আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২১৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی کی پھر قربانی کی پھر حلق کر وایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ضمام بن ثعلبہ جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جب اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تو نبی ﷺ سے فرائض اسلام مثلا نماز وغیرہ کے متعلق سوالات کئے، نبی ﷺ نے ان کے سامنے پانچ نمازیں ذکر کیں اور ان پر کچھ اضافہ نہ فرمایا : پھر زکوۃ، روزہ اور حج کا ذکر فرمایا : پھر وہ چیزیں بتائیں جو اللہ نے ان پر حرام قرار دے رکھی ہیں، نبی ﷺ جب اس سے فارغ ہوئے تو ضمام کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے مجھے جو حکم دیا ہے میں انشاء اللہ اس کے مطابق کروں گا اور اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا، یہ کہہ کر وہ چلے گئے، نبی ﷺ نے فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے اپنی یہ بات سچ کر دکھائی تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ أَخَا بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ لَمَّا أَسْلَمَ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ مِنْ الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا فَعَدَّ عَلَيْهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِنَّ ثُمَّ الزَّكَاةَ ثُمَّ صِيَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ حَجَّ الْبَيْتِ ثُمَّ أَعْلَمَهُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ وَسَأَفْعَلُ مَا أَمَرْتَنِي بِهِ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ قَالَ ثُمَّ وَلَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے خیبر کی زمین اور اس کے باغات کو نصف پر بٹائی کے لئے دے دیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ خَيْبَرَ أَرْضَهَا وَنَخْلَهَا مُقَاسَمَةً عَلَى النِّصْفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطاء فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہوجائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنادیا گیا ہے۔ وضاحت کے لئے حدیث نمبر ٢٧٤٢ میں دیکھئے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے پیچھے نماز پڑھی، وہ تو جب رکوع سجدے میں جاتے تو تکبیر کہتے تھے، میں نے یہ بات حضرت ابن عباس (رض) سے ذکر کی، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ کیا یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں ہے ؟
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّبَّاغَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ كَبَّرَ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَيْسَتْ تِلْكَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی ﷺ کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی ﷺ برابر نماز پڑھتے رہے، اسی طرح ایک مرتبہ میں اور ایک انصاری آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گذرے، نبی ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، ہم اپنے گدھے پر سوار تھے، ہم لوگ آئے اور نماز میں شامل ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَّتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَجَاءَتَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ فَلَمْ يَنْصَرِفْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَرَرْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَنَحْنُ عَلَى حِمَارٍ فَجِئْنَا فَدَخَلْنَا فِي الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بنو عبد المطلب کے ایک بچے کو اٹھا کر اپنے پیچھے سوار کرلیا اور دوسرے کو اپنے آگے بٹھا لیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ غِلْمَةِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَاحِدًا خَلْفَهُ وَوَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو، بادشاہ اس کا ولی ہوتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سفر میں دو اور اقامت میں چار رکعتیں پڑھی ہیں، لہذا جو شخص سفر میں چار رکعتیں پڑھتا ہے وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص حضر میں دو رکعتیں پڑھے، نیز فرمایا کہ نماز میں قصر ایک ہی مرتبہ ہوئی ہے جبکہ نبی ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائی تھیں جو مجاہدین نے ایک ایک رکعت کر کے نبی ﷺ کی اقتداء میں اداء کی تھیں۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُقَيْلِيُّ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَافَرَ رَكْعَتَيْنِ وَحِينَ أَقَامَ أَرْبَعًا قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ صَلَّى فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا كَمَنْ صَلَّى فِي الْحَضَرِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ إِلَّا مَرَّةً حَيْثُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّى النَّاسُ رَكْعَةً رَكْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں میں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو لوگوں کا ایک گروہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے لگا، نبی ﷺ نے ایک شخص کو یہ منادی کرنے کے لئے فرمایا کہ لوگو ! گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ أَوْضَعَ النَّاسُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي أَيُّهَا النَّاسُ لَيْسَ الْبِرُّ بِإِيضَاعِ الْخَيْلِ وَلَا الرِّكَابِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُ مِنْ رَافِعَةٍ يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى نَزَلَ جَمْعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یوم عرفہ کے موقع پر حضرت اسامہ بن زید (رض) نبی ﷺ کے ردیف تھے، نبی ﷺ نے ایک گھاٹی میں داخل ہو کر وہاں اترے، پانی بہایا، وضو کیا اور سوار ہوگئے اور نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَكِبَ وَلَمْ يُصَلِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت فضل (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل (رض) نبی ﷺ کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کرلو تو کیا وہ ادا ہوجائے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس دوران حضرت فضل (رض) اس عورت کو مڑ مڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت فضل (رض) کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا وَكَانَتْ امْرَأَةً حَسْنَاءَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس جبکہ آپ ﷺ تشریف فرما تھے ایک یہودی کا گذر ہوا، وہ کہنے لگا کہ اے ابو القاسم ! آپ اس دن کے بارے کیا کہتے ہیں جب اللہ تعالیٰ آسمان کو اپنی اس انگلی پر اٹھائے گا اور اس شہادت والی انگلی کی طرف اشارہ کیا، زمین کو اس انگلی پر، پانی کو اس انگلی پر، پہاڑوں کو اس انگلی پر اور تمام مخلوقات کو اس انگلی پر اور ہر مرتبہ اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتا جا رہا تھا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسی قدر دانی کرنے کا حق تھا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ قَالَ كَيْفَ تَقُولُ يَا أَبَا الْقَاسِمِ يَوْمَ يَجْعَلُ اللَّهُ السَّمَاءَ عَلَى ذِهْ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْأَرْضَ عَلَى ذِهْ وَالْمَاءَ عَلَى ذِهْ وَالْجِبَالَ عَلَى ذِهْ وَسَائِرَ الْخَلْقِ عَلَى ذِهْ كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُ بِأَصَابِعِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ جب صبح کے وقت بیدار ہوئے تو پتہ چلا کہ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، چناچہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فوج کے پاس پانی نہیں ہے، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس تھوڑا سا پانی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا وہ میرے پاس لے آؤ، تھوڑی دیر میں وہ ایک برتن لے آیا جس میں بالکل تھوڑا سا پانی تھا، نبی ﷺ نے اس برتن کے منہ پر اپنی انگلیاں رکھ دیں اور انہیں کھول دیا، اسی وقت نبی ﷺ کی انگلیوں سے چشمے ابل پڑے، نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردو مبارک پانی آکر لے جائیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْأَشْقَرُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبداللہ بن شقیق (رح) کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس (رض) نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا : یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کردیا، اس پر حضرت ابن عباس (رض) کو غصہ آگیا اور وہ فرمانے لگے کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے ؟ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے، راوی حدیث عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے متلعق کچھ خلجان سا پیدا ہوا، چناچہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی اس کی موافقت کی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَبَدَتْ النُّجُومُ وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَجَعَلَ يَقُولُ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ قَالَ فَغَضِبَ قَالَ أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَجَدْتُ فِي نَفَسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ فَوَافَقَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت دین نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیات تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار ! یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد (علیہ السلام) کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنالیا۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں ؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کردی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَوْ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ مِنْهُ مَا هُوَ مِنْ ذَرَارِيَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَجَعَلَ يَعْرِضُ ذُرِّيَّتَهُ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ أَيْ رَبِّ كَمْ عُمْرُهُ قَالَ سِتُّونَ عَامًا قَالَ رَبِّ زِدْ فِي عُمْرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ أَزِيدَهُ مِنْ عُمْرِكَ وَكَانَ عُمْرُ آدَمَ أَلْفَ عَامٍ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَكَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ بِذَلِكَ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ وَأَتَتْهُ الْمَلَائِكَةُ لِتَقْبِضَهُ قَالَ إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُونَ عَامًا فَقِيلَ إِنَّكَ قَدْ وَهَبْتَهَا لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ مَا فَعَلْتُ وَأَبْرَزَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَشَهِدَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بالارادہ جنات کو قران کریم کی تلاوت نہیں سنائی تھی اور نہ ہی انہیں دیکھا تھا، اصل میں ہوا یوں تھا کہ نبی ﷺ اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے ساتھ عکاظ نامی مشہور بازار تشریف لے گئے تھے، اس وقت تک شیاطین اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ حائل ہوچکی تھی اور ان پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے تھے، شیاطین پریشان ہو کر اپنی قوم کے پاس واپس آئے تو قوم نے ان سے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمار اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹیں حائل ہوگئی ہیں اور ہم پر شہاب ثاقب پھینکے جانے لگے ہیں، قوم نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات ہوئی ہے، تم مشرق اور مغرب میں پھیل جاؤ اور معلوم کرو کہ وہ کون سی چیز ہے جس کی بناء پر تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے ؟ چناچہ یہ لوگ اس کا سبب معلوم کرنے کے لئے مشرق اور مغرب میں پھیل گئے، ان میں سے جو شیاطین تہامہ کی طرف گئے تھے، واپسی میں ان کا گذر نبی ﷺ کی طرف سے ہوا، اس وقت آپ ﷺ عکاظ کے بازار کے ارادے سے ایک باغ میں صحابہ کرام (رض) کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، جب ان کے کانوں میں قران کریم کی آواز پڑی تو انہوں نے اسے توجہ سے سننا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ یہی وہ چیز ہے جو تمہارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے۔ پھر جب یہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس پہنچے تو کہنے لگے کہ اے ہماری قوم ! ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو رشد و ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قل اوحی الی۔۔۔۔ گویا نبی ﷺ پر صرف وحی جنات کے قول کی ہوئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْجِنِّ وَلَا رَآهُمْ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ قَالَ فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَكُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالَ فَقَالُوا مَا حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ إِلَّا شَيْءٌ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا يَبْتَغُونَ مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ الَّذِينَ تَوَجَّهُوا نَحْوَ تِهَامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِنَخْلَةَ عَامِدًا إِلَى سُوقِ عُكَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ قَالَ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا وَاللَّهِ الَّذِي حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَاءِ قَالَ فَهُنَالِكَ حِينَ رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ الْآيَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ وَإِنَّمَا أُوحِيَ إِلَيْهِ قَوْلُ الْجِنِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور جس کا گھر میقات سے پیچھے ہو تو وہ جہاں سے ابتداء کرے، وہ یہیں سے احرام باندھ لے، حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক: