আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عثمان (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৩০ টি

হাদীস নং: ৪১৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ ایام حج میں حضرت عثمان غنی (رض) نے منیٰ میں قصر کی بجائے پوری چار رکعتیں پڑھادیں، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، حضرت عثمان (رض) نے فرمایا لوگو ! میں مکہ مکرمہ میں آکر مقیم ہوگیا تھا اور میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی شہر میں مقیم ہوجائے، وہ مقیم والی نماز پڑھے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَأَنْكَرَهُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي تَأَهَّلْتُ بِمَكَّةَ مُنْذُ قَدِمْتُ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَأَهَّلَ فِي بَلَدٍ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے میں یہودیوں کے ایک خاندان اور قبیلہ سے جنہیں بنو قینقاع کہا جاتا تھا، کھجوریں خریدتا تھا اور اپنا منافع رکھ کر آگے بیچ دیتا تھا، نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو فرمایا عثمان ! جب خریدا کرو تو اسے تول لیا کرو اور جب بیچا کرو تو تول کر بیچا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ كُنْتُ أَبْتَاعُ التَّمْرَ مِنْ بَطْنٍ مِنْ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو قَيْنُقَاعَ فَأَبِيعُهُ بِرِبْحٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ إِذَا اشْتَرَيْتَ فَاكْتَلْ وَإِذَا بِعْتَ فَكِلْ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ دعا پڑھ لیا کرے اسے کوئی چیز نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ بسم اللہ الذی لایضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء وہو السمیع العلیم
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو بندہ بھی اسے دل سے حق سمجھ کر کہے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہوجائے گی، حضرت عمر فاروق (رض) نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کو بتاؤں، وہ کلمہ کون سا ہے ؟ وہ کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے اپنے پیغمبر اور ان کے صحابہ (رض) پر لازم کیا تھا، یہ وہی کلمہ تقوی ہے جو نبی ﷺ نے اپنے چچا خواجہ ابو طالب کے سامنے ان کی موت کے وقت بار بار پیش کیا تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ حَقًّا مِنْ قَلْبِهِ إِلَّا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا أُحَدِّثُكَ مَا هِيَ هِيَ كَلِمَةُ الْإِخْلَاصِ الَّتِي أَعَزَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهِيَ كَلِمَةُ التَّقْوَى الَّتِي أَلَاصَ عَلَيْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ أَبَا طَالِبٍ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت زید بن خالد جہنی (رض) نے حضرت عثمان غنی (رض) سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے، ایسا ہی وضو کرلے اور اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ فَقَالَ عُثْمَانُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت امامالک (رح) فرماتے ہیں کہ آیت قرآنی " نرفع درجات من نشاء " کا مطلب یہ ہے کہ علم کے ذریعے ہم جس کے درجات بلند کرنا چاہتے ہیں، کردیتے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ مطلب آپ سے کس نے بیان کیا ؟ فرمایا زید بن اسلم نے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ قَالَ بِالْعِلْمِ قُلْتُ مَنْ حَدَّثَكَ قَالَ زَعَمَ ذَاكَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا، مجھے پتہ نہیں چل سکا کہ میں نے جفت عدد میں رکعتیں پڑھیں یا طاق عدد میں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے آپ کو اس بات سے بچاؤ کہ دوران نماز شیطان تم سے کھیلنے لگے، اگر تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور اسے جفت اور طاق کا پتہ نہ چل سکے تو اسے سہو کے دو سجدے کرلینے چاہئیں، کہ ان دونوں سے نماز مکمل ہوجاتی ہے۔ مسیرہ بن معبد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں یزید بن ابی کبشہ نے عصر کی نماز پڑھائی، نماز کے بعد وہ ہماری طرف رخ کر کے بیٹھ گئے اور کہنے لگے میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کئے اور ہماری طرف رخ کر کے بتایا کہ انہوں نے حضرت عثمان (رض) کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہوں نے نبی ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمْ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَوْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَا حَدَّثَنَا سَوَّارٌ أَبُو عُمَارَةَ الرَّمْلِيُّ عَنْ مَسِيرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ فَقَالَ إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحَدَّثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی (رض) اپنے گھر میں محصور تھے، انہوں نے لوگوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمانے لگے بھلا کس جرم میں تم لوگ مجھے قتل کر وگے ؟ جب کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہاناحلال نہیں ہے، یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے، یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کردیا جائے، اللہ کی قسم ! مجھے تو اللہ نے جب سے ہدایت دی ہے، میں کبھی مرتد نہیں ہوا، میں نے اسلام تو بڑی دور کی بات ہے، زمانہ جاہلیت میں بھی بدکاری نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی کو قتل کیا ہے، جس کا مجھ سے قصاص لیا جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ يَذْكُرُ عَنْ مَطَرٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْرَفَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُوَ مَحْصُورٌ فَقَالَ عَلَامَ تَقْتُلُونِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ فَعَلَيْهِ الرَّجْمُ أَوْ قَتَلَ عَمْدًا فَعَلَيْهِ الْقَوَدُ أَوْ ارْتَدَّ بَعْدَ إِسْلَامِهِ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا قَتَلْتُ أَحَدًا فَأُقِيدَ نَفْسِي مِنْهُ وَلَا ارْتَدَدْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
مالک بن عبداللہ (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفاری (رض) حضرت عثمان غنی (رض) کے پاس اجازت لے کر آئے، انہوں نے اجازت دے دی، حضرت ابوذر (رض) کے ہاتھ میں لاٹھی تھی، حضرت عثمان غنی (رض) نے حضرت کعب (رض) سے پوچھا اے کعب ! عبدالرحمن فوت ہوگئے ہیں اور اپنے ترکہ میں مال چھوڑ گئے ہیں، اس مسئلے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس کے ذریعے حقوق اللہ ادا کرتے تھے تو کوئی حرج نہیں، حضرت ابوذر غفاری (رض) نے اپنی لاٹھی اٹھا کر انہیں مارنا شروع کردیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر میرے پاس اس پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ پسند نہیں کہ میں اپنے پیچھے اس میں سے چھ اوقیہ بھی چھوڑ دوں، میں اسے خرچ کردوں گا تاکہ وہ قبول ہوجائے، اے عثمان ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں، کیا آپ نے بھی یہ ارشاد سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَرْدَادِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَبِيَدِهِ عَصَاهُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا كَعْبُ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَا تَرَى فِيهِ فَقَالَ إِنْ كَانَ يَصِلُ فِيهِ حَقَّ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ أَبُو ذَرٍّ عَصَاهُ فَضَرَبَ كَعْبًا وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُحِبُّ لَوْ أَنَّ لِي هَذَا الْجَبَلَ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ وَيُتَقَبَّلُ مِنِّي أَذَرُ خَلْفِي مِنْهُ سِتَّ أَوَاقٍ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عُثْمَانُ أَسَمِعْتَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ہانی جو حضرت عثمان (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کسی قبر پر رکتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہوجاتی، کسی نے ان سے پوچھا کہ جب آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہیں، تب تو نہیں روتے اور اس سے رو پڑتے ہیں ؟ فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، اگر وہاں نجات مل گئی تو بعد کے سارے مراحل آسان ہوجائیں گے اور اگر وہاں نجات نہ ملی تو بعد کے سارے مراحل دشوار ہوجائیں گے اور نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میں نے جتنے بھی مناظر دیکھے ہیں، قبر کا منظر ان سب سے ہولناک ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ الْقَاصُّ عَنْ هَانِئٍ مَوْلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ تَذْكُرُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقَبْرُ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلَّا وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
مروان سے روایت ہے کہ " عام الرعاف " میں حضرت عثمان غنی (رض) کی ناک سے ایک مرتبہ بہت خون نکلا (جسے نکسیر پھوٹنا کہتے ہیں) یہاں تک کہ وہ حج کے لئے بھی نہ جاسکے اور زندگی کی امید ختم کر کے وصیت بھی کردی، اس دوران ایک قریشی آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیجئے، انہوں نے پوچھا کیا لوگوں کی بھی یہی رائے ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی یہ رائے ہے ؟ اس پر وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی پہلے آدمی کی باتیں دہرائیں اور حضرت عثمان (رض) نے اسے بھی وہی جواب دئیے، حضرت عثمان (رض) نے اس سے پوچھا کہ لوگوں کی رائے کسے خلیفہ بنانے کی ہے ؟ اس نے کہا حضرت زبیر (رض) کو، فرمایا ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میرے علم کے مطابق وہ سب سے بہتر اور نبی صلی اللہ علیہ کی نظروں میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں گذری۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَرْوَانَ وَمَا إِخَالُهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رُعَافٌ سَنَةَ الرُّعَافِ حَتَّى تَخَلَّفَ عَنْ الْحَجِّ وَأَوْصَى فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَنْ هُوَ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لَهُ الْأَوَّلُ وَرَدَّ عَلَيْهِ نَحْوَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ كَانَ لَخَيْرَهُمْ مَا عَلِمْتُ وَأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَاه سُوَيْدٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابان بن عثمان (رح) نے ایک جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) کی نظر ایک جنازے پر پڑی تو وہ بھی کھڑے ہوگئے تھے اور انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے بھی جنازے کو دیکھا تو کھڑے ہوگئے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ قَالَ رَأَى أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا وَقَالَ رَأَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا ثُمَّ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جَنَازَةً فَقَامَ لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت زید بن خالد جہنی (رض) نے حضرت عثمان غنی (رض) سے ایک مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے مباشرت کرے لیکن انزال نہ ہو تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح نماز کے لئے وضو کرتا ہے، ایسا ہی وضو کرلے اور اپنی شرمگاہ کو دھولے اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں نے یہی سوال حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُمْنِ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَيَغْسِلُ ذَكَرَهُ قَالَ وَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرَ وَطَلْحَةَ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَأَمَرُوهُ بِذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حمران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عثمان (رض) کے پاس آیا، وہ بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے خوب اچھی طرح وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی جگہ بہترین انداز میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور مسجد میں آکر دو رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرما دے گا، نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا دھوکے کا شکار نہ ہوجانا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَقَاعِدِ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي هَذَا الْمَجْلِسِ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَغْتَرُّوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
عبیداللہ بن عمیر کہتے ہیں کہ میں سلیمان بن علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنی دیر میں قریش کے ایک بزرگ تشریف لائے، سلیمان نے کہا دیکھو ! شیخ کو اچھی جگہ بٹھاؤ کیونکہ قریش کا حق ہے، میں نے کہا گورنر صاحب ! کیا میں آپ کو ایک حدیث سناؤں جو قریش کی توہین کرتا ہے، گویا وہ اللہ کی توہین کرتا ہے، اس نے کہا سبحان اللہ ! کیا خوب، یہ روایت تم سے کس نے بیان کی ہے ؟ میں نے کہا ربیعہ بن ابی عبدالرحمن نے سعید بن مسیب (رح) کے حوالے سے، انہوں نے عمرو بن عثمان کے حوالے سے کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا بیٹا ! اگر تمہیں کسی جگہ کی امارت ملے تو قریش کی عزت کرنا کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو قریش کی اہانت کرتا ہے، گویا وہ اللہ کی اہانت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَفْصٍ بْنِ عُمَرَ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَمِّي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ مُوسَى يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَخَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ سُلَيْمَانُ انْظُرْ إِلَى الشَّيْخِ فَأَقْعِدْهُ مَقْعَدًا صَالِحًا فَإِنَّ لِقُرَيْشٍ حَقًّا فَقُلْتُ أَيُّهَا الْأَمِيرُ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَلَى قَالَ قُلْتُ لَهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا أَحْسَنَ هَذَا مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا قَالَ قُلْتُ حَدَّثَنِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي أَبِي يَا بُنَيَّ إِنْ وَلِيتَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا فَأَكْرِمْ قُرَيْشًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابن ابزی کہتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنی (رض) کا محاصرہ شروع ہوا تو حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے ان سے عرض کیا کہ میرے پاس بہترین قسم کے اونٹ ہیں جنہیں میں نے آپ کے لئے تیار کردیا ہے، آپ ان پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ تشریف لے چلیں، جو آپ کے پاس آنا چاہے گا، وہیں آجائے گا ؟ لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مکہ مکرمہ میں قریش کا ایک مینڈھا الحاد پھیلائے گا جس کا نام عبداللہ ہوگا، اس پر لوگوں کے گناہوں کا آدھا بوجھ ہوگا۔ (میں وہ مینڈھا نہیں بننا چاہتا)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ أَبْزَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حِينَ حُصِرَ إِنَّ عِنْدِي نَجَائِبَ قَدْ أَعْدَدْتُهَا لَكَ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَحَوَّلَ إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيَكَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَكَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُلْحَدُ بِمَكَّةَ كَبْشٌ مِنْ قُرَيْشٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ عَلَيْهِ مِثْلُ نِصْفِ أَوْزَارِ النَّاسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ محرم خود نکاح کرے اور نہ کسی کا نکاح کروائے، بلکہ پیغام نکاح بھی نہ بھیجے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ مَطَرٍ وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يُنْكِحُ وَلَا يَخْطُبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے، ایسا نہیں کہ بخل کی وجہ سے میں اسے تمہارے سامنے بیان نہ کروں گا، میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کی پہرہ داری کرنا ایک ہزار راتوں کے قیام لیل اور صیام نہار سے بڑھ کر افضل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِهِ إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَيْلَةٍ يُقَامُ لَيْلُهَا وَيُصَامُ نَهَارُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے اس بات کا یقین تھا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدًا عَنْ أَبِي بِشْرٍ الْعَنْبَرِيِّ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৩৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
عمر بن عبیداللہ کو حالت احرام میں آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوگیا، انہوں نے آنکھوں میں سرمہ لگانا چاہا تو حضرت ابان بن عثمان (رض) نے انہیں منع کردیا اور کہا کہ صبر کا سرمہ لگا سکتا ہے (صبر کرے جب تک احرام نہ کھل جائے، سرمہ نہ لگائے) کیونکہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کو نبی ﷺ کے حوالے سے ایسی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَرَادَ أَنْ يُكَحِّلَهَا فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ وَزَعَمَ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক: