আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৯৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت کرتے تھے یا نہیں ؟ (کیونکہ ہم تو بچے تھے اور پہلی صفوں میں کھڑے نہیں ہوسکتے تھے) البتہ ہم خود قراءت کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا نَدْرِ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَلَكِنَّا نَقْرَأُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم بٹائی پر زمین دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج (رض) نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کردینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ قَالَ عَمْرٌو ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ طَاوُسٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْنَحُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ لَهَا خَرَاجًا مَعْلُومًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھالیا (یاپی لیا)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم بنو عبدالمطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو ! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ عَلَى حُمُرَاتٍ لَنَا فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أُبَيْنَى لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لئے حلال ہوجائے گی، ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہوجائے گا ؟ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی ﷺ کو اپنے سر پر " سک " نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ فَقَالَ رَجُلٌ وَالطِّيبُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی گردن کے دونوں پہلوؤں کی پوشیدہ رگوں اور دونوں کندھوں کے درمیان سے فاسد خون نکلوایا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھوڑویوں پر گدھوں کو کودنے کے لئے چھوڑنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں کچھ اونٹ آئے، نبی ﷺ نے ان میں سے کوئی اونٹ خرید لیا، اس پر نبی ﷺ کو چند اوقیہ کا منافع ہو، نبی ﷺ نے وہ منافع بنو عبدالمطلب کی بیوہ عورتوں پر تقسیم فرما دیا اور فرمایا کہ میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس نہ ہو۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَتْ عِيرٌ الْمَدِينَةَ فَاشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَرَبِحَ أَوَاقِيَّ فَقَسَمَهَا فِي أَرَامِلِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَقَالَ لَا أَشْتَرِي شَيْئًا لَيْسَ عِنْدِي ثَمَنُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فاحشہ عورت کی کمائی، کتے کی قیمت اور شراب کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ حَبْتَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَهْرِ الْبَغِيِّ وَثَمَنِ الْكَلْبِ وَثَمَنِ الْخَمْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبد المطلب کی دو بچیاں آکر نبی ﷺ کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی ﷺ نے ان کو ہٹا دیا ( اور برابر نماز پڑھتے رہے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے درمیان وعظ و نصیحت کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سب اللہ کی بارگاہ میں ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون ہونے کی حالت میں پیش کئے جاؤگے ارشاد ربانی ہے ہم نے تمہیں جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے، یہ ہمارے ذے وعدہ اور ہم یہ کر کے رہیں گے، پھر مخلوق میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا جو کہ اللہ کے خلیل ہیں۔ پھر تم میں سے ایک قوم کو بائیں جانب سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا کہ پروردگار ! یہ میرے ساتھی ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا بدعات ایجاد کرلی تھیں، یہ آپ کے وصال اور اور ان سے آپ کی جدائی کے بعد مرتد ہوگئے تھے اور اسی پر مستقل طور پر قائم رہے، یہ سن کر میں وہی کہوں گا جو عبد صالح یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے کہ میں جب تک ان کے درمیان رہا، اس وقت تک ان کے احوال کی نگہبانی کرتا رہا۔۔۔۔۔۔ بیشک آپ بڑے غالب حکمت والے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ فَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ثُمَّ يُؤْخَذُ بِقَوْمٍ مِنْكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي قَالَ فَيُقَالُ لِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُذْ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ الْآيَةَ إِلَى إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آکر نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں کہ میں انہیں زبان پر لانے سے بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ آسمان سے گر پڑوں، نبی ﷺ نے یہ سن کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے اپنی تدبیر کو وسوسہ کی طرف لوٹا دیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالشَّيْءِ لَأَنْ أَخِرَّ مِنْ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ كَيَدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب راستے (کی پیمائش) میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جو شخص کوئی عمارت بنائے اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ وَمَنْ بَنَى بِنَاءً فَلْيَدْعَمْهُ حَائِطَ جَارِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی ﷺ نے فرمایا سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ فَسَارَعَ قَوْمٌ فَقَالَ امْتَدُّوا وَسُدُّوا لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ رَافِعَةً يَدَهَا تَعْدُو حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَاغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ تَوَضَّأَ مِنْ فَضْلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا، ان زوجہ نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنْ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو ایک ماہ تک چھوڑے رکھا، جب ٢٩ دن گذر گئے تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی قسم پوری ہوگئی اور مہینہ بھی مکمل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْعَنْقَزِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ قَدْ بَرَّتْ يَمِينُكَ وَقَدْ تَمَّ الشَّهْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی دو بہنیں ہوں اور وہ جب تک اس کے پاس رہیں، ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو وہ ان دونوں کی برکت سے جنت میں داخل ہوجائے گا، بعض طرق میں دو بیٹیوں کا تذکرہ ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ فِطْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ ثَنَا فِطْرٌ عَنْ شُرَحْبِيلَ أَبِي سَعْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أُخْتَانِ فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُمَا مَا صَحِبَتَاهُ دَخَلَ بِهِمَا الْجَنَّةَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক: