আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عثمان (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ৪৩৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ نے حالت احرام میں اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہا تو حضرت ابان (رح) نے اسے روک دیا اور بتایا کہ حضرت عثمان غنی (رض) نبی ﷺ کے حوالے یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ ابْنَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَنَهَاهُ أَبَانُ وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُحْرِمُ لَا يَنْكِحُ وَلَا يُنْكِحُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
رباح کہتے ہیں کہ میرے آقا نے اپنی ایک رومی باندی سے میری شادی کردی، میں اس کے پاس گیا تو اس سے مجھ جیسا ہی ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا، دوبارہ ایسا موقع آیا تو پھر ایک کالا کلوٹا لڑکا پیدا ہوگیا، میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ اتفاق کی بات ہے کہ میری بیوی پر میرے آقا کا ایک رومی غلام عاشق ہوگیا جس کا نام یوحنس تھا، اس نے اسے اپنی زبان میں رام کرلیا، چناچہ اس مرتبہ جو بچہ پیدا ہوا وہ رومیوں کے رنگ کے مشابہ تھا، میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ یوحنس کا بچہ ہے، ہم نے یہ معاملہ حضرت عثمان غنی (رض) کی خدمت میں پیش کیا، انہوں نے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ تمہارے درمیان وہی فیصلہ کروں جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا ؟ نبی ﷺ کا فیصلہ یہ ہے کہ بچہ بستروالے کا ہوگا اور زانی کے لئے پتھر ہیں، پھر حضرت عثمان رضٰ اللہ عنہ نے اس کا نسب نامہ مجھ سے ثابت کردیا اور ان دونوں کو کوڑے مارے اور اس کے بعد بھی اس کے یہاں میرا ایک بیٹاپیدا ہوا جو کالا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنْ رَبَاحٍ قَالَ زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ فَعَلِقَهَا عَبْدٌ رُومِيٌّ يُقَالُ لَهُ يُوحَنَّسُ فَجَعَلَ يُرَاطِنُهَا بِالرُّومِيَّةِ فَحَمَلَتْ وَقَدْ كَانَتْ وَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَجَاءَتْ بِغُلَامٍ وَكَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنْ الْوَزَغَاتِ فَقُلْتُ لَهَا مَا هَذَا فَقَالَتْ هُوَ مِنْ يُوحَنَّسَ فَسَأَلْتُ يُوحَنَّسَ فَاعْتَرَفَ فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَسَأَلَهُمَا ثُمَّ قَالَ سَأَقْضِي بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ فَأَلْحَقَهُ بِي قَالَ فَجَلَدَهُمَا فَوَلَدَتْ لِي بَعْدُ غُلَامًا أَسْوَدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ بن سہل (رض) سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی (رض) اپنے گھر میں محصور تھے، میں ان کے ساتھ ہی تھا تھوڑی دیر کے لئے ہم کسی کمرے میں داخل ہوتے تو چوکی پر بیٹھنے والوں کی بات بھی سنائی دیتی تھی، اسی طرح ایک مرتبہ وہ اس کمرے میں داخل ہوئے، تھوڑی دیر بعد باہر تشریف لائے تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا اور وہ فرمانے لگے کہ ان لوگوں نے مجھے ابھی ابھی قتل کی دھمکی دی ہے، ہم نے عرض کیا کہ امیرالمومنین ! اللہ ان کی طرف سے آپ کی کفایت و حفاظت فرمائے گا۔ حضرت عثمان غنی (رض) فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یاقاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کردیا جائے، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے، میں نے اس دین کے بدلے کسی دوسرے دین کو پسند نہیں کیا، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ وَهُوَ مَحْصُورٌ قَالَ وَكُنَّا نَدْخُلُ مَدْخَلًا إِذَا دَخَلْنَاهُ سَمِعْنَا كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ قَالَ فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا لِحَاجَةٍ فَخَرَجَ إِلَيْنَا مُنْتَقِعًا لَوْنُهُ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا قَالَ قُلْنَا يَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ فَقَالَ وَبِمَ يَقْتُلُونِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا تَمَنَّيْتُ بَدَلًا بِدِينِي مُذْ هَدَانِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَبِمَ يَقْتُلُونِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) فرماتے تھے کہ میں تم سے اگر نبی ﷺ کی احادیث بکثرت بیان نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ میں انہیں یاد نہیں رکھ سکا، بلکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہی کہی اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ح وَسُرَيْجٌ وَحُسَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حُسَيْنُ ابْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ أَوْعَى أَصْحَابِهِ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَقَالَ حُسَيْنٌ أَوْعَى صَحَابَتِهِ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابوصالح جو حضرت عثمان غنی (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو منبر پر دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگو ! میں نے اب تک نبی ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی تاکہ تم لوگ مجھ سے جدا نہ ہوجاؤ لیکن اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم سے بیان کردوں تاکہ ہر آدمی جو مناسب سمجھے، اسے اختیار کرلے، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن کی پہرہ داری، دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ الْقُرَشِيُّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي كَتَمْتُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرَاهِيَةَ تَفَرُّقِكُمْ عَنِّي ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ لِيَخْتَارَ امْرُؤٌ لِنَفْسِهِ مَا بَدَا لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْمَنَازِلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان اپنے گھر سے نکلتے وقت خواہ سفر کے ارادے سے یا ویسے ہی یہ دعاء پڑھ لے بسم اللہ آمنت باللہ، اعتصمت باللہ، توکلت علی اللہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ، تو اسے اس کی خیر عطاء فرمائی جائے گی اور اس نکلنے کے شر سے اس کی حفاظت کی جائے گی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ يُرِيدُ سَفَرًا أَوْ غَيْرَهُ فَقَالَ حِينَ يَخْرُجُ بِسْمِ اللَّهِ آمَنْتُ بِاللَّهِ اعْتَصَمْتُ بِاللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا رُزِقَ خَيْرَ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ وَصُرِفَ عَنْهُ شَرُّ ذَلِكَ الْمَخْرَجِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، سر کا مسح کیا اور پاؤں کو اچھی طرح دھویا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ غَسْلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص حکم الٰہی کے مطابق اچھی طرح مکمل وضو کرے تو فرض نمازیں درمیانی اوقات کے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَأَنَا قَائِمٌ مَعَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَالصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دن یا رات کے آغاز میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لیا کرے اسے اس دن یا رات میں کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الارض و لا فی السماء وہو السمیع العلیم
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي أَوَّلِ يَوْمِهِ أَوْ فِي أَوَّلِ لَيْلَتِهِ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
یزید بن موہب کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے حضرت ابن عمر (رض) کو قاضی بننے کی پیشکش کی، انہوں نے فرمایا کہ میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اور نہ ہی امامت کروں گا، کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا جو اللہ کی پناہ میں آجائے وہ مکمل طور پر محفوظ ہوجاتا ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں ! اس پر حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا پھر میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی عہدہ دیں، چناچہ حضرت عثمان (رض) نے انہیں چھوڑ دیا اور فرمایا کسی کو اس بارے میں مت بتائیے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَوْهَبٍ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ لَا أَقْضِي بَيْنَ اثْنَيْنِ وَلَا أَؤُمُّ رَجُلَيْنِ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ عَاذَ بِاللَّهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي فَأَعْفَاهُ وَقَالَ لَا تُخْبِرْ بِهَذَا أَحَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے تو اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابوصالح جو حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا لوگو ! روانہ ہوجاؤ کیونکہ میں بھی روانہ ہونے لگاہوں، لوگ روانہ ہونے لگے تو فرمایا کہ میں نے اب تک نبی ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث تم سے بیان نہیں کی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں ایک دن کی پہرہ داری دوسری جگہوں پر ہزار دن کی پہرہ داری سے بھی افضل ہے، اس لئے جو شخص چاہے وہ پہرہ داری کرے، کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ سَنَةَ سِتٍّ وَعِشْرِينَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ هَجِّرُوا فَإِنِّي مُهَجِّرٌ فَهَجَّرَ النَّاسُ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ مَا تَكَلَّمْتُ بِهِ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رِبَاطَ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ مِمَّا سِوَاهُ فَلْيُرَابِطْ امْرُؤٌ حَيْثُ شَاءَ هَلْ بَلَّغْتُكُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پانی منگوا کر خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا، نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا دھوکے کا شکار نہ ہوجانا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَاعِدًا فِي الْمَقَاعِدِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فِي مَقْعَدِي هَذَا ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَغْتَرُّوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابو عون انصاری کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) سے ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے درخواست کی کہ آپ کے حوالے سے مجھے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں، آپ ان سے رک جائیے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ان کے سامنے کچھ عذر پیش کئے، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا افسوس ! میں نے اس بات کو سنا بھی ہے اور محفوظ بھی کیا ہے خواہ آپ نے نہ سنا ہو کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا ایک حکمران قتل کیا جائے گا اور شر پھیلانے والے اس میں جلد بازی کریں گے، یاد رکھو ! وہ مقتول ہونے والا امیر میں ہی ہوں، اس سے مراد حضرت عمر (رض) نہیں ہیں، کیونکہ انہیں تو صرف ایک آدمی نے شہید کیا تھا، جب کہ مجھ پر یہ سب مل کر حملہ کرنے والے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا أَرْطَاةُ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْذِرِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ هَلْ أَنْتَ مُنْتَهٍ عَمَّا بَلَغَنِي عَنْكَ فَاعْتَذَرَ بَعْضَ الْعُذْرِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَيْحَكَ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ وَحَفِظْتُ وَلَيْسَ كَمَا سَمِعْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيُقْتَلُ أَمِيرٌ وَيَنْتَزِي مُنْتَزٍ وَإِنِّي أَنَا الْمَقْتُولُ وَلَيْسَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّمَا قَتَلَ عُمَرَ وَاحِدٌ وَإِنَّهُ يُجْتَمَعُ عَلَيَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے ان سے فرمایا بھتیجے ! کیا تم نے نبی ﷺ کو پایا ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں ! البتہ ان کے حوالے سے خالص معلومات اور ایسا یقین ضرور میرے پاس ہیں جو کنواری دوشیزہ کو اپنے پردے میں ہوتا ہے، اس پر حضرت عثمان (رض) نے حمدوثناء اور اقرار شہادتین کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا : اللہ و رسول کی دعوت پر لبیک کہنے والوں میں بھی تھا، نیز نبی ﷺ کی شریعت پر ایمان لانے والوں میں، میں بھی تھا، پھر میں نے حبشہ کی طرف دونوں مرتبہ ہجرت کی، مجھے نبی ﷺ کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا اور میں نے نبی ﷺ کے دست حق پر بیعت بھی کی ہے، اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کی نافرمانی کی اور نہ ہی دھوکہ دیا، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا وَلَكِنْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ وَالْيَقِينِ مَا يَخْلُصُ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ فَكُنْتُ مِمَّنْ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَآمَنَ بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ هَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ كَمَا قُلْتُ وَنِلْتُ صِهْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) کے یہاں آئے، ان دنوں باغیوں نے ان کا محاصرہ کر رکھا تھا اور آکر عرض کیا کہ آپ مسلمانوں کے عمومی حکمران ہیں، آپ پر جو پریشانیاں آرہی ہیں، وہ بھی نگاہوں کے سامنے ہیں، میں آپ کے سامنے تین درخواستیں رکھتا ہوں، آپ کسی ایک کو اختیار کرلیجئے یا تو آپ باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کریں، آپ کے پاس افراد بھی ہیں، طاقت بھی ہے اور آپ برحق بھی ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں یا جس دروازے پر یہ لوگ کھڑے ہیں، آپ اسے چھوڑ کر اپنے گھر کی دیوار توڑ کر کوئی دوسرا دروازہ نکلوائیں، سواری پر بیٹھیں اور مکہ مکرمہ چلے جائیں، جب آپ وہاں ہوں گے تو یہ آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یا پھر آپ شام چلے جائیے کیونکہ وہاں اہل شام کے علاوہ حضرت امیر معاویہ (رض) بھی موجود ہیں حضرت عثمان (رض) نے فرمایا جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ میں باہر نکل کر ان باغیوں سے قتال کروں تو میں نبی ﷺ کے پیچھے سب سے پہلا وہ آدمی ہرگز نہیں بنوں گا جو امت میں خونریزی کرے، رہی یہ بات کہ میں مکہ مکرمہ چلا جاؤں تو یہ میرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے تو میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش کا ایک آدمی مکہ مکرمہ میں الحاد پھیلائے گا، اس پر اہل دنیا کو ہونے والے عذاب کا نصف عذاب دیا جائے گا، میں وہ آدمی نہیں بننا چاہتا اور جہاں تک شام جانے والی بات ہے کہ وہاں اہل شام کے علاوہ امیر معاویہ (رض) بھی ہیں تو میں دارالہجرۃ اور نبی ﷺ کے پڑوس کو کسی صورت نہیں چھوڑ سکتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ إِنَّكَ إِمَامُ الْعَامَّةِ وَقَدْ نَزَلَ بِكَ مَا تَرَى وَإِنِّي أَعْرِضُ عَلَيْكَ خِصَالًا ثَلَاثًا اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ إِمَّا أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَهُمْ فَإِنَّ مَعَكَ عَدَدًا وَقُوَّةً وَأَنْتَ عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ وَإِمَّا أَنْ نَخْرِقَ لَكَ بَابًا سِوَى الْبَابِ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ فَتَقْعُدَ عَلَى رَوَاحِلِكَ فَتَلْحَقَ بِمَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّوكَ وَأَنْتَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّا أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ فَلَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ خَلَفَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ بِسَفْكِ الدِّمَاءِ وَأَمَّا أَنْ أَخْرُجَ إِلَى مَكَّةَ فَإِنَّهُمْ لَنْ يَسْتَحِلُّونِي بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُلْحِدُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ يَكُونُ عَلَيْهِ نِصْفُ عَذَابِ الْعَالَمِ فَلَنْ أَكُونَ أَنَا إِيَّاهُ وَأَمَّا أَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الشَّامِ وَفِيهِمْ مُعَاوِيَةُ فَلَنْ أُفَارِقَ دَارَ هِجْرَتِي وَمُجَاوَرَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ يُلْحِدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حمران کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے جب سے اسلام قبول کیا تھا، ان کا معمول تھا کہ وہ روزانہ نہایا کرتے تھے، ایک دن نماز کے لئے میں نے وضو کا پانی رکھا، جب وہ وضو کرچکے تو فرمانے لگے کہ میں تم سے ایک حدیث بیان کرنا چاہتا تھا، پھر میں نے سوچا کہ نہ بیان کروں، یہ سن کر حکم بن ابی العاص نے کہا کہ امیرالمومنین ! بیان کردیں، اگر خیر کی بات ہوگی تو ہم بھی اس پر عمل کرلیں گے اور اگر شر کی نشاندہی ہوگی تو ہم بھی اس سے بچ جائیں گے، فرمایا میں تم سے یہ حدیث بیان کرنے لگا تھا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اسی طرح وضو کیا اور فرمایا جو شخص اس طرح وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو اور رکوع و سجود کو اچھی طرح مکمل کرے تو یہ وضو اگلی نماز تک اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا، بشرطیکہ کسی گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حُمْرَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً مِنْ مُنْذُ أَسْلَمَ فَوَضَعْتُ وَضُوءًا لَهُ ذَاتَ يَوْمٍ لِلصَّلَاةِ فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَدَا لِي أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمُوهُ فَقَالَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَنَأْخُذُ بِهِ أَوْ شَرًّا فَنَتَّقِيهِ قَالَ فَقَالَ فَإِنِّي مُحَدِّثُكُمْ بِهِ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ هَذَا الْوُضُوءَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَتَمَّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الْأُخْرَى مَا لَمْ يُصِبْ مَقْتَلَةً يَعْنِي كَبِيرَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَدْخَلَ اللَّهُ الْجَنَّةَ رَجُلًا كَانَ سَهْلًا قَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا وَبَائِعًا وَمُشْتَرِيًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ جب مؤذن نے عصر کی اذان دی تو حضرت عثمان (رض) نے وضو کے لئے پانی منگوایا، وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص حکم الٰہی کے مطابق وضو کرے، وہ اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اس کے بعد انہوں نے چار صحابہ (رض) سے اس پر گواہی لی اور چاروں نے اس بات کی گواہی دی کہ واقعی نبی ﷺ نے یہی فرمایا تھا۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ أَذَّنَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ قَالَ فَدَعَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِطَهُورٍ فَتَطَهَّرَ قَالَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَطَهَّرَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ فَاسْتَشْهَدَ عَلَى ذَلِكَ أَرْبَعَةً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَشَهِدُوا لَهُ بِذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক: