আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৭০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم ﷺ فرمایا کرتے تھے اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِq
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مختلف اسانید سے جن میں سے بعض میں حضرت ابن عباس (رض) کا نام ہے اور بعض میں نہیں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پہلی وحی نازل ہونے کے بعد حضرت خدیجہ (رض) سے فرمایا مجھے روشنی دکھائی دیتی ہے اور کوئی آواز سنائی دیتی ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں مجھے جنون نہ ہوجائے، حضرت خدیجہ (رض) نے عرض کیا کہ اے خواجہ عبداللہ کے صاحبزادہ گرامی قدر ! اللہ آپ کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور یہ بات ان سے ذکر کی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ سچ بول رہے ہیں تو ان کے پاس آنے والا فرشتہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا کرتا تھا، اگر وہ میری زندگی میں مبعوث ہوگئے تو میں انہیں تقویت پہنچاؤں گا، ان کی مدد کروں گا اور ان پر ایمان لاؤں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ حَسَنٌ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ حَسَنٌ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ فَذَكَرَ عَفَّانُ الْحَدِيثَ وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ وَحَسَنٌ فِي حَدِيثِهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِخَدِيجَةَ إِنِّي أَرَى ضَوْءًا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَكُونَ بِي جَنَنٌ قَالَتْ لَمْ يَكُنْ اللَّهُ لِيَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ يَا ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ أَتَتْ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنْ يَكُ صَادِقًا فَإِنَّ هَذَا نَامُوسٌ مِثْلُ نَامُوسِ مُوسَى فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَيُّ فَسَأُعَزِّزُهُ وَأَنْصُرُهُ وَأُومِنُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ پندرہ سال مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، سات سال اس طرح کہ آپ روشنی میں دیکھتے تھے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سال اس طرح کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور مدینہ منورہ میں آپ ﷺ دس سال تک اقامت گزیں رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً سَبْعَ سِنِينَ يَرَى الضَّوْءَ وَالنُّورَ وَيَسْمَعُ الصَّوْتَ وَثَمَانِيَ سِنِينَ يُوحَى إِلَيْهِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس آیا، نبی ﷺ کے پاس اس وقت ایک آدمی موجود تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ایسا محسوس ہوا جیسے نبی ﷺ نے میرے والد کی طرف توجہ ہی نہیں کی، جب ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب مجھ سے کہنے لگے بیٹا تم نے اپنے چچا زاد کو دیکھا کہ وہ کیسے ہماری طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے ؟ میں نے عرض کیا اباجان ! ان کے پاس ایک آدمی تھا جس سے وہ سرگوشی کر رہے تھے، ہم پھر نبی ﷺ کے پاس واپس آگئے، والد صاحب کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں عبداللہ سے اس طرح ایک بات کہی تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی آدمی تھا جو آپ سے سرگوشی کر رہا تھا، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی تھا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عبداللہ ! کیا تم نے واقعی اسے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! فرمایا وہ جبرئیل امین تھے اور اسی وجہ سے میں آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ عَفَّانُ وَهُوَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ الْعَبَّاسِ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ فَقَالَ أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكَ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي فَقُلْتُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ قَالَ عَفَّانُ فَقَالَ أَوَ كَانَ عِنْدَهُ أَحَدٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ فَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَنَّ عِنْدَكَ رَجُلًا تُنَاجِيهِ قَالَ هَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ إِنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت خدیجہ (رض) کا تذکرہ فرمایا : دراصل حضرت خدیجہ (رض) کے والد ان کی شادی کرنا چاہتے تھے، حضرت خدیجہ (رض) نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور اس وقت کے رواج کے مطابق شراب کا بھی انتظام کیا، انہوں نے اس دعوت میں اپنے والد اور قریش کے چند لوگوں کو بلا رکھا تھا، ان لوگوں نے کھایا پیا اور شراب کے نشے میں دھت ہوگئے۔ یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ (رض) نے اپنے والد سے کہا کہ محمد بن عبداللہ میرے پاس نکاح کا پیغام بھیج رہے ہیں، اس لئے آپ ان سے میرا نکاح کرا دیجئے، انہوں نے نکاح کرا دیا، اس کے بعد حضرت خدیجہ (رض) نے اپنے والد کو خلوق نامی خوشبو لگائی اور انہیں ایک حلہ پہنا دیا جو اس وقت کے رواج کے مطابق تھا۔ جب حضرت خدیجہ (رض) کے والد کا نشہ اترا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے جسم پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی ہے اور ان کے جسم پر ایک حلہ ہے، یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ یہ سب کیا ہے ؟ حضرت خدیجہ (رض) نے فرمایا کہ آپ نے خود ہی تو محمد بن عبداللہ سے میرا نکاح کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں ابو طالب کے یتیم بھتیجے سے تمہارا نکاح کروں گا، مجھے اپنی زندگی کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا، حضرت خدیجہ (رض) نے فرمایا قریش کی نظروں میں اپنے آپ کو بیوقوف بناتے ہوئے اور لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے کہ آپ نشے میں تھے، آپ کو شرم نہ آئے گی ؟ اور وہ یہ بات مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِى عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ أَنْ يُزَوِّجَهُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاهَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَيْشٍ فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا فَقَالَتْ خَدِيجَةُ لِأَبِيهَا إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَخَلَعَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَقَالَ مَا شَأْنِي مَا هَذَا قَالَتْ زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ لَا لَعَمْرِي فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَمَا تَسْتَحِي تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا يَحْسَبُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں ؟ نبی ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کردو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ بِهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دجال کے متعلق فرمایا وہ کانا ہوگا، سفید رنگ کا ہوگا، کھلتا ہوا ہوگا، اس کا سر سانپ کی طرح محسوس ہوگا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عبد العزی بن قطن کے مشابہہ ہوگا، اگر ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو تم یاد رکھنا کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الدَّجَّالَ قَالَ هُوَ أَعْوَرُ هِجَانٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ رِجَالِكُمْ بِهِ عَبْدُ الْعُزَّى بْنُ قَطَنٍ فَإِمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس (رح) کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس (رض) ( کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا اس طرح بیٹھناجائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ سنت ہے، ہم نے عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ ایک آدمی کا گنوار پن ہے، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ فَقَالَ هِيَ السُّنَّةُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجْلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَتَحَرَّى يَوْمًا كَانَ يَبْتَغِي فَضْلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَوْ شَهْرَ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس (رح) کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عباس (رض) (کو اپنے قدموں کے بل اکڑوں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان) سے یہ عرض کیا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ لوگ تو اسے گنوار پن سمجھتے ہیں، انہوں نے پھر یہی فرمایا کہ یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ هَذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنْ الْجَفَاءِ قَالَ هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل ریشمی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ حَرِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل ریشمی ہو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْمُصْمَتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے مجھے جبرئیل (علیہ السلام) نے قرآن کے کریم ایک حرف پر پڑھایا، میں ان سے بار بار اضافہ کا مطالبہ کرتا رہا اور وہ اس میں برابر اضافہ کرتے رہے تاآنکہ سات حروف تک پہنچ کر رک گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ وَيَزِيدُنِي فَانْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأَحْرُفُ فِي الْأَمْرِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا وَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وراثت کے حصے ان کے مستحقین تک پہنچا دیا کرو، سب کو ان کے حصے مل چکنے کے بعد جو مال باقی بچے وہ میت کے اس سب سے قریبی رشتہ دار کو دے دیا جائے جو مذکر ہو (علم الفرائض کی اصطلاح میں جسے عصبہ کہتے ہیں )
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَمَا تَرَكَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو دو سفید کپڑوں اور ایک سرخ چادر میں کفنایا گیا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بُرْدَيْنِ أَبْيَضَيْنِ وَبُرْدٍ أَحْمَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے نبی ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کردینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حج تمتع نبی ﷺ نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہوگیا، حضرت صدیق اکبر (رض) نے بھی کیا ہے، یہاں تک کہ ان کا وصال ہوگیا، حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے بھی کیا ہے یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہوگیا، سب سے پہلے اس کی ممانعت کرنے والے حضرت امیر معاویہ (رض) تھے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ كَذَلِكَ وَأَوَّلُ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام میں نقصان اٹھانے یا نقصان پہنچانے کی کوئی گنجائش نہیں، انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے بھائی کو دیوار پر لکڑی رکھے اور غیر آباد راستہ سات گز رکھا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ وَلِلرَّجُلِ أَنْ يَجْعَلَ خَشَبَةً فِي حَائِطِ جَارِهِ وَالطَّرِيقُ الْمِيتَاءُ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء (رح) کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عید الفطر کے دن اگر ممکن ہو کہ کچھ کھا پی کر نماز کے لئے نکلو تو ایسا ہی کیا کرو، میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے جب سے یہ بات سنی ہے، اس وقت سے میں نے صبح نکلنے سے پہلے کچھ کھانے پینے کا عمل ترک نہیں کیا، خواہ چپاتی روٹی کا ایک ٹکڑا کھاؤ، یا دودھ پی لوں، یا پانی پی لوں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ تو عطاء نے جواب دیا میرا خیال یہ ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہوگا اور فرمایا کہ لوگ نماز عید کے لئے اس وقت نکلتے تھے جب روشنی خوب پھیل جاتی تھی اور وہ کہتے تھے ہمیں پہلے ہی کچھ کھا پی لینا چاہئے تاکہ نماز میں جلد بازی سے کام نہ لیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَنْبَأَنَا عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ أَوْ أَشْرَبَ اللَّبَنَ أَوْ الْمَاءَ قُلْتُ فَعَلَامَ يُؤَوَّلُ هَذَا قَالَ سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضَّحَاءُ فَيَقُولُونَ نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا
tahqiq

তাহকীক: