আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৯৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَبِالْوَتْرِ وَلَمْ يُكْتَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب " سبح اسم ربک الاعلی " کی تلاوت فرماتے تو یہ بھی کہتے سبحان ربی الاعلی
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَرَأَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ کا گذر وادی عسفان پر ہوا تو آپ ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) سے پوچھا اے ابوبکر ! یہ کون سی وادی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا وادی عسفان، فرمایا یہاں سے حضرت ہود اور حضرت صالح علیہماالسلام ایسی سرخ جوان اونٹنیوں پر ہو کر گذرے ہیں جن کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی، ان کے تہبند عباء تھے اور ان کی چادریں چیتے کی کھالیں تھیں اور وہ تلبیہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے حج کے لئے جارہے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمْ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمْ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے جمعرات سے پہلے والی رات کو نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی ﷺ اسے جمعرات کے دن، جمعہ کے دن اور ہفتہ کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد اگر عصر تک کچھ بچ جاتی تو کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ لَيْلَةَ الْخَمِيسِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ وَأُرَاهُ قَالَ وَيَوْمَ السَّبْتِ فَإِذَا كَانَ عِنْدَ الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَدَمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی کہ " تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے ان سب کا حساب لے گا " تو صحابہ کرام (رض) کو اس پر قلبی طور پر ایسی بےچینی محسوس ہوئی جو اس سے قبل نہیں ہوئی تھی (کہ دلی ارادہ کا بھی حساب کتاب ہوگا تو کیا بنے گا) لیکن نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم یہی کہو، ہم نے سن لیا، ہم نے اطاعت کی اور سر تسلیم خم کردیا، چناچہ اللہ نے ان کے دلوں میں پہلے سے موجود ایمان کو مزید راسخ کردیا اور سورت بقرہ کی یہ اختتامی آیات نازل فرمائیں جن کا ترجمہ یہ ہے " پیغمبر اس چیز پر ایمان لے آئے جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی اور مومنین بھی، یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آئے اور کہتے ہیں کہ ہم کسی پیغمبر میں تفریق روا نہیں رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی، پروردگار ! ہمیں معاف فرما اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، انسان کو انہی چیزوں کا فائدہ ہوگا جو اس نے کمائیں اور انہیں چیزوں کا نقصان ہوگا جو اس نے کمائیں، پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو اس پر ہمارا مؤاخذہ نہ فرمایا اور ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، پروردگار ! ہم پر اس چیز کا بوجھ نہ ڈال جس کی ہم میں طاقت نہیں ہے، ہم سے درگذر فرما، ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمار آقا ہے، اس لئے تو ہی کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
حَدَّثَنِي وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْءٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ آدَمُ هَذَا هُوَ أَبُو يَحْيَى بْنُ آدَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم ﷺ نے جب حضرت معاذ بن جبل (رض) کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ تم ان لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، انہیں اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں یعنی محمد ﷺ اللہ کا پیغمبر ہوں اگر وہ تمہاری اس بات پر اطاعت کریں تو انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ اس بات میں بھی تمہاری اطاعت کرلیں تو انہیں یہ بتانا کہ اللہ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان ہی کے غرباء میں تقیسم کردی جائے گی، جب وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کے عمدہ مال چھانٹی کرنے سے اپنے آپ کو بچانا اور مظلوم کی بددعاء سے ڈرتے رہنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اس وقت آپ ﷺ نے سیاہ عمامہ جو تیل سے چکنا ہوگیا تھا، باندھ رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْغَسِيلِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِصَابَةٌ دَسِمَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل نہ دیکھا کرو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَصَفْوَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُدِيمُوا إِلَى الْمَجْذُومِينَ النَّظَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کاش ! لوگ وصیت کرنے میں تہائی سے کمی کر کے چوتھائی کو اختیار کرلیں، اس لئے کہ نبی ﷺ نے تہائی کو بھی زیادہ قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَدِدْتُ أَنَّ النَّاسَ غَضُّوا مِنْ الثُّلُثِ إِلَى الرُّبُعِ فِي الْوَصِيَّةِ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا کہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ نبی ﷺ نے خانہ کعبہ کے طواف کے دوران رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے، فرمایا اس میں آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ، نبی ﷺ نے رمل تو فرمایا ہے لیکن یہ سنت نہیں ہے اور رمل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ نبی ﷺ جب اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ تشریف لائے تو مشرکین جبل قعیقعان نامی پہاڑ پر سے انہیں دیکھ رہے تھے، نبی ﷺ کو پتہ چلا کہ یہ لوگ آپس میں مسلمانوں کے کمزور ہونے کی باتیں کر رہے ہیں، اس پر نبی ﷺ نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ مشرکین کو دکھا سکیں کہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ وَأَنَّهَا سُنَّةٌ قَالَ صَدَقَ قَوْمِي وَكَذَبُوا قَدْ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ وَلَكِنَّهُ قَدِمَ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَتَحَدَّثُوا أَنَّ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ هَزْلًا وَجَهْدًا وَشِدَّةً فَأَمَرَ بِهِمْ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ لِيُرِيَهُمْ أَنَّهُمْ لَمْ يُصِبْهُمْ جَهْدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے (فترت وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد) حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَلَا تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ فِضَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں کہیں سے پنیر آیا، صحابہ کرام (رض) اسے لاٹھی سے ہلانے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا چھریاں رکھ دو اور بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِجُبْنَةٍ قَالَ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعُوا السِّكِّينَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں اور وتر کا حکم دیا گیا ہے لیکن انہیں امت پر فرض نہیں کیا گیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ وَعَطَاءٍ قَالَا الْأُضْحِيَّةُ سُنَّةٌ وَقَالَ عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالْأُضْحِيَّةِ وَالْوَتْرِ وَلَمْ تُكْتَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو ! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمِسْعَرٌ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا مِنْ جَمْعٍ قَالَ سُفْيَانُ بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنَى لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَزَادَ سُفْيَانُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا إِخَالُ أَحَدًا يَعْقِلُ يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر چہرے اور ہاتھوں کو دھویا اور آکر سوگئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي اللَّيْلِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ جَاءَ فَنَامَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے پھر جب مؤذن آیا تو آپ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক: