আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৮২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خانہ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہوئے رمل اس لئے کیا تھا کہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھا سکیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّمَا رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سینگی لگوا کر خون نکلوایا، اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو أَوَّلًا فَحَفِظْنَا عَنْ طَاوُسٍ وَقَالَ مَرَّةً أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ أَبِي وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ وَقَالَ عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو وہ اپنے ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے نہ پونچھے۔
قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ وادی محصب کچھ بھی نہیں ہے، وہ تو ایک پڑاؤ ہے جہاں نبی ﷺ نے منزل کی تھی۔
قَالَ أَبِي و قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا کافی حصہ اللہ کی مشیت کے مطابق بیت گیا، حضرت عمر (رض) نے آ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! عورتیں اور بچے تو یوں ہی سو گئے، اس پر نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعَرَهُ وَثِيَابَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جس غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہ قبضہ سے قبل ہے، میری رائے یہ ہے کہ اس کا تعلق ہر چیز کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَمَّا الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى يُقْبَضَ فَالطَّعَامُ و قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِرَأْيِهِ وَلَا أَحْسَبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں مقیم ہونے کی حالت میں نہ کہ مسافر ہونے کی حالت میں (مغرب اور عشاء کی) سات اور (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی تھیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ الْجُمَحِيُّ قَالَ ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَدِينَةِ مُقِيمًا غَيْرَ مُسَافِرٍ سَبْعًا وَثَمَانِيًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، اس کا کوئی وارث نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کردیا تھا، نبی ﷺ نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَوْسَجَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، حالانکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تک چاند کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو، یا یہ فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ أَوْ قَالَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں ؟
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے نبی ﷺ کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کی آواز سے ہوتا تھا۔ فائدہ : اس سے مراد اختتام نماز کے بعد جب امام سر پر ہاتھ رکھ کر اللہ اکبر یا استغفر اللہ کہتا ہے، وہ تکبیر ہے، ورنہ نماز کا اختتام تکبیر پر نہیں، سلام پر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لَهُ حَدَّثْتَنِي قَالَ لَا مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے اور کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے، ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا کہ میری بیوی حج کے لئے جا رہی ہے جبکہ میرا نام فلاں لشکر میں جہاد کے لئے لکھ لیا گیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جاؤ، جا کر اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ وَلَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ إِلَى الْحَجِّ وَإِنِّي اكْتَتَبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا قَالَ انْطَلِقْ فَاحْجُجْ مَعَ امْرَأَتِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے جمعرات کا دن یاد کرتے ہوئے کہا جمعرات کا دن کیا تھا ؟ یہ کہہ کر وہ رو پڑے حتی کہ ان کے آنسوؤں سے وہاں پڑی کنکریاں تربتر ہوگئیں، ہم نے پوچھا اے ابوالعباس ! جمعرات کے دن کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی بیماری میں اضافہ ہوگیا تھا، اس موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا تھا، میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو سکو گے، لوگوں میں اختلاف پیدا ہوگیا، حالانکہ نبی ﷺ کی موجودگی میں یہ مناسب نہ تھا، لوگ کہنے لگے کہ کیا ہوگیا، کیا نبی ﷺ بھی بہکی بہکی باتیں کرسکتے ہیں ؟ جا کر دوبارہ پوچھ لو کہ آپ کی منشاء کیا ہے ؟ چناچہ لوگ واپس آئے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا اب مجھے چھوڑ دو ، میں جس حالت میں ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو۔ پھر نبی ﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو ، آنے والے مہمانوں کا اسی طرح اکرام کرو جس طرح میں کرتا تھا اور تیسری بات پر سعید بن جبیر (رح) نے سکوت اختیار کیا، مجھے نہیں معلوم کہ وہ جان بوجھ کر خاموش ہوئے تھے یا بھول گئے تھے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ خَالِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ وَقَالَ مَرَّةً دُمُوعُهُ الْحَصَى قُلْنَا يَا أَبَا الْعَبَّاسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ فَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي هَذَى اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يُعِيدُونَ عَلَيْهِ فَقَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَمَرَ بِثَلَاثٍ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أَوْصَى بِثَلَاثٍ قَالَ أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ وَسَكَتَ سَعِيدٌ عَنْ الثَّالِثَةِ فَلَا أَدْرِي أَسَكَتَ عَنْهَا عَمْدًا وَقَالَ مَرَّةً أَوْ نَسِيَهَا و قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ تَرَكَهَا أَوْ نَسِيَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کہ لوگ حج کر کے جس طرح چاہتے تھے چلے جاتے تھے، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص بھی اس وقت تک واپس نہ جائے جب تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْفِرُ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص کھجور میں بیع سلم کرے، اسے چاہئے کہ اس کی ناپ معین کرے اور اس کا وزن معین کرے اور اس کی مدت متعین کرے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسَلِّفُونَ فِي التَّمْرِ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ مَنْ سَلَّفَ فَلْيُسَلِّفْ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے کسی ایسے دن کا روزہ رکھا ہو، جس کی فضیلت دیگر ایام پر تلاش کی ہو، سوائے یوم عاشورہ کے اور اس ماہ مقدس رمضان کے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ مُنْذُ سَبْعِينَ سَنَةً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ عَلَى الْأَيَّامِ غَيْرَ يَوْمِ عَاشُورَاءَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ يَعْنِي عَاشُورَاءَ وَهَذَا الشَّهْرَ شَهْرَ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی ﷺ کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کپڑوں اور بالوں کو دوران نماز سمیٹنے سے منع کیا گیا ہے۔
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرًا أَوْ ثَوْبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت سالم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے کسی مسلمان کو قتل کیا پھر توبہ کر کے ایمان لے آیا، نیک اعمال کئے اور راہ ہدایت پر گامزن رہا ؟ فرمایا تم پر افسوس ہے، اسے کہاں ہدایت ملے گی، میں نے تمہارے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مقتول کو اس حال میں لایا جائے گا کہ وہ قاتل کے ساتھ لپٹا ہوا ہوگا اور کہتا ہوگا کہ پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا تھا ؟ بخدا ! اللہ نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ پر نازل کی تھی اور اسے نازل کرنے کے بعد کبھی منسوخ نہیں فرمایا : تم پر افسوس ہے، اسے ہدایت کہاں ملے گی ؟ فائدہ : یہ حضرت ابن عباس (رض) کی رائے، جہمور امت اس بات پر متفق ہے کہ قاتل اگر توبہ کرنے کے بعد ایمان اور عمل صالح سے اپنے آپ کو مزین کرلے تو اس کی توبہ قبول ہوجاتی ہے، حقوق العباد کی ادائیگی یا سزا کی صورت میں بھی بہرحال کلمہ کی برکت وہ جہنم سے کسی نہ کسی وقت ضرور نجات پاجائے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمَّارٍ عَنْ سَالِمٍ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ رَجُلٍ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ مُتَعَلِّقًا بِالْقَاتِلِ يَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا نَسَخَهَا بَعْدَ إِذْ أَنْزَلَهَا قَالَ وَيْحَكَ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى
tahqiq

তাহকীক: