کو بلایاجن میں حضرت عمار بن یاسر (رض) بھی تھے اور فرمایا کہ میں آپ لوگوں سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں اور آپ سے چند باتوں کی تصدیق کروانا چاہتا ہوں، میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ نہیں جانتے کہ نبی ﷺ دوسرے لوگوں کی نسبت قریش کو ترجیح دیتے تھے اور بنو ہاشم کو تمام قریش پر ؟ لوگ خاموش رہے۔ حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا کہ اگر میرے ہاتھ میں جنت کی چابیاں ہوں تو میں وہ بنو امیہ کودے دوں تاکہ وہ سب کے سب جنت میں داخل ہوجائیں (قرابت داروں سے تعلق ہونا ایک فطری چیز ہے، یہ دراصل اس سوال کا جواب تھا جو لوگ حضرت عثمان غنی (رض) پر اقرباء پروری کے سلسلے میں کرتے تھے) اس کے بعد انہوں نے حضرت طلحہ (رض) اور حضرت زبیر (رض) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں آپ کو ان کی یعنی حضرت عمار (رض) کی کچھ باتیں بتاؤں ؟ میں نبی ﷺ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے چلتا چلتا وادی بطحاء میں پہنچا، یہاں تک کہ نبی ﷺ ان کے والدین کے پاس جا پہنچے، وہاں انہیں مختلف سزائیں دی جا رہی تھیں، عمار کے والد نے نبی ﷺ کو دیکھ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم ہمیشہ اسی طرح رہیں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تھا صبر کرو، پھر دعاء فرمائی اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما، میں بھی اب صبر کر رہا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ دَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكُمْ وَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَصْدُقُونِي نَشَدْتُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْثِرُ قُرَيْشًا عَلَى سَائِرِ النَّاسِ وَيُؤْثِرُ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى سَائِرِ قُرَيْشٍ فَسَكَتَ الْقَوْمُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ أَنَّ بِيَدِي مَفَاتِيحَ الْجَنَّةِ لَأَعْطَيْتُهَا بَنِي أُمَيَّةَ حَتَّى يَدْخُلُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ فَبَعَثَ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا عَنْهُ يَعْنِي عَمَّارًا أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِذًا بِيَدِي نَتَمَشَّى فِي الْبَطْحَاءِ حَتَّى أَتَى عَلَى أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَعَلَيْهِ يُعَذَّبُونَ فَقَالَ أَبُو عَمَّارٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ الدَّهْرَ هَكَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِآلِ يَاسِرٍ وَقَدْ فَعَلْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گھر کے سائے، خشک روٹی کے ٹکڑے، شرمگاہ کو چھپانے کی بقدر کپڑے اور پانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں ان میں سے کسی ایک میں بھی انسان کا استحقاق نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنِي حُمْرَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ شَيْءٍ سِوَى ظِلِّ بَيْتٍ وَجِلْفِ الْخُبْزِ وَثَوْبٍ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَالْمَاءِ فَمَا فَضَلَ عَنْ هَذَا فَلَيْسَ لِابْنِ آدَمَ فِيهِ حَقٌّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عثمان غنی (رض) کو مسجد کے باب ثانی کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، انہوں نے شانے کا گوشت منگوایا اور اس کی ہڈی سے گوشت اتار کر کھانے لگے، پھر یوں ہی کھڑے ہو کر تازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھ لی اور فرمایا میں نبی ﷺ کی طرح بیٹھا، نبی ﷺ نے جو کھایا، وہی کھایا اور جو نبی ﷺ نے کیا، وہی میں نے بھی کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ شَيْخٍ مِنْ ثَقِيفٍ ذَكَرَهُ حُمَيْدٌ بِصَلَاحٍ ذَكَرَ أَنَّ عَمَّهُ أخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَسَ عَلَى الْبَابِ الثَّانِي مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِكَتِفٍ فَتَعَرَّقَهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ قَالَ جَلَسْتُ مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْتُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ ایام حج میں حضرت عثمان غنی (رض) نے منیٰ کے میدان میں فرمایا لوگو ! میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری عام حالات میں ایک ہزار دن سے افضل ہے، اس لئے جو شخص جس طرح چاہے، اس میں حصہ لے، یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بِمِنًى يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ كَيْفَ شَاءَ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
tahqiq

তাহকীক: