আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৩০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ عرفہ کے میدان سے واپس روانہ ہوئے تو حضرت اسامہ (رض) کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فرمایا سکون سے چلو، گھوڑے اور سواریاں تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنے ہاتھ بڑھانے والی کسی سواری کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، پھر نبی ﷺ نے مزدلفہ سے منیٰ تک حضرت فضل (رض) کو اپنے پیچھے بٹا لیا اور فرمانے لگے لوگو ! سکون اور وقار سے چلو کیونکہ گھوڑے اور اونٹ تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے، اس کے بعد میں کسی سواری کو سرپٹ دوڑتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ منیٰ پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَأَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَتْ جَمْعًا ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَالْوَقَارِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْإِبِلِ وَالْخَيْلِ فَمَا رَأَيْتُ نَاقَةً رَافِعَةً يَدَهَا عَادِيَةً حَتَّى بَلَغَتْ مِنًى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی دی جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا، جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ مِائَةَ بَدَنَةٍ فِيهَا جَمَلٌ أَحْمَرُ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَّةٌ مِنْ فِضَّةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آجاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑخانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس ! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا پھر وہ) حضرت عمر فاروق (رض) کی خدمت میں حاضر ہو اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا افسوس ! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم حضرت ابوبکر (رض) کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چناچہ اس نے حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے حضرت عمر (رض) کی طرح نبی ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی ﷺ نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا ؟ اور اس کے متلعق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، اس آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، حضرت عمر (رض) نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ عمرنے سچ کہا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ فَدَخَلَتْ فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا فَقَالَتْ وَيْحَكَ إِنِّي مُغِيبٌ فَتَرَكَهَا وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ فَأَتَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ فَقَالَ وَيْحَكَ فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَيْحَكَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهَا مُغِيبٌ قَالَ فَإِنَّهَا مُغِيبٌ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ صَدَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے جنات کے اس قول " انہ لماقام عبداللہ یدعو۔۔۔۔۔۔ " کی تفسیر میں منقول ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ نبی ﷺ صحابہ کرام (رض) نماز میں آپ کی اقتداء کر رہے ہیں، آپ کے رکوع پر خود رکوع کر رہے ہیں، آپ کے سجدے پر خود سجدہ کر رہے ہیں، تو انہیں صحابہ کرام (رض) کی اطاعت مصطفیٰ ﷺ پر تعجب ہوا، چناچہ جب وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے کہ جب اللہ کا بندہ یعنی نبی ﷺ کھڑے ہوتے ہیں تو قریب ہے کہ صحابہ (رض) ان کے لئے بھیڑ لگا کر جمع ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فِي قَوْلِ الْجِنِّ وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا قَالَ لَمَّا رَأَوْهُ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَرْكَعُونَ بِرُكُوعِهِ وَيَسْجُدُونَ بِسُجُودِهِ تَعَجَّبُوا مِنْ طَوَاعِيَةِ أَصْحَابِهِ لَهُ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى قَوْمِهِمْ قَالُوا إِنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے مرض الوفات میں اپنے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے نکلے، منبر پر رونق افروز ہوئے، اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا کہ اپنی جان اور اپنے مال کے اعتبار سے ابوبکر بن ابی قحافہ (رض) سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والا کوئی نہیں ہے، اگر میں انسانوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی خلقت سب سے افضل ہے، اس مسجد میں کھلنے والی ہر کھڑکی کو بند کردو، سوائے ابوبکر (رض) کی کھڑکی کے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ خُلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا چھیڑ خانی کی ہوگی یا دیکھا ہوگا ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تب نبی ﷺ کے حکم پر انہیں سنگسار کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَاهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ غَمَزْتَ أَوْ نَظَرْتَ قَالَ لَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِكْتَهَا لَا يُكَنِّي قَالَ نَعَمْ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرات حسنین (رض) پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے، میں تم دونوں کو اللہ کی صفات کاملہ کی پناہ میں دیتا ہو ہر شیطان اور ہر غم سے اور ہر قسم کی نظر بد سے اور فرمایا کرتے تھے کہ میرے والد یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اپنے دونوں بیٹوں حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہماالسلام پر یہی کلمات پڑھ کر پھونکتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَيَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَةِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا كَانَ أَبِي إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام يُعَوِّذُ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ عَلَيْهِمَا السَّلَام
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّا نَغْزُو فَنُؤْتَى بِالْإِهَابِ وَالْأَسْقِيَةِ قَالَ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَلَا يَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبضے سے قبل غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پیالے برتن کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔ ( اور سب طرف پھیلتی ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُوا فِي الْقَصْعَةِ مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں، بھر دیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحْسِبُهُ رَفَعَهُ قَالَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کو نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے اپنے معاملے کا اختیار حضرت عباس (رض) کو دے دیا اور انہوں نے ان کا نکاح نبی ﷺ کردیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَجَعَلَتْ أَمْرَهَا إِلَى الْعَبَّاسِ فَزَوَّجَهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک آدمی قتل کردیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا انہیں اس کی لاش اسی طرح حوالے کردو، یہ خبیث لاش ہے اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے، چناچہ نبی ﷺ نے ان سے اس کے عوض کچھ بھی نہیں لیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَأَرْسَلُوا رَسُولًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْرَمُونَ الدِّيَةَ بِجِيفَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَخَبِيثٌ خَبِيثُ الدِّيَةِ خَبِيثُ الْجِيفَةِ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان یہ تحریر لکھ دی کہ اپنی دیت ادا کیا کریں اپنے قیدیوں کا بھلے طریقے سے فدیہ ادا کریں اور مسلمانوں میں اصلاح کی کوشش کیا کریں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ كِتَابًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ أَنْ يَعْقِلُوا مَعَاقِلَهُمْ وَأَنْ يَفْدُوا عَانِيَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِصْلَاحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ حَدَّثَنِي سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی تلوار جس کا نام ذوالفقار تھا غزوہ بدر کے دن (حضرت علی (رض) کو بطور انعام کے عطاء فرمائی تھی، یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق نبی ﷺ نے غزوہ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا اور فرمایا تھا کہ میں نے اپنی تلوار ذوالفقار میں کچھ شکستگتی کے آثار دیکھے، جس کی تعبیر میں نے یہ لی کہ تمہارے اندر شکشگی کے آثار ہوں گے، نیز میں نے دیکھا کہ میں اپنے پیچھے ایک مینڈھے کو سوار کئے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر لشکر کے مینڈھے سے کی ہے، پھر میں نے اپنے آپ کو ایک مضبوط قلعے میں دیکھا جس کی تاویل میں مدینہ منورہ سے کی، نیز میں نے ایک گائے کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھا، بخدا ! گائے خیر ہے، بخدا ! گائے خیر ہے، چناچہ ایساہی ہوا جیسے نبی ﷺ نے خواب میں دیکھا تھا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْأَعْمَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَأَيْتُ فِي سَيْفِي ذِي الْفَقَارِ فَلًّا فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا يَكُونُ فِيكُمْ وَرَأَيْتُ أَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ وَرَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَكَانَ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کو اپنے گھر میں صرف اتنی آواز سے تلاوت فرماتے ہے کہ حجرہ میں اگر کوئی موجود ہو تو وہ سن لے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَدْرَ مَا يَسْمَعُهُ مَنْ فِي الْحُجْرَةِ وَهُوَ فِي الْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৩২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات کی طرح نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بتایا کہ ان کی قوم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی تو انہوں نے تختیاں نہیں پھینکیں، لیکن جب انہوں نے اپنی قوم کو اپنی آنکھوں سے اس طرح کرتے ہوئے دیکھ لیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَخْبَرَ مُوسَى بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ فَانْكَسَرَتْ
তাহকীক: