আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২০৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَمَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! آپ نے قریش کے پہلوؤں کو عذاب کا مزہ چکھا دیا، اب ان کے پچھلوں کو اپنے انعام کا مزہ بھی دکھا دے۔
حَدَّثَنِي أَبِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا عَنْ طَارِقٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَذَقْتَ أَوَائِلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان (رض) ، موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ، حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان (رض) موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عید کی نماز دو رکعتیں کر کے پڑھائیں، ان دونوں رکعتوں میں نبی ﷺ نے صرف سورت فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس پر کسی سورت کا اضافہ نہیں کیا (غالبا حضرت ابن عباس (رض) تک دور ہونے کی وجہ سے آواز نہ پہنچ سکی ہوگی)
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ رَكْعَتَيْنِ لَا يَقْرَأُ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میدان عرفات میں نبی ﷺ کے سامنے ایک نیزہ گاڑ دیا گیا اور نبی ﷺ نے اسے سامنے رکھ کر نماز پڑھائی، جبکہ اس نیزے کے ورے گدھے بھی گذر رہے تھے (کیونکہ وہ نیزہ بطور سترہ کے استعمال کیا جا رہا تھا)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبَانَ قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رُكِزَتْ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَصَلَّى إِلَيْهَا وَالْحِمَارُ يَمُرُّ مِنْ وَرَاءِ الْعَنَزَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ طائف کے دن جب اہل طائف کا محاصرہ کیا تو ان کے دو غلام نکل کر نبی ﷺ کے پاس آگئے نبی ﷺ نے انہیں آزاد کردیا، جن میں سے ایک حضرت ابوبکرہ (رض) بھی تھے اور نبی ﷺ کا معمول تھا کہ مشرکوں کے ان تمام غلاموں کو آزاد کردیا کرتے تھے جو نبی ﷺ کے پاس آجاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی تم پر نماز کو فرض قرار دیا ہے، مقیم پر چار رکعتیں، مسافر پر دو رکعتیں اور نماز خوف پڑھنے والے پر ایک رکعت۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء " بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي " پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي فَإِنْ اللَّهُ قَضَى بَيْنَهُمَا فِي ذَلِكَ وَلَدًا لَمْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (میری حضرت ابن عباس (رض) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا شادی کرلو، اس بات کو کچھ عرصہ گذر گیا، دوبارہ ملاقات ہونے پر انہوں نے پھر یہی پوچھا کہ اب شادی ہوگئی ؟ میں نے پھر نفی میں جواب دیا، اس پر انہوں نے فرمایا کہ شادی کرلو کیونکہ اس امت میں جو ذات سب سے بہترین تھی (یعنی نبی ﷺ ان کی بیویاں زیادہ تھیں ( تو تم کم ازکم ایک سے ہی شادی کرلو، چار سے نہ سہی)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ يَا سَعِيدُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَإِذَا رَجَعْتَ فَتَزَوَّجْ قَالَ فَعُدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا سَعِيدُ أَتَزَوَّجْتَ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَكْثَرُهُمْ نِسَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے غسل جنابت فرمایا : جب آپ ﷺ غسل کر کے باہر نکلے تو دیکھا کہ بائیں کندھے پر تھوڑی سی جگہ خشک رہ گئی ہے، وہاں پانی نہیں پہنچا، نبی ﷺ نے اپنے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی لے کر اس جگہ کو تربتر کرلیا اور نماز کے لئے چلے گئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ عَنْ عِكْرِمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ فَلَمَّا خَرَجَ رَأَى لُمْعَةً عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ فَأَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ فَبَلَّهَا ثُمَّ مَضَى إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! جبرئیل امین (علیہ السلام) نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے میں اس دفعہ بڑی تاخیر کردی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تاخیر کیوں نہ کریں جبکہ میرے ارد گرد تم لوگ مسواک نہیں کرتے اپنے ناخن نہیں کاٹتے، اپنی مونچھیں نہیں تراشتے اور اپنی انگلیوں کی جڑوں کو صاف نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي كَعْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَبْطَأَ عَنْكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ وَلِمَ لَا يُبْطِئُ عَنِّي وَأَنْتُمْ حَوْلِي لَا تَسْتَنُّونَ وَلَا تُقَلِّمُونَ أَظْفَارَكُمْ وَلَا تَقُصُّونَ شَوَارِبَكُمْ وَلَا تُنَقُّونَ رَوَاجِبَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم کسی ایسے بیمار کی عیادت کرتا ہے جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ کہے کہ میں اس اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے کہ وہ تمہیں شفاء عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ اسے عافیت عطاء فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ يَزِيدَ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ أَنْ يَشْفِيَهُ إِلَّا عُوفِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چاہ زمزم کے قریب میرے پاس سے گذرے، نبی ﷺ نے مجھ سے پینے کے لئے پانی منگوایا، میں زمزم سے بھر کر ایک ڈول لایا، نبی ﷺ نے کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ فَدَعَا بِمَاءٍ وَاسْتَسْقَى فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) کو روانہ فرمایا : انہوں نے وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چناچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کردیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کردیا، امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس کے لئے بد دعاء فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ وَابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَيَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى قَالَ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى قَالَ يَعْقُوبُ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر روزہ رکھا، جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک گلاس پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے روزہ ختم کردیا اور لوگوں کو بھی روزہ ختم کرلینے کا حکم دیا (اور بعد میں قضاء کرلی)
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَأُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَأَفْطَرَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ نے " قاحہ " نامی جگہ میں سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ روزے سے بھی تھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ پالکی میں ایک بچہ بھی تھا، اس نے اس بچے کو اس کی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا اس کا حج ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى وَيُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فِي مِحَفَّةٍ فَأَخَذَتْ بِضَبْعِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا : پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَرَّقَ كَتِفًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں اور سنان بن سلمہ ایک دفعہ اپنے گھر سے سفر پر نکلے، ہمارے پاس دو اونٹنیاں تھیں، راستے میں وہ تھک گئیں تو سنان نے مجھ سے کہا کیا خیال ہے، حضرت ابن عباس (رض) کے پاس چلیں ؟ ہم دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ سے قبیلہ جہینہ کے ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ میرے والد صاحب بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اور اب تک وہ حج بھی نہیں کرسکے ! نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ وَمَعَنَا بَدَنَتَانِ فَأَزْحَفَتَا عَلَيْنَا فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي سِنَانٌِ هَلْ لَكَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ سِنَانٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُهَنِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ
তাহকীক: