আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২০২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتداء کرے، وہ یہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَقَالَ هُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ وَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا ؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا ؟ انہوں نے نہا کہ نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تب نبی ﷺ کے حکم پر انہیں سنگسار کردیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ قَالَ لَا قَالَ فَنِكْتَهَا قَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ فجر کی نماز کے لئے اقامت ہوئی تو ایک آدمی دو رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے اسے کپڑے سے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا کیا تم فجر کی چار رکعتیں پڑھو گے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ فَجَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ أَتُصَلِّي الصُّبْحَ أَرْبَعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں اور اس پر چار گواہ پیش نہ کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو، تو حضرت سعد بن عبادہ (رض) جو انصار کے سردار تھے کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ حکم آپ پر اسی طرح نازل ہوا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے گروہ انصار ! سنتے ہو کہ تمہارے سردار کیا کہہ رہے ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ان کی بات کا برا نہ منائیے کیونکہ یہ بہت باغیرت آدمی ہیں، واللہ انہوں نے ہمیشہ صرف کنواری عورت سے ہی شادی کی ہے اور جب کبھی انہوں نے اپنی کسی بیوی کو طلاق دی ہے تو کسی دوسرے آدمی کو ان کی اس مطلقہ بیوی سے بھی ان کی شدت غیرت کی وجہ سے شادی کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ حضرت سعد (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ یہ حکم برحق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے آیا ہے، لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ اگر میں کسی کمینی عورت کو اس حال میں دیکھوں کہ اسے کسی آدمی نے اپنی رانوں کے درمیان دبوچ رکھا ہو اور میں اس پر غصہ میں بھی نہ آؤں اور اسے چھیڑوں بھی نہیں، پہلے جا کر چارگواہ لے کر آؤں، بخدا ! میں تو جب تک گواہ لے کر آؤں گا اس وقت تک وہ اپنا کام پورا کرچکا ہوگا۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ تھوڑی دیر بعد ہلال بن امیہ (رض) آگئے، یہ ہلال ان تین میں سے ایک ہیں جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور بعد میں ان کی توبہ قبول ہوگئی تھی اور یہ عشاء کے وقت اپنی زمین سے واپس آئے، تو اپنی بیوی کے پاس ایک اجنبی آدمی کو دیکھا، انہوں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے ان کی باتیں سنیں لیکن تحمل کا مظاہر کیا، صبح ہوئی تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں رات کو اپنی بیوی کے پاس آیا تو اس کے پاس ایک اجنبی آدمی کو پایا، میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ نبی ﷺ پر یہ بات بڑی شاق گذری اور اس پر آپ ﷺ نے ناگواری کا اظہار فرمایا انصار بھی اکٹھے اور کہنے لگے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے جو کہا تھا، ہم اسی میں مبتلا ہوگئے، اب نبی ﷺ ہلال بن امیہ کو سزا دیں گے اور مسلمانوں میں ان کی گواہی کو ناقابل اعتبار قرار دے دیں گے، لیکن ہلال کہنے لگے کہ بخدا ! مجھے امید ہے کہ اللہ میرے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ضرور بنائے گا، پھر ہلال کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں نے جو مسئلہ آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے، وہ آپ پر شاق گذرا ہے، اللہ جانتا ہے کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ نبی ﷺ بھی ان پر سزا جاری کرنے کا حکم دینے والے ہی تھے کہ نبی ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوگیا اور جب نبی ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہوتی تو صحابہ کرام (رض) نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ متغیر ہونے سے اسے پہچان لیتے تھے اور اپنے آپ کو روک لیتے تھے، تاآنکہ آپ ﷺ کو وحی سے فراغت ہوجاتی، چناچہ اس موقع پر یہ آیت لعان نازل ہوئی کہ جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کا الزام لگائیں اور ان کے پاس سوائے ان کی اپنی ذات کے کوئی اور گواہ نہ ہو تو۔ جب نبی ﷺ پر سے نزول وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو فرمایا ہلال ! تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ نے تمہارے لئے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیا، انہوں نے عرض کیا کہ مجھے اپنے پروردگار سے یہی امید تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اس کی بیوی کو بلاؤ، چناچہ لوگ اسے بلا لائے، جب وہ آگئی تو نبی ﷺ نے ان دونوں کے سامنے مذکورہ آیات کی تلاوت فرمائی اور انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آخرت کا عذاب دنیا کی سزا سے زیادہ سخت ہے۔ ہلال کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ﷺ واللہ میں اس پر الزام لگانے میں سچا ہوں، جبکہ ان کی بیوی نے تکذیب کی، نبی ﷺ نے فرمایا ان دونوں کے درمیان لعان کرا دو (جس کا طریقہ یہ ہے کہ) ہلال سے کہا گیا ہے کہ آپ گواہی دیجئے، انہوں نے چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ گواہی دی کہ وہ اپنے دعوی میں سچے ہیں، جب پانچیں مرتبہ کہنے کی باری آئی تو ان سے کہا گیا کہ ہلال اللہ سے ڈرو، دنیا کی سزا آخرت کی سزا سے ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تم پر سزا کو ثابت کرسکتی ہے، انہوں نے کہا اللہ نے جس طرح مجھے کوڑے نہیں پڑھنے دیئے، وہ مجھے سزا بھی نہیں دے گا اور انہوں نے پانچویں مرتبہ یہ قسم کھالی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر ان کی بیوی سے اسی طرح چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر اس بات پر گواہی دینے کے لئے کہا گیا کہ ان کا شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہے، جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اس سے کہا گیا کہ اللہ سے ڈر، دنیا کی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے اور یہ پانچویں مرتبہ کی قسم تجھ پر سزا بھی ثابت کرسکتی ہے، یہ سن کر وہ ایک لمحے کے لئے ہچکچائی، پھر کہنے لگی، واللہ میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی اور پانچویں مرتبہ یہ قسم کھالی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو بیوی پر اللہ کا غضب نازل ہو، اس کے بعد نبی ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، نہ اس عورت کو اس کے شوہر کی طرف منسوب کیا جائے اور نہ اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائی جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزادی جائے گی، نیز آپ ﷺ نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیرجدائی ہوئی تھی۔ اور فرمایا کہ اگر اس عورت کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ سرخ وسفید رنگ کا ہو، ہلکے سرین اور پتلی پنڈلیوں والا ہو تو وہ ہلال کا ہوگا اور اگر گندمی رنگ کا ہو، گھنگھریالے بالوں والا، بھری ہوئی پنڈلیوں اور بھرے ہوئے سرین والا ہو تو یہ اس شخص کا ہوگا جس کی طرف اس عورت کو متہم کیا گیا ہے، چناچہ اس عورت کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا، اس کا رنگ گندمی، بال گھنگھریالے بھری ہوئی پنڈلیاں اور بھرے ہوئے سرین تھے، نبی ﷺ کو جب معلوم ہوا تو فرمایا کہ اگر اس قسم کا پاس لحاظ نہ ہوتا تو میرا اور اس عورت کا معاملہ ہی دوسرا ہوتا، عکرمہ کہتے ہیں کہ بعد میں بڑا ہو کر وہ بچہ مصر کا گورنر بنا، لیکن اسے اس کی ماں کی طرف ہی منسوب کیا جاتا تھا، باپ کی طرف نہیں
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ أَهَكَذَا نَزَلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَلُمْهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا وَمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ فَقَالَ سَعْدٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ وَأَنَّهَا مِنْ اللَّهِ تَعَالَى وَلَكِنِّي قَدْ تَعَجَّبْتُ أَنِّي لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أَهِيجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَوَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ قَالَ فَمَا لَبِثُوا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عِشَاءً فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهَا رَجُلًا فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَاجْتَمَعَتْ الْأَنْصَارُ فَقَالُوا قَدْ ابْتُلِينَا بِمَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْآنَ يَضْرِبُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ وَيُبْطِلُ شَهَادَتَهُ فِي الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِي مِنْهَا مَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَى مَا اشْتَدَّ عَلَيْكَ مِمَّا جِئْتُ بِهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ وَ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَأْمُرَ بِضَرْبِهِ إِذْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ عَرَفُوا ذَلِكَ فِي تَرَبُّدِ جِلْدِهِ يَعْنِي فَأَمْسَكُوا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْوَحْيِ فَنَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ الْآيَةَ فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا هِلَالُ فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا فَقَالَ هِلَالٌ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَاكَ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلُوا إِلَيْهَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهَا فَجَاءَتْ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا فَقَالَ هِلَالٌ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ كَذَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا فَقِيلَ لِهِلَالٍ اشْهَدْ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ فَلَمَّا كَانَ فِي الْخَامِسَةِ قِيلَ يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا فَشَهِدَ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنْ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ قِيلَ لَهَا اشْهَدِي أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا كَانَتْ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتْ فِي الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنَّهُ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى هِيَ بِهِ وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا وَقَالَ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْسِحَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا الْأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَانٌ قَالَ عِكْرِمَةُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ وَكَانَ يُدْعَى لِأُمِّهِ وَمَا يُدْعَى لِأَبِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَلَيُكْتَبَنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت اپنا بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! اسے کوئی تکلیف ہے، کھانے کے دوران جب اسے وہ تکلیف ہوتی ہے تو یہ ہمارا سارا کھاناخراب کردیتا ہے، نبی ﷺ نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے دعا فرمائی، اچانک اس بچے کو قئی ہوئی اور اس کے منہ سے ایک کالے بلے جیسی کوئی چیز نکلی اور بھاگ گئی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهِ لَمَمًا وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا قَالَ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ فَتَعَّ تَعَّةً فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ وَشَكَا إِلَيْهِ ضَعْفَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں ؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي عَمِّي الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عِنْدَ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ قَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ قُلْتُ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ فَأَصْبِحْ مِنْهَا صَائِمًا قُلْتُ أَكَذَاكَ كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ، آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ لَيْثًا سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْكُتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے ( أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ ) کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ عَنْ سَعَيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلَّا عُوفِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے اور یہ دعاء کرتا ہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں، جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطاء فرمائے، اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے بشرطیکہ اس کی موت کے وقت میں مہلت باقی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ سَبْعَ مَرَّاتٍ شَفَاهُ اللَّهُ إِنْ كَانَ قَدْ أُخِّرَ يَعْنِي فِي أَجَلِهِ و حَدَّثَنِي يَزِيدُ لَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ وَوَافَقَهُ عَلَى الْإِسْنَادِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنی بہن سے کہو کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ قَالَ مُرْ أُخْتَكَ أَنْ تَرْكَبَ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے حج کی منت مانی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، اس کا بھائی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی ﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ ! اگر تمہاری بہن پر کوئی قرض ہو تو کیا تم اسے ادا کرو گے یا نہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، نبی ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو اور وہ پورا کرنے کے زیادہ لائق اور حقدار ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاقْضُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا اور صحابہ کرام (رض) نے حج کا احرام باندھ لیا، جس کے پاس ہدی کا جانور نہ تھا، وہ تو حلال ہوگیا، ان لوگوں میں حضرت طلحہ (رض) اور ایک دوسرے صاحب بھی تھے، انہوں نے بھی اپنا اپنا احرام کھول لیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ رَوْحٌ سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْقُرِّيَّ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ قَالَ رَوْحٌ أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَحَلَّ وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ طَلْحَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سالم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو عمداً قتل کیا ہو ؟ انہوں نے کہا اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہوگی اور اللہ نے اس کے لئے عذاب عظیم تیار کر رکھا ہے، نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوگیا اور نبی ﷺ کے بعد کسی پر وحی آ نہیں سکتی، سائل نے پوچھا کہ اگر وہ توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا ؟ فرمایا تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی ؟ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ اس نے ایک ہاتھ سے قاتل کو پکڑ رکھا ہوگا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے سر کو اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہوگا اور وہ عرش کے سامنے آکر کہے گا کہ پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا ؟ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس (رض) کی رائے ہے، جمہور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت سے وہ جہنم سے نجات پائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا قَالَ جَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا نَزَلَ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَزَلَ وَحْيٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَأَنَّى لَهُ بِالتَّوْبَةِ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ رَجُلٌ قَتَلَ رَجُلًا مُتَعَمِّدًا يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آخِذًا قَاتِلَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ بِيَسَارِهِ وَآخِذًا رَأْسَهُ بِيَمِينِهِ أَوْ شِمَالِهِ تَشْخَبُ أَوْدَاجُهُ دَمًا فِي قُبُلِ الْعَرْشِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ عَبْدَكَ فِيمَ قَتَلَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے مشکیزے میں نبیذ بنائی جاتی تھی، نبی ﷺ اسے پیر کے دن اور منگل کو عصر تک (غالبا بدھ کی عصر تک) اسے نوش فرماتے، اس کے بعد کسی خادم کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى أَبِي عُمَرَ قَالَ ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ فِي السِّقَاءِ قَالَ شُعْبَةُ مِثْلَ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ أَوْ صَبَّهُ قَالَ شُعْبَةُ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا قَالَ وَيَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخُدَّامَ أَوْ صَبَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس وقت فرعون غرق ہو رہا تھا، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اس اندیشے سے اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنا شروع کردی کہ وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لے (اور اپنے سیاہ کار ناموں کی سزا سے بچ جائے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حاملہ جانور کے حمل میں ادھار کی بیع کرنا سود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي السَّلَفِ فِي حَبَلِ الْحَبَلَةِ رِبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہماری نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی تھی جبکہ نبی ﷺ کس سفر سے واپس آئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی ﷺ نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ الشَّهِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَاءَ مِنْ سَفَرٍ فَقَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنِي وَفُلَانًا غُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَتَرَكَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ابھی تمہارے پاس ایک ایسا آدمی آئے گا جو شیطان کی آنکھ سے دیکھتا ہے، تھوڑی دیر میں نیلی رنگت کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ! ﷺ تم نے مجھے برا بھلا کیوں کہا اور اس پر قسم کھانے لگا، اس جھگڑے کے بارے یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ جھوٹ پر قسم کھالیتے ہیں اور انہیں پتہ بھی نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ يَنْظُرُ بِعَيْنِ شَيْطَانٍ أَوْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ قَالَ فَدَخَلَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ سَبَبْتَنِي أَوْ شَتَمْتَنِي أَوْ نَحْوَ هَذَا قَالَ وَجَعَلَ يَحْلِفُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَالْآيَةُ الْأُخْرَى
tahqiq

তাহকীক: