আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عثمان (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৩০ টি
হাদীস নং: ৪৭৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مری ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت میری طرف کرتا ہے، وہ جہنم میں اپنا گھر تیار کرلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَبِيرِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَمَّدَ عَلَيَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو جنت میں ضرور داخل کرے گا جو نرم خو ہو خواہ خریدار ہو یا دکاندار، ادا کرنے والا ہو یا تقاضا کرنے والا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ فَرُّوخَ مَوْلَى الْقُرَشِيِّينَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ اللَّهُ رَجُلًا الْجَنَّةَ كَانَ سَهْلًا مُشْتَرِيًا وَبَائِعًا وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت ابو امامہ بن سہل (رض) سے مروی ہے کہ جن دنوں حضرت عثمان غنی (رض) اپنے گھر میں محصور تھے، ہم ان کے ساتھ ہی تھے فرمانے لگے کہ بھلا کس جرم میں یہ لوگ مجھے قتل کریں گے ؟ جب کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین میں سے کسی ایک صورت کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں ہے یا تو وہ آدمی جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے یا قاتل ہو اور مقتول کے عوض اسے قتل کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ قَالَ وَلِمَ تَقْتُلُونَنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَيُقْتَلُ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابوعبید (رح) کہتے ہیں کہ عیدالفطر اور عیدالاضحی دونوں موقعوں پر مجھے حضرت عثمان غنی (رض) اور حضرت علی (رض) کے ساتھ شریک ہونے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں حضرات پہلے نماز پڑھاتے تھے، پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو نصیحت کرتے تھے، میں نے ان دونوں حضرات کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ثُمَّ يَنْصَرِفَانِ يُذَكِّرَانِ النَّاسَ قَالَ وَسَمِعْتُهُمَا يَقُولَانِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
اور میں نے حضرت علی (رض) کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے قربانی کا گوشت تین دن کے بعد کھانے سے منع فرمایا ہے۔
قَالَ وَسَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْقَى مِنْ نُسُكِكُمْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ بَعْدَ ثَلَاثٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے، مدینہ منورہ سے گذر ہوا، ابھی ہم اپنے پڑاؤ ہی میں تھے کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ مسجد نبوی میں لوگ بڑے گھبرائے ہوئے نظر آ رہے ہیں، میں اپنے ساتھی کے ساتھ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ لوگوں نے مل کر مسجد میں موجود چند لوگون پر ہجوم کیا ہوا ہے، میں ان کے درمیان سے گذرتا ہوا وہاں جا کر کھڑا ہوا تو دیکھا کہ وہاں حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کھڑے ہیں زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ حضرت عثمان غنی (رض) بھی دھیرے دھیرے چلتے ہوئے آگئے۔ انہوں نے آکر پوچھا کہ یہاں علی (رض) ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ! پھر باری باری مذکورہ حضرات صحابہ (رض) کا نام لے کر ان کی موجودگی کے بارے میں پوچھا اور لوگوں نے اثبات میں جواب دیا، اس کے بعد انہوں نے فرمایا میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا تھا جو شخص فلاں قبیلے کے اونٹوں کا باڑہ خرید کر دے گا، اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا، میں نے اسے خرید لیا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر وہ خرید لینے کے بارے بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے ہماری مسجد میں شامل کردو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ لوگوں نے ان کی تصدیق کی۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تمہیں اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا بیر رومہ کون خریدے گا، میں نے اسے اچھی خاصی رقم میں خریدا، نبی ﷺ کی خدمت میں آکر بتایا کہ میں نے اسے خرید لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے مسلمانوں کے پینے کے لئے وقف کردو، تمہیں اس کا اجر ملے گا ؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی۔ پھر حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا کہ میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کیا تم جانتے ہو کہ نبی ﷺ نے جیش العسرۃ (غزوہ تبوک) کے موقع پر لوگوں کے چہرے دیکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو شخص ان کے لئے سامان جہاد کا انتظام کرے گا، اللہ اسے بخش دے گا، میں نے ان کے لئے اتناسامان مہیا کیا کہ ایک لگام اور ایک رسی بھی کم نہ ہوئی ؟ لوگوں نے اس پر بھی ان کی تصدیق کی اور حضرت عثمان غنی (رض) نے تین مرتبہ فرمایا اے اللہ تو گواہ رہ، یہ کہہ کر وہ واپس چلے گئے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ قَالَ قَالَ الْأَحْنَفُ انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا فَمَرَرْنَا بِالْمَدِينَةِ فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنْزِلِنَا إِذْ جَاءَنَا آتٍ فَقَالَ النَّاسُ مِنْ فَزَعٍ فِي الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَتَخَلَّلْتُهُمْ حَتَّى قُمْتُ عَلَيْهِمْ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالزُّبَيْرُ وَطَلْحَةُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ جَاءَ عُثْمَانُ يَمْشِي فَقَالَ أَهَاهُنَا عَلِيٌّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَهَاهُنَا طَلْحَةُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَهَاهُنَا سَعْدٌ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهُ فَقَالَ اجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنِّي قَدْ ابْتَعْتُهَا يَعْنِي بِئْرَ رُومَةَ فَقَالَ اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ قَالُوا نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَالَ مَنْ يُجَهِّزُ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ انْصَرَفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت یعلی بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کے ساتھ طواف کیا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کرلیں، حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کیا آپ استلام نہیں کریں گے ؟ انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی ﷺ کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ! فرمایا تو کیا آپ نے نبی ﷺ کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ! انہوں نے فرمایا کیا جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ فرمایا پھر اسے چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قَالَ يَعْلَى طُفْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَاسْتَلَمْنَا الرُّكْنَ قَالَ يَعْلَى فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ فَلَمَّا بَلَغْنَا الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقُلْتُ أَلَا تَسْتَلِمُ قَالَ فَقَالَ أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ أَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ قُلْتُ لَا قَالَ أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَانْفُذْ عَنْكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حارث جو حضرت عثمان رضٰ اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عثمان غنی (رض) تشریف فرما تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے، اتنی دیر میں مؤذن آگیا، انہوں نے ایک برتن میں پانی منگوایا، میرا خیال ہے کہ اس میں ایک مد کے برابر پانی ہوگا، انہوں نے وضو کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے اور نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص میری طرح ایسا ہی وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز پڑھے تو فجر اور ظہر کے درمیان کے گناہ معاف ہوجائیں گے، پھر عصر کی نماز پڑھنے پر ظہر اور عصر کے درمیان کے گناہ معاف ہوجائیں گے، پھر مغرب کی نماز پڑھنے پر عصر اور مغرب کے درمیان اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے مغرب اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ وہ ساری رات کروٹیں بدلتا رہے اور کھڑا ہو کر وضو کر کے فجر کی نماز پڑھ لے تو فجر اور عشاء کے درمیان کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور یہ وہی نیکیاں ہیں جو گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، لوگوں نے پوچھا کہ حضرت یہ تو حسنات ہیں باقیات (جن کا تذکرہ قرآن میں بھی آتا ہے وہ) کیا چیز ہیں ؟ فرمایا وہ یہ کلمات ہیں۔ لاالہ الا اللہ و سبحان اللہ والحمدللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الا باللہ۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَنْبَأَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْحَارِثَ مَوْلَى عُثْمَانَ يَقُولُ جَلَسَ عُثْمَانُ يَوْمًا وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ أَظُنُّهُ سَيَكُونُ فِيهِ مُدٌّ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ وَمَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى صَلَاةَ الظُّهْرِ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الصُّبْحِ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الظُّهْرِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يَبِيتَ يَتَمَرَّغُ لَيْلَتَهُ ثُمَّ إِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الصُّبْحَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهُنَّ الْحَسَنَاتُ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ قَالُوا هَذِهِ الْحَسَنَاتُ فَمَا الْبَاقِيَاتُ يَا عُثْمَانُ قَالَ هُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) اور حضرت عثمان غنی (رض) دونوں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت چاہی، اس وقت نبی ﷺ بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت عائشہ (رض) کی چادر اوڑھ رکھی تھی، نبی ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور خود اسی طرح لیٹے رہے، حضرت صدیق اکبر (رض) اپنا کام پورا کر کے چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عمر فاروق (رض) نے آکر اجازت طلب کی، نبی ﷺ نے انہیں بھی اجازت دے دی لیکن خود اسی کیفیت پر رہے، وہ بھی اپنا کام پورا کر کے چلے گئے، حضرت عثمان (رض) کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر بعد میں نے آکر اجازت چاہی تو آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا کہ اپنے کپڑے سمیٹ لو، تھوڑی دیر میں میں بھی اپنا کام کر کے چلا گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! حضرت عثمان (رض) کے آنے پر آپ نے جو اہتمام کیا، وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے آنے پر نہیں کیا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عثمان میں شرم وحیاء کا مادہ بہت زیادہ ہے، مجھے اندیشہ تھا کہ اگر میں نے انہیں اندر یوں ہی بلا لیا اور میں اپنی حالت پر ہی رہا تو وہ جس مقصد کے لئے آئے ہیں اسے پورا نہ کرسکیں گے اور بعض روایات کے مطابق یہ فرمایا کہ میں اس شخص سے حیاء کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے جو عبارت میں مذکور ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ فَقَضَى إِلَيَّ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ و قَالَ اللَّيْثُ وَقَالَ جَمَاعَةُ النَّاسِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ يَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص خوب اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز کے لئے روانہ ہو اور اسے ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادے گا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ وَنَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ مَشَى إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فَصَلَّاهَا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان غنی (رض) حج کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، ان کی زوجہ محترمہ اپنے قریبی رشتہ دار محمد بن جعفر کے پاس چلی گئیں، محمد نے رات انہی کے ساتھ گذاری، صبح ہوئی تو محمد کے جسم سے خوشبو کی مہک پھوٹ رہی تھی اور عصفر سے رنگا ہوا لحاف ان کے اوپر تھا، کوچ کرنے سے پہلے ہی لوگوں کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا ہونے لگے، حضرت عثمان غنی (رض) نے انہیں اس حال میں دیکھا تو انہیں ڈانٹا اور سخت سست کہا اور فرمایا کہ نبی ﷺ کے منع کرنے کے باوجود بھی تم نے عصفر سے رنگا ہوا کپڑا پہن رکھا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے بھی سن لیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے اسے منع کیا تھا اور نہ ہی آپ کو انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا۔ فائدہ : محمد بن جعفر چھوٹے بچے تھے اور حضرت عثمان (رض) کی زوجہ کے قریبی رشتہ دار تھے اور عام طور پر بچے رات کے وقت اپنے رشتہ داروں کے یہاں سو ہی جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَوْهَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَاحَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطِّيبِ وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفْدَمَةٌ فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَ وَأَفَّفَ وَقَالَ أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ إِنَّمَا نَهَانِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ بتاؤ ! اگر تمہارے گھر کے صحن میں ایک نہر بہہ رہی ہو اور تم روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتے ہو تو کیا تمہارے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ لوگوں نے کہا بالکل نہیں ! فرمایا پانچوں نمازیں گناہوں کو اسی طرح ختم کردیتی ہیں جیسے پانی میل کچیل کو ختم کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي وَأَبُو خَيْثَمَةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ أَبِي فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ يَقُولُ قَالَ عُثْمَانُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهَرٌ يَجْرِي يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا لَا شَيْءَ قَالَ إِنَّ الصَّلَوَاتِ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৮
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اہل عرب کو دھوکہ دے، وہ میری شفاعت میں داخل نہیں ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی۔
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْأَحْمَسِيِّ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت عثمان غنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سینگ والی بکری سے بےسینگ والی بکری کا بھی قصاص لیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ مُرَاجِمٍ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عُثْمَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْجَمَّاءَ لَتُقَصُّ مِنْ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے خطبے میں کتوں کو قتل کرنے اور کبوتروں کو ذبح کرنے کا حکم دے رہے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَأْمُرُ فِي خُطْبَتِهِ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَذَبْحِ الْحَمَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ام موسیٰ کہتی ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) لوگوں میں سب سے زیادہ حسین و جمیل تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ كَانَ عُثْمَانُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯২
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ابراہیم بن سعد اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دن نماز پڑھ رہا تھا، ایک آدمی میرے سامنے سے گذرنے لگا، میں نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ نہ مانا، میں نے حضرت عثمان (رض) سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا بھتیجے ! اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي فَمَرَّ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيَّ فَمَنَعْتُهُ فَأَبَى فَسَأَلْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ لَا يَضُرُّكَ يَا ابْنَ أَخِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৩
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی (رض) نے فرمایا کہ اگر تمہیں کتاب اللہ میں یہ حکم مل جاتا ہے کہ میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دو ، تو تم یہ بھی کر گذرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عُثْمَانُ إِنْ وَجَدْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَضَعُوا رِجْلِي فِي الْقَيْدِ فَضَعُوهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৪
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے میدان عرفات میں وقوف کیا، اس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید (رض) کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا اور فرمایا یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا میدان عرفہ ہی وقوف کی جگہ ہے پھر آپ ﷺ نے عرفہ سے کوچ کیا اور سواری کی رفتار تیزکردی، لوگ دائیں بائیں بھاگنے لگے، نبی ﷺ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگو ! مطمئن رہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ مزدلفہ آپہنچے، مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھیں، پھر پھر مزدلفہ میں وقوف فرمایا۔ مزدلفہ کا وقوف آپ ﷺ نے جبل قزح پر فرمایا اس وقت آپ ﷺ نے اپنی سواری پر اپنے پیچھے حضرت فضیل بن عباس (رض) کو بٹھا رکھا تھا اور فرمایا یہ وقوف کی جگہ ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے پھر آپ ﷺ نے مزدلفہ سے کوچ کیا اور سواری کی رفتار تیز کردی لوگ پھر دائیں بائیں بھاگنے لگے اور نبی ﷺ نے بھی دوبارہ لوگوں کو سکون کی تلقین فرمائی اور راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِعَرَفَةَ وَهُوَ مُرْدِفٌ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَجَعَلَ النَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ حَتَّى جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَقَالَ هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ مُزْدَلِفَةَ مَوْقِفٌ ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯৫
حضرت عثمان (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عثمان (رض) کی مرویات
مسلم کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی (رض) نے اپنی زندگی کے آخری دن اکٹھے بیس غلام آزاد کئے، شلوار منگوا کر مضبوطی سے باندھ لی حالانکہ اس سے پہلے زمانہ جاہلیت یا زمانہ اسلام میں انہوں نے اسے کبھی نہ پہنا تھا اور فرمایا کہ میں نے آج رات خواب میں نبی ﷺ اور حضرات شیخین کو دیکھا ہے یہ حضرات مجھ سے کہہ رہے تھے کہ صبر کرو، کل کا روزہ تم ہمارے ساتھ افطار کروگے، پھر انہوں نے قرآن شریف کا نسخہ منگوایا اور اسے کھول کر پڑھنے کے لئے بیٹھ گئے اور اسی حال میں انہیں شہید کردیا گیا جب کہ قرآن کریم کا وہ نسخہ ان کے سامنے موجود تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ مَمْلُوكًا وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَإِنَّهُمْ قَالُوا لِي اصْبِرْ فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ
তাহকীক: