আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৬৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے پھر انہوں نے ناک، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کی طرف اشارہ کیا، نیز کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابونضرہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) جامع بصرہ کے منبر پر رونق افروز تھے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نماز کے بعد چار چیزوں سے پناہ مانگتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، میں ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اور میں اس کانے دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں جو بہت بڑا کذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْغَنَوِيُّ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مِنْ أَرْبَعٍ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْأَعْوَرِ الْكَذَّابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ظلم سے اپنی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَوُادَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَظْلَمَتِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) کو روانہ فرمایا : انہوں نے نبی ﷺ کے حکم کے مطابق وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چناچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کردیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کردیا، امام زہری (رح) فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی ﷺ نے اس کے لئے بد دعا فرمائی کہ اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ خَرَقَهُ قَالَ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس ان کے پیچھے سے آیا، اس وقت نبی ﷺ نے سجدے کی حالت میں اپنے بازو پہلوؤں سے جدا کر کے کھول رکھے تھے، اس لئے میں نے نبی ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَدَبَّرْتُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ مُخَوِّيًا فَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ عمرہ کے لئے مرالظہران نامی جگہ کے قریب پہنچے تو صحابہ کرام (رض) کو پتہ چلا کہ قریش ان کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں کہ کمزوری کے باعث یہ لوگ کیا کرسکیں گے ؟ صحابہ کرام (رض) کہنے لگے کہ ہم اپنے جانور ذبح کرتے ہیں، اس کا گوشت کھائیں گے اور شوربہ پئیں گے، جب ہم مکہ مکرمہ میں مشرکین کے پاس داخل ہوں گے تو ہم میں توانائی آچکی ہوگی ؟ نبی ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ بھی زاد سفر ہے، وہ میرے پاس لے کر آؤ، چناچہ صحابہ کرام (رض) اپنا اپنا توشہ لے آئے اور دستر خوان بچھا دیئے، سب نے مل کر کھانا کھایا (پھر بھی اس میں سے بچ گیا) اور جب وہ وہاں سے واپس آگئے تو ان میں سے ہر ایک اپنے چمڑے کے برتنوں میں اسے بھربھر کر بھی لے گیا۔ پھر نبی ﷺ آگے بڑھے یہاں تک کہ مسجد حرام میں داخل ہوگئے، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے اپنی چادر سے اضطباع کیا (یعنی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے گذار کر اسے بائیں کندھے پر ڈال لیا اور دائیں کندھے کو خالی کرلیا) اور فرمایا کہ یہ لوگ تم میں کمزوری محسوس نہ کرنے پائیں، پھر آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا اور طواف شروع کردیا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ رکن یمانی پر پہنچے تو حجر اسود والے کونے تک اپنی عام رفتار سے چلے، مشرکین یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو چلنے پر راضی ہی نہیں ہو رہے، یہ تو ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہیں، اس طرح آپ ﷺ نے تین چکروں میں کیا، اس اعتبار سے یہ سنت ہے، ابوالطفیل کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابن عباس (رض) نے بتایا ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں اس طرح کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنْ الْعَجَفِ فَقَالَ أَصْحَابُهُ لَوْ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ أَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ قَالَ لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِي مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ فَكَانَتْ سُنَّةً قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کہ ایک خوبصورت عورت نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جس کی وجہ سے بعض لوگ تو اگلی صفوں میں جگہ تلاش کرتے تھے تاکہ اس پر نظر نہ پڑجائے اور بعض لوگ پچھلی صف میں جگہ تلاش کرتے تاکہ آخری صف میں جگہ مل جائے اور جب رکوع کریں تو بغلوں کے نیچے سے اسے بھی جھانک کر دیکھ سکیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم تم لوگوں میں سے آگے بڑھنے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں کو بھی جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَتْ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهَا وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودی عورت نے نبی ﷺ خدمت میں بکری کا گوشت زہر ملا کر پیش کیا، نبی ﷺ نے (ایک آدھ لقمہ کھایا اور اسی وقت کھانا چھوڑ دیا اور) اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ؟ اس نے کہا کہ میرا یہ ارادہ اس لئے بنا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس پر مطلع کر دے گا اور اگر آپ نبی نہیں ہیں تو میرے ذریعے لوگوں کو آپ سے نجات مل جائے گی۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْيَهُودِ أَهْدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً مَسْمُومَةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَحْبَبْتُ أَوْ أَرَدْتُ إِنْ كُنْتَ نَبِيًّا فَإِنَّ اللَّهَ سَيُطْلِعُكَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَبِيًّا أُرِيحُ النَّاسَ مِنْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کو جب بھی اس زہر کے اثرات محسوس ہوتے آپ سینگی لگوا لیتے، یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سفر پر روانہ ہوئے اور احرام باندھ لیا، تو اس کے کچھ اثرات محسوس ہوئے اس لئے نبی ﷺ نے سینگی لگوائی۔
قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا احْتَجَمَ قَالَ فَسَافَرَ مَرَّةً فَلَمَّا أَحْرَمَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَاحْتَجَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عمرو بن عوف مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) کو قبلیہ نامی گاؤں کی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین بطور جاگیر کے عطاء فرمائی اور یہ کسی مسلمان کا حق نہیں تھا جو نبی ﷺ نے دے دیا ہو اور نبی ﷺ نے ان کے لئے یہ تحریر لکھوا دی جس کے شروع میں بسم اللہ کے بعد یہ مضمون ہے کہ یہ تحریر جو محمد الرسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کے لئے لکھی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بلال کو قبلیہ نامی گاؤں گی بالائی اور نشیبی کانیں اور قدس نامی پہاڑ کی قابل کاشت زمین جاگیر کے طور پردے دی ہے اور انہیں کسی مسلمان کا حق (مار کر) نہیں دیا گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَعْطَى مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ مَوْلَى بَنِي الدِّيلِ بْنِ بَكْرِ بْنِ كِنَانَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کے چند صحابہ (رض) نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر عام رفتار سے مکمل کئے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَرَمَلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْعَطَّارِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَنِصْفُ دِينَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
کریب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ام الفضل بنت حارث (رض) نے انہیں شام بھیجا، میں نے وہاں پہنچ کر اپنا کام کیا، ابھی میں شام ہی میں تھا کہ ماہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے شب جمعہ کو چاند دیکھا تھا، مہینہ کے آخر میں جب میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے مجھ سے کام کے متعلق پوچھا، پھر چاند کا تذکرہ چھڑ گیا، انہوں نے پوچھا کہ تم لوگوں نے چاند کب دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا شب جمعہ کو، انہوں نے پوچھا کیا تم نے خود بھی دیکھا تھا ؟ میں نے کہا جی ہاں ! اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا، لوگوں نے چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا اور حضرت امیر معاویہ (رض) نے بھی اس کے مطابق روزہ رکھا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا ہے (اگلے دن ہفتہ تھا) اس لے ہم اس وقت تک مسلسل روزے رکھتے رہیں گے جب تک تیس روزے پورے نہ ہوجائیں یا چاند نظر نہ آجائے، میں نے عرض کیا کہ حضرت امیر معاویہ (رض) کی روایت اور روزے پر آپ اکتفاء نہیں کرسکتے ؟ فرمایا نہیں، نبی ﷺ نے یہی حکم دیا ہے۔ (یہیں سے فقہاء نے اختلاف مطالع کا مسئلہ اخذ کیا ہے)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ قَالَ فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ مَتَى رَأَيْتُمُوهُ فَقُلْتُ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكَمِّلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ فَقُلْتُ أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ فَقَالَ لَا هَكَذَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرلیتے ہیں، اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھتے ہوئے کن اکھیوں سے دائیں بائیں دیکھ لیا کرتے تھے لیکن گردن موڑ کر پیچھے نہیں دیکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَوْرٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَا يَلْوِي عُنُقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور طواف کے دوران اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اضطباع کی اور انہیں اپنے بائیں کندھوں پر ڈال لیا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ اعْتَمَرُوا مِنْ جِعِرَّانَةَ فَاضْطَبَعُوا أَرْدِيَتَهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ حَدَّثَنَا يُونُسُ جَعَلُوا أَرْدِيَتَهُمْ قَالَ يُونُسُ وَقَذَفُوهَا عَلَى عَوَاتِقِهِمْ الْيُسْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ کرام (رض) کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، نبی ﷺ نے صحابہ کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، تاکہ مشرکین تمہاری طاقت دیکھ سکیں، چناچہ انہیں رمل کرتے ہوئے دیکھ کر مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ قَالَ لِأَصْحَابِهِ ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا لِيَرَ الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ فَلَمَّا رَمَلُوا قَالَتْ قُرَيْشٌ مَا وَهَنَتْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لے کر جمرہ عقبہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہ دور ہوگیا، جمرہ وسطی کے قیرب وہ دوبارہ ظاہر ہوا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے پھر سات کنکریاں ماریں، یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلا نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو پیشانی کے بل لٹایا تھا، جمرہ اخیرہ کے قریب بھی یہی ہوا۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے اسحاق (صحیح قول کے مطابق اسماعیل) کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا اباجان ! مجھے باندھ دیجئے تاکہ میں حرکت نہ کرسکوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ پر میرے خون کے چھینٹے پڑیں، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور جب چھری پکڑ کر انہیں ذبح کرنے لگے تو ان کے پیچھے سے کسی نے آواز لگائی اے ابراہیم ! تم نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حجر اسود جنت سے آیا ہے، یہ پتھر پہلے برف سے بھی زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ الْجَنَّةِ وَكَانَ أَشَدَّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ حَتَّى سَوَّدَتْهُ خَطَايَا أَهْلِ الشِّرْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن یہ حجر اسود اس طرح آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے یہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے یہ بولتا ہوگا اور اس شخص کے حق میں گواہی دے گا جس نے اسے حق کے ساتھ بوسہ دیا ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُبْعَثَنَّ الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ وَيَشْهَدُ عَلَى مَنْ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ يُبْعَثُ الرُّكْنُ
tahqiq

তাহকীক: