আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২১২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اہل بدر ٣١٣ افراد تھے۔ جن میں ٧٦ مہاجرین بھی شامل تھے، غزوہ بدر میں مشرکین کو ١٧ رمضان بروز جمعہ ہزیمت اور شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَهْلَ بَدْرٍ كَانُوا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ سِتَّةً وَسَبْعِينَ وَكَانَ هَزِيمَةُ أَهْلِ بَدْرٍ لِسَبْعَ عَشْرَةَ مَضَيْنَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا در گذر سے کام لیا کرو، تم سے درگذر کی جائے گی۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کثرت سے استغفار کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر غم سے کشادگی اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ نکال دیں گے اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء فرمائیں گے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت حضرت ابن عباس (رض) اس کا خط پڑھ کر اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا بخدا ! اگر میں نے اسے اس شر سے نہ بچانا ہوتا جس میں وہ مبتلا ہوسکتا ہے تو میں کبھی بھی اسے جواب دے کر اسے خوش نہ کرتا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ آپ نے مجھ سے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے پوچھا ہے جن کا اللہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ کون ہیں ؟ ہماری رائے تو یہی تھی کہ نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہی اس کا مصداق ہیں لیکن ہماری قوم نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا، آپ نے یتیم کے متعلق پوچھا ہے کہ اس سے یتیم کا لفظ کب ہٹایا جائے گا ؟ یاد رکھئے ! جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائے اور اس کی سمجھ بوجھ ظاہر ہوجائے تو اسے اس کا مال دے دیا جائے کہ اب اس کی یتیمی ختم ہوگئی، نیز آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے ؟ تو یاد رکھئے ! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے (اور یہ تمہارے لئے ممکن نہیں ہے) نیز آپ نے پوچھا ہے کہ اگر عورت اور غلام جنگ میں شریک ہوئے ہوں تو کیا ان کا حصہ بھی مال غنیمت میں معین ہے ؟ تو ان کا کوئی حصہ معین نہیں ہے البتہ انہیں مال غنیمت میں سے کچھ نہ کچھ دے دینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ شَرٍّ يَقَعُ فِيهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي عَنْ سَهْمِ ذَوِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ هُمْ وَإِنَّا كُنَّا نُرَى قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ هُمْ فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلَهُ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّكَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ دُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ وَقَدْ انْقَضَى يُتْمُهُ وَسَأَلَهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَسَأَلَهُ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ كَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی ﷺ منبر کی طرف منتقل ہوگئے تو کھجور کا وہ تنا نبی ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی ﷺ فرمایا اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا عَفَّانُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ قَالَ وَلَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عبیداللہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور قریش کے کچھ نوجوان حضرت ابن عباس (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں، ہم نے پوچھا کہ شاید آہسۃ آواز میں قرأت فرما لیتے ہوں ؟ انہوں نے فرمایا خوامش ! یہ تو اور بھی زیادہ برا ہے، جناب رسول اللہ ﷺ ایک عبد مامور تھے، بخدا ! انہیں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی ﷺ نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَفِتْيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَسَأَلُوهُ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ لَا قَالَ فَقَالُوا فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ قَالَ خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَإِنَّهُ لَمْ يَخُصَّنَا دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَلَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَلَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو ہاشم کے کچھ افراد کو مزدلفہ کی رات جلدی روانہ کردیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے پہلے رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحَّلَ نَاسًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ بِلَيْلٍ قَالَ شُعْبَةُ أَحْسَبُهُ قَالَ ضَعَفَتَهُمْ وَأَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ شُعْبَةُ شَكَّ فِي ضَعَفَتَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا اور فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کو لئے بھی جو حج وعمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ قَالَ هُنَّ لَهُمْ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِمْ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مِنْ حَيْثُ بَدَأَ حَتَّى يَبْلُغَ ذَلِكَ أَهْلَ مَكَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سر کا بوسہ لے لیا کرتے تھے اور اس وقت آپ ﷺ روزے سے ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصِيبُ مِنْ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پر نزول وحی کا سلسہ چالیس برس کی عمر میں شروع ہوا، تیرہ سال آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے، دس سال مدینہ منورہ میں اور ٦٣ برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعِينَ وَكَانَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا فَمَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں اپنے سر پر سینگی لگوائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پانی منگوایا، میں ایک ڈول میں زمزم لے کر آیا تو نبی صلی اللہ علیہ کھڑے کھڑے اسے نوش فرما لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِشَرَابٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ قَائِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے پاس رات گذاری، نبی ﷺ رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، وضو کرکے کھڑے ہوگئے، میں نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَتَى خَالَتَهُ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ إِلَى سِقَايَةٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى قَالَ وَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی تمام سنتوں کو محفوظ کرلیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں ؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی ﷺ اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے " وقد بلغت من الکبر عتیا " (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) او عسیا (عین کے پیش اور سین کے ساتھ) ؟
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا أَوْ عُسُيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھل کی خریدو فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہوجائے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ الثَّمَرُ حَتَّى يُطْعَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ کے نام سے پناہ مانگے، اسے پناہ دے دو اور جو شخص اللہ کی ذات کا واسطہ دے کر تم سے مانگے، اسے دے دو ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَهِيكٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ زَمْعَةَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا وَالرُّقْبَى لِمَنْ أُرْقِبَهَا وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عمر بھر کے لئے کسی کوئی چیز دے دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی، کسی کی موت پر موقوف کر کے کوئی دینے سے وہ اس کی ہوجاتی ہے جسے دی گئی اور ہدیہ دے کر اسے واپس لینے والا ایسے ہی ہے جیسے قئی کر کے اسے چاٹ لینے والا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ أَرْقَبَ رُقْبَى فَهِيَ لِمَنْ أُرْقِبَهَا جَائِزَةٌ وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً ثُمَّ عَادَ فِيهَا فَهُوَ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ صُرِفَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ
তাহকীক: