আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৩২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر (رح) کے پاس موجود تھا، انہوں نے فرمایا تم میں سے کسی نے رات کو ستارہ ٹوٹتے ہوئے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا ہے، میں اس وقت نماز میں نہیں تھا، البتہ مجھے ایک بچونے ڈس لیا تھا، انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے اسے جھاڑ لیا، انہوں نے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے عرض کیا اس حدیث کی وجہ سے جو ہمیں امام شعبی (رح) نے حضرت بریدہ اسلمی کے حوالے سے سنائی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا نظر بد یا ڈنک کے علاوہ کسی اور چیز کی جھاڑ پھونک صحیح نہیں۔ حضرت سعید بن جبیر (رح) کہنے لگے کہ جو شخص اپنی سنی ہوئی روایات کو اپنا منتہی بنالے، یہ سب سے اچھی بات ہے، پھر فرمایا کہ ہم سے حضرت ابن عباس (رض) نے نبی ﷺ کا ارشادنقل کیا ہے کہ مجھ پر مختلف امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کے ساتھ پورا گروہ دیکھا، کسی نبی کے ساتھ ایک دو آدمیوں کو دیکھا اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی بھی نہ دیکھا، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑا جم غفیر پیش کیا گیا، میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ہے، البتہ آپ افق کی طرف دیکھئے، وہاں ایک بڑی جمعیت نظر آئی، پھر مجھے دوسری طرف دیکھنے کا حکم دیا گیا، وہاں بھی ایک بہت بڑا جم غفیر دکھائی دیا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر نبی ﷺ اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے ؟ بعض کہنے لگے کہ ہوسکتا ہے، یہ نبی ﷺ کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا کہ تم لوگ کس بحث میں پڑے ہوئے ہو ؟ لوگوں نے نبی ﷺ کو اپنی بحث کے بارے بتایا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بد شگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! تم ان میں شامل ہو، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگایا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں ؟ نبی ﷺ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھری مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ وَكَيْفَ فَعَلْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَدْ أَحْسَنَ مَنْ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطَ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلَ وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمْ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ حَدَّثَنَا شُجَاعٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَإِنْ كَانَ لَيَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَإِنْ كَانَ لَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے تو وادیوں کو طے کیا تھا اور آپ ﷺ ہدی کا جانور بھی لے کر آئے تھے اس لئے آپ ﷺ کو وقوف عرفہ سے پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا لیکن اے اہل مکہ ! تم اپنے طواف کو اس وقت تک مؤخر کردیا کرو جب تم واپس لوٹ کر آؤ۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ الْأَوْدِيَةَ وَجَاءَ بِهَدْيٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنْ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ وَيَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ بِعَرَفَةَ فَأَمَّا أَنْتُمْ يَا أَهْلَ مَكَّةَ فَأَخِّرُوا طَوَافَكُمْ حَتَّى تَرْجِعُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے بیتے تھے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھالیا (یا پی لیا)
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْحَابُنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مستقل شراب نوشی کرنے والا جب مرے گا تو اللہ سے اس کی ملاقات اس شخص کی طرح ہوگی جو بتوں کا پجاری تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ حُدِّثْتُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللَّهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی برکت اس نسل میں ہے جو سرخ اور زرد رنگ کے ہوں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ يُمْنَ الْخَيْلِ فِي شُقْرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت میں موجود تمام اولاد سے میدان عرفات میں عہد لیا تھا، چناچہ عرفات میں عہد لیا تھا، چناچہ اللہ نے ان کی صلب سے ان کی ساری اولاد نکالی جو اس نے پیدا کرنا تھی اور اسے ان کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی شکل میں پھیلا دیا، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کلام کیا اور فرمایا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، (ارشاد ہوا) ہم نے تمہاری گواہی اس لئے لے لی تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے بیخبر تھے، یا تم یہ کہنے لگو کہ ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے بھی شرک کیا تھا، ہم ان کے بعد ان ہی کی اولاد تھے تو کیا آپ ہمیں باطل پر رہنے والوں کے عمل کی پاداش میں ہلاک کردیں گے ؟
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخَذَ اللَّهُ الْمِيثَاقَ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ يَعْنِي عَرَفَةَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِهِ كُلَّ ذُرِّيَّةٍ ذَرَأَهَا فَنَثَرَهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَالذَّرِّ ثُمَّ كَلَّمَهُمْ قِبَلًا قَالَ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنْ الدَّهْرِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو یہ فرمایا کہ وہ آدھا دینار صدقہ کرے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ خُصَيْفٍ عَنِ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یا حضرت ام سلمہ (رض) کو اور ان کے ساتھ میں بھی تھا مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جلدی بھیج دیا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ طلوع آفتاب سے قبل جمرہ عقبہ کی رمی نہ کریں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عَجَّلَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَجَّلَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَنَا مَعَهُمْ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْمِيَهَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے سامان اور کمزور افراد خانہ کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی کو منیٰ کی طرف روانہ کردیا تھا، چناچہ ہم نے فجر کی نماز منیٰ میں ہی پڑھی اور جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنْ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ ثَقَلَةِ وَضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَصَلَّيْنَا الصُّبْحَ بِمِنًى وَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ ام المومنین حضرت میمونہ (رض) عہا کے گھر میں داخل ہوئے تو وہاں حضرت ابن عباس (رض) مل گئے۔ چناچہ ہم نے حضرت ابن عباس (رض) سے آگ پر پکے ہوئے کھانے کے بعد وضو کا حکم دریافت کیا، حضرت عباس (رض) نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعدتازہ وضو کئے بغیر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، ہم میں سے کسی نے پوچھا کہ واقعی کیا آپ یہ دیکھا ہے، انہوں نے اپنا ہاتھ اپنی آنکھوں کی طرف اٹھایا اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے اور فرمایا کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ فَقَالَ بَصُرَ عَيْنَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک آدمی اپنی بکریوں کو ہانکتے ہوئے چند صحابہ کرام (رض) کے پاس سے گذرا، اس نے انہیں سلام کیا، وہ کہنے لگے کہ اس نے ہمیں سلام اس لئے کیا ہے تاکہ اپنی جان بچالے، یہ کہہ کر وہ اس کی طرف بڑھے اور اسے قتل کردیا اور اس کی بکریاں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں نکلو تو خوب چھان بین کرلو۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ غَنَمًا لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ فَعَمَدُوا إِلَيْهِ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمْ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔۔۔۔۔۔ والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ هُمْ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَمْ يَنْزِلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) نبی ﷺ نے سو اونٹوں کی قربانی دی، جن میں ابو جہل کا ایک سرخ اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا حلقہ پڑا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ بَعِيرًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي أَنْفِهِ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَسَ عَرْقًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب ہلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگایا تو لوگ ان سے کہنے لگے کہ اب تو نبی ﷺ تمہیں اسی کوڑے ضرور ماریں گے، انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بڑا عادل ہے، وہ مجھے ان اسی کوڑوں سے بچالے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں نے دیکھا یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا اور میں نے اپنے کانوں سے سنا یہاں تک کہ مجھے یقین ہوگیا، بخدا ! اللہ مجھے سزا نہیں ہونے دے گا، اس پر آیت لعان نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا قَذَفَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ امْرَأَتَهُ قِيلَ لَهُ وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِينَ جَلْدَةً قَالَ اللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَضْرِبَنِي ثَمَانِينَ ضَرْبَةً وَقَدْ عَلِمَ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ وَسَمِعْتُ حَتَّى اسْتَيْقَنْتُ لَا وَاللَّهِ لَا يَضْرِبُنِي أَبَدًا قَالَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৩৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح ایسی جگہ کردیا ہے جو اسے پسند نہیں ہے نبی ﷺ نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَةَ خِذَامٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক: