আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৫৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ مجھ سے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ کو نماز کی محبت عطاء کی گئی ہے، اس لئے اسے جتنا چاہیں اختیار کریں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّهُ قَدْ حُبِّبَتْ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمی نبی ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے، نبی ﷺ نے مدعی سے گواہوں کا تقاضا کیا، اس کے پاس گواہ نہیں تھے، اس لئے نبی ﷺ نے مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا، اس نے یوں قسم کھائی کہ اس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور عرض کیا کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے، اس کے پاس اس کا حق ہے، لہذا اسے وہ حق ادا کرنے کا حکم دیجئے اور اس کی قسم کا کفارہ لا الہ الا اللہ کی معرفت اور شہادت ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اخْتَصَمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَوَقَعَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ مَا لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ قَالَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَاذِبٌ إِنَّ لَهُ عِنْدَهُ حَقَّهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ حَقَّهُ وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ مَعْرِفَتُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ شَهَادَتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس سال تک مکہ مکرمہ میں رہے جس دوران آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا رہا اور مدینہ منورہ میں بھی دس سال رہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے حضرت عیسی، موسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) کی زیارت کی ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو سرخ وسفید رنگ کے، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینے والے آدمی ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مضبوط اور صحت مند جسم کے مالک ہیں، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کیسے ہیں ؟ فرمایا اپنے پیغمبر کو دیکھ لو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ وَأَمَّا مُوسَى فَإِنَّهُ جَسِيمٌ قَالُوا لَهُ فَإِبْرَاهِيمُ قَالَ انْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا راستہ، نیک سیرت اور میانہ روی اجزاء نبوت میں سے ٢٥ واں جزء ہے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَابُوسُ بْنُ أَبِي ظَبْيَانَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ زُهَيْرٌ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ إِنَّ الْهَدْيَ الصَّالِحَ وَالسَّمْتَ الصَّالِحَ وَالِاقْتِصَادَ جُزْءٌ مِنْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ وَجَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ قَابُوسَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمْتُ الصَّالِحُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى خَمْسَ صَلَوَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ آٹھ ذی الحجہ کو نماز ظہر اور نو ذی الحجہ کی نماز فجر نبی ﷺ نے منیٰ کے میدان میں ادا فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ بِمِنًى وَصَلَّى الْغَدَاةَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جمعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَا أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ میں ہلاک ہوگیا، نبی ﷺ نے پوچھا تمہیں کس چیز نے ہلاک کردیا ؟ عرض کیا آج رات میں نے سواری کا رخ موڑ دیا (بیوی کے پاس پشت کی طرف سے اگلے سوراخ میں قربت کرلی) نبی ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا تھوڑی دیر میں اللہ نے اپنے پیغمبر پر یہ آیت وحی کردی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، اس لئے اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو، آسکتے ہو، خواہ سامنے سے یا پیچھے سے، البتہ پچھلی شرمگاہ اور حیض کی جگہ سے بچو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الْقُمِّيَّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا الَّذِي أَهْلَكَكَ قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى رَسُولِهِ هَذِهِ الْآيَةَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحَيْضَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی کسی بیٹی (کی بیٹی یعنی نواسی) کے پاس تشریف لائے اس وقت وہ نزع کے عالم میں تھی، نبی ﷺ نے اسے پکڑ کر اپنی گود میں رکھ لیا، اسی حال میں اس کی روح قبض ہوگئی، نبی ﷺ نے سر اٹھا کر الحمدللہ کہا اور فرمایا مومن کے کیلئے خیر ہی ہوتی ہے اور مومن کی روح جب اس کے دونوں پہلوؤں سے نکلتی ہے تو وہ اللہ کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ بَنَاتِهِ وَهِيَ تَجُودُ بِنَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى قُبِضَتْ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جنہوں نے ایک کبوتر کو پکڑا ہوا تھا اور وہ اس پر اپنا نشانہ صحیح کر رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا کسی ذی روح چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ صحیح مت کرو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَدْ نَصَبُوا حَمَامَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور قثم نبی ﷺ کے آگے بیٹھے تھے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ وَقُثَمُ أَمَامَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے دوران طواف رمل کیا ہے اور یہ سنت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ کچھ سچ اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا سچ کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ فرمایا سچ تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہو سلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے رمل کیا ہے لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قریش نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کہا تھا کہ محمد ﷺ اور ان کے صحابہ (رض) کو چھوڑ دو ، تاآنکہ یہ اسی طرح مرجائیں جیسے اونٹ کی ناک میں کیڑا نکلنے سے وہ مرجاتا ہے، جب انہوں نے نبی ﷺ سے منجملہ دیگر شرائط کے اس شرط پر صلح کی کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے ساتھ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں آکر تین دن ٹھہر سکتے ہیں تو نبی ﷺ آئندہ سال تشریف لائے، مشرکین جبل قعیقعان کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، انہیں یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے صحابہ کو تین چکروں میں رمل کا حکم دیا، یہ سنت نہیں ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ نبی ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی ﷺ کے پاس سے ہٹتے تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا، اس لئے نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی ﷺ کا کلام بھی سن لیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی ﷺ تک نہ پہنچیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ بھی خیال ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی کی اور یہ سعی کرنا سنت ہے ؟ فرمایا وہ سچ کہتے ہیں، جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مناسک حج کی ادائیگی کا حکم ہوا تو شیطان مسعی کے قریب ان کے سامنے آیا اور ان سے مسابقت کی، لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آگے بڑھ گئے، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) انہیں لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں پھر شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے سات کنکریاں دے ماریں اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قریب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو پیشانی کے بل لٹایا تھا۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس وقت سفید رنگ کی قمیص پہن رکھی تھی، وہ کہنے لگے اباجان ! اس کے علاوہ تو میرے کوئی کپڑے نہیں ہیں جن میں آپ مجھے کفن دے سکیں، اس لئے آپ ان ہی کپڑوں کو میرے جسم پر سے اتار لیں تاکہ اس میں مجھ کو کفن دے سکیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے کپڑے اتارنے کے لئے آگے بڑھے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی اے ابراہیم ! (علیہ السلام) تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں ایک سفید رنگ کا، سینگوں والا اور بڑی بڑی آنکھوں والا دنبہ کھڑا تھا، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو اس ضرب کے نشانات تلاش کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) انہیں لے کر آخری جمرہ کی طرف چلے، راستے میں پھر شیطان سامنے آیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، یہاں تک کہ وہ دور ہوگیا، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) انہیں لے کر منیٰ کے میدان میں آئے اور فرمایا کہ یہ منیٰ ہے، پھر مزدلفہ لے کر آئے اور بتایا کہ یہ مشعر حرام ہے، پھر انہیں لے کر عرفات پہنچے۔ کیا تم جانتے ہو کہ عرفہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کیا آپ پہچان گئے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ یہیں سے اس جگہ کا نام عرفہ پڑگیا، پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تلبیہ کا آغاز کیسے ہوا ؟ میں نے پوچھا کہ کیسے ہوا ؟ فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لوگوں میں حج کی منادی کرنے کا حکم ہوا تو پہاڑوں نے ان کے سامنے اپنے سر جھکا دیئے اور بستیاں ان کے سامنے اٹھا کر پیش کردی گئیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں میں حج کا اعلان فرمایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَمَا كَذَبُوا قَالَ صَدَقُوا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَقْدَمُوا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ قُلْتُ وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّهُ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا فَقُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا فَقَالَ صَدَقُوا قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَكَذَبُوا لَيْسَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ قُلْتُ وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ قَالَ صَدَقُوا إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ قَالَ يُونُسُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ قَالَ قَدْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ قَالَ يُونُسُ وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ وَقَالَ يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرُهُ فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَبِيعُ هَذَا الضَّرْبَ مِنْ الْكِبَاشِ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مِنًى قَالَ هَذَا مِنًى قَالَ يُونُسُ هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا فَقَالَ هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ قُلْتُ لَا قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ عَرَفْتَ قَالَ يُونُسُ هَلْ عَرَفْتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتْ التَّلْبِيَةُ قُلْتُ وَكَيْفَ كَانَتْ قَالَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ وَقَالَ وَثَمَّ تَلَّ إِبْرَاهِيمُ إِسْمَاعِيلَ لِلْجَبِينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو، اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب رات کے درمیان نماز پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے رب ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ ﷺ نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جاسکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوگئے۔ جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے ؟ فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے، صحابہ کرام (رض) نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی ﷺ نے فرمایا ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا (یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ إِسْحَاقَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک مرتبہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ! حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ اگر ہم میں سے ہر شخص کو جو خود کو ملنے والی نعمتوں پر خوش ہو اور یہ چاہے کہ جو کام اس نے نہیں کیا اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے، عذاب ہوگا تو پھر ہم سب ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے جواب میں فرمایا کہ تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ؟ اس آیت کا نزول تو اہل کتاب کے متعلق ہوا ہے، پھر حضرت ابن عباس (رض) نے یہ آیت پڑھی، کہ اس وقت کو یاد کیجئے جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ وعدہ لیا تھا کہ تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرو گے، پھر یہ آیت تلاوت کی کہ جو لوگ خود کو ملنے والی نعمتوں پر اتراتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے، ان کے متعلق آپ یہ گمان نہ کریں۔ اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے ان اہل کتاب سے کوئی بات پوچھی تھی لیکن انہوں نے نبی ﷺ سے اسے چھپایا اور دوسروں کو بتادیا، جب وہ نبی ﷺ کے یہاں سے نکلے تو ان کا خیال یہ تھا کہ انہوں نے نبی ﷺ کے سوال کا جواب دے دیا ہے اور اس پر وہ داد چاہتے تھے اور اس بات پر اترا رہے تھے کہ انہوں نے بڑی احتیاط سے اس بات کو چھپالیا جو نبی ﷺ نے ان سے پوچھی تھی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ مِنَّا فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمَا لَكُمْ وَهَذِهِ إِنَّمَا نَزَلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَلَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ إِيَّاهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا قَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتَحْمَدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أَتَوْا مِنْ كِتْمَانِهِمْ إِيَّاهُ مَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے نادانستگی میں بھول کر کسی بات سے انکار کرنے والے حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر ہاتھ پھیر کر قیامت تک ہونے والی ان کی ساری اولاد کو باہر نکالا اور ان کی اولاد کو ان کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا، حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان میں ایک آدمی کو دیکھا جس کا رنگ کھلتا ہوا تھا، انہوں نے پوچھا پروردگار ! یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ آپ کے بیٹے داوؤد ہیں، انہوں نے پوچھا کہ پروردگار ان کی عمر کتنی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! ان کی عمر میں اضافہ فرما، ارشاد ہوا کہ یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ بات ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر میں سے کچھ کم کر کے اس کی عمر میں اضافہ کر دوں، حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار سال تھی، اللہ نے اس میں سے چالیس سال لے کر حضرت داوؤد (علیہ السلام) کی عمر میں چالیس سال کا اضافہ کردیا اور اس مضمون کی تحریر لکھ کر فرشتوں کو اس پر گواہ بنا لیا۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کا وقت قریب آیا اور ملائکہ ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئے تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابھی تو میری زندگی کے چالیس سال باقی ہیں ؟ ان سے عرض کیا گیا کہ آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داوؤد کو دے چکے ہیں، لیکن وہ کہنے لگے کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وہ تحریر ان کے سامنے کردی اور فرشتوں نے اس کی گواہی دی، اس طرح داؤود (علیہ السلام) کی عمر پورے سو سال ہوئی اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر پورے ہزار سال ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ جَحَدَ آدَمُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِنَّ اللَّهَ لَمَّا خَلَقَهُ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَأَخْرَجَ ذُرِّيَّتَهُ فَعَرَضَهُمْ عَلَيْهِ فَرَأَى فِيهِمْ رَجُلًا يَزْهَرُ قَالَ أَيْ رَبِّ مَنْ هَذَا قَالَ ابْنُكَ دَاوُدُ قَالَ كَمْ عُمُرُهُ قَالَ سِتُّونَ قَالَ أَيْ رَبِّ زِدْ فِي عُمُرِهِ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ أَنْتَ مِنْ عُمُرِكَ فَزَادَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً مِنْ عُمُرِهِ فَكَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ كِتَابًا وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَقْبِضَ رُوحَهُ قَالَ بَقِيَ مِنْ أَجَلِي أَرْبَعُونَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ جَعَلْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ قَالَ فَجَحَدَ قَالَ فَأَخْرَجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِتَابَ وَأَقَامَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ فَأَتَمَّهَا لِدَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام مِائَةَ سَنَةٍ وَأَتَمَّهَا لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عُمْرَهُ أَلْفَ سَنَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ابتداء نبی ﷺ رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے، لیکن جب آپ ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی تو ان کی تعداد نو، چھ اور تین تک رہ گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَلَمَّا كَبِرَ صَارَ إِلَى تِسْعٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین لعنتی کاموں سے بچو، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ تین کام کون سے ہیں ؟ فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی سایہ دار جگہ پر جس کا سایہ لوگ حاصل کرتے ہوں، یا راستے میں، یا پانی بہنے کی جگہ پر پاخانہ (یاپیشاب) کرے۔
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ هُبَيْرَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقُوا الْمَلَاعِنَ الثَّلَاثَ قِيلَ مَا الْمَلَاعِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْ يَقْعُدَ أَحَدُكُمْ فِي ظِلٍّ يُسْتَظَلُّ فِيهِ أَوْ فِي طَرِيقٍ أَوْ فِي نَقْعِ مَاءٍ
tahqiq

তাহকীক: