আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৮০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مرض الوفات میں ایک مرتبہ اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، لوگ حضرت صدیق اکبر (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا لوگو ! نبوت کی خوشخبری دینے والی چیزوں میں سوائے ان اچھے خوابوں کے کچھ باقی نہیں بچا جو ایک مسلمان دیکھتا ہے یا اس کے لئے کسی کو دکھائے جاتے ہیں، پھر فرمایا مجھے رکوع یا سجدہ کی حالت میں تلاوت قرآن سے منع کیا گیا ہے، اس لئے تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدے میں خوب توجہ سے دعاء مانگا کرو، امید ہے کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ قَالَ سُفْيَانُ لَمْ أَحْفَظْ عَنْهُ غَيْرَهُ قَالَ سَمِعْتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السِّتَارَةِ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی کو اللہ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو ۔ (آگ میں جلا کر سزا نہ دو ) ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زمزم کے کنوئیں سے ڈول نکال کر اس کا پانی کھڑے کھڑے پی لیا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ مِنْ زَمْزَمَ قَائِمًا قَالَ سَفْيَانُ كَذَا أَحْسَبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کچھ پی رہے تھے، ابن عباس (رض) دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت خالد بن ولید (رض) بائیں جانب، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ پینے کا حق تو تمہارا ہے لیکن اگر تم چاہو تو میں خالد کو ترجیح دے کر یہ دے دوں ؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے چھوڑے ہوئے مشروب پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرْبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا قَالَ مَا أُوثِرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) کے مرض الوفات میں حضرت ابن عباس (رض) نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی، ان کے پاس ان کے بھتیجے تھے، وہ کہنے لگیں مجھے اندیشہ ہے کہ یہ آ کر میری تعریفیں کریں گے، بہرحال ! انہوں نے اجازت دے دی، انہوں نے اندر آکر کہا کہ آپ کے اور دیگر دوستوں کے درمیان ملاقات کا صرف اتنا ہی وقت باقی ہے جس میں روح جسم سے جدا ہوجائے، آپ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات میں نبی ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب رہیں اور نبی ﷺ اسی چیز کو محبوب رکھتے تھے جو طیب ہو، لیلۃ الابواء کے موقع پر آپ کا ہار ٹوٹ کر گرپڑا تھا تو آپ کی شان میں قرآن کریم کی آیات نازل ہوگئی تھیں، اب مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں پر دن رات آپ کے عذر کی تلاوت نہ ہوتی ہو، یہ سن کر وہ فرمانے لگیں اے ابن عباس ! اپنی ان تعریفوں کو چھوڑو، بخدا ! میری تو خواہش ہے۔۔۔۔۔۔۔ (کہ میں برابر سرابر چھوٹ جاؤں )
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ فَلَمْ يَزَلْ بِهَا بَنُو أَخِيهَا قَالَتْ أَخَافُ أَنْ يُزَكِّيَنِي فَلَمَّا أَذِنَتْ لَهُ قَالَ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ الْأَحِبَّةَ إِلَّا أَنْ يُفَارِقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا طَيِّبًا وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَنَزَلَتْ فِيكِ آيَاتٌ مِنْ الْقُرْآنِ فَلَيْسَ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا يُتْلَى فِيهِ عُذْرُكِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَقَالَتْ دَعْنِي مِنْ تَزْكِيَتِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا کہ آپ کا نام ام المومنین رکھا گیا تاکہ آپ کی خوش نصیبی ثابت ہوجائے اور یہ نام آپ کا آپ کی پیدائش سے پہلے ہی طے ہوچکا تھا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ لَيْثٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَهَا إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس " ملاقات " کے لئے آکر یہ دعاء پڑھ لے کہ اللہ کے نام سے، اے اللہ ! مجھے بھی شیطان سے محفوظ فرما دیجئے اور اس ملاقات کے نتیجے میں آپ جو اولاد ہمیں عطاء فرمائیں، اسے بھی شیطان سے محفوظ فرمائیے، تو اگر ان کے مقدر میں اولاد ہوئی تو اس اولاد کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ مَا ضَرَّهُ الشَّيْطَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عبدالعزیز بن رفیع (رح) کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صرف وہی چیز چھوڑی ہے جو دو لوگوں کے درمیان ہے (یعنی قرآن کریم) ہم محمد بن علی کے پاس گئے تو انہوں نے بھی یہی کہا، بہتر ہوتا کہ وہ (وحی کا لفظ استعمال کرتے (تاکہ حدیث کو بھی شامل ہوجاتا) ۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ مَعْقِلٍ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ هَذَيْنِ اللَّوْحَيْنِ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ وَكَانَ الْمُخْتَارُ يَقُولُ الْوَحْيُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پر جب قرآن کریم کا نزول ہوتا تو آپ ﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ اسے ساتھ ساتھ یاد کرتے جائیں، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ اپنی زبان کو مت حرکت دیں اور آپ جلدی نہ کریں، اسے جمع کرنا اور پڑھنا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ چکیں تب آپ پڑھا کریں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ وَقَالَ مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرْآنٌ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تو لیٹ جاتے یہاں تک کہ آپ ﷺ خراٹے لینے لگتے، راوی کہتے ہیں کہ ہم عمرو سے کہتے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری آنکھیں سوتی ہیں میرا دل نہیں سوتا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ فَكُنَّا نَقُولُ لِعَمْرٍو إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے پاس رات گذاری، نبی ﷺ رات کے کسی حصے میں بیدار ہوئے، ہلکا سا وضو کر کے کھڑے ہوگئے، حضرت ابن عباس (رض) نے بھی اسی طرح کیا اور آکر نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی ﷺ نے انہیں گھما کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، اس کے بعد نبی ﷺ لیٹ گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خراٹے لینے لگے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور دوبارہ وضو نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقَامَ فَصَنَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَمَا صَنَعَ ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ فَصَلَّى فَحَوَّلَهُ فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى نَفَخَ فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دوران خطبہ یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اللہ سے اس حال میں ملو گے کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل اور غیر مختون ہونگے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھے، ایک آدمی حالت احرام میں اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو ، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ گذشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسِّلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَادْفِنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا وَقَالَ مَرَّةً يُهِلُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) آیت ذیل کی وضاحت میں فرماتے ہیں کہ اس خواب کو جو ہم نے آپ کو دکھایا، لوگوں کے لئے ایک آزمائش ہی تو بنایا ہے کہ اس سے مراد آنکھوں کی وہ رؤیت ہے جس سے نبی ﷺ کو شب معراج دکھائی گئی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ قَالَ هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَآهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ (ظہر اور عصر کی) آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھی ہیں اور (مغرب و عشاء کی) سات رکعتیں بھی اکٹھی پڑھی ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا اے ابو الشعثاء ! میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں، اسی طرح مغرب کو اس کے آخر وقت میں عشاء کو اول وقت میں پڑھ لیا ہوگا ؟ (اسی کو انہوں نے جمع بین الصلاتین سے تعبیر کردیا) تو انہوں نے جواب دیا کہ میرا خیال بھی یہی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمِيعًا وَسَبْعًا جَمِيعًا قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ وَعَجَّلَ الْعَصْرَ وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ قَالَ وَأَنَا أَظُنَّ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرٌو قَالَ أَبُو الشَّعْثَاءِ مَنْ هِيَ قَالَ قُلْتُ يَقُولُونَ مَيْمُونَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے نبی ﷺ کے اہل خانہ یعنی عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات جلدی لے کر روانگی اختیار کی تھی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ وَقَالَ مَرَّةً إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ
tahqiq

তাহকীক: