আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২২৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ صلوۃ الخوف اسی طرح ہوتی تھی جیسے آج کل تمہارے چوکیدار تمہارے ائمہ کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، البتہ ہوتا یہ تھا کہ فوج گھاٹیوں میں ہوتی تھی، لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہوجاتا، وہ سب ہی نبی ﷺ کے ساتھ تھے، ایک گروہ نبی ﷺ کے ساتھ جب سجدہ کر چکتا تو نبی ﷺ کھڑے ہوجاتے اور جو گروہ کھڑا ہوتا وہ خود سجدہ کرلیتا، پھر جب نبی ﷺ کھڑے ہوتے تو سب ہی کھڑے ہوجاتے، پھر نبی ﷺ رکوع کرتے، تمام لوگ بھی رکوع کرتے، نبی ﷺ سجدہ کرتے تو نبی ﷺ کے ساتھ سجدہ میں وہ لوگ شریک ہوجاتے جو پہلی مرتبہ کھڑے ہوئے تھے اور پہلی مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے والے کھڑے ہوجاتے، جب نبی ﷺ بیٹھ جاتے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ آخر میں سجدہ کیا ہوتا تو وہ لوگ سجدہ کرلیتے جو کھڑے تھے، پھر وہ بیٹھ جاتے اور نبی ﷺ ان سب کو اکٹھا لے کر سلام پھیرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا كَانَتْ صَلَاةُ الْخَوْفِ إِلَّا كَصَلَاةِ أَحْرَاسِكُمْ الْيَوْمَ خَلْفَ أَئِمَّتِكُمْ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ عُقْبًا قَامَتْ طَائِفَةٌ وَهُمْ جَمْعٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا مَعَهُ جَمِيعًا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَ مَعَهُ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَقَامَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا سَجَدُوا مَعَهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ فِي آخِرِ صَلَاتِهِمْ سَجَدَ الَّذِينَ كَانُوا قِيَامًا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ جَلَسُوا فَجَمَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّلَامِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ارشاد فرمایا ہے تم اگرچہ حالت جنابت میں نہ ہو پھر بھی جمعہ کے دن غسل کیا کرو اور اپنا سر دھویا کرو اور خوشبو لگایا کرو ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ خوشبو کا تو مجھے علم نہیں ہے البتہ غسل کی بات صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا وَمَسُّوا مِنْ الطِّيبِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي وَأَمَّا الْغُسْلُ فَنَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو رات کے وقت ایک حضرمی چادر میں اچھی طرح لپٹ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی ﷺ کے جسم مبارک پر اس کے علاوہ کچھ اور نہ تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ الْحَضْرَمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ كِلَاهُمَا حَدَّثَنِي عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فِي بُرْدٍ لَهُ حَضْرَمِيٍّ مُتَوَشِّحَهُ مَا عَلَيْهِ غَيْرُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو ایک مرتبہ بارش کے دن دیکھا کہ جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو زمین کے کیچڑ سے بچنے کے لئے اپنی چادر کو زمین پر بچھا لیتے، پھر اس پر ہاتھ رکھتے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ وَهُوَ يَتَّقِي الطِّينَ إِذَا سَجَدَ بِكِسَاءٍ يَجْعَلُهُ دُونَ يَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ إِذَا سَجَدَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی سنتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ پہلی رکعت میں سورت بقرہ کی آخری دو آیتوں کی تلاوت فرماتے تھے اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ کے ساتھ سورت آل عمران کی یہ آیت تلاوت فرماتے " قل یا اہل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بینننا و بینکم " یہاں تک اس آیت کو مکمل فرما لیتے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَبِالْآيَةِ مِنْ آلِ عِمْرَانَ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رکانہ بن عبد یزید جن کا تعلق بنو مطلب سے تھا نے ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اسپر انتہائی غم ہوا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا ایک ہی مجلس میں تینوں طلاقیں دے دی تھیں ؟ عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یہ ایک ہوئی، اگر چاہو تو تم اس سے رجوع کرسکتے ہو، چناچہ انہوں نے رجوع کرلیا، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس (رض) کی رائے یہ تھی کہ طلاق ہر طہر کے وقت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا قَالَ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْتَهَا قَالَ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا قَالَ فَقَالَ فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ قَالَ فَرَجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرَى أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب غزوہ احد کے موقع پر تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر اترتے، اس کے پھلوں کو کھاتے اور عرش کے سائے میں سونے کی قندیلوں میں رہتے تھے، جب انہوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو یہ عمدگی اور آرام کے لئے ایسا بہترین ٹھکانہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ کاش ! ہمارے بھائیوں کو بھی کسی بہتر طریقے سے پتہ چل جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے، تاکہ وہ بھی جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور لڑائی سے منہ نہ پھیریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارا یہ پیغام ان تک میں پہنچاؤں گا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر سورت آل عمران کی یہ آیات نازل فرما دیں " و لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ " گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُصِيبَ إِخْوَانُكُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْهَارَ الْجَنَّةِ تَأْكُلُ مِنْ ثِمَارِهَا وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مِنْ ذَهَبٍ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِيبَ مَشْرَبِهِمْ وَمَأْكَلِهِمْ وَحُسْنَ مُنْقَلَبِهِمْ قَالُوا يَا لَيْتَ إِخْوَانَنَا يَعْلَمُونَ بِمَا صَنَعَ اللَّهُ لَنَا لِئَلَّا يَزْهَدُوا فِي الْجِهَادِ وَلَا يَنْكُلُوا عَنْ الْحَرْبِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُهُمْ عَنْكُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ عَلَى رَسُولِهِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شہداء کرام باب جنت پر موجود ایک نہر کے کنارے پر سبز رنگ کے خیمے رہتے ہیں، جہاں صبح وشام جنت سے ان کے پاس رزق پہنچتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّهَدَاءُ عَلَى بَارِقِ نَهَرٍ بِبَابِ الْجَنَّةِ فِي قُبَّةٍ خَضْرَاءَ يَخْرُجُ عَلَيْهِمْ رِزْقُهُمْ مِنْ الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ بقیع غرقد تک پیدل چل کر گئے، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اللہ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ اور فرمایا اے اللہ ان کی مدد فرما، حضرت ابن عباس (رض) کی مراد اس سے وہ لوگ تھے جنہیں نبی ﷺ نے کعب بن اشرف کی طرف بھیجا تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَشَى مَعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ثُمَّ وَجَّهَهُمْ وَقَالَ انْطَلِقُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ أَعِنْهُمْ يَعْنِي النَّفَرَ الَّذِينَ وَجَّهَهُمْ إِلَى كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ سفر پر روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب ابو رھم کلثوم بن حصین (رض) کو بنادیا، آپ ﷺ دس رمضان کو نکلے تھے، اس لئے خود بھی روزے سے تھے اور صحابہ کرام (رض) بھی روزے سے تھے، جب کدید نامی جگہ پر جو عسفان اور امج کے درمیان پانی کی ایک جگہ ہے پہنچے تو نبی ﷺ نے روزہ ختم کردیا، پھر روانہ ہوگئے یہاں تک کہ مرالظہران پر پہنچ کر پڑاؤ کیا، اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ دس ہزار صحابہ (رض) تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَفَرِهِ وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ حُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ أَفْطَرَ ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دوران سفر حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيجٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَمُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فِي سَفَرِهِ وَهُوَ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کفن نہ دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکور ہوئی البتہ اس میں سر کے بجائے چہرہ ڈھانپنے سے ممانعت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ كَفِّنُوهُ وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُلَبِّي أَوْ وَهُوَ يُهِلُّ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہیں رہا، البتہ جہاد اور نیت باقی ہے لہذا اگر تم سے کوچ کا مطالبہ کیا جائے تو کوچ کرو۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ يَقُولُ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِنْ اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ عطاء فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مَنْكِبِي شَكَّ سَعِيدٌ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے اور یہ اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔
قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذَا الْحَجَرِ لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ يَشْهَدُ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَقٍّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ روشنی میں دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور سات یا آٹھ سال اس طرح کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ ﷺ دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ سَبْعًا يَرَى الضَّوْءَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيًا أَوْ سَبْعًا يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ منبر بننے سے قبل نبی ﷺ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب منبر بن گیا اور نبی ﷺ منبر کی طرف منتقل ہوگئے تو کھجور کا وہ تنا نبی ﷺ کی جدائی کے غم میں رونے لگا، نبی ﷺ نے اسے اپنے سینے سے لگا کر خاموش کرایا تو اسے سکون آگیا، نبی ﷺ اگر میں اسے خاموش نہ کراتا تو یہ قیامت تک روتا ہی رہتا گذشتہ حدیث اس دوسری سند میں حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ تَحَوَّلَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَحَنَّ الْجِذْعُ حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے خواب میں دو فرشتے آئے، ان میں سے ایک نبی ﷺ کے پاؤں کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا سر کی طرف، جو فرشتہ پاؤں کی طرف بیٹھا تھا اس نے سر کی طرف بیٹھے ہوئے فرشتے سے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال بیان کرو، اس نے کہا کہ ان کی اور ان کی امت کی مثال اس مسافر قوم کی طرح ہے جو ایک جنگل کے کنارے پہنچی ہوئی ہے، ان کے پاس اتنا زاد سفر نہ ہو کہ وہ اس جنگل کو طے کرسکیں، یا واپس جاسکیں، ابھی یہ لوگ اسی حال میں ہوں کہ ان کے پاس یمنی حلے میں ایک آدمی آئے اور ان سے کہے دیکھو ! اگر میں ایک سرسبز و شاداب باغ اور جاری حوض پر لے کر جاؤں تو کیا تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ جواب دیں کہ ہاں ! چناچہ وہ شخص انہیں لے کر سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضوں پر پہنچ جائے اور یہ لوگ کھا پی کر خوب صحت مند ہوجائیں۔ پھر وہ آدمی ایک دن ان سے کہے کیا تم سے میری ملاقات اس حالت میں نہیں ہوئی تھی کہ تم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر میں تمہیں سرسبز و شاداب باغات اور سیراب کرنے والے جاری حوضو پر لے کر پہنچ جاؤں تو تم میری پیروی کرو گے ؟ وہ جواب دیں کیوں نہیں، وہ آدمی کہیں کہ پھر تمہارے آگے اس سے بھی زیادہ سرسبز و شاداب باغات ہیں اور اس سے زیادہ سیراب کرنے والے حوض ہیں اس لئے اب میری پیروی کرو، اس پر ایک گروہ ان کی تصدیق کرے اور کہے کہ ان شال اللہ ہم ان کی پیروی کریں گے اور دوسرا گروہ کہے ہم یہیں رہنے میں خوش ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ مَلَكَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ الَّذِي عِنْدَ رِجْلَيْهِ لِلَّذِي عِنْدَ رَأْسِهِ اضْرِبْ مَثَلَ هَذَا وَمَثَلَ أُمَّتِهِ فَقَالَ إِنَّ مَثَلَهُ وَمَثَلَ أُمَّتِهِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفْرٍ انْتَهَوْا إِلَى رَأْسِ مَفَازَةٍ فَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ مِنْ الزَّادِ مَا يَقْطَعُونَ بِهِ الْمَفَازَةَ وَلَا مَا يَرْجِعُونَ بِهِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَتَاهُمْ رَجُلٌ فِي حُلَّةٍ حِبَرَةٍ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَتَتَّبِعُونِي فَقَالُوا نَعَمْ قَالَ فَانْطَلَقَ بِهِمْ فَأَوْرَدَهُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا وَسَمِنُوا فَقَالَ لَهُمْ أَلَمْ أَلْقَكُمْ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فَجَعَلْتُمْ لِي إِنْ وَرَدْتُ بِكُمْ رِيَاضًا مُعْشِبَةً وَحِيَاضًا رُوَاءً أَنْ تَتَّبِعُونِي فَقَالُوا بَلَى قَالَ فَإِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ رِيَاضًا أَعْشَبَ مِنْ هَذِهِ وَحِيَاضًا هِيَ أَرْوَى مِنْ هَذِهِ فَاتَّبِعُونِي قَالَ فَقَالَتْ طَائِفَةٌ صَدَقَ وَاللَّهِ لَنَتَّبِعَنَّهُ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ قَدْ رَضِينَا بِهَذَا نُقِيمُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ کے پیالوں میں پانی جمع کرلیا جاتا تھا، بعد میں حضرت علی (رض) اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پیتے رہتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ الْمَاءُ مَاءُ غُسْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ غَسَّلُوهُ بَعْدَ وَفَاتِهِ يَسْتَنْقِعُ فِي جُفُونِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ عَلِيٌّ يَحْسُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) جب تلبیہ پڑھتے تو یوں کہتے لبیک اللّٰہم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد و النعمۃ لک والملک لا شریک لک اور فرماتے تھے کہ یہاں رک جاؤ، کیونکہ نبی ﷺ کا تلبیہ یہی تھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِذَا لَبَّى يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ انْتَهِ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক: