আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২১৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑ کا اپنے گدھے پر سوار نبی ﷺ کے سامنے سے گذرے، ہم نے اسے چھوڑ دیا اور وہ نبی ﷺ کے آگے سے گھاس وغیرہ کھانے لگا لیکن نبی ﷺ نے نماز ختم نہیں کی، اسی طرح بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آکر نبی ﷺ کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی ﷺ برابر نماز پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ عَلَى حِمَارٍ وَتَرَكْنَاهُ يَأْكُلُ مِنْ بَقْلٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْصَرِفْ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ تَشْتَدَّانِ حَتَّى أَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْصَرِفْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ذو الحلیفہ میں نماز ظہر پڑھی، پھر قربانی کا جانور منگوا کر دائیں جانب سے اس کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا، پھر نبی ﷺ کی سواری لائی گئی، جب نبی ﷺ اس پر سوار ہوگئے اور بیداء مقام پر پہنچے تو حج کا تلبیہ پڑھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَتِهِ أَوْ أُتِيَ بِبَدَنَتِهِ فَأَشْعَرَ صَفْحَةَ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ ثُمَّ أَتَى رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ) کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور علیم ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو ساتوں آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف نسبت کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ قَالَ عَفَّانُ عَبْدٍ فِي أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کی خالہ ام حفید نے نبی ﷺ کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی ﷺ نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ تناول فرمالیا، لیکن ناپسندیدگی کی بناء پر گوہ کو چھوڑ دیا، تاہم اسے نبی ﷺ کے دستر خوان پر دوسروں نے کھایا ہے، اگر اسے کھان احرام ہوتا تو نبی ﷺ کے دستر خوان پر اسے کبھی نہ کھایا جاسکتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ خَالَتَهُ أُمَّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا قَالَ فَأَكَلَ مِنْ السَّمْنِ وَمِنْ الْأَقِطِ وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا فَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُؤْكَلْ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ قَالَ لَوْ كَانَ حَرَامًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنْبَأَنِي طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ ٢٣ ویں رات تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقِيلَ لِي إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کئی کئی راتیں مسلسل اس طرح خالی پیٹ گزار دیتے تھے کہ اہل خانہ کو رات کا کھانا نہیں ملتا تھا اور اکثر انہیں کھانے کے لئے جو روٹی ملتی تھی وہ جو کی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِي الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً قَالَ وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، یہ سن کر اقوع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو تم اس پر عمل نہ کرسکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَنَا يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ قَالَ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ فِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا أَوْ لَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے اور سعی کے دوران بھی بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ ﷺ نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائی)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْيًا وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر نبی ﷺ نے منیٰ کے میدان میں ادا فرمائی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو زُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص بھائی کو اپنی دیوار پر رکھنے سے منع نہ کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِرْفَقَهُ أَنْ يَضَعَهُ عَلَى جِدَارِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
میمون مکی کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کو دیکھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، وہ کھڑے ہوتے وقت اور رکوع و سجود کرتے وقت اپنی ہتھیلیوں سے اشارہ کرتے تھے اور سجدہ سے قیام کے لئے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے، میں یہ دیکھ کر حضرت ابن عباس (رض) کے پاس چلا گیا اور ان سے عرض کیا کہ میں نے حضرت ابن زبیر (رض) کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ اس سے پہلے کسی کو ایسی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، میں نے ان کے سامنے اس اشارہ کا تذکرہ بھی کیا، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم نبی ﷺ جیسی نماز دیکھنا چاہتے ہو تو حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی نماز کی اقتداء کرو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ الزُّبَيْرِ عَبْدَ اللَّهِ وَصَلَّى بِهِمْ يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلَاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا فَوَصَفَ لَهُ هَذِهِ الْإِشَارَةَ فَقَالَ إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَدِ بِصَلَاةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کوئی چیز بتاؤ جو ہم اس شخص سے پوچھیں، انہوں نے کہا کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، چناچہ قریش نے نبی ﷺ سے روح کے متعلق سوال کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے، وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمیں تو بہت علم دیا گیا ہے، کیونکہ ہمیں تورات دی گئی ہے اور جسے تورات دی گئی، اسے بڑی خیر نصیب ہوگئی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے حبیب ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ اگر میرے رب کی صفات بیان کرنے کے لئے سمندر روشنائی بن جائے تو سمندر ختم ہوجائے۔۔۔۔۔۔ ۔۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ قُرَيْشٌ لِلْيَهُودِ أَعْطُونَا شَيْئًا نَسْأَلُ عَنْهُ هَذَا الرَّجُلَ فَقَالُوا سَلُوهُ عَنْ الرُّوحِ فَسَأَلُوهُ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا قَالُوا أُوتِينَا عِلْمًا كَثِيرًا أُوتِينَا التَّوْرَاةَ وَمَنْ أُوتِيَ التَّوْرَاةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا ہاتھ لگایا ہوگا یا صرف دیکھا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَسْلَمِيِّ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ أَوْ نَظَرْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پچھے محافظ ہیں، اے اللہ ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اے اللہ ! زمین کو ہمارے لئے لپیٹ کر ہمارے لئے اس سفر کو آسان فرما دیجئے اور جب واپسی کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ ہم توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اور اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس ہو رہے ہیں اور جب اہل خانہ کے پاس پہنچتے کہ ہماری توبہ ہے اپنے رب کی طرف رجوع ہے، وہ ہم پر کوئی گناہ باقی نہ چھوڑے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى سَفَرٍ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ وَإِذَا أَرَادَ الرُّجُوعَ قَالَ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ وَإِذَا دَخَلَ أَهْلَهُ قَالَ تَوْبًا تَوْبًا لِرَبِّنَا أَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ گروہ قرآن تو پڑھیں گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ أَقْوَامٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ قبلہ رخ بیٹھ کر قضاء حاجت نہ کیا کرو، جانور کے تھن باندھ کر ان میں دودھ جمع نہ کیا کرو اور ایک دوسرے کے لئے سودے بازی مت کیا کرو۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسْتَقْبِلُوا وَلَا تُحَفِّلُوا وَلَا يَنْعِقْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے امیہ کے بعض اشعار کو سچا قرار دیا ہے، چناچہ ایک مرتبہ امیہ نے یہ شعر کہا کہ وہ ایسا بہادر آدمی ہے جس کے دائیں پاؤں کے نیچے بیل اور بائیں پاؤں کے نیچے گدھ ہے اور شیر کی تاک میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، اسی طرح اس نے ایک مرتبہ یہ شعر کہے کہ سورج ہر سرخ رات کے آخر میں طلوع ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح ہو رہا ہوتا ہے، وہ انکار کرتا ہے اور دوبارہ طلوع نہیں ہوتا مگر سزا یافتہ ہو کر یا کوڑے کھا کر، نبی ﷺ نے اس پر بھی اس کی تصدیق کی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ فَقَالَ رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ وَقَالَ وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعْ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ
tahqiq

তাহকীক: