আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৪২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کچھ مرتدین کو نذر آتش کردیا، حضرت ابن عباس (رض) کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو ، بلکہ میں انہیں قتل کردیتا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کردو، جب حضرت علی (رض) کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر اظہار افسوس کیا (کہ یہ بات پہلے سے معلوم کیوں نہ ہوسکی ؟ )
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا أَخَذَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنْ الْإِسْلَامِ فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَدًا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ فَبَلَغَ عَلِيًّا مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ وَيْحَ ابْنِ أُمِّ ابْنِ عَبَّاسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نصف النہار کے وقت خواب میں نبی ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل کیا، اس وقت آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے اور جسم پر گرد و غبار تھا، آپ ﷺ کے پاس ایک بوتل تھی جس میں وہ کچھ تلاش کر رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، میں صبح سے اس کی تلاش میں لگا ہوا ہوں، راوی حدیث عمار کہتے ہیں کہ ہم نے وہ تاریخ اپنے ذہن میں محفوظ کرلی، بعد میں پتہ چلا کہ حضرت امام حسین (رض) اسی تاریخ اور اسی دن شہید ہوئے تھے (جس دن حضرت ابن عباس (رض) نے خواب دیکھا تھا )
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَمَّارٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ قَائِمٌ أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی شخص کے قبر میں مدفون ہونے کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ وَوَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي فَيُولَدُ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فَلَنْ يَضُرَّهُ الشَّيْطَانُ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کو علم سکھاؤ آسانیاں پیدا کرو، مشکلات پیدا نہ کرو اور تین مرتبہ فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے سکوت اختیار کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ وَإِذَا غَضِبْتَ فَاسْكُتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو جمع فرمایا : اس وقت نہ کوئی خوف تھا اور نہ ہی بارش، کسی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ اس سے نبی ﷺ کا مقصد کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ آپ کی امت تنگی میں نہ رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ سَفَرٍ وَلَا خَوْفٍ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَلِمَ فَعَلَ ذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے پھر باہر آئے کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْبَرَازِ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ فَقَالُوا أَنَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ فَقَالَ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَوَضَّأُ أُصَلِّي فَأَتَوَضَّأُ أَوَصَلَّيْتُ فَأَتَوَضَّأُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں ایک مرتبہ رت کو سویا، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی ﷺ کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ ﷺ مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی ﷺ نے کیا تھا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی ﷺ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ ﷺ کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی ﷺ اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی ﷺ کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی ﷺ لیٹ کر سوگئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى الْحَاجَةَ ثُمَّ جَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَتَمَطَّيْتُ كَرَاهَةَ أَنْ يَرَانِي كُنْتُ أَبْقِيهِ يَعْنِي أَرْقُبُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِمَا يَلِي أُذُنِي حَتَّى أَدَارَنِي فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَتَتَامَّتْ صَلَاتُهُ إِلَى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے ؟ یوں کہو جو اللہ تن تنہا چاہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَجْلَحِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بیت اللہ میں داخل ہو کر نبی ﷺ نے اس کے سب کونوں میں دعاء فرمائی اور باہر نکل کردو رکعتیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ مِقْسَمًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف اس لئے منزل کی تھی تاکہ پانی بہا سکیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ لَمْ يَنْزِلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِيُهَرِيقَ الْمَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مقام سرف میں محرم ہونے کے باوجود حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرما لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ بِسَرِفَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے غسل جنابت فرمایا اور نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو فرما لیا ان زوجہ نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحَمَّتْ مِنْ جَنَابَةٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا فَقَالَتْ إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی ﷺ کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ ﷺ مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی ﷺ نے کیا تھا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی ﷺ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ ﷺ کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی ﷺ اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی ﷺ کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی ﷺ لیٹ کر سوگئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی ﷺ اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنادے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَرَقَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يُصَلِّي فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَعَمَدَ إِلَى الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوْ الْقَصْعَةِ وَأَكَبَّ يَدَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَكَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ ثُمَّ نَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْنِي نُورًا قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اجْعَلْ لِي نَوَرًا قَالَ و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ نَامَ مُضْطَجِعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری خالہ ام حفیق نے ہدیہ کے طور پر نبی ﷺ کی خدمت میں گھی، دودھ اور گوہ بھیجی، نبی ﷺ نے گوہ کو دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، حضرت خالد بن ولید (رض) کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! پھر نبی ﷺ نے دودھ کا برتن پکڑا اور اسے نوش فرمایا : میں نبی ﷺ کی دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید (رض) بائیں جانب، نبی ﷺ نے فرمایا پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں چچا کو پینے کے لئے دے دوں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ چناچہ میں نے اس دودھ کا برتن پکڑا اور اسے پی لیا اس کے بعد حضرت خالد (رض) کو دے دیا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعاء کرے کہ اے اللہ ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس سے بہترین کھلا اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعاء کرے کہ اللہ ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما، کیونکہ میرے علم کے مطابق کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کرسکتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ حَرْمَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَهْدَتْ خَالَتِي أُمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَأَضُبًّا فَأَمَّا الْأَضُبُّ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَذِرْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَوْ أَجَلْ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ أَمَا إِنَّ الشَّرْبَةَ لَكَ وَلَكِنْ أَتَأْذَنُ أَنْ أَسْقِيَ عَمَّكَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قُلْتُ لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِمُؤْثِرٍ عَلَى سُؤْرِكَ أَحَدًا قَالَ فَأَخَذْتُهُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ أَعْطَيْتُهُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْلَمُ شَرَابًا يُجْزِئُ عَنْ الطَّعَامِ غَيْرَ اللَّبَنِ فَمَنْ شَرِبَهُ مِنْكُمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ وَمَنْ طَعِمَ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ فرمایا کیوں میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَأُتِيَ بِعَرْقٍ فَلَمْ يَتَوَضَّأْ فَأَكَلَ مِنْهُ وَزَادَ عَمْرٌو عَلَيَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَمْ تَتَوَضَّأْ قَالَ مَا أَرَدْتُ الصَّلَاةَ فَأَتَوَضَّأَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی مشروب پیتے تو اسے پینے کے دوران دو مرتبہ سانس لیتے تھے۔
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ قَالَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ فِي الشَّرَابِ وَكَتَبَ أَبِي فِي أَثَرِ هَذَا الْحَدِيثِ لَا أُرَى عَبْدَ اللَّهِ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক: