আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৫০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی کو نکاح کے لئے پیش کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا وہ میری رضاعی بھتیجی ہے اور رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى ابْنَةِ حَمْزَةَ فَقَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنْ الرَّضَاعَةِ وَيَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنْ الرَّحِمِ قَالَ عَفَّانُ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے اپنے پروردگار کی زیارت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زوال آفتاب کے بعد جمرات کی رمی کی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِمَارَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا، انہوں نے آگ کی دو جوتیاں پہن رکھی ہوں گی جس سے ان کا دماغ ہنڈیا کی طرح ابلتا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَهُوَ مُنْتَعِلٌ نَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّلَاةِ بِالْبَطْحَاءِ إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ قَالَ رَكْعَتَانِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پہلے قربانی کی، پھر حلق کروایا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَبَحَ ثُمَّ حَلَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام (رض) کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آرہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، اللہ نے نبی ﷺ کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی ﷺ نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى قَالَ فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عمار جو بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام تھے کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ وصال مبارک کے دن نبی ﷺ کی عمر مبارک کیا تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ تم جیسے آدمی پر بھی یہ بات مخفی رہ سکتی ہے، میں نے عرض کیا کہ میں نے مختلف حضرات سے اس کے متعلق دریافت کیا ہے لیکن ان سب کا جواب ایک دوسرے سے مختلف تھا، اس لئے میں آپ کی رائے معلوم کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے پوچھا کیا واقعی ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا پھر یاد رکھو ! چالیس سال کی عمر میں نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا، پندرہ سال تک آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہے جہاں امن اور خوف کی ملی جلی کیفیت رہی اور دس سال ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ قَالَ مَا كُنْتُ أُرَى مِثْلَكَ فِي قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْكَ ذَلِكَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَيَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ قَالَ أَتَحْسِبُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ بُعِثَ لَهَا وَخَمْسَ عَشْرَةَ أَقَامَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ وَعَشْرًا مُهَاجِرًا بِالْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر چار ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ پہنچے، نبی ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اسے عمرہ بنالیں، سوائے اس شخص کے جس کے پاس ہدی کا جانور ہو، چناچہ عمرہ کے بعد قمیصیں پہن لی گئیں، انگیٹھیاں خوشبوئیں اڑانے لگیں اور عورتوں سے نکاح ہونے لگے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ رَجُلٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِصُبْحِ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَ فَلُبِسَتْ الْقُمُصُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَنُكِحَتْ النِّسَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، یہ سن کر اقرع بن حابس کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو تم اس پر عمل نہ کرسکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہوگا وہ نفلی حج ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْحَجُّ قَالَ فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَوْ قُلْتُهَا لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَعْمَلُوا بِهَا وَلَمْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْمَلُوا بِهَا الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ الْحَجَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ بِهِ لِمَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روزہ رکھا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چناچہ نبی ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ (رض) کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ قَالَ فَصَامَهُ مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ قَالَ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حاملہ جانور کے حمل کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حِفْظِي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ حَبَلِ الْحَبَلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ قَالَ قَتَادَةُ وَلَا أَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ وَلَمْ نَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فِي ذَلِكَ مَثَلًا حَتَّى حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کرلیا ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی ﷺ سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ وَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ لَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو جمرہ (رح) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) سے لوگوں کے بےقابو ہجوم کو دور رکھتا تھا، لیکن کچھ عرصہ نہ جاسکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہوگیا تھا، حضرت ابن عباس (رض) کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا فَقَالَ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ الْحُمَّى قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دباء، حنتم اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، نبی ﷺ نے مجھے بلایا اور پیارے سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی ﷺ کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی ﷺ کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الصِّبْيَانِ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا فَقُلْتُ مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ قَالَ فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي قَالَ فَأَخَذَ بِقَفَايَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ وَكَانَ كَاتِبَهُ قَالَ فَسَعَيْتُ فَقُلْتُ أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان میں پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، پھر روزہ ختم کردیا، اس لئے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضاء کرلے)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ
tahqiq

তাহকীক: