আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৬৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ سے عرض کیا کاش ! آپ نے مجھے اس وقت دیکھا ہوتا جب میں سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں بھر رہا تھا تاکہ رحمت الہیہ اس کی دستگیری نہ کرتی۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَّيْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس رات مجھے معراج ہوئی، مجھے دوران سفر ایک جگہ سے بڑی بہترین خوشبو آئی، میں نے پوچھا جبریل ! یہ کیسی خوشبو ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ اور اس کی اولاد کی خوشبو ہے، میں نے پوچھا کہ اس کا قصہ توبتائیے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک دن یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کررہی تھی، اچانک اس کے ہاتھ سے کنگھی گرگئی، اس نے بسم اللہ کہہ کر اسے اٹھالیا، فرعون کی بیٹی کہنے لگی کہ اس سے مرادمیرے والد صاحبہ ہیں ؟ اس نے کہا نہیں، بلکہ میرا اور تیرا رب اللہ ہے، فرعون کی بیٹی نے کہا کہ میں اپنے والد کو یہ بات بتادوں گی ؟ اس نے کہا کہ ضروربتاؤ، فرعون کی بیٹی نے باپ تک یہ خبرپہنچائی، اس نے خادمہ کو طلب کرلیا۔ جب وہ خادمہ آئی تو فرعون کہنے لگا اے فلانہ ! کیا میرے علاوہ بھی تیرا کوئی رب ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، یہ سن کر فرعون نے تانبے کی ایک گائے بنانے کا حکم دیا اور اسے خوب دہکایا، اس کے بعد حکم دیا کہ اسے اور اس کی اولاد کو اس میں پھینک دیا جائے، خادمہ نے کہا کہ مجھے آپ سے ایک کام ہے، فرعون نے پوچھا کہ کیا کام ہے ؟ اس نے کہا میری خواہش ہے کہ جب ہم جل کر کوئلہ ہوجائیں تو میری اور میرے بچوں کی ہڈیاں ایک کپڑے میں جمع کرکے دفن کردینا، فرعون نے کہا کہ یہ تمہارا ہم پر حق ہے، (ہم ایساہی کریں گے) اس کے بعدفرعون نے پہلے اس کے بچوں کو اس میں جھونکنے کا حکم دیا، چناچہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچوں کو ایک ایک کرکے اس دہکتے ہوئے تنور میں ڈالاجانے لگا، یہاں تک کہ جب اس کے شیر خوار بچے کی باری آئی تو وہ اس کی وجہ سے ذرا ہچکچائی، یہ دیکھ کر اللہ کی قدرت اور معجزے سے وہ شیر خوار بچہ بولا اماں جان ! بےخطر اس میں کود جائیے کیونکہ دنیا کی سزا آخرت کے عذاب سے ہلکی ہے، چناچہ اس نے اس میں چھلانگ لگادی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ہے کہ چاربچوں نے بچپن (شیرخوارگی) میں کلام کیا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے، جریج کے واقعے والے بچے نے، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گواہ نے اور فرعون کی بیٹی کی کنگھی کرنے والی خادمہ کے بیٹے نے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا أَتَتْ عَلَيَّ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذِهِ الرَّائِحَةُ الطَّيِّبَةُ فَقَالَ هَذِهِ رَائِحَةُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ وَأَوْلَادِهَا قَالَ قُلْتُ وَمَا شَأْنُهَا قَالَ بَيْنَا هِيَ تُمَشِّطُ ابْنَةَ فِرْعَوْنَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ سَقَطَتْ الْمِدْرَى مِنْ يَدَيْهَا فَقَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ فَقَالَتْ لَهَا ابْنَةُ فِرْعَوْنَ أَبِي قَالَتْ لَا وَلَكِنْ رَبِّي وَرَبُّ أَبِيكِ اللَّهُ قَالَتْ أُخْبِرُهُ بِذَلِكَ قَالَتْ نَعَمْ فَأَخْبَرَتْهُ فَدَعَاهَا فَقَالَ يَا فُلَانَةُ وَإِنَّ لَكِ رَبًّا غَيْرِي قَالَتْ نَعَمْ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِبَقَرَةٍ مِنْ نُحَاسٍ فَأُحْمِيَتْ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُلْقَى هِيَ وَأَوْلَادُهَا فِيهَا قَالَتْ لَهُ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ وَمَا حَاجَتُكِ قَالَتْ أُحِبُّ أَنْ تَجْمَعَ عِظَامِي وَعِظَامَ وَلَدِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَتَدْفِنَنَا قَالَ ذَلِكَ لَكِ عَلَيْنَا مِنْ الْحَقِّ قَالَ فَأَمَرَ بِأَوْلَادِهَا فَأُلْقُوا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاحِدًا وَاحِدًا إِلَى أَنْ انْتَهَى ذَلِكَ إِلَى صَبِيٍّ لَهَا مُرْضَعٍ وَكَأَنَّهَا تَقَاعَسَتْ مِنْ أَجْلِهِ قَالَ يَا أُمَّهْ اقْتَحِمِي فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ فَاقْتَحَمَتْ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ صِغَارٌ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَشَاهِدُ يُوسُفَ وَابْنُ مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِهِ مَرَّتْ بِهِ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَبُّكِ قَالَتْ رَبِّي وَرَبُّكَ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ ابْنِ عَبَّاسٍ تَكَلَّمَ أَرْبَعَةٌ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے حکمران میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو اسے صبر کرنا چاہیے، اس لئے کہ جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کی مخالفت کرے اور اس حال میں مرجائے تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ يَرْوِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ أَمْرًا فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَخْرُجُ مِنْ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نقل فرمایا ہے کہ اللہ نے نیکیاں اور گناہ لکھ دیئے ہیں اگر کوئی شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس سے سات سو یا حسب مشیت الٰہی دوگنی چوگنی نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا الْجَعْدُ أَبُو عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً وَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ أَوْ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُضَاعِفَ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ﷺ میری بہن نے پیدل حج کرنے کی منت مانی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تمہاری بہن کی اس سختی کا کیا کرے گا ؟ اسے چاہیے کہ سواری پر سوار ہو کر حج کے لئے چلی جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكِ شَيْئًا لِتَخْرُجْ رَاكِبَةً وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ ﷺ نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائیں)
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَسَعَى سَبْعًا وَإِنَّمَا سَعَى أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے بنوالقیس کے وفد کو " مزاء " سے منع کیا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ يَكْرَهُ الْبُسْرَ وَحْدَهُ وَيَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَنْ الْمُزَّاءِ فَأَرْهَبُ أَنْ تَكُونَ الْبُسْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روزہ رکھا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چناچہ نبی ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ (رض) کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَرَأَى الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ قَالُوا هَذَا يَوْمٌ صَالِحٌ هَذَا يَوْمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ عَدُوِّهِمْ فَصَامَهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کرلیا ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی ﷺ سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ أَوْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ فَقَالَ لَا حَرَجَ قَالَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَبَضَ بِكَفَّيْهِ كَأَنَّهُ يَرْمِي بِهَا وَيَقُولُ لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، خانہ کعبہ میں اس وقت چھ ستون تھے، نبی ﷺ ہر ستون کے پاس کھڑے ہوئے اور دعاء کی لیکن نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ إِلَى كُلِّ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ ان کی بہن نے یہ منت مانی ہے کہ وہ پیدل بیت اللہ شریف جائے گی لیکن اب وہ کمزور ہوگئی، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی اس منت سے بےنیاز ہے، اسے چاہئے کہ سواری پر چلی جائے اور ایک اونٹ بطور ہدی کے لے جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ لِتَرْكَبْ وَلْتُهْدِ بَدَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں سات چکر لگائے اور سعی کے دوران بھی سات چکر لگائے، سعی میں آپ ﷺ نے چاہا کہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں (اس لئے میلین اخضرین کے درمیان دوڑ لگائیں)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْيًا وَإِنَّمَا طَافَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ وَقَالَ عَفَّانُ وَلِذَا أَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ قُوَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو مجلز کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے وتر کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وتر کی ایک رکعت ہوتی ہے رات کے آخری حصے میں، پھر میں نے حضرت ابن عمر (رض) اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الْوَتْرِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شہاب عنبری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں حضرت ابن عباس (رض) کے گھر کے دروازے پر ہی حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے پوچھا تم دونوں کون ہو ؟ ہم نے انہیں اپنے متعلق بتایا، انہوں نے فرمایا کہ لوگ کھجوریں اور پانی کھاپی رہے ہیں، تم بھی وہاں چلے جاؤ، ہر وادی کا بہاؤ اس کی وسعت کے بقدر ہوتا ہے، ہم نے عرض کیا کہ آپ کی خیر میں اور اضافہ ہو، جب آپ اندر جائیں تو ہمارے لئے بھی حضرت ابن عباس (رض) سے اجازت لیجئے گا، چناچہ انہوں نے ہمارے لئے بھی اجازت حاصل کی۔ اس موقع پر ہم نے حضرت ابن عباس (رض) کو نبی ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا لوگوں میں اس شخص کی مثال ہی نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو، اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہوں اور برے لوگوں سے بچتا ہو، اسی طرح وہ آدمی جو دیہات میں اپنی بکریوں میں مگن رہتا ہو، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتا ہو اور ان کا حق ادا کرتا ہو، میں نے تین مرتبہ ان سے پوچھا کیا نبی ﷺ نے یہ بات فرمائی ہے ؟ اور انہوں نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ نبی ﷺ نے یہ بات فرمائی ہے، اس پر میں نے اللہ اکبر کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ شِهَابٍ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَقِينَا أَبَا هُرَيْرَةَ عِنْدَ بَابِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَنْ أَنْتُمَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ انْطَلِقَا إِلَى نَاسٍ عَلَى تَمْرٍ وَمَاءٍ إِنَّمَا يَسِيلُ كُلُّ وَادٍ بِقَدَرِهِ قَالَ قُلْنَا كَثُرَ خَيْرُكَ اسْتَأْذِنْ لَنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ لَنَا فَسَمِعْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تَبُوكَ فَقَالَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فَيُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ رَجُلٍ بَادٍ فِي غَنَمِهِ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُؤَدِّي حَقَّهُ قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا قَالَ قُلْتُ أَقَالَهَا قَالَ قَالَهَا فَكَبَّرْتُ اللَّهَ وَحَمِدْتُ اللَّهَ وَشَكَرْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ انہیں یہ دعاء اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ یوں کہا کرو، اے اللہ ! میں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ قُولُوا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھ پر ایک اونٹ واجب ہے میرے پاس گنجائش بھی ہے، لیکن مجھے اونٹ مل ہی نہیں رہے کہ میں انہیں خرید سکوں ؟ نبی ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس کی جگہ سات بکریاں خرید کر انہیں ذبح کردو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ عَلَيَّ بَدَنَةً وَأَنَا مُوسِرٌ لَهَا وَلَا أَجِدُهَا فَأَشْتَرِيَهَا فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْتَاعَ سَبْعَ شِيَاهٍ فَيَذْبَحَهُنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے، جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتاجائے گا اسی قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُغِيثٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنْ سِحْرٍ مَا زَادَ زَادَ وَمَا زَادَ زَادَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کرا کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو ! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتِنَا فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ أَيْ بَنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا أَخَالُ أَحَدًا يَرْمِي الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو الطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کی قوم کا یہ خیال ہے کہ نبی ﷺ نے صفا مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر بیٹھ کر کی ہے اور یہ سنت ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ لوگ کچھ صحیح اور کچھ غلط کہتے ہیں، میں نے عرض کیا صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ فرمایا یہ بات تو صحیح ہے کہ نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی ہے، لیکن اسے سنت قرار دینا غلط ہے، اصل میں لوگ نبی ﷺ کے پاس سے ہٹتے نہیں تھے اور نہ ہی انہیں ہٹایا جاسکتا تھا، اس لئے نبی ﷺ نے اونٹ پر بیٹھ کر سعی کی تاکہ وہ نبی ﷺ کا کلام بھی سن لیں اور ان کی زیارت بھی کرلیں اور ان کے ہاتھ بھی نبی ﷺ تک نہ پہنچیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ كَذَا قَالَ رَوْحٌ عَاصِمٌ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ أَبُو عَاصِمٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ فَقَالَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا قُلْتُ وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا قَالَ قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَلَيْسَ ذَلِكَ بِسُنَّةٍ كَانَ النَّاسُ لَا يُصْدَفُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُدْفَعُونَ فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْتَمِعُوا وَلِيَرَوْا مَكَانَهُ وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کے بارے جس نے ایام کی حالت میں اپنی بیوی سے قربت کی ہو، یہ فرمایا کہ وہ ایک یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حَدَّثَنِي يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ
tahqiq

তাহকীক: