আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৭৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا تو انہوں نے غسل کا پانی رکھا، پھر نبی ﷺ نے انہیں ایک کپڑا دیا اور فرمایا کہ یہ چادر تان کر پردہ کرواؤ اور میری طرف اپنی پشت کر کے کھڑے ہوجاؤ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ عَلِيًّا فَوَضَعَ لَهُ غُسْلًا ثُمَّ أَعْطَاهُ ثَوْبًا فَقَالَ اسْتُرْنِي وَوَلِّنِي ظَهْرَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب راستے میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنالے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَفْعَلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کو گالی دے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ السَّبِيلِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنے باپ کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنی ماں کو گالی دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے اور وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے اور یہ آخری جملہ نبی ﷺ نے تین مرتبہ دہرایا
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ مَلْعُونٌ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ مَلْعُونٌ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ مَلْعُونٌ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ الطَّرِيقِ مَلْعُونٌ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا ثَلَاثًا فِي اللُّوطِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو زمین کے بیج بدل دے، وہ شخص ملعون ہے جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرے اور تین مرتبہ فرمایا وہ شخص بھی ملعون ہے جو قوم لوط والا عمل کرے، وہ شخص ملعون ہے جو اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی نابینا کو غلط راستے پر لگا دے، وہ شخص ملعون ہے جو کسی جانور پر جا پڑے
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ كَمَّهَ أَعْمَى عَنْ الطَّرِيقِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَقَّ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ قَالَهَا ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کردیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى وَلَمْ تُكْتَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے چاشت کی دو رکعتوں کا حکم دیا گیا ہے لیکن تمہیں نہیں دیا گیا، نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کردیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا وَأُمِرْتُ بِالْأَضْحَى وَلَمْ تُكْتَبْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
نیز مجھ پر قربانی کو صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود فرض کردیا گیا ہے لیکن تم پر صاحب نصاب نہ ہونے کی صورت میں قربانی فرض نہیں ہے
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيْ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو یحییٰ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا میں قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتا ہوں جس کے متعلق آج تک مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے پہلے سے علم ہے اس لئے پوچھتے یا ان کا ذہن ہی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ؟ یہ کہہ کر پھر وہ ہمارے ساتھ باتیں کرنے لگے، جب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے تو ہم ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ ہم ہی نے ان سے کیوں نہ پوچھ لیا ؟ میں نے کہا کہ جب وہ کل یہاں آئیں گے تو میں ان سے اس کے متعلق دریافت کروں گا۔ چناچہ اگلے دن حضرت ابن عباس (رض) جب تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ حضرت ! کل آپ نے ذکر فرمایا تھا کہ آپ قرآن کریم کی ایک ایسی آیت جانتے ہیں جس کے متعلق آج تک آپ سے کسی نے نہیں پوچھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ معلوم نہیں، لوگوں کو پہلے سے اس بارے علم ہے اس لئے نہیں پوچھتے یا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ؟ آپ مجھے اس آیت کے متعلق بتائیے اور ان آیات کے متعلق بھی جو آپ نے اس سے پہلے پڑھ رکھی تھیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا اے گروہ قریش ! اللہ کے علاوہ جن چیزوں کی پوجا کی جاتی ہے ان میں سے کسی میں کوئی خیر نہیں ہے، قریش کے لوگ جانتے تھے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں اور نبی ﷺ کے بارے کیا رائے رکھتے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے اے محمد ﷺ ! کیا تمہارا یہ خیال نہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے نبی اور اس کے نیک بندے تھے، اگر آپ سچے ہیں (کہ معبودان باطلہ میں کوئی خیر نہیں ہے) تو پھر عیسائیوں کا اللہ بھی ویسا ہی ہوا جیسے آپ کہتے ہیں (کہ ان میں بھی کوئی خیر نہیں ہے) اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال بیان کی جاتی ہے تو آپ کی قوم چلانے لگتی ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے یصدون کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا ترجمہ چلانا کیا اور وانہ لعلم للساعۃ کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول وخروج قیامت کی علامات میں سے ہے
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عُقَيْلٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لَقَدْ عُلِّمْتُ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَيَسْأَلُوا عَنْهَا ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا فَلَمَّا قَامَ تَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ سَأَلْنَاهُ عَنْهَا فَقُلْتُ أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ قُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ فَلَا تَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا أَمْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْهَا وَعَنْ اللَّاتِي قَرَأْتَ قَبْلَهَا قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَي تَعْبُدُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا تَقُولُ فِي مُحَمَّدٍ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا فَلَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا تَقُولُونَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ قَالَ قُلْتُ مَا يَصِدُّونَ قَالَ يَضِجُّونَ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قَالَ هُوَ خُرُوجُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مکہ مکرمہ میں اپنے گھر کے صحن میں تشریف فرما تھے کہ وہاں سے عثمان بن مظعون کا گذر ہوا، وہ تیزی سے گذرنے لگے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا آپ بیٹھیں گے نہیں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، چناچہ وہ نبی ﷺ کے سامنے آکر بیٹھ گئے، ابھی یہ دونوں آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک نبی ﷺ کی نگاہیں اوپر کو اٹھ گئیں، آپ ﷺ نے ایک لمحے کے لئے آسمان کی طرف دیکھا، پھر آہستہ آہستہ اپنی ا نگاہیں نیچے کرنے لگے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی نظریں زمین پر اپنی دائیں جانب گاڑ دیں اور اپنے مہمان عثمان سے منہ پھیر کر اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اپنا سر جھکا لیا، ایسا محسوس ہوا کہ وہ کسی کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں، عثمان یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد جب نبی ﷺ اس کام سے فارغ ہوئے اور جو کچھ ان سے کہا جا رہا تھا، انہوں نے سمجھ لیا تو پھر ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، جیسے پہلی مرتبہ ہوا تھا، نبی ﷺ کی نگاہیں کسی چیز کا پیچھا کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ چیز آسمانوں میں چھپ گئی، اس کے بعد نبی ﷺ پہلے کی طرح عثمان کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ کہنے لگے کہ میں آپ کے پاس آکر کیوں بیٹھوں ؟ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے اس سے پہلے میں نے آپ کو ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے مجھے کیا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ عثمان کہنے لگے کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظریں آسمان کی طرف اٹھ گئیں، پھر آپ نے دائیں ہاتھ اپنی نگاہیں جما دیں، آپ مجھے چھوڑ کر اس طرح متوجہ ہوگئے اور آپ نے اپنے سر کو جھکالیا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ سے کچھ کہا جارہا ہے، اسے آپ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم نے ایسی چیز محسوس کی ہے ؟ عثمان کہنے لگے جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس اللہ کا قاصد آیا تھا جبکہ تم میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے، عثمان نے کہا اللہ کا قاصد ؟ فرمایا ہاں ! عثمان نے پوچھا کہ پھر اس نے آپ سے کیا کہا ؟ فرمایا بیشک اللہ عدل و احسان کا اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی، ناپسندیدہ اور سرکشی کے کاموں سے روکتا ہے، وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو، عثمان کہتے ہیں کہ اسی وقت سے میرے دل میں اسلام نے جگہ بنانی شروع کردی اور مجھے محمد ﷺ سے محبت ہوگئی
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ بَيْتِهِ بِمَكَّةَ جَالِسٌ إِذْ مَرَّ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَكَشَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَجْلِسُ قَالَ بَلَى قَالَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَهُ فَبَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُهُ إِذْ شَخَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَنَظَرَ سَاعَةً إِلَى السَّمَاءِ فَأَخَذَ يَضَعُ بَصَرَهُ حَتَّى وَضَعَهُ عَلَى يَمِينِهِ فِي الْأَرْضِ فَتَحَرَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَلِيسِهِ عُثْمَانَ إِلَى حَيْثُ وَضَعَ بَصَرَهُ وَأَخَذَ يُنْغِضُ رَأْسَهُ كَأَنَّهُ يَسْتَفْقِهُ مَا يُقَالُ لَهُ وَابْنُ مَظْعُونٍ يَنْظُرُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ وَاسْتَفْقَهَ مَا يُقَالُ لَهُ شَخَصَ بَصَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ كَمَا شَخَصَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَأَتْبَعَهُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى فِي السَّمَاءِ فَأَقْبَلَ إِلَى عُثْمَانَ بِجِلْسَتِهِ الْأُولَى قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ كُنْتُ أُجَالِسُكَ وَآتِيكَ مَا رَأَيْتُكَ تَفْعَلُ كَفِعْلِكَ الْغَدَاةَ قَالَ وَمَا رَأَيْتَنِي فَعَلْتُ قَالَ رَأَيْتُكَ تَشْخَصُ بِبَصَرِكَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ وَضَعْتَهُ حَيْثُ وَضَعْتَهُ عَلَى يَمِينِكَ فَتَحَرَّفْتَ إِلَيْهِ وَتَرَكْتَنِي فَأَخَذْتَ تُنْغِضُ رَأْسَكَ كَأَنَّكَ تَسْتَفْقِهُ شَيْئًا يُقَالُ لَكَ قَالَ وَفَطِنْتَ لِذَاكَ قَالَ عُثْمَانُ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ آنِفًا وَأَنْتَ جَالِسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ لَكَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنْ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ قَالَ عُثْمَانُ فَذَلِكَ حِينَ اسْتَقَرَّ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي وَأَحْبَبْتُ مُحَمَّدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک حرم تھا اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ ! میں مدینہ کو آپ کے حرم کی طرح حرم قرار دیتا ہوں، یہاں کسی بدعتی کو ٹھکانہ نہ دیا جائے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کرسکے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ رب العزت اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَجُلٍ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ وَالِدَيْهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَعْتَقُوهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ لَعْنَةَ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے ہر صنف کی عورتیں ممنوع تھیں سوائے ان مؤمنہ عورتوں کے جو ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئی ہوں، جیسا کہ ارشادربانی ہے کہ ان کے علاوہ کسی عوت سے نکاح کرنا، یا انہیں بدل کر کسی اور کو اپنے نکاح میں لے آنا خواہ ان کا حسن اچھا ہی کیوں نہ لگے، آپ کے لئے حلال نہیں ہے سوائے باندیوں کے بعد میں اللہ نے تمہاری مؤمن عورتوں کو ان پر حلال کردیا اور اس مؤمنہ عورت کو بھی جو اپنی ذات نبی ﷺ کو ہبہ کر دے اور اسلام کے علاوہ دوسرے ہر دین کی عورت کو حرام قرار دے دیا اور فرمایا جو شخص ایمان کے بعد کفر اختیار کرلے اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور فرمایا کہ اے نبی ! ﷺ ہم نے آپ کے لئے حلال کردیا۔۔۔۔۔۔ یہ حکم خاص آپ کے لئے ہے، عام مسلمانوں کے لئے نہیں اور اس کے علاوہ سب طرح کی عورتیں حرام کردیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ الْمُهَاجِرَاتِ قَالَ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ وَلَا أَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَأَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَتَيَاتِكُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ وَحَرَّمَ كُلَّ ذَاتِ دِينٍ غَيْرَ دِينِ الْإِسْلَامِ قَالَ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنْ الْخَاسِرِينَ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ إِلَى قَوْلِهِ خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَحَرَّمَ سِوَى ذَلِكَ مِنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو جن کا نام سودہ تھا پیغام نکاح بھیجا، سودہ کے یہاں اس شوہر سے جو فوت ہوگیا تھا، پانچ یا چھ بچے تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تمہیں مجھ سے کون سی چیز روکتی ہے ؟ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! بخدا ! مجھے آپ سے کوئی چیز نہیں روکتی، آپ تو ساری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں، اصل میں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ یہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے روتے اور چیختے رہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے، وہ بہترین عورتیں جو اونٹوں پر پشت کی جانب بیٹھتی ہیں ان میں سب سے بہتر قریش کی نیک عورتیں ہیں جو بچپن میں اپنے بچوں کے لئے انتہائی شفیق اور اپنی ذات کے معاملے میں اپنے شوہر کی محافظ ہوتی ہے۔ فائدہ : یہ سودہ دوسری ہیں، ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) نہیں ہیں
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي قَالَتْ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةَ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً قَالَ فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكِ اللَّهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آگئے اور نبی ﷺ کے سامنے اپنے ہاتھ ان کے گھٹنے پر رکھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ اسلام کی تعریف کیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسلام کی تعریف یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردو، اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، انہوں نے پوچھا کیا یہ کام کرنے کے بعد میں مسلمان شمار ہوں گا ؟ فرمایا ہاں ! جب تم یہ کام کرلو گے تو تم مسلمان شمار ہوگے۔ پھر انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، آخرت کے دن، فرشتوں، کتاب، پیغمبروں، موت اور موت کے بعد کی زندگی، جنت و جہنم، حساب کتاب، میزان عمل اور تقدیر پر مکمل خواہ وہ بھلائی کی ہو یا برائی کی، یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ کیا جب میں یہ کام کرلوں گا تو میں مومن شمار ہوں گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! جب تم یہ کام کرلو گے تو تم مومن شمار ہوگے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا چیز ہے ؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کوئی بھی عمل اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کرسکتے تو یہی تصور کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بتائیے کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا سبحن اللہ، یہ غیب کی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ارشاد ربانی ہے، اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے ؟ کسی نفس کو نہیں پتہ کہ وہ کل کیا کمائے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا باخبر ہے، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی کچھ نشانیاں بتادیتا ہوں جو اس سے پہلے رونما ہوں گی ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ ضرور بتائیے، فرمایا جب تم دیکھو کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور بکریاں چرانے والے بڑی بڑی عمارتوں پر ایک دوسرے سے فخر کرنے لگے ہیں، ننگے بھوکے اور محتاج لوگ سردار بن چکے ہیں تو یہ قیامت کی علامات اور نشانیوں میں سے ہے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ بکریاں چرانے والے، ننگے، بھوکے اور محتاج لوگ کون ہیں ؟ فرمایا اہل عرب۔
و قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا لَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامُ أَنْ تُسْلِمَ وَجْهَكَ لِلَّهِ وَتَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ قَالَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنَ بِالْمَوْتِ وَبِالْحَيَاةِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْحِسَابِ وَالْمِيزَانِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي مَا الْإِحْسَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ فِي خَمْسٍ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ قَالَ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَحَدِّثْنِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ تَطَاوَلُوا بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ قَالَ الْعَرَبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اچھی فال لیتے تھے، بدگمانی نہیں کرتے تھے اور آپ ﷺ کو اچھا نام پسند آتا تھا
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ وَيُعْجِبُهُ كُلُّ اسْمٍ حَسَنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ " کنتم خیرامۃ اخرجت للناس۔۔۔۔۔۔ الخ " والی آیت کا مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تھی
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ قَالَ الَّذِينَ هَاجَرُوا مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) تشریف فرما تھے، نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! فرمایا وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہوجائے، یا شہید ہوجائے۔ پھر فرمایا اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! فرمایا وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤ جو سب سے بد ترین مقام کا حامل ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! فرمایا وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَوْ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعَنَانِ فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَلَ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلًا قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُؤَيْبٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الْمَرْأَةَ وَالْمَمْلُوكَ مِنْ الْغَنَائِمِ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৭৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عورت اور غلام کو بھی لشکر کو حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے حصہ دیتے تھے اس روایت کے مطابق مال غنیمت کے علاوہ دوسرے مال سے انہیں حصہ دیتے تھے
حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْطِي الْعَبْدَ وَالْمَرْأَةَ مِنْ الْغَنَائِمِ حَدَّثَنَاه يَزِيدُ قَالَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ دُونَ مَا يُصِيبُ الْجَيْشَ
tahqiq

তাহকীক: