আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৬২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہوجائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گرسکے)
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوا وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ وہاں ١٧ دن تک ٹھہرے رہے لیکن نماز دو دو رکعت کر کے ہی پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَقَامَ فِيهَا سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آزاد ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ وَلَدَتْ مِنْهُ أَمَتُهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ قَالَ بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ بَرْدَ الْأَرْضِ وَحَرَّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بار گاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سرداران قریش ایک مرتبہ حطیم میں جمع ہوئے اور لات، عزی، منات، نائلہ اور اساف نامی اپنے معبودان باطلہ کے نام پر یہ عہد و پیمان کیا کہ اگر ہم نے محمد ﷺ کو دیکھ لیا تو ہم سب اکٹھے کھڑے ہوں گے اور انہیں قتل کئے بغیر ان سے جدا نہ ہوں گے، حضرت فاطمہ (رض) نے یہ بات سن لی، وہ روتی ہوئی نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ سرداران قریش آپ کے متعلق یہ عہد و پیمان کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آگے بڑھ کر آپ کو قتل کردیں گے اور ان میں سے ہر ایک آپ کے خون کا پیاسا ہو رہا ہے، نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا بیٹی ! ذرا وضو کا پانی تو لاؤ، نبی ﷺ نے وضو کیا اور مسجد حرام میں تشریف لے گئے، ان لوگوں نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے وہ یہ رہے، لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے اپنی نگاہیں جھکالیں اور ان کی ٹھوڑیاں ان کے سینوں پر لٹک گئیں اور وہ اپنی اپنی جگہ پر حیران پریشان بیٹھے رہ گئے، وہ نگاہ اٹھا کر نبی ﷺ کو دیکھ سکے اور نہ ہی ان میں سے کوئی آدمی اٹھ کر نبی ﷺ کی طرف بڑھا، نبی ﷺ ان کی طرف چلتے ہوئے آئے، یہاں تک کہ ان کے سروں کے پاس پہنچ کر کھڑے ہوگئے اور ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور فرمایا یہ چہرے بگڑ جائیں اور وہ مٹی ان پر پھینک دی، جس جس شخص پر وہ مٹی گری، وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اجْتَمَعُوا فِي الْحِجْرِ فَتَعَاقَدُوا بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنَاةَ الثَّالِثَةِ الْأُخْرَى وَنَائِلَةَ وَإِسَافٍ لَوْ قَدْ رَأَيْنَا مُحَمَّدًا لَقَدْ قُمْنَا إِلَيْهِ قِيَامَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فَلَمْ نُفَارِقْهُ حَتَّى نَقْتُلَهُ فَأَقْبَلَتْ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا تَبْكِي حَتَّى دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَؤُلَاءِ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ تَعَاقَدُوا عَلَيْكَ لَوْ قَدْ رَأَوْكَ لَقَدْ قَامُوا إِلَيْكَ فَقَتَلُوكَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا قَدْ عَرَفَ نَصِيبَهُ مِنْ دَمِكَ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ أَرِينِي وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِمْ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَأَوْهُ قَالُوا هَا هُوَ ذَا وَخَفَضُوا أَبْصَارَهُمْ وَسَقَطَتْ أَذْقَانُهُمْ فِي صُدُورِهِمْ وَعَقِرُوا فِي مَجَالِسِهِمْ فَلَمْ يَرْفَعُوا إِلَيْهِ بَصَرًا وَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَامَ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَأَخَذَ قَبْضَةً مِنْ التُّرَابِ فَقَالَ شَاهَتْ الْوُجُوهُ ثُمَّ حَصَبَهُمْ بِهَا فَمَا أَصَابَ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْحَصَى حَصَاةٌ إِلَّا قُتِلَ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن وہ نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے لڑکے ! میں تجھے چند کلمات سکھا رہا ہوں، اللہ کی حفاظت کرو (اس کے احکام کی) اللہ تمہاری حفاظت کرے گا، اللہ کی حفاظت کرو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، جب مانگو اللہ سے مانگو، جب مدد چاہو اللہ سے چاہو اور جان رکھو ! کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تمہیں نفع پہنچانا چاہے تو تمہیں نفع نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سارے مل کر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ قَيْسَ بْنَ الْحَجَّاجِ حَدَّثَهُ أَنَّ حَنَشًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا غُلَامُ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ فَقَدْ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الْكُتُبُ فَلَوْ جَاءَتْ الْأُمَّةُ يَنْفَعُونَكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ لَمَا اسْتَطَاعَتْ وَلَوْ أَرَادَتْ أَنْ تَضُرَّكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ لَكَ مَا اسْتَطَاعَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ گھر سے نکلتے ہیں، پانی بہاتے ہیں اور تیمم کرلیتے ہیں، میں عرض کرتا ہوں کہ یا رسول اللہ ! ﷺ پانی آپ کے قریب موجود ہے، نبی ﷺ فرماتے ہیں مجھے کیا پتہ تھا ؟ شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ يَحْيَى عَنِ الْأَعْرَجِ وَلَمْ يَقُلْ مُوسَى عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ حَنَشٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فَيُهَرِيقُ الْمَاءَ فَيَتَمَسَّحُ بِالتُّرَابِ فَأَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَاءَ مِنْكَ قَرِيبٌ قَالَ مَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَبْلُغُهُ قَالَ قَالَ يَحْيَى مَرَّةً أُخْرَى كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأُهْرَاقَ الْمَاءَ فَتَيَمَّمَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ الْمَاءَ مِنَّا قَرِيبٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ کو اچھا نام پسند آتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا هُرَيْمٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ الِاسْمُ الْحَسَنُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
کریب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جنہوں نے پیچھے سے اپنے سر کے بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا، وہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے اور ان بالوں کو کھولنے لگے، عبداللہ نے انہیں وہ بال کھولنے دیئے، نماز سے فارغ ہو کر وہ حضرت ابن عباس (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ آپ کو میرے سر سے کیا غرض ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَكَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حنتم، دباء اور مزفت میں پانی پینے سے اجتناب کرو اور مشکیزوں میں پیا کرو۔
حَدَّثَنِي مُعَاوِيةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا أَنْ تَشْرَبُوا فِي الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَاشْرَبُوا فِي السِّقَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) غلبت الروم کو معروف اور مجہول دونوں طرح سے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ مشرکین کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں، کیونکہ اہل فارس بت پرست تھے، جبکہ مسلمانوں کی خواہش یہ تھی کہ رومی فارسیوں پر غالب آجائیں کیونکہ وہ اہل کتاب تھے، انہوں نے یہ بات حضرت صدیق اکبر (رض) سے ذکر کی، حضرت ابوبکر (رض) نے نبی ﷺ سے ذکر کردی، نبی ﷺ نے فرمایا رومی ہی غالب آئیں گے، حضرت ابوبکر (رض) نے قریش کے سامنے یہ پیشین گوئی ذکر کردی، وہ کہنے لگے کہ آپ ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کرلیں، اگر ہم یعنی ہمارے خیال کے مطابق فارسی غالب آگئے تو آپ ہمیں اتنا اتنا دیں گے اور اگر آپ یعنی آپ کے خیال کے مطابق رومی غالب آگئے تو ہم آپ کو اتنا اتنا دیں گے، حضرت صدیق اکبر (رض) نے پانچ سال کی مدت مقرر کرلی، لیکن اس دوران رومی غالب ہوتے ہوئے دکھائی نہ دیئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے اس چیز کا تذکرہ کیا، نبی ﷺ نے فرمایا آپ نے دس سال کے اندر اندر کی مدت کیوں نہ مقرر کی۔ سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ در اصل قرآن میں بضع کا جو لفظ آیا ہے اس کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے، چناچہ اس عرصے میں رومی غالب آگئے اور سورت روم کی ابتدائی آیات کا یہی پس منظر ہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ الرُّومُ عَلَى فَارِسَ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يُحِبُّونَ أَنْ تَظْهَرَ فَارِسُ عَلَى الرُّومِ لِأَنَّهُمْ أَهْلُ أَوْثَانٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ لِأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَهْزِمُونَ فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لَهُمْ فَقَالُوا اجْعَلْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ أَجَلًا فَإِنْ ظَهَرُوا كَانَ لَكَ كَذَا وَكَذَا وَإِنْ ظَهَرْنَا كَانَ لَنَا كَذَا وَكَذَا فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ أَجَلًا خَمْسَ سِنِينَ فَلَمْ يَظْهَرُوا فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَا جَعَلْتَهُ أُرَاهُ قَالَ دُونَ الْعَشْرِ قَالَ وَقَالَ سَعِيدٌ الْبِضْعُ مَا دُونَ الْعَشْرِ قَالَ فَظَهَرَتْ الرُّومُ بَعْدَ ذَلِكَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى الم غُلِبَتْ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ قَالَ فَغُلِبَتْ الرُّومُ بَعْدُ ثُمَّ غَلَبَتْ بَعْدُ قَالَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ قَالَ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو مسلمانوں کی جنت کے دروازے پر ملاقات ہوئی، دنیا میں ان میں سے ایک مالدار تھا اور دوسرا غریب، فقیر تو جنت میں داخل ہوگیا اور مالدار کو روک لیا گیا اور جب تک اللہ کو منظور ہوا، اسے روکے رکھا گیا، پھر وہ بھی جنت میں داخل ہوگیا، وہاں اس کی ملاقات اس غریب سے ہوئی، اس غریب آدمی نے اس سے پوچھا کہ بھائی ! آپ کو کس وجہ سے اتنی دیر ہوگئی ؟ بخدا ! آپ نے تو اتنی دیر کردی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا، اس نے جواب دیا کہ بھائی ! آپ کے بعد مجھے اس طرح روکا گیا جو انتہائی سخت اور ناگوار مرحلہ تھا اور آپ تک پہنچنے سے میرے جسم سے انتا پسینہ بہا ہے کہ اگر ایک ہزار بھوکے پیاسے اونٹ بھی ہوتے اور وہ اس پسینے کو پانی کی جگہ پیتے تو سیراب ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا دُوَيْدٌ عَنْ سَلْمِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ كَانَا فِي الدُّنْيَا فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي مَاذَا حَبَسَكَ وَاللَّهِ لَقَدْ احْتُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ فَيَقُولُ أَيْ أَخِي إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ مَحْبِسًا فَظِيعًا كَرِيهًا وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي الْعَرَقُ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حَمْضٍ لَصَدَرَتْ عَنْهُ رِوَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے، نیز اس بات سے منع فرمایا کہ وہ کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں، راوی نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی صبح کے وقت شیشی جیسے سبز مٹکے میں نبیذ رکھے اور رات کو پی لے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم اس چیز سے باز نہیں آؤگے جس سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے ؟
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ حَبِيبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ قَالَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجْعَلُ نَبِيذَهُ فِي جَرَّةٍ خَضْرَاءَ كَأَنَّهَا قَارُورَةٌ وَيَشْرَبُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ أَلَا تَنْتَهُوا عَمَّا نَهَاكُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی تکلیف کی بناء پر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر طواف فرمایا اور حجر اسود کا استلام اس چھڑی سے کیا جو آپ ﷺ کے پاس تھی، پھر آپ ﷺ نے طواف سے فارغ ہو کر اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور دوگانہ طواف کیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَدْ اشْتَكَى فَطَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ وَمَعَهُ مِحْجَنٌ كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ اسْتَلَمَهُ بِهِ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَنَاخَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مرد برہنہ جسم کے ساتھ دوسرے برہنہ جسم مرد کے ساتھ مت لیٹے، اسی طرح کوئی برہنہ جسم عورت کسی برہنہ جسم عورت کے ساتھ نہ لیٹے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرْ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حرمت شراب کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جن کا پہلے انتقال ہوگیا اور وہ اس کی حرمت سے پہلے اسے پیتے تھے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، کوئی حرج نہیں جو انہوں نے پہلے کھالیا (یا پی لیا)
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے دو ساتھی جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے اور اسی حال میں فوت ہوگئے، ان کا کیا بنے گا ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہاری نمازوں کو ضائع کرنے والا نہیں ہے
حَدَّثَنَا خَلَفٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے تھے اور ان میں سورت اعلی، سورت کافرون اور سورت اخلاص (علی الترتیب) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثٍ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক: