আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২০৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبدالرحمن بن وعلہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں انگوروں کی بڑی کثرت ہے اور وہاں کی سب سے اہم تجارتی چیز شراب ہے، انہوں نے فرمایا کہ قبیلہ دوس میں نبی ﷺ کا ایک دوست رہتا تھا، وہ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں نبی ﷺ سے ملاقات کے لئے شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے لے کر آیا، نبی ﷺ نے اس سے فرمایا اے فلاں ! کیا تمہارے علم میں یہ بات نہیں کہ اللہ نے تمہارے پیچھے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے ؟ یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو ، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس ذات نے اس کا پینا حرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خریدو فروخت بھی حرام کردی ہے چناچہ اس کے حکم پر اس شراب کو بہا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا بِهَا الْكُرُومُ وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّاتِهَا الْخَمْرُ فَقَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ فَأَقْبَلَ صَاحِبُ الرَّاوِيَةِ عَلَى إِنْسَانٍ مَعَهُ فَأَمَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاذَا أَمَرْتَهُ قَالَ بِبَيْعِهَا قَالَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا وَأَكْلَ ثَمَنِهَا قَالَ فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے (غالبا مرفوعا) مروی ہے کہ جب وہ کہیں پڑاؤ کرتے اور انہیں وہ جگہ اچھی لگتی تو وہ ظہر کو مؤخر کردیتے تاکہ ظہر اور عصر میں جمع صوری کردیں اور اگر وہ روانہ ہوتے اور انہیں کہیں پڑاؤ کرنے کا موقع نہ ملتا تب بھی وہ ظہر کو موخر کردیتے تاکہ کسی منزل پر پہنچ جائیں اور وہاں ظہر اور عصر کے درمیان جمع صوری کرلیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا فَأَعْجَبَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا سَارَ وَلَمْ يَتَهَيَّأْ لَهُ الْمَنْزِلُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَنْزِلَ فَيَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ حَسَنٌ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَلِنَزَلَ مَنْزِلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوتا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ کیا تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی ﷺ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ ﷺ کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھوہا تھا اور نبی ﷺ اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ لوگو ! سکون اختیار کرو، لوگو ! سکون اور وقار اختیار کرو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ وَالْجِعَابَ وَالْقِعَابَ فَإِذَا نَفَرُوا تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ قَالَ وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ ذِفْرَىْ نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ سوگئے تو آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھا دی اور وضو نہیں فرمایا : عکرمہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نیند کی حالت میں بھی وضو ٹوٹنے سے محفوظ تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ وَأَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سُمِعَ لَهُ غَطِيطٌ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ فَقَالَ عِكْرِمَةُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْفُوظًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ لوگ دو مرتبہ سو کر بیدار ہوئے، پھر حضرت عمر (رض) نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ نماز ! اس پر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور انہیں نماز پڑھائی، راوی نے ان کے وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ وَقَيْسٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا ثُمَّ نَامُوا ثُمَّ اسْتَيْقَظُوا قَالَ قَيْسٌ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَخَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُمْ تَوَضَّئُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ام المومنین میمونہ (رض) کے یہاں رات گذاری، رات کا وقت ہوا تو نبی ﷺ بیدار ہو کر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جیسے نبی ﷺ نے کیا تھا اور جا کر آپ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور پھر لیٹ کر سو گئے حتی کہ خر اٹے لینے لگے، یہاں تک کہ جب مؤذن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کردو رکعتیں ہلکی سی پڑھیں اور باہر تشریف لا کر فجر کی نماز پڑھائی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبِ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ جَاءَهُ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ حَسَنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَامَ حَتَّى نَفَخَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے شب معراج حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ گندم گوں، لمبے قد اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہوں، نیز میں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا، وہ درمیانے قد کے، سرخ وسفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ رَجُلًا آدَمَ طُوَالًا جَعْدًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَام مَرْبُوعَ الْخَلْقِ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطَ الرَّأْسِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لعان کرنے والی عورت کی اولاد کے متعلق یہ فیصلہ فرما دیا کہ اس عورت کی اولاد کو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے، جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر کوئی تہمت لگائے گا، اسے سزا دی جائے گی، نیز آپ ﷺ نے یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ اس عورت کی رہائش بھی اس کے شوہر کے ذمے نہیں ہے اور نان نفقہ بھی، کیونکہ ان دونوں کے درمیان طلاق یا وفات کے بغیر جدائی ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أَنْ لَا يُدْعَى لِأَبٍ وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَإِنَّهُ يُجْلَدُ الْحَدَّ وَقَضَى أَنْ لَا قُوتَ لَهَا وَلَا سُكْنَى مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُمَا مُحْرِمَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ يَعْنِي الَّذِي يَغْشَى امْرَأَتَهُ حَائِضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماعز بن مالک (رض) سے ملے اور فرمایا تمہارے بارے مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کو کیا بات میرے متعلق معلوم ہوئی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی، نبی ﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کرلیا تب کہیں جا کر نبی ﷺ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ قَالَ وَمَا بَلَغَكَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ فَجَرْتَ بِأَمَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ فَرَدَّهُ حَتَّى شَهِدَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ سے عرض کیا کاش ! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِىِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذُ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فِي فِرْعَوْنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ حَمَّادٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس ! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا پھر وہ) حضرت عمر فاروق (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا افسوس ! شاید اس کا شوہر اللہ اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم حضرت ابوبکر (رض) کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چناچہ اس نے حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے حضرت عمر (رض) کی طرح نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا ؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، اس آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، حضرت عمر (رض) نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ امْرَأَةٌ جَاءَتْ تُبَايِعُهُ فَأَدْخَلْتُهَا الدَّوْلَجَ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ فَقَالَ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ أَجَلْ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ قَالَ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِي خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَضَرَبَ عُمَرُ صَدْرَهُ بِيَدِهِ فَقَالَ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ عُمَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے، اس وقت حضرت اسامہ بن زید (رض) نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا الشَّرَابِ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تین چیزوں میں شفاء ہے، شہد پینے میں، سینگی لگوانے میں اور آگ کے ذریعے زخم کو داغنے میں، لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ مَا أَحْفَظُهُ إِلَّا سَالِمٌ الْأَفْطَسُ الْجَزَرِيُّ ابْنُ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّفَاءُ فِي ثَلَاثَةٍ شَرْبَةِ عَسَلٍ وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ وَكَيَّةِ نَارٍ وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنْ الْكَيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২০৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی صلی کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی ﷺ بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امیر معاویہ (رض) کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، ان کی بائیں جانب حضرت عبداللہ بن عباس (رض) تھے اور ان دونوں کے پیچھے میں تھا اور ان دونوں حضرات کی باتیں سن رہا تھا، حضرت امیر معاویہ (رض) جب حجر اسود کا استلام کرنے لگے تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ان دو کونوں کا (جو اب آئیں گے) استلام نہیں کیا، حضرت معاویہ (رض) فرمانے لگے کہ ابن عباس ! مجھے چھوڑ دیجئے، کیونکہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے، لیکن حضرت امیر معاویہ (رض) جب کسی رکن پر ہاتھ رکھتے تو حضرت ابن عباس (رض) ان سے برابر یہی کہتے رہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَ الْحَجَرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَلِمْ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ مَهْجُورٌ فَطَفِقَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَزِيدُهُ كُلَّمَا وَضَعَ يَدَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ الرُّكْنَيْنِ قَالَ لَهُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক: