আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২২০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص سجدے کی حالت میں سو جائے، اس کا وضو نہیں ٹوٹتا، تاآنکہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، اس لئے کہ جب وہ پہلو کے بل لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ سَاجِدًا وُضُوءٌ حَتَّى يَضْطَجِعَ فَإِنَّهُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کرلیا، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کردیا، نبی ﷺ کا وہاں سے گذر ہوا تو آپ ﷺ کو ساری بات بتائی گئی، نبی ﷺ نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً أَوْ سَبَاهَا فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ فَقَتَلَهَا فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اور ایک مرتبہ نبی ﷺ نے موتہ کی طرف ایک سریہ بھیجا اور حضرت زید بن حارثہ (رض) کو اس کا امیر مقرر کیا، ان کے شہید ہوجانے کی صورت میں حضرت جعفر (رض) کو اور ان کے شہید ہوجانے کی صورت میں حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کو مقرر فرمایا حضرت ابن رواحہ پیچھے رہ گئے اور نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے، جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا ؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام کا نکلنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى مُؤْتَةَ فَاسْتَعْمَلَ زَيْدًا فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ فَابْنُ رَوَاحَةَ فَتَخَلَّفَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَجَمَّعَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ قَالَ أُجَمِّعُ مَعَكَ قَالَ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اور نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو کسی حاملہ عورت سے ہم بستری کرے۔
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ وَطِئَ حُبْلَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کردیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کردو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت ناپاک ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سر دی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُصِيبَ يَوْمِ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل نبی ﷺ کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو منع نہیں کیا تھا ؟ نبی ﷺ نے اسے جھڑک دیا، وہ کہنے لگا محمد ! تم مجھے جھڑک رہے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس پورے شہر میں مجھ سے بڑی مجلس کسی کی نہیں ہوتی ؟ اس پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر اترے کہ اسے چاہئے وہ اپنی مجلس والوں کو بلالے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو اسے عذاب کے فرشتے " زبانیہ " پکڑتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ أَلَمْ أَنْهَكَ فَانْتَهَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ لِمَ تَنْتَهِرُنِي يَا مُحَمَّدُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا بِهَا رَجُلٌ أَكْثَرُ نَادِيًا مِنِّي قَالَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْ دَعَا نَادِيَهُ لَأَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر تھوڑی دیر کے لئے بیٹھ جاتے اور دوبارہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَائِمًا ثُمَّ يَقْعُدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ ایک ہم نشین شیاطین میں سے بھی لگایا گیا ہے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے ساتھ بھی یہ معاملہ ہے ؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ نے میری مدد کی ہے اور میرا شیطان میرے تابع ہوگیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الشَّيَاطِينِ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس رات نبی ﷺ کو معراج کی عظیم سعادت عطاء ہوئی، آپ ﷺ جنت میں داخل ہوئے اور اس کی ایک جانب ہلکی سی آہٹ سنی، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل ! یہ کیا ہے ؟ عرض کیا یہ آپ کا مؤذن بلال ہے، نبی ﷺ نے واپسی کے بعد لوگوں سے فرمایا تھا کہ بلال کامیاب ہوگئے، میں نے ان کے لئے فلاں فلاں چیز دیکھی ہے۔ بہرحال ! شب معرفاج نبی ﷺ کی ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی، انہوں نے نبی ﷺ کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا مرحبابالنبی الامی، وہ گندمی رنگ کے طویل القامت آدمی تھے جن کے بال سیدھے تھے اور کانوں تک یا اس سے اوپر تھے، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں، کچھ اور آگے چلے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ کچھ اور آگے چلے تو ایک بارعب اور جلیل القدر بزرگ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بھی نبی ﷺ کو خوش آمدید کہا اور سلام کیا جیسا کہ سب ہی نے سلام کیا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل ! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کے والد (جدا مجد) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ اس سفر معارج میں نبی ﷺ نے جہنم کو بھی دیکھا، وہاں ایک گروہ نظر آیا جو مردار لاشیں کھا رہا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا چبرئیل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے (غیبت کرتے) ہیں، وہاں نبی ﷺ نے ایک سرخ رنگت کا آدمی بھی دیکھا جس کے گھنگھریالے بال تھے اور اگر تم اسے دیکھو تو وہ پراگندہ معلوم ہو، نبی ﷺ نے پوچھا جبرئیل یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت صالح کی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا بدنصیب ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لیکن جب نبی ﷺ متوجہ ہوئے تو وہاں سارے نبی آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کر رہے تھے، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ کے پاس دو پیالے لائے گئے، ایک دائیں طرف سے اور ایک بائیں طرف سے، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شہد، نبی ﷺ نے دودھ والا برتن لے کر دودھ پی لیا، وہ پیالہ لانے والا فرشتہ کہنے لگا کہ آپ نے فطرت سلیمہ کو اختیار کیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَمِعَ مِنْ جَانِبِهَا وَجْسًا قَالَ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ إِلَى النَّاسِ قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَلَقِيَهُ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الْأُمِّيِّ قَالَ فَقَالَ وَهُوَ رَجُلٌ آدَمُ طَوِيلٌ سَبْطٌ شَعَرُهُ مَعَ أُذُنَيْهِ أَوْ فَوْقَهُمَا فَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ عِيسَى فَرَحَّبَ بِهِ وَقَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عِيسَى قَالَ فَمَضَى فَلَقِيَهُ شَيْخٌ جَلِيلٌ مَهِيبٌ فَرَحَّبَ بِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَكُلُّهُمْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا أَبُوكَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ فَنَظَرَ فِي النَّارِ فَإِذَا قَوْمٌ يَأْكُلُونَ الْجِيَفَ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَرَأَى رَجُلًا أَحْمَرَ أَزْرَقَ جَعْدًا شَعِثًا إِذَا رَأَيْتَهُ قَالَ مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا عَاقِرُ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ الْأَقْصَى قَامَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّونَ أَجْمَعُونَ يُصَلُّونَ مَعَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ جِيءَ بِقَدَحَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ الْيَمِينِ وَالْآخَرُ عَنْ الشِّمَالِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ عَسَلٌ فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ فَقَالَ الَّذِي كَانَ مَعَهُ الْقَدَحُ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز میں نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو نبی ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانب کرلیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ قَالَ ثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَنْ شِمَالِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُمَيْعٍ الزَّيَّاتِ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں حوض کوثر پر تمہارا منتظر اور تم سے پہلے موجود ہوں گا، جو شخص حوض کوثر پر پہنچ جائے گا وہ کامیاب ہوجائے گا، البتہ وہاں بھی کچھ لوگ لائے جائیں گے لیکن انہیں بائیں طرف سے پکڑ لیا جائے گا، میں عرض کروں گا پروردگار ! (یہ تو میرے امتی ہیں) ارشاد ہوگا کہ یہ لوگ آپ کے بعد اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ وَيُؤْتَى بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ فَيُقَالُ مَا زَالُوا بَعْدَكَ يَرْتَدُّونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ ﷺ کو اچھا نام پسند آتا تھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يُوَقِّرْ الْكَبِيرَ وَيَرْحَمْ الصَّغِيرَ وَيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں ایس ہیں جن میں سے ہر ایک فاسق ہے اور محرم بھی انہیں قتل کرسکتا ہے اور حرم میں بھی انہیں قتل کیا جاسکتا ہے، چوہا، بچھو، سانپ، باؤلا کتا اور کوا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحَيَّةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کی تمام سنتوں کو محفوظ کرلیا ہے لیکن مجھے تین باتیں معلوم نہیں ہیں پہلی یہ کہ نبی ﷺ ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں ؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی ﷺ اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے " وقد بلغت من الکبر عتیا " (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) او عسیا (عین کے پیش اور سین کے ساتھ) ؟ تیسری بات راوی بھول گئے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُهُ غَيْرَ ثَلَاثٍ لَا أَدْرِي كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا أَوْ عُسُيًّا قَالَ حُصَيْنٌ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُهَا كُلَّهَا أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ عُتِيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے مطالبہ کیا کہ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ صفا پہاڑی کو ہمارے لئے سونے کا بنادے اور دوسرے پہاڑوں کو ہٹا دے تاکہ ہم کھیتی باڑی کرسکیں، ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے (نبی ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم ایمان لے آؤ گے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے دعا فرمادی، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو انتظار کرلیں اور اگر چاہیں تو ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے گا، لیکن اس کے بعد اگر ان میں سے کسی نے کفر کیا تو پھر میں انہیں پہلوں کی طرح ہلاک کر دوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں انتظار کرلوں گا، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہمیں معجزات بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن پہلے لوگ بھی انہیں جھٹلاتے ہی رہے ہیں، چناچہ ہم نے قوم ثمود کو راہ دکھانے کے لئے اونٹنی دی تھی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ الصَّفَا ذَهَبًا وَأَنْ يُنَحِّيَ الْجِبَالَ عَنْهُمْ فَيَزْدَرِعُوا فَقِيلَ لَهُ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَسْتَأْنِيَ بِهِمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤْتِيَهُمْ الَّذِي سَأَلُوا فَإِنْ كَفَرُوا أُهْلِكُوا كَمَا أَهْلَكْتُ مَنْ قَبْلَهُمْ قَالَ لَا بَلْ أَسْتَأْنِي بِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَا مَنَعَنَا أَنْ نُرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَنْ كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ کا نام برہ تھا، نبی ﷺ نے اس نام کو اچھا نہ سمجھا اور ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا، اس بات کی ناپسنیدگی کی وجہ یہ ہے کہ یوں کہا جائے نبی ﷺ برہ کے پاس سے نکل کر آرہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز کے بعد نکلے اور حضرت جویریہ (رض) کے پاس آئے، حضرت جویریہ (رض) کہنے لگیں یا رسول اللہ ! آپ کے جانے کے بعد میں مستقل یہیں پر بیٹھی رہی ہوں، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چند کلمات ایسے کہے ہیں کہ اگر وزن کیا جائے تو تمہاری تمام تسبیحات سے ان کا وزن زیادہ نکلے گا اور وہ کلمات یہ ہیں۔ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ قَالَ وَخَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى فَجَاءَهَا فَقَالَتْ مَا زِلْتُ بَعْدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَائِبَةً قَالَ فَقَالَ لَهَا لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ كَلِمَاتٍ لَوْ وُزِنَّ لَرَجَحْنَ بِمَا قُلْتِ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ اللَّهُ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَاءَ نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو تیس کا عد پورا کرو، البتہ بعض اوقات مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَعْنِي أَنَّهُ نَاقِصٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتا ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے یا نہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کے زیادہ مستحق ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَا سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
তাহকীক: