আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২০০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسی قوم سے اس وقت تک قتال شروع نہیں کیا جب تک انہیں دعوت نہ دے لی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا دَعَاهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَرَوْحٌ قَالَ ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ عِشْتُ قَالَ رَوْحٌ لَئِنْ سَلِمْتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسندیدہ دین کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جو سب سے یکسو ہو کر ایک اللہ کے لئے ہو اور کشادہ وسیع ہو۔
حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ کسی تکلیف کی بناء پر تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ قَالَ يَزِيدُ مِنْ أَذًى كَانَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال ہوا ہے، آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جَو کے عوض جو نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے کھانے کے لئے تھے رہن رکھی ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ يَهُودَ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَخَذَهَا رِزْقًا لِعِيَالِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو مبعوث بنا کر جب نزول وحی کا سلسلہ شروع کیا گیا تو اس وقت آپ ﷺ کی عمر ٤٠ برس تھی، آپ ﷺ اس کے بعد ١٣ برس مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٣٦ برس کی عمر میں آپ ﷺ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَمَكَثَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ قَالَ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیتے تھے جو مسلمان ہو کر نبی ﷺ کے پاس آجاتے تھے چناچہ غزوہ طائف کے موقع پر بھی نبی ﷺ نے دو آدمیوں کو آزاد کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنْ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسل حضرات حسنین (رض) پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے، میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا جس سے شہد اور گھی ٹپک رہے ہیں اور لوگ آکر ان چیزوں کو اٹھا رہے ہیں کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی درمیانہ، پھر مجھے محسوس ہوا کہ ایک رسی ہے جو آسمان تک چلی گئی ہے، آپ تشریف لائے اور اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گئے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو بلندیوں پر پہنچا دیا، پھر ایک دوسرا آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی پکری اور اوپر چرھ گیا یہاں تک کہ اللہ رب العزت نے اسے بھی بلندی پر پہنچا دیا، پھر آپ دونوں کے بعد ایک اور آدمی آیا، اس نے بھی وہ رسی تھام کر اوپر چڑھنا شروع کیا اور اللہ نے اسے بھی اوپر تک پہنچا دیا، اس کے بعد جو آدمی آیا اور اس نے رسی پکڑ کر اوپر چڑھنا شروع کیا تو وہ رسی کٹ گئی، تھوڑی دیر بعد وہ رسی جڑ گئی اور اس آدمی نے بھی اس کے ذریعے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ اللہ نے اسے بھی او پر پہنچا دیا۔ یہ خواب سن کر حضرت صدیق اکبر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر آپ اجازت دیں تو اس خواب کی تعبیر میں بیان کروں ؟ اور اجازت ملنے پر کہنے لگے کہ سائبان سے مراد تو اسلام ہے، شہد اور گھی سے مراد قرآن کی حلاوت ہے جو کسی کو کم، کسی کو زیادہ اور کسی کو درمیانی حاصل ہوتی ہے، باقی رہی رسی تو اس سے مراد وہ راستہ ہے جس پر آپ ہیں، جس کی بنا پر اللہ آپ کو بھی اونچائی تک پہنچاتا ہے، آپ کے بعد ایک شخص آتا ہے وہ بھی آپ کے طریقے اور راستے پر چلتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے، تیسرے آدمی کا بھی یہی حال ہوتا ہے اور چوتھا آدمی آتا ہے تو اس کا راستہ منقطع ہوجاتا ہے، بعد میں جوڑ دیا جاتا ہے اور اللہ اسے بھی او پر پہنچا دیتا ہے، یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں نے صحیح تعبیر بیان کی ؟ فرمایا کچھ صحیح بیان کی اور کچھ میں غلطی ہوئی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ مجھے ضرور مطلع فرمائیے (کہ میں نے کیا غلطی کی ؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا قسم نہ دو گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَى رَجُلٌ رُؤْيَا فَجَاءَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ ظُلَّةً تَنْطِفُ عَسَلًا وَسَمْنًا وَكَأَنَّ النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهَا فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَكَأَنَّ سَبَبًا مُتَّصِلًا إِلَى السَّمَاءِ وقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً وَكَأَنَّ سَبَبًا دُلِّيَ مِنْ السَّمَاءِ فَجِئْتَ فَأَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ فَعَلَّاكَ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَعَلَّاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمَا فَأَخَذَ بِهِ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكُمْ فَأَخَذَ بِهِ فَقُطِعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا فَأَعْلَاهُ اللَّهُ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْبُرُهَا لَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ وَأَمَّا الْعَسَلُ وَالسَّمْنُ فَحَلَاوَةُ الْقُرْآنِ فَبَيْنَ مُسْتَكْثِرٍ وَبَيْنَ مُسْتَقِلٍّ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَأَمَّا السَّبَبُ فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ تَعْلُو فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكَ رَجُلٌ عَلَى مِنْهَاجِكَ فَيَعْلُو وَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمَا رَجُلٌ يَأْخُذُ بِأَخْذِكُمَا فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ رَجُلٌ يُقْطَعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو فَيُعْلِيهِ اللَّهُ قَالَ أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَمُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) تشریف فرما تھے، نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَقَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مردار جانوروں کی کھالوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ دباغت سے ان کی گندگی اور ناپاکی دور ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ قَالَ إِنَّ دِبَاغَهُ قَدْ ذَهَبَ بِخَبَثِهِ أَوْ رِجْسِهِ أَوْ نَجَسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَخِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى نَاقَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عمرو ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرے اور اس کے بعد اسے واپس مانگ لے، البتہ باپ اپنے بیٹے کو کچھ دے کر اگر واپس لیتا ہے تو وہ مستثنی ہے، جو شخص کسی کو کوئی ہدیہ دے اور پھر واپس مانگ لے، اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو کوئی چیز کھائے، جب اچھی طرح سیراب ہوجائے تو اسے قئی کر دے اور پھر اسی قئی کو چاٹنا شروع کردے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فِي قَيْئِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی ﷺ نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر (رض) نے بھی نکالا تھا۔
حَدَّثَنِي يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ عَلَى الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَعَلَى الْمُسَافِرِ رَكْعَتَيْنِ وَعَلَى الْخَائِفِ رَكْعَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کرسکے)
حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ حَسِبْتُ أَنْ سَيَنْزِلُ فِيهِ قُرْآنٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی صلی اللہ ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے، لیکن نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ وَلَمْ يُصَلِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون (رض) کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان ! تمہیں جنت مبارک ہو ! نبی ﷺ نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے، (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے) نبی ﷺ نے فرمایا بخدا ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ حضرت عثمان بن مظعون (رض) کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب (رض) کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جاملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا) اس پر عورتیں رونے لگیں، حضرت عمر (رض) انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عمر ! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ امْرَأَةٌ هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظَرَ غَضْبَانَ فَقَالَ وَمَا يُدْرِيكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَبَكَتْ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ مَهْلًا يَا عُمَرُ ثُمَّ قَالَ ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ مَهْمَا كَانَ مِنْ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنْ الرَّحْمَةِ وَمَا كَانَ مِنْ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ
tahqiq

তাহকীক: