আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৫৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ روزے سے بھی تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے قرآن کریم ایک حرف پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین رفیق سفر چار آدمی ہوتے ہیں، بہترین سریہ چار سو افراد پر مشتمل ہوتا ہے، بہترین لشکر چار ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور بارہ ہزار کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ أَرْبَعَةٌ وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ يُغْلَبَ قَوْمٌ عَنْ قِلَّةٍ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص سفر پر روانہ ہوا تو اس کے پیچھے دو آدمی لگ گئے، ان دو آدمیوں کے پیچھے بھی ایک آدمی تھا جو انہیں واپس لوٹ جانے کے لئے کہہ رہا تھا، وہ ان سے مسلسل کہتا رہا حتی کہ وہ دونوں واپس چلے گئے، اس نے مسافر سے کہا کہ یہ دونوں شیطان تھے، میں مستقل ان کے پیچھے لگا رہا تاآنکہ میں انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہوگیا، جب آپ نبی ﷺ کے پاس پہنچیں تو انہیں میرا سلام پہنچا دیں اور یہ پیغام دے دیں کہ ہمارے پاس کچھ صدقات اکٹھے ہوئے ہیں، اگر وہ ان کے لئے مناسب ہوں تو وہ ہم آپ کی خدمت میں بھجوا دیں، اس کے بعد سے نبی ﷺ نے تنہا سفر کرنے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خَيْبَرَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلَانِ وَآخَرُ يَتْلُوهُمَا يَقُولُ ارْجِعَا ارْجِعَا حَتَّى رَدَّهُمَا ثُمَّ لَحِقَ الْأَوَّلَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ شَيْطَانَانِ وَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِهِمَا حَتَّى رَدَدْتُهُمَا فَإِذَا أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَأَخْبِرْهُ أَنَّا هَاهُنَا فِي جَمْعِ صَدَقَاتِنَا وَلَوْ كَانَتْ تَصْلُحُ لَهُ لَبَعَثْنَا بِهَا إِلَيْهِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ الرَّجُلُ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعِنْدَ ذَلِكَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَلْوَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کوڑھ کے مرض میں مبتلا لوگوں کو مستقل دیکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدٍ مِنْ آلِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَينٍ قَالَتْ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُدِيمَ النَّظَرَ إِلَى الْمُجَذَّمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنی کسی زوجہ محترمہ کے گھر میں تھے، تھوڑی دیر بعد آپ ﷺ سر رکھ کر سوگئے، نیند کے دوران آپ ﷺ ہنسنے لگے، جب بیدار ہوئے تو کسی زوجہ محترمہ نے پوچھا کہ آپ سوتے ہوئے ہنس رہے تھے، خیر تو تھی ؟ فرمایا مجھے اپنی امت کے ان لوگوں پر خوشی محسوس ہو رہی تھی جو سمندری سفر پر دشمن کو ڈرانے کے لئے نکلے ہیں، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے ہیں، نبی ﷺ نے ان کے لئے بڑی خیر کا ذکر فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ إِذْ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ فَضَحِكَ فِي مَنَامِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ لَقَدْ ضَحِكْتَ فِي مَنَامِكَ فَمَا أَضْحَكَكَ قَالَ أَعْجَبُ مِنْ نَاسٍ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ هَوْلَ الْعَدُوِّ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَذَكَرَ لَهُمْ خَيْرًا كَثِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سفر پر نکلنے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! آپ سفر میں میرے ساتھی اور میرے اہل خانہ میں میرے پیچھے محافظ ہیں، اے اللہ ! میں سفر کی تنگی اور واپسی کی پریشانی سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ ! زمین کو ہمارے لئے لپیٹ کر ہمارے لئے اس سفر کو آسان فرما دیجئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الضُّبْنَةِ فِي السَّفَرِ وَالْكَآبَةِ فِي الْمُنْقَلَبِ اللَّهُمَّ اقْبِضْ لَنَا الْأَرْضَ وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد ﷺ کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے، میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا ہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی چناچہ جب نبی ﷺ کا وصال ہوا تو آپ ﷺ نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی ﷺ نے تیس صاع جَو لئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا يُحَوَّلُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ إِنْ كَانَ فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً وَتَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ يَهُودِيٍّ عَلَى ثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَحَجَّاحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کردو اور اس جانور کو بھی قتل کردو اور جو شخص کسی ذی محرم سے بدکاری کرے اسے بھی قتل کردو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ فِي عَمَلِ قَوْمِ لُوطٍ وَالْبَهِيمَةَ وَالْوَاقِعَ عَلَى الْبَهِيمَةِ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے کسی لشکر کو روانہ کرتے تو فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے جہاد کرو، وعدہ خلافی مت کرو، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، لاشوں کا مثلہ نہ کرو بچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل مت کرو۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جُيُوشَهُ قَالَ اخْرُجُوا بِسْمِ اللَّهِ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ لَا تَغْدِرُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تُمَثِّلُوا وَلَا تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلَا أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمیں بخار اور ہر قسم کی تکلیف اور درد سے حفاظت کے لئے یہ دعا سکھاتے تھے (بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ ) اس اللہ کے نام سے جو بہت بڑا ہے، میں اس اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت عظیم ہے، جوش مارتی ہوئی آگ اور جہنم کی گرمی کے شر سے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَبِيبَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنْ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے دس ذی الحجہ کے دن اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ کوئی حرج ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ يَوْمَ النَّحْرِ عَنْ رَجُلٍ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ أَوْ نَحَرَ أَوْ ذَبَحَ وَأَشْبَاهِ هَذَا فِي التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سے قوم لوط والا عمل کرے تو فاعل و مفعول دونوں کو قتل کردو۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی جانور سے بدفعلی کرے، اس شخص کو بھی قتل کردو اور اس جانور کو بھی قتل کردو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) کے والد جو زمانہ جاہلیت میں ہی فوت ہوگئے تھے کے متعلق نازیبا کلمات کہے، حضرت عباس (رض) نے اسے طمانچہ دے مارا، اس کی قوم کے لوگ آئے اور کہنے لگے ہم بھی انہیں اسی طرح طمانچہ ماریں گے جیسے انہوں نے مارا ہے اور اسلحہ پہننے لگے، نبی ﷺ کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو ! یہ بتاؤ کہ اللہ کی بارگاہ میں اہل زمین میں سب سے زیادہ معزز کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا آپ ہیں، فرمایا کہ پھر عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، اس لئے تم ہمارے فوت شدگان کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندوں کو اذیت نہ پہنچاؤ، یہ سن کر اس انصاری کی قوم والے آئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔
حَدَّثَنِي حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِي أَبٍ لِلْعَبَّاسِ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَطَمَهُ الْعَبَّاسُ فَجَاءَ قَوْمَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَلْطِمَنَّهُ كَمَا لَطَمَهُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ قَالُوا أَنْتَ قَالَ فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ فَلَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا فَجَاءَ الْقَوْمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس (رض) حرم میں تشریف فرما تھے، ان کے پاس ایک چھڑی بھی تھی، وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کر کے " اے اہل ایمان ! اللہ سے اس طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہو کر " فرما اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین پر ٹپکایا جائے تو زمین والوں کی زندگی کو تلخ کر کے رکھ دے، اب سوچ لو کہ جس کا کھانا ہی زقوم ہوگا، اس کا کیا بنے گا۔ فائدہ : زقوم جہنم کے ایک درخت کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسٌ مَعَهُ مِحْجَنٌ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنْ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لَأَمَرَّتْ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ عَيْشَهُمْ فَكَيْفَ مَنْ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا الزَّقُّومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا
tahqiq

তাহকীক: