আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৫২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ ﷺ کے آگے سے گذرنے لگا لیکن نبی ﷺ اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے گذرنے نہیں دیا)
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَدْيًا أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَتَّقِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو اور کسی شخص کے لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ آدَمَ إِلَّا قَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا وَمَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لائے، اس وقت حضرت اسامہ بن زید (رض) نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، ہم نے انہیں یہی عام پانی پینے کے لئے پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا اور آئندہ بھی اسی طرح کیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ فَسَقَيْنَاهُ مِنْ هَذَا النَّبِيذِ يَعْنِي نَبِيذَ السِّقَايَةِ فَشَرِبَ مِنْهُ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آج ظہر کی نماز وادئ بطحا میں میں نے ایک احمق شیخ کے پیچھے پڑھی ہے، اس نے ایک نماز میں ٢٢ مرتبہ تکبیر کہی، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تیری ماں تجھے روئے، یہ تو ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ إِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤ کی طرف اشارہ کیا، نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ أَبِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ ثُمَّ أَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والوں کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ كَذَا قَالَ أَبِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کر دے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنا بدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُكَاتَبُ يُودَى مَا أَعْتَقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ وَمَا رَقَّ مِنْهُ بِحِسَابِ الْعَبْدِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے مدینہ منورہ میں دو آدمی قبریں کھودتے تھے، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) صندوقی قبر بناتے ہیں جیسے اہل مکہ اور حضرت ابو طلحہ (رض) جن کا اصل نام زید بن سہل تھا، اہل مدینہ کے لئے بغلی قبر بناتے ہیں، تو حضرت عباس (رض) نے دو آدمیوں کو بلایا، ایک کو حضرت ابو عبیدہ (رض) کے پاس بھیجا اور دوسرے کو ابو طلحہ (رض) کے پاس اور دعاء کی کہ اے اللہ ! اپنے پیغمبر کے لئے جو بہتر ہو اسی کو پسند فرما لے، چناچہ حضرت ابوطلحہ (رض) کے پاس جانے والے آدمی کو حضرت ابو طلحہ (رض) مل گئے اور وہ انہی کو لے کر آگیا، اس طرح نبی ﷺ کے لئے بغلی قبر تیار کی گئی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ يَحْفِرَانِ الْقُبُورَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ يَحْفِرُ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَأَبُو طَلْحَةَ يَحْفِرُ لِلْأَنْصَارِ وَيَلْحَدُ لَهُمْ قَالَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ الْعَبَّاسُ رَجُلَيْنِ إِلَيْهِمَا فَقَالَ اللَّهُمَّ خِرْ لِنَبِيِّكَ فَوَجَدُوا أَبَا طَلْحَةَ وَلَمْ يَجِدُوا أَبَا عُبَيْدَةَ فَحَفَرَ لَهُ وَلَحَدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، میں نے سجدے میں نبی ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو وَكِيعٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اسْتَدْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی ﷺ نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہوگیا، حضرت صدیق اکبر (رض) نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے حضرت امیر معاویہ (رض) تھے، مجھے ان کی بات پر تعجب ہے جبکہ خود انہوں نے مجھ سے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے قینچی سے نبی ﷺ کے بال تراشے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْهُ وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں تشہد اسی طرح سکھایا کرتے تھے جیسے قرآن کریم سکھاتے تھے اور فرماتے تھے تمام قولی، مبارک، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلامتی کا نزول ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
حَدَّثَنِي يُونُسُ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَكَانَ يَقُولُ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ حُجَيْنٌ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو نضرہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيَّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مِنْبَرِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي دُبُرِ صَلَاتِهِ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچیں اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ لکیریں کیسی ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل عورتیں چار ہوں گی (١) خدیجہ بنت خویلد (رض) (٢) فاطمہ (رض) بنت محمد ﷺ (٣) مریم بنت عمران علیہماالسلام (٤) آسیہ بنت مزاحم (رض) جو فرعون کی بیوی تھیں
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ عَنْ عِلْبَاءَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ تَدْرُونَ مَا هَذَا فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے لڑکے ! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) ، اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو تم اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو اور جان رکھو ! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ رَكِبَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا غُلَامُ إِنِّي مُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ وَإِذَا سَأَلْتَ فَلْتَسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی اور ناک میں دوا چڑھائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو۔
حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے، ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے یہی حدیث حضرت جابر (رض) سے اس طرح سنی ہے کہ پیالہ اس وقت تک نہ اٹھایا جائے جب تک خود یا کوئی دوسرا اسے چاٹ نہ لے کیونکہ کھانے کے آخری حصے میں برکت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنْ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ ذَلِكَ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَرْفَعْ الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ
তাহকীক: