আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৪০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ عید کے دن نکلے اور اس سے پہلے نماز پڑھی نہ بعد میں، پھر نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کے ہمراہ عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِطْرٍ فَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَجَعَلَ يَقُولُ تَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَسِخَابَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حکم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں حضرت سعید بن جبیر (رح) نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں حضر کی طرح پڑھائی، پھر سلام پھیر کر عشاء کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائیں اور پھر فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اسی طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی ﷺ نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ قَالَ صَلَّى بِنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ بِجَمْعٍ الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا بِإِقَامَةٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ (رض) نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں، اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهْدَى صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ وَهُوَ يَقْطُرُ دَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ روزے کے حالت میں بھی تھے
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش کریم کا رب ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ عَنِ ابْنِ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبدالرحمن بن وعلہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ ہم لوگ اہل مغرب سے جہاد کرتے ہیں اور ان کے مشکیزے عام طور پر مردار کی کھال کے ہوتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قُلْتُ إِنَّا نَغْزُو هَذَا الْمَغْرِبَ وَأَكْثَرُ أَسْقِيَتِهِمْ جُلُودُ الْمَيْتَةِ قَالَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ دِبَاغُهَا طُهُورُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوحسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا اے ابو العباس ! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرلے وہ حلال ہوجاتا ہے، انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذَا الَّذِي تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ قَالَ هَمَّامٌ يَعْنِي كُلُّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ قَالَ هَمَّامٌ يَعْنِي مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حکم بن عرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ چاہ زمزم سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں بھی ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا، وہ بہترین ہم نشین تھے، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ تم اس کے متعلق کس حوالے سے پوچھنا چاہ رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ روزے کے حوالے سے، یعنی کس دن کا روزہ رکھوں ؟ فرمایا جب محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ أَبُو خُشَيْنَةَ أَخُو عِيسَى النَّحْوِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ جَلَسْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ عِنْدَ بِئْرِ زَمْزَمَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيسُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ عَاشُورَاءَ فَقَالَ عَنْ أَيِّ بَالِهِ تَسْأَلُ قُلْتُ عَنْ صِيَامِهِ قَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعِهِ فَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ قُلْتُ أَهَكَذَا كَانَ يَصُومُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ تم میں سے کس شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ پیش کردینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ طَاوُسًا قَالَ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت بریرہ (رض) کا شوہر ایک سیاہ فام حبشی غلام تھا جس کا نام " مغیث " تھا میں اسے دیکھتا تھا کہ وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ منورہ کی گلیوں میں پھر رہا ہوتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہہ رہے ہوتے تھے، نبی ﷺ نے بریرہ کے متعلق چار فیصلے فرمائے تھے، بریرہ کے آقاؤں نے اس کی فروخت کو اپنے لئے ولاء کے ساتھ مشروط کیا تھا، نبی ﷺ نے فیصلہ فرما دیا تھا کہ ولاء آزاد کرنے والے کا حق ہے، نبی ﷺ نے انہیں خیار عتق دیا، انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کرلیا اور نبی ﷺ نے انہیں عدت گذارنے کا حکم دیا اور یہ کہ ایک مرتبہ کسی نے بریرہ کو صدقہ میں کوئی چیز دی، انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ (رض) کو بطور ہدیہ کے بھیج دیا، انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے (کیونکہ ملکیت تبدیل ہوگئی ہے)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُسَمَّى مُغِيثًا قَالَ فَكُنْتُ أَرَاهُ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ عَلَيْهَا قَالَ وَقَضَى فِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِيَّاتٍ إِنَّ مَوَالِيَهَا اشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَأَهْدَتْ مِنْهَا إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَإِلَيْنَا هَدِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے پوچھا لیلۃ القدر کے بارے کون جانتا ہے کہ وہ کب ہوتی ہے ؟ اس پر حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ شب قدر رمضان کے عشرہ اخیرہ میں ہوتی ہے سات راتیں گذرنے پر (٢٧ ویں شب) یا سات راتیں باقی رہ جانے پر (٢٣ ویں شب)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ وَعِكْرِمَةَ قَالَا قَالَ عُمَرُ مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ فِي الْعَشْرِ فِي سَبْعٍ يَمْضِينَ أَوْ سَبْعٍ يَبْقَيْنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر اس وقت کے رواج کے مطابق لوگوں کو جمع کرنے کے لئے یا صبا حاہ کہہ کر آواز لگائی، جب قریش کے لوگ جمع ہوگئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ، اگر میں تمہیں خبر دوں کہ دشمن تم پر صبح یا شام میں کسی وقت حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے ؟ سب نے کہا کیوں نہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا پھر میں تمہیں ایک سخت عذاب آنے سے پہلے ڈراتا ہوں، ابو لہب کہنے لگا کہ کیا تم نے ہمیں اس لئے جمع کیا تھا، تم ہلاک ہو (العیاذ باللہ) اس پر سورت لہب نازل ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا الصَّفَا فَقَالَ يَا صَبَاحَاهْ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ فَقَالُوا لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُكُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُكُمْ أَوْ مُمَسِّيكُمْ أَمَا كُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي فَقَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ إِنِّي نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَكَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لیا اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وَهَيْبٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ عَرْقًا مِنْ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يُمَضْمِضْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابونضرہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع بصرہ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی کم از کم ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے دنیا میں پوری کروا لی، لیکن میں نے اپنی دعاء کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے، میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، میں ہی وہ پہلا شخص ہوں گا جس سے زمین کو ہٹایا جائے گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، میرے ہی ہاتھ میں لواء الحمد (حمد کا جھنڈا) ہوگا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا، حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔ قیامت کا دن لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا، وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ آؤ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس چلتے ہییں، وہ ابو البشر ہیں کہ وہ ہمارے پروردگار کے سامنے سفارش کردیں تاکہ وہ ہمارا حساب کتاب شروع کر دے، چناچہ سب لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے آدم ! آپ وہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنے دست مبارک سے پیدا فرمایا : اپنی جنت میں ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے سجدہ کرایا، آپ پروردگار سے سفارش کردیں کہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ کہیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، مجھے میری ایک خطا کی وجہ سے جنت سے نکال دیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی جڑ ہیں۔ چناچہ ساری مخلوق اور تمام انسان حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ اے نوح ! آپ ہمارے پروردگار سے سفارش کردیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کردے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعاء مانگی تھی جس کی وجہ سے زمین والوں کو غرق کردیا گیا تھا، آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ چناچہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے ابراہیم ! آپ ہمارے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے زمانہ اسلام میں تین مرتبہ ذو معنی لفظ بولے تھے جن سے مراد بخدا ! دین ہی تھا (ایک اپنے آپ کو بیمار بتایا تھا، دوسرا یہ فرمایا تھا کہ ان بتوں کو ان کے بڑے نے توڑا ہے اور تیسرا یہ کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اپنی بہن قرار دیا تھا) آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، جنہیں اللہ نے اپنی پیغامبری اور اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ اب سارے لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں گے اور ان سے کہیں گے کہ اے موسیٰ ! آپ ہی تو ہیں جنہیں اللہ نے اپنی پیغمبری کے لئے منتخب کیا اور آپ سے بلا واسطہ کلام فرمایا : آپ اپنے پروردگار سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیں، وہ فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک شخص کو بغیر کسی نفس کے بدلے کے قتل کردیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ جو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں، چناچہ سب لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے عرض کریں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے سفارش کردیں تاکہ وہ ہمارا حساب شروع کر دے، وہ فرمائیں گے کہ میں تو اس کام کا اہل نہیں ہوں، لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر مجھے معبود بنا لیا تھا، اس لئے آج تو مجھے صرف اپنی فکر ہے، البتہ یہ بتاؤ کہ اگر کوئی چیز کسی ایسے برتن میں پڑی ہوئی ہو جس پر مہر لگی ہوئی ہو، کیا مہر توڑے بغیر اس برتن میں موجود چیز کو حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ لوگ کہیں گے نہیں، اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے کہ حضرت محمد ﷺ تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مہر ہیں، آج وہ یہاں موجود بھی ہیں اور ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف بھی ہوچکے ہیں (لہذاتم ان کے پاس جاؤ) ۔ نبی ﷺ نے فرمایا پھر وہ سب میرے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے محمد ﷺ ! اپنے رب سے سفارش کر کے ہمارا حساب شروع کروا دیجئے، نبی ﷺ فرمائیں گے کہ ہاں ! میں اس کا اہل ہوں، یہاں تک کہ اللہ ہر اس شخص کو اجازت دے جسے چاہے اور جس سے خوش ہو، جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا کہ احمد ﷺ اور ان کی امت کہاں ہے ؟ ہم سب سے آخر میں آئے اور سب سے آگے ہوں گے، ہم سب سے آخری امت ہیں لیکن سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور ساری امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم اپنے وضو کے اثرات سے روشن پیشانیوں کے ساتھ روانہ ہوجائیں گے، دوسری امتیں یہ دیکھ کر کہیں گی کہ اس امت کے تو سارے لوگ ہی نبی محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال ! میں جنت کے دروازے پر پہنچ کر دروازے کا حلقہ پکڑ کر اسے کھٹکھٹاؤں گا، اندر سے پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں ؟ میں کہوں گا کہ میں محمد ہوں ﷺ چناچہ دروازہ کھول دیا جائے گا، میں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوں گا جو اپنے تخت پر رونق افروز ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور اس کی ایسی تعریف کروں گا کہ مجھ سے پہلے کسی نے ایسی تعریف کی ہوگی اور نہ بعد میں کوئی کرسکے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد ! سر تو اٹھائیے، آپ جو مانگیں گے، آپ کو ملے گا، جو بات کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی اور جس کی سفارش کریں گے قبول ہوگی، میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا کہ پروردگار ! میری امت، میری امت ! ارشاد ہوگا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (راوی اس کی مقدار یاد نہیں رکھ سکے) کے برابر ایمان ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، ایسا کر چکنے کے بعد میں دوبارہ واپس آؤں گا اور بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہو کر حسب سابق اس کی تعریف کروں گا اور مذکورہ سوال جواب کے بعد مجھ سے کہا جائے گا کہ جس کے دل میں اتنے مثقال (پہلے سے کم مقدار میں) ایمان موجود ہو، اسے جہنم سے نکال لیجئے، تیسری مرتبہ بھی اسی طرح ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي قَدْ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ آدَمُ فَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ فَلْيَشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَدْ أُخْرِجْتُ مِنْ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا رَأْسَ النَّبِيِّينَ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كِذْبَاتٍ وَاللَّهِ إِنْ حَاوَلَ بِهِنَّ إِلَّا عَنْ دِينِ اللَّهِ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِنْ كَانُوا يَنْطِقُونَ وَقَوْلُهُ لِامْرَأَتِهِ حِينَ أَتَى عَلَى الْمَلِكِ أُخْتِي وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَامِهِ فَيَأْتُونَهُ فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَكَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَيَقُولُ إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي اتُّخِذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي وَلَكِنْ أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ عَلَيْهِ أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ قَالَ فَيَقُولُونَ لَا قَالَ فَيَقُولُ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَقَدْ حَضَرَ الْيَوْمَ وَقَدْ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا فَأَقُولُ أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ شَاءَ وَيَرْضَى فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يَصْدَعَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ فَنَحْنُ الْآخِرُونَ الْأَوَّلُونَ نَحْنُ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَوَّلُ مَنْ يُحَاسَبُ فَتُفْرَجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ فَتَقُولُ الْأُمَمُ كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلُّهَا فَنَأْتِي بَابَ الْجَنَّةِ فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَقْرَعُ الْبَابَ فَيُقَالُ مَنْ أَنْتَ فَأَقُولُ أَنَا مُحَمَّدٌ فَيُفْتَحُ لِي فَآتِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ شَكَّ حَمَّادٌ فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي وَلَيْسَ يَحْمَدُهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ وَقُلْ تُسْمَعْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مَا قُلْتُ فَيُقَالُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَيَقُولُ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ الْأَوَّلِ ثُمَّ أُعِيدُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ لِيَ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ أَيْ رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي فَقَالَ أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ كَذَا وَكَذَا دُونَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رمضان کے مہینے میں سو رہا تھا، خواب میں کسی نے مجھ سے کہا کہ آج کی رات شب قدر ہے، میں اٹھ بیٹھا، اس وقت مجھ پر اونگھ کا غلبہ تھا، میں اسے دور کرنے کے لئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے جب غور کیا تو وہ ٢٣ ویں رات تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ فَقَالَ أَخْبَرَنَا سِمَاكٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ فِي رَمَضَانَ فَقِيلَ لِي إِنَّ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ قَالَ فَقُمْتُ وَأَنَا نَاعِسٌ فَتَعَلَّقْتُ بِبَعْضِ أَطْنَابِ فُسْطَاطِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَنَظَرْتُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ قَالَ فَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے ؟ فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ لَهُ أَلَا تَتَوَضَّأُ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حنظلہ سدوسی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ سے عرض کیا کہ میں مغرب میں معوذتین کی قرأت کرتا ہوں لیکن کچھ لوگ مجھے اس پر معیوب ٹھہراتے ہیں ؟ انہوں نے کہا اس میں کیا حرج ہے ؟ تم ان دونوں دونوں سورتوں کو پڑھ سکتے ہو کیونکہ دونوں بھی قرآن کا حصہ ہیں، پھر فرمایا کہ مجھ سے حضرت ابن عباس (رض) نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جن میں سورت فاتحہ کے علاوہ کچھ نہیں پڑھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ قَالَ قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ إِنِّي أَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ اقْرَأْهُمَا فَإِنَّهُمَا مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৪২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس کچھ زندیق لائے گئے، ان کے پاس کچھ کتابیں بھی تھیں، حضرت علی (رض) کے حکم پر آگ دہکائی گئی اور پھر انہوں نے ان لوگوں کو ان کی کتابوں سمیت نذر آتش کردیا، حضرت ابن عباس (رض) کو پتہ چلا تو فرمایا اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب جیسا عذاب کسی کو نہ دو ، بلکہ میں انہیں قتل کردیتا، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرتد ہو کر اپنا دین بدل لے، اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক: