আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ২৭৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ (رض) عنہ، حضرت ابن عباس (رض) کی عیادت کے لئے تشریف لائے، حضرت ابن عباس (رض) نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، حضرت مسور (رض) کہنے لگے اے ابو العباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب ؟ فرمایا یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی ﷺ نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ ! ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر حضرت مسور (رض) نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال ! حضرت مسور (رض) جب چلے گئے تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو ، لوگوں نے کہا اے ابو العباس ! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کردیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ مِنْ وَجَعٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ إِسْتَبْرَقٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ هَذَا الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ بِهِ وَمَا أَظُنُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَذَا حِينَ نَهَى عَنْهُ إِلَّا لِلتَّجَبُّرِ وَالتَّكَبُّرِ وَلَسْنَا بِحَمْدِ اللَّهِ كَذَلِكَ قَالَ فَمَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ قَالَ أَلَا تَرَى قَدْ أَحْرَقْنَاهَا بِالنَّارِ فَلَمَّا خَرَجَ الْمِسْوَرُ قَالَ انْزَعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّمَاثِيلِ قَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ لَوْ ذَهَبْتَ بِهَا إِلَى السُّوقِ كَانَ أَنْفَقَ لَهَا مَعَ الرَّأْسِ قَالَ لَا فَأَمَرَ بِقَطْعِ رُءُوسِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
شعبہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ کا آزاد کردہ غلام سجدہ کرتے ہوئے پیشانی، بازو اور سینہ زمین پر رکھ دیتا ہے، انہوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے تواضع کا سبب بتایا، انہوں نے فرمایا اس طرح تو کتا بیٹھتا ہے، میں نے دیکھا ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو آپ ﷺ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی (یعنی ہاتھ اتنے جدا ہوتے تھے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ إِنَّ مَوْلَاكَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَصَدْرَهُ بِالْأَرْضِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى مَا تَصْنَعُ قَالَ التَّوَاضُعُ قَالَ هَكَذَا رِبْضَةُ الْكَلْبِ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں۔
قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُهُ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِيَرْمُوا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اہل خانہ کو منیٰ کی طرف دس ذی الحجہ کو بھیج دیا تھا تاکہ فجر ہونے کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی کرلیں۔
قَالَ حَدَّثَنَاه حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهِ مَعَ أَهْلِهِ إِلَى مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ فَرَمَوْا الْجَمْرَةَ مَعَ الْفَجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو باندی ام ولدہ (اپنے آقا کے بچے کی ماں) بن جائے، وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَطِئَ أَمَتَهُ فَوَلَدَتْ لَهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کپڑے میں اسے اچھی طرح لپیٹ کر نماز پڑھی اور اس کے زائد حصے کے ذریعے زمین کی گرمی سردی سے اپنے آپ کو بچانے لگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ يَتَّقِي بِفُضُولِهِ حَرَّ الْأَرْضِ وَبَرْدَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس ایک باندی ہنڈیا میں سے شانے کا گوشت لے کر آئی، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو کرنا تو دور کی بات، پانی کو چھوا تک نہیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأْتِيهِ الْجَارِيَةُ بِالْكَتِفِ مِنْ الْقِدْرِ فَيَأْكُلُ مِنْهَا ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ فَيُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی آزمائش کے دنوں میں نجدہ حروری نے جس وقت خروج کیا تو اس نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ مسئلہ دریافت کروایا کہ آپ کے خیال میں ذوی القربی کا حصہ کن کا حق ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کو جو نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہیں، حق ہے، جو نبی ﷺ نے انہیں تقسیم فرمایا تھا، بعد میں حضرت عمر فاروق (رض) نے ہمیں اس کے بدلے میں کچھ اور چیزیں پیش کی تھیں لیکن وہ ہمارے حق سے کم تھیں اس لئے ہم نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا، حضرت عمر فاروق (رض) نے انہیں یہ پیشکش کی تھی کہ ان میں سے جو نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کی مالی معاونت کریں گے، ان کے مقروضوں کے قرضے اداء کریں گے اور ان کے فقراء کو مال و دولت دیں گے لیکن اس سے زائد دینے سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ مِنْ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ وَأَنْ يَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ وَأَنْ يُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مشرکین اپنے سر کے بالوں میں مانگ نکالا کرتے تھے جبکہ اہل کتاب انہیں یوں ہی چھوڑ دیتے تھے اور نبی ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جن معاملات میں کوئی حکم نہ آتا ان میں مشرکین کی نسبت اہل کتاب کی متابعت و موافقت زیادہ پسند تھی، اس لئے نبی ﷺ بھی مانگ نہیں نکالتے تھے لیکن بعد میں آپ ﷺ نے مانگ نکالنا شروع کردی تھی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعَرَهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے علاوہ اولاد آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس نے کوئی غلطی یعنی گناہ نہ کیا ہو یا گناہ کا ارادہ نہ کیا ہو۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ إِلَّا وَقَدْ أَخْطَأَ أَوْ هَمَّ بِخَطِيئَةٍ لَيْسَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آکر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کسی سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت عباس (رض) کے پاس آئے اور فرمایا پانی پلاؤ، حضرت عباس (رض) کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہوگئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو ، چناچہ وہ نبی ﷺ کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی ﷺ نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، حضرت ابن عباس (رض) یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی ﷺ کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ أَسُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَمْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ اللَّبَنِ وَالْعَسَلِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا أَوْ عَسَلًا قَالَ اسْقُونَا مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِسِقَاءَيْنِ فِيهِمَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا لَبَنًا وَعَسَلًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سنتے ہو، تمہاری سنی جاتی ہے اور جو تم سے سنتے ہیں ان کی بھی سنی جاتی ہے
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْمَعُونَ وَيُسْمَعُ مِنْكُمْ وَيُسْمَعُ مِمَّنْ يَسْمَعُ مِنْكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء بن ابی رباح (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس (رض) نے اپنے بھائی حضرت فضل (رض) کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی ﷺ کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی ﷺ نے اسے نوش فرما لیا اور لوگ تمہاری اقتداء کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ عُمَرَ أَنَّ عَطَاءً أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ دَعَا الْفَضْلَ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَا تَصُمْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فَشَرِبَ مِنْهُ هَذَا الْيَوْمَ وَإِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے البتہ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَاللَّهِ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَكَانَ إِذَا صَامَ صَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ وَاللَّهِ لَا يَصُومُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف ایک پاؤں میں جوتی یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے، امام احمد (رح) کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ والد صاحب (رح) نے یہ حدیث ہم سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صرف مسودہ میں درج کی تھی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے اس حدیث کو عمر بن خالد کی وجہ سے ترک کردیا تھا جو زید بن علی سے اسے روایت کرتے ہیں اور عمرو بن خالد کی تو کوئی حیثیت نہیں
مَضْرُوبٌ عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ ذَكْوَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُمْشَى فِي خُفٍّ وَاحِدٍ أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ كَثِيرٌ غَيْرُ هَذَا فَلَمْ يُحَدِّثْنَا بِهِ ضَرَبَ عَلَيْهِ فِي كِتَابِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ تَرَكَ حَدِيثَهُ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ رَوَى عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ وَعَمْرُو بْنُ خَالِدٍ لَا يُسَاوِي شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل امین (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ کہنے کا حکم دیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُعْلِنَ التَّلْبِيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৭৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کپڑے سے منع فرمایا ہے جو مکمل طور پر ریشمی ہو، البتہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس کپڑے کا تانا یا نقش و نگار ریشم کے ہوں تو ہماری رائے کے مطابق اس میں کوئی حرج نہیں ہے نیز نبی ﷺ نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے بھی منع فرمایا تھا
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي خُصَيْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الثَّوْبِ الْحَرِيرِ الْمُصْمَتِ فَأَمَّا الثَّوْبُ الَّذِي سَدَاهُ حَرِيرٌ لَيْسَ بِحَرِيرٍ مُصْمَتٍ فَلَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَإِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ حُصَيْنًا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقُلْتُ مَنْ هُمْ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَلَا يَعْتَافُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
তাহকীক: