আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২২৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر سو اونٹوں کی قربانی پیش کی، جن میں سے تیس آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے ذبح کئے، پھر حضرت علی (رض) کو حکم دیا اور باقی انہوں نے ذبح کئے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ ان سب کا گوشت، جھولیں اور کھالیں لوگوں میں تقسیم کردو، قصاب کو اس میں کوئی چیزبطور اجرت کے نہ دینا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک لمبا ٹکڑا ہمارے لئے رکھ لینا، پھر ان سب کو ایک ہنڈیا میں پکانا تاکہ ہم بھی اس کا گوشت کھا سکیں اور اس کا شوربہ پی سکیں، چناچہ حضرت علی (رض) نے ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِائَةَ بَدَنَةٍ نَحَرَ مِنْهَا ثَلَاثِينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا بَقِيَ مِنْهَا وَقَالَ اقْسِمْ لُحُومَهَا وَجِلَالَهَا وَجُلُودَهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَا تُعْطِيَنَّ جَزَّارًا مِنْهَا شَيْئًا وَخُذْ لَنَا مِنْ كُلِّ بَعِيرٍ حُذْيَةً مِنْ لَحْمٍ ثُمَّ اجْعَلْهَا فِي قِدْرٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى نَأْكُلَ مِنْ لَحْمِهَا وَنَحْسُوَ مِنْ مَرَقِهَا فَفَعَلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام کریب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا اے ابوالعباس ! آپ تو یہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر حج پر نہ جارہا ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے اور وہ حاجی جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر جارہا ہو، اس کا حج اور عمرہ اکٹھا ہوجاتا ہے، لیکن لوگ اس طرح نہیں کہتے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تم پر افسوس ہے، نبی ﷺ اور صحابہ کرام (رض) جب روانہ ہوئے تھے تو انہوں نے احرام باندھتے وقت صرف حج کا ذکر کیا تھا، بعد میں نبی ﷺ نے حکم دیا تھا کہ جس کے پاس ہدی کا جانور نہ ہو، وہ بیت اللہ کا طواف کرے اور عمرہ کر کے حلال ہوجائے، ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو حج کا احرام ہے ؟ نبی ﷺ کا یہ حج نہیں ہے بلکہ عمرہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ مَا حَجَّ رَجُلٌ لَمْ يَسُقْ الْهَدْيَ مَعَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ إِلَّا حَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَا طَافَ بِهَا حَاجٌّ قَدْ سَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ إِلَّا اجْتَمَعَتْ لَهُ عُمْرَةٌ وَحَجَّةٌ وَالنَّاسُ لَا يَقُولُونَ هَذَا فَقَالَ وَيْحَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ لَا يَذْكُرُونَ إِلَّا الْحَجَّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيُحِلَّ بِعُمْرَةٍ فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُوَ الْحَجُّ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيْسَ بِالْحَجِّ وَلَكِنَّهَا عُمْرَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے لیلۃ الحصبۃ کے موقع پر حضرت عائشہ (رض) کو صرف اس لئے عمرہ کروایا تھا کہ مشرکین کے اس خایل کی بیخ کنی فرما دیں جو کہتے تھے کہ جب اونٹنی کی کمر صحیح ہوجائے، حاجیوں کے نشانات قدم مٹ چکیں اور صفر کا مہینہ ختم ہوجائے تو عمرہ کرنے والوں کے لئے عمرہ کرنا حلال ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ إِلَّا قَطْعًا لِأَمْرِ أَهْلِ الشِّرْكِ فَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتْ الْعُمْرَةُ لِمَنْ اعْتَمَرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر نبی ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی دی) جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا تاکہ مشرکین کو غصہ دلائیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ أَهْدَى جَمَلَ أَبِي جَهْلٍ الَّذِي كَانَ اسْتَلَبَ يَوْمَ بَدْرٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدْيِهِ وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ لِيَغِيظَ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ ﷺ اور مسلمانوں نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ ﷺ مقام کدید میں پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کردیا اور مسلمانوں نے بھی اپنا روزہ ختم کرلیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ فَصَامَ وَصَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ دَعَا بِمَاءٍ فِي قَعْبٍ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ يُعْلِمُهُمْ أَنَّهُ قَدْ أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی ﷺ بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فِيهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَوْلَى بِأَمْرِهَا وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت زینب (رض) کو ان کے شوہر ابوالعاص بن الربیع (کے قبول اسلام پر) پہلے نکاح سے ہی ان کے حوالے کردیا، از سر نو نکاح اور مہر مقرر نہیں کیا، حالانکہ حضرت زینب (رض) نے اپنے شوہر سے چھ سال قبل اسلام قبول کیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ وَكَانَ إِسْلَامُهَا قَبْلَ إِسْلَامِهِ بِسِتِّ سِنِينَ عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ شَهَادَةً وَلَا صَدَاقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے انصار کے قبیلہ بنو عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس نے اس کے ساتھ رات گذاری صبح ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں نے اسے کنوارا نہیں پایا، یہ معاملہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا، نبی ﷺ نے اس لڑکی کو بلا کر اس سے پوچھا تو اس نے کہا کیوں نہیں، میں تو کنواری تھی، نبی ﷺ نے ان دونوں کو لعان کرنے کا حکم دیا اور اس لڑکی کو مہر دلوایا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَلْعَجْلَانَ فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ قَالَ فَرُفِعَ شَأْنُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْجَارِيَةَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک یہودی مرد و عورت کو مسجد کے دروازے کے پاس رجم کرنے کا حکم دیا، یہودی کو جب پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ اس عورت کو جھک جھک کر بچانے کی کوشش کرنے لگا تاآنکہ وہ دونوں ختم ہوگئے، درحقیقت ان دونوں کو جو سزا دی گئی تھی، وہ اللہ کی مقرر کردہ سزا تھی کیونکہ ان دونوں کے متعلق بدکاری کا ثبوت مہیا ہوگیا تھا اس لئے نبی ﷺ نے ان پر یہ سزا جاری فرمائی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَسَعْدٌ قَالَا حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِ الْيَهُودِيِّ وَالْيَهُودِيَّةِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِهِ فَلَمَّا وَجَدَ الْيَهُودِيُّ مَسَّ الْحِجَارَةِ قَامَ عَلَى صَاحِبَتِهِ فَحَنَى عَلَيْهَا يَقِيهَا مَسَّ الْحِجَارَةِ حَتَّى قُتِلَا جَمِيعًا فَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ فِي تَحْقِيقِ الزِّنَا مِنْهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھالیا ؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ مردہ ہے، فرمایا اس کا صرف کھان احرام ہے (باقی اس کی کھال دباغت سے پاک ہوسکتی ہے)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قیصر روم کو ایک خط لکھا جس میں اسے اسلام کی دعوت دی اور یہ خط دے کر حضرت دحیہ کلبی (رض) کو بھیج دیا اور انہیں یہ حکم دیا کہ یہ خط بصرہ کے گورنر تک پہنچا دینا تاکہ وہ قیصر کے پاس اس خط کو بھجوا دے، چناچہ بصرہ کے گورنر نے وہ خط قیصر روم تک پہنچا دیا قیصر کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے ایرانی لشکروں پر فتح یابی عطاء فرمائی تھی اس لئے وہ اس کی خوشی میں شکرانے کے طور پر حمص سے بیت المقدس تک پیدل سفر طے کر کے آیا ہوا تھا، اس سفر میں اس کے لئے راستے بھر قالین بچھائے گئے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب قیصر کو نبی ﷺ کا خط ملا تو اس نے وہ خط پڑھ کر کہا کہ ان کی قوم کا کوئی آدمی تلاش کر کے لاؤ تاکہ میں اس سے کچھ سوالات پوچھ سکوں۔ سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابو سفیان (رض) بن حرب نے مجھ سے بیان کیا کہ ہرقل (شاہ روم) نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا ( اور وہ) قریش کے چند سواروں میں سے جو اس وقت بیٹھے ہوئے تھے) اور وہ لوگ شام میں تاجر (بن کر گئے) تھے ( اور یہ واقعہ) اس زمانہ میں (ہوا ہے) جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان اور کفار قریش سے ایک محدود عہد کیا تھا۔ چناچہ قریش ہرقل کے پاس آئے اور یہ لوگ (اس وقت) ایلیاء میں تھے، تو ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں طلب کیا اور اس کے گرد سرداران روم (بیٹھے ہوئے تھے) پھر ان (سب قریشیوں کو) اس نے اپنے قریب) بلایا اور اپنے ترجمان کو طلب کیا اور (قریشیوں سے مخاطب ہو کر) کہا کہ تم میں سب سے زیادہ اس شخص کا قریب النسب کون ہے، جو اپنے کو نبی کہتا ہے ؟ ابوسفیان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں ان میں سب سے زیادہ (ان کا) قریب النسب ہوں (یہ سن کر) ہرقل نے کہا کہ ابوسفیان کو میرے قریب کردو اور اس کے ساتھیوں کو (بھی) قریب رکھو اور ان کو ابو سفیان کے پاس پشت پر (کھڑا) کرو، پھر اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے کہو کہ میں ابو سفیان سے اس مرد کا حال پوچھتا ہوں (جو اپنے کو نبی کہتا ہے) پس اگر یہ مجھ سے جھوٹ کہے تو تم (فورا) اس کی تکذیب کردینا (ابوسفیان کہتے ہیں کہ) اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کی شرم نہ ہوتی کہ لوگ میرے اوپر جھوٹ بولنے کا الزام لگائیں گے، تو یقینا میں آپ ﷺ کی نسبت غلط باتیں بیان کردیتا۔ غرض سب سے پہلے جو ہرقل نے مجھ سے پوچھا وہ یہ تھا کہ ان کا نسب تم لوگوں میں کیسا ہے ؟ میں نے کہا کہ وہ ہم میں (بڑے نسب والے ہیں۔ (پھر) ہرقل نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے ان سے پہلے بھی اس بات (یعنی نبوت) کا دعوی کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں پھر ہرقل نے کہا کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ پھر ہرقل نے کہا کہ باثر لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے ؟ میں نے کہا (امیروں نے نہیں بلکہ) کمزور لوگوں نے۔ پھر ہرقل بولا کہ آیا ان کے پیرو دن بہ دن بڑھتے جاتے ہیں یا گھٹتے جاتے ہیں ؟ میں نے کہا کم نہیں ہوتے بلکہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ آیا ان لوگوں میں سے کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے بدظن ہو کر منحرف بھی ہوجاتا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ کیا وہ کبھی وعدہ خلافی کرتے ہیں میں نے کہا کہ نہیں اور اب ہم ان کی طرف سے مہلت میں ہیں، ہم نہیں جانتے کہ وہ اس مہلت کے زمانہ میں کیا کریں (وعدہ خلافی یا وعدہ وفائی) ابو سفیان کہتے ہیں کہ سوائے اس کلمہ کے مجھے قابو نہیں ملا کہ میں کوئی بات آپ ﷺ کے حالات میں داخل کردیتا۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ کیا تم نے کبھی اس سے جنگ کی ہے ؟ میں نے کہا کہ ہاں تو ہرقل بولا تمہاری جنگ اس سے کیسی رہتی ہے ؟ میں نے کہا کہ لڑائی ہمارے اور ان کے درمیان ڈول کے مثل رہتی ہے کہ کبھی وہ ہم سے لے لیتے ہیں اور کبھی ہم ان سے لے لیتے ہیں (یعنی کبھی ہم فتح پاتے ہیں اور کبھی وہ۔ پھر ہرقل نے پوچھا کہ وہ تم کو کیا حکم دیتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور (شرکیہ باتیں و عبادتیں) جو تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے، سب چھوڑ دو اور ہمیں نماز پڑھنے اور سچ بولنے اور پرہیزگاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے ترجمان سے کہا کہ ابوسفیان سے کہو کہ میں نے تم سے اس کا نسب پوچھا تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہارے درمیان میں اعلی نسب والے ہیں چناچہ تمام پیغمبر اپنی قوم کے نسب میں اعلی نسب مبعوث ہوا کرتے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا یہ بات (یعنی اپنی نبوت کی خبر) تم میں سے کسی اور نے بھی ان سے پہلے کہی تھی ؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں۔ میں نے اپنے دل میں یہ کہا تھا کہ اگر یہ بات ان سے پہلے کوئی کہہ چکا ہو تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو اس قول کی تقلید کرتے ہیں جو ان سے پہلے کہا جا چکا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوا ہوگا تو میں کہہ دوں گا کہ وہ ایک شخص ہیں جو اپنے باپ دادا کا ملک (اقتدارحاصل کرنا) چاہتے ہیں اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا اس سے پہلے کہ انہوں نے جو یہ بات (نبوت کا دعوی) کہی ہے، کہیں تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے ؟ تو تم نے کہا کہ نہیں پس اب میں یقینا جانتا ہوں کہ کوئی شخص ایسا نہیں ہوسکتا کہ لوگوں سے جھوٹ بولنا (غلط بیانی) چھوڑ دے اور اللہ پر جھوٹ بولے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا بڑے (بااثر) لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے یا کمزور لوگوں نے ؟ تو تم نے کہا کہ کمزور لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے۔ اور در اصل تمام پیغمبروں کے پیرو یہی لوگ ہوتے رہے ہیں۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو زیادہ ہوتے جاتے ہیں یا کم ؟ تو تم نے بیان کیا کہ زیادہ ہوتے جاتے ہیں اور درحقیقت ایمان کا یہی حال ہوتا ہے تاوقتیکہ کمال کو پہنچ جائے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص بعد میں اس کے کہ ان کے دین میں داخل ہوجائے، ان کے دین سے ناخوش ہو کر دین سے پھر بھی جاتا ہے ؟ تو تم نے بیان کیا کہ نہیں اور ایمان کا حال ایسا ہی ہے جب اس بشاشت دلوں میں رچ بس جائے تو پھر نہیں نکلتی اور میں نے تم سے پوچھا کہ آیا وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں تو تم نے بیان کیا کہ نہیں ! اور بات یہ ہے کہ اسی طرح تمام پیغمبر وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ تمہیں کس بات کا حکم دیتے ہیں ؟ تو تم نے بیان کیا کہ وہ تمہیں یہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو نیز تمہیں بتوں کی پرستش سے منع کرتے ہیں اور تمہیں نماز پڑھنے سچ بولنے اور پرہیزگاری اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ پس اگر جو تم کہتے ہو سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کے مالک ہوجائیں گے اور بیشک میں (کتب سابقہ کی پیش گوئی سے) جانتا تھا کہ وہ ظاہر ہونے والے ہیں مگر میں یہ نہ سمجھتا تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے۔ پس اگر میں جانتا کہ ان تک پہنچ سکوں گا تو میں ان سے ملنے کا بڑا اہتمام و سعی کرتا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو یقینا میں ان کے قدموں کو دھوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَبَعَثَ كِتَابَهُ مَعَ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلْيَاءَ عَلَى الزَّرَابِيِّ تُبْسَطُ لَهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا جَاءَ قَيْصَرَ كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ قَرَأَهُ الْتَمِسُوا لِي مِنْ قَوْمِهِ مَنْ أَسْأَلُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ أَنَّهُ كَانَ بِالشَّامِ فِي رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدِمُوا تُجَّارًا وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَأَتَانِي رَسُولُ قَيْصَرَ فَانْطَلَقَ بِي وَبِأَصْحَابِي حَتَّى قَدِمْنَا إِيلْيَاءَ فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ عَلَيْهِ التَّاجُ وَإِذَا حَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُمْ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ أَنَا أَقْرَبُهُمْ إِلَيْهِ نَسَبًا قَالَ مَا قَرَابَتُكَ مِنْهُ قَالَ قُلْتُ هُوَ ابْنُ عَمِّي قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَلَيْسَ فِي الرَّكْبِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ غَيْرِي قَالَ فَقَالَ قَيْصَرُ أَدْنُوهُ مِنِّي ثُمَّ أَمَرَ بِأَصْحَابِي فَجُعِلُوا خَلْفَ ظَهْرِي عِنْدَ كَتِفِي ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لِأَصْحَابِهِ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ فَإِنْ كَذَبَ فَكَذِّبُوهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَوَاللَّهِ لَوْلَا الِاسْتِحْيَاءُ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَأْثُرَ أَصْحَابِي عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ حِينَ سَأَلَنِي وَلَكِنِّي اسْتَحَيْتُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبُ فَصَدَقْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ كَيْفَ نَسَبُ هَذَا الرَّجُلِ فِيكُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ فِي الْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ فَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ بَلْ يَزِيدُونَ قَالَ فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قَالَ قُلْتُ لَا وَنَحْنُ الْآنَ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ وَنَحْنُ نَخَافُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَلَمْ تُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا أَنْتَقِصُهُ بِهِ غَيْرُهَا لَأَخَافُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي الْكَذِبُ قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ أَوْ قَاتَلَكُمْ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ كَانَتْ حَرْبُكُمْ وَحَرْبُهُ قَالَ قُلْتُ كَانَتْ دُوَلًا سِجَالًا نُدَالُ عَلَيْهِ الْمَرَّةَ وَيُدَالُ عَلَيْنَا الْأُخْرَى قَالَ فَبِمَ يَأْمُرُكُمْ قَالَ قُلْتُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَانَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصِّدْقِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ قَالَ فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ قُلْ لَهُ إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فِيكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهَا وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَطُّ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ يَأْتَمُّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مِنْ مَلِكٍ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ اتَّبَعُوهُ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ لَا يَسْخَطُهُ أَحَدٌ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ فَزَعَمْتَ أَنْ قَدْ فَعَلَ وَأَنَّ حَرْبَكُمْ وَحَرْبَهُ يَكُونُ دُوَلًا يُدَالُ عَلَيْكُمْ الْمَرَّةَ وَتُدَالُونَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى وَيَكُونُ لَهَا الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ بِمَاذَا يَأْمُرُكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَيَأْمُرُكُمْ بِالصِّدْقِ وَالصَّلَاةِ وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَهَذِهِ صِفَةُ نَبِيٍّ قَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَكِنْ لَمْ أَظُنَّ أَنَّهُ مِنْكُمْ فَإِنْ يَكُنْ مَا قُلْتَ فِيهِ حَقًّا فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ وَاللَّهِ لَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ فَقُرِئَ فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنْ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ يَعْنِي الْأَكَّارَةَ وَ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِينَ حَوْلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ الرُّومِ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فَلَا أَدْرِي مَاذَا قَالُوا وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَلَمَّا خَرَجْتُ مَعَ أَصْحَابِي وَخَلَصْتُ لَهُمْ قُلْتُ لَهُمْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ ذَلِيلًا مُسْتَيْقِنًا أَنَّ أَمْرَهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ قَلْبِي الْإِسْلَامَ وَأَنَا كَارِهٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ اگر آپ کو نبی ﷺ کا کوئی خواب یاد ہو تو بتائیے انہوں نے فرمایا کہ میرے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا، ایسا محسوس ہوا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں، میں گھبرا گیا اور ان سے مجھے بڑی کراہت ہوئی، مجھے حکم ہوا تو میں نے ان دونوں پر پھونک مار دی اور وہ دونوں اڑ گئے، میں اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کرتا ہوں جن کا خروج ہوگا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ ان میں ایک اسود عنسی تھا جسے حضرت فیروز (رض) نے یمن میں کیفر کردار تک پہنچایا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي ذَكَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذَكَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفَظِعْتُهُمَا فَكَرِهْتُهُمَا وَأُذِنَ لِي فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُ كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزُ بِالْيَمَنِ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نبی ﷺ کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی ﷺ کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابوالحسن ! نبی ﷺ کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی ﷺ الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے ؟ بخدا ! اس بیماری سے نبی ﷺ (جانبر نہ ہوسکیں گے اور) وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبدالمطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی ﷺ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی ؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی ﷺ سے بات کرلیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر ہم نے نبی ﷺ سے اس کی درخواست کی اور نبی ﷺ نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ صَالِحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ النَّاسُ يَا أَبَا حَسَنٍ كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخَذَ بِيَدِهِ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ أَلَا تَرَى أَنْتَ وَاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى فِي وَجَعِهِ هَذَا إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاللَّهِ لَئِنْ سَأَلْنَاهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ أَبَدًا فَوَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حدیث نمبر ٢٧٨ ایک دوسری سند سے یہاں مروی ہے اور اس کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل امین (علیہ السلام) نے قرآن کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں کو میدان منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اس وقت قریب البلوغ تھا ایک گدھی پر سوار ہو کر آیا اور پہلی صف کے آگے سے گذر کر اس سے اتر گیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ وَقَدْ نَاهَزْتُ الْحُلُمَ أَسِيرُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ يَعْنِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ نَزَلْتُ عَنْهَا فَرَتَعَتْ فَصَفَفْتُ مَعَ النَّاسِ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
محمد بن عمرو (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں جمعہ کے اگلے دن حاضر ہوا، اس وقت وہ ام المومنین حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں تھے کیونکہ حضرت میمونہ (رض) نے انہیں اس کی وصیت فرمائی تھی، حضرت ابن عباس (رض) جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کے لئے وہاں گدا بچھا دیا جاتا تھا اور وہ لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے لئے وہاں آکر بیٹھ جاتے۔ چناچہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، میں سن رہا تھا، حضرت ابن عباس (رض) نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا، اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے اور فرمایا کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی حجرے میں نماز ظہر کے لئے وضو کیا، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نماز کے لئے بلانے آگئے، نبی ﷺ باہر آنے کے لئے اٹھے، ابھی اپنے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہی تھے کہ کسی صحابی (رض) کی طرف سے بھیجا ہوا گوشت اور روٹی کا ہدیہ آپہنچا، نبی ﷺ اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر حجرہ میں واپس چلے گئے اور ان کے سامنے وہ کھانا پیش کردیا، نبی ﷺ نے خود بھی تناول فرمایا اور صحابہ کرام (رض) نے بھی کھایا، پھر نبی ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے یا آپ کے کسی صحابی (رض) نے پانی کو چھوا تک نہیں اور نبی ﷺ نے اسی طرح نماز پڑھا دی۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کو نبی ﷺ کے آخری معاملات یاد تھے اور وہ اس وقت سمجھدار ہوگئے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغَدِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ وَكَانَتْ مَيْمُونَةُ قَدْ أَوْصَتْ لَهُ بِهِ فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ بُسِطَ لَهُ فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِ فَجَلَسَ فِيهِ لِلنَّاسِ قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ مِنْ الطَّعَامِ قَالَ فَرَفَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَدَهُ إِلَى عَيْنَيْهِ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ ثُمَّ دَعَا بِلَالٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَنَهَضَ خَارِجًا فَلَمَّا وَقَفَ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ قَالَ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ وَوُضِعَتْ لَهُمْ فِي الْحُجْرَةِ قَالَ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا مَعَهُ قَالَ ثُمَّ نَهَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا مَسَّ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ مَاءً قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّمَا عَقَلَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، جب بھی آپ ﷺ حجر اسود کے قریب پہنچتے تو اشارہ کر کے اللہ اکبر کہتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكْيرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرِهِ فَكُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ وَكَبَّرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا جس وقت وصال مباک ہوا ہے، اس وقت تک میرے ختنے ہوچکے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا خَتِينٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے بھیجا، وہ آئے، اپنا اونٹ مسجد نبوی کے دروازے پر بٹھایا، اسے باندھا اور مسجد میں داخل ہوگئے، اس وقت نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے درمیان تشریف فرما تھے، ضمام ایک مضبوط آدمی تھے، ان کے سر پر بال بہت زیادہ تھے جس کی انہوں نے دو مینڈھیاں بنا رکھی تھیں، وہ چلتے ہوئے آئے اور نبی ﷺ کے پاس پہنچ کر رک گئے اور کہنے لگے کہ آپ میں سے ابن عبدالمطلب کون ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں ہوں، انہوں نے پوچھا کیا آپ ہی کا نام محمد ﷺ ہے ؟ نبی ﷺ نے اثبات میں جواب دیا۔ ضمام نے کہا کہ اے ابن عبدالمطلب ! میں آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتا ہوں، ہوسکتا ہے اس میں کچھ تلخی یا سختی ہوجائے اس لئے آپ برا نہ منائیے گا، نبی ﷺ نے فرمایا میں برا نہیں مناتا، آپ جو پوچھنا چاہتے ہیں، پوچھ لیں، ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جو آپ کا اور آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ ہی نے آپ کو ہماری طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! پھر ضمام نے کہا کہ میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو آپ کا، آپ سے پہلوں کا اور آپ کے بعد آنے والوں کا معبود ہے، کیا اللہ نے آپ کو ہمیں یہ حکم دینے کے لئے فرمایا کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان تمام معبودوں اور شرکاء کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آباؤ و اجداد پوجا کرتے تھے ؟ فرمایا ہاں ! پھر ضمام نے مذکورہ قسم دے کر پوچھا کہ کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہم یہ پانچ نمازیں ادا کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! پھر ضمام نے ایک ایک کر کے فرائض اسلام مثلا زکوۃ، روزہ، حج اور دیگر تمام شرائع کے بارے سوال کیا اور ہر مرتبہ نبی ﷺ کو مذکورہ الفاظ میں قسم دیتا رہا، یہاں تک کہ جب ضمام فارغ ہوگئے تو کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ ، اللہ کے رسول ہیں، میں یہ فرائض ادا کرتا رہوں گا اور جن چیزوں کے آ نے سے مجھے منع کیا ہے میں ان سے بچتا رہوں گا اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا۔ پھر وہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر چلے گئے، ان کے جانے کے بعد نبی ﷺ نے فرمایا اگر اس دو چوٹیوں والے نے اپنی بات سچ کر دکھائی تو یہ جنت میں داخل ہوگا، ضمام نے یہاں سے روانہ ہوتے ہی اپنے اونٹ کی رسی ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ وہ اپنی قوم میں پہنچ گئے، لوگ ان کے پاس اکٹھے ہوگئے، ضمام نے سب سے پہلی بات جو کی وہ یہ تھی لات اور عزی بہت بری چیزیں ہیں، لوگ کہنے لگے ضمام ! رکو، برص اور جذام سے بچو، پاگل پن سے ڈرو، (ان بتوں کو برا بھلا کہنے سے کہیں تمہیں یہ چیزیں لاحق نہ ہوجائیں) انہوں نے فرمایا افسوس ! بخدا ! یہ دونوں چیزیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ ہی نفع، اللہ نے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرما دیا ہے، اس پر اپنی کتاب نازل کر کے تمہیں ان چیزوں سے بچا لیا ہے جن میں تم پہلے مبتلا تھے، میں تو اس بات کی گواہی دے آیا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور پیغمبر ہیں اور میں تمہارے پاس ان کی طرف سے کچھ احکامات لے کر آیا ہوں اور کچھ ایسی چیزیں جن سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں، بخدا ! شام ہونے سے پہلے ان کے قبیلے کا ہر مرد اور ہر عورت اسلام قبول کرچکے تھے، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے ضمام بن ثعلبہ (رض) سے زیادہ کسی قوم کا نمائندہ افضل نہیں دیکھا۔ گذشتہ حدیث اختصار کے ساتھ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَتْ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ وَكَانَ ضِمَامٌ رَجُلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرَتَيْنِ فَأَقْبَلَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنِّي سَائِلُكَ وَمُغَلِّظٌ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدَنَّ فِي نَفْسِكَ قَالَ لَا أَجِدُ فِي نَفْسِي فَسَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ بَعَثَكَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْمُرَنَا أَنْ نَعْبُدَهُ وَحْدَهُ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَنْ نَخْلَعَ هَذِهِ الْأَنْدَادَ الَّتِي كَانَتْ آبَاؤُنَا يَعْبُدُونَ مَعَهُ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَهَكَ وَإِلَهَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ وَإِلَهَ مَنْ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جَعَلَ يَذْكُرُ فَرَائِضَ الْإِسْلَامِ فَرِيضَةً فَرِيضَةً الزَّكَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْحَجَّ وَشَرَائِعَ الْإِسْلَامِ كُلَّهَا يُنَاشِدُهُ عِنْدَ كُلِّ فَرِيضَةٍ كَمَا يُنَاشِدُهُ فِي الَّتِي قَبْلَهَا حَتَّى إِذَا فَرَغَ قَالَ فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ سَيِّدَنَا مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَسَأُؤَدِّي هَذِهِ الْفَرَائِضَ وَأَجْتَنِبُ مَا نَهَيْتَنِي عَنْهُ ثُمَّ لَا أَزِيدُ وَلَا أَنْقُصُ قَالَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى بَعِيرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَلَّى إِنْ يَصْدُقْ ذُو الْعَقِيصَتَيْنِ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ قَالَ فَأَتَى إِلَى بَعِيرِهِ فَأَطْلَقَ عِقَالَهُ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَاجْتَمَعُوا إِلَيْهِ فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ بِئْسَتِ اللَّاتُ وَالْعُزَّى قَالُوا مَهْ يَا ضِمَامُ اتَّقِ الْبَرَصَ وَالْجُذَامَ اتَّقِ الْجُنُونَ قَالَ وَيْلَكُمْ إِنَّهُمَا وَاللَّهِ لَا يَضُرَّانِ وَلَا يَنْفَعَانِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ بَعَثَ رَسُولًا وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا اسْتَنْقَذَكُمْ بِهِ مِمَّا كُنْتُمْ فِيهِ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِنِّي قَدْ جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِهِ بِمَا أَمَرَكُمْ بِهِ وَنَهَاكُمْ عَنْهُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْسَى مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَفِي حَاضِرِهِ رَجُلٌ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَّا مُسْلِمًا قَالَ يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمَا سَمِعْنَا بِوَافِدِ قَوْمٍ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا
তাহকীক: