আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৮৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا ایک مردہ بکری پر گذر ہوا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ کس کی بکری ہے ؟ لوگوں نے بتایا حضرت میمونہ (رض) کی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ لِمَنْ كَانَتْ هَذِهِ الشَّاةُ فَقَالُوا لِمَيْمُونَةَ قَالَ أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر گذر رہے تھے، اس وقت نبی ﷺ صحرا میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم اپنی سواری سے اترے اور نبی ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوگئے، نبی ﷺ نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَرْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي فَضَاءٍ مِنْ الْأَرْضِ فَنَزَلْنَا وَدَخَلْنَا مَعَهُ فَمَا قَالَ لَنَا فِي ذَلِكَ شَيْئًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور لگانے والے کو اس کی مزدوری دے دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مزدلفہ میں وقوف کیا اور جب سورج طلوع ہونے سے قبل ہر چیز روشن ہوگئی تو وہاں سے گذر گئے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ بِجَمْعٍ فَلَمَّا أَضَاءَ كُلُّ شَيْءٍ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَفَاضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو البختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ " ذات عرق " میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس (رض) کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے جواب میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ اللہ نے چاند کی رویت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو ٣٠ دن کی گنتی پوری کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ قَالَ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ قَالَ هَاشِمٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ قَالَ هَاشِمٌ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بیت الخلاء آئے، میں نے پیچھے سے وضو کا پانی رکھ دیا، جب نبی ﷺ باہر نکلے تو پوچھا کہ یہ پانی کس نے رکھا ہے ؟ بتایا کہ ابن عباس (رض) نے، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اسے فقیہ بنا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ مَنْ وَضَعَ ذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ أَبُو بِشْرٍ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میری طرف منسوب کر کے کوئی بات بیان کرنے سے بچو، سوائے اس کے جس کا تمہیں یقین ہو، اس لئے کہ جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے اور جو شخص قرآن کریم میں بغیر علم کے کوئی بات کہے تو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الْحَدِيثَ عَنِّي إِلَّا مَا عَلِمْتُمْ قَالَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَى الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ بَيِّنٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ فلاں بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال کیوں نہ رکھ لی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ایک مرداربکری کی کھال رکھتی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ اے نبی آپ فرما دیجئے کہ میرے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے، میں اس میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا بہتا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو، اب اگر تم اسے دباغت دے کر اس سے فائدہ اٹھا لو تو تم اسے کھاؤ گے تو نہیں ؟ چناچہ حضرت سودہ (رض) نے کسی کو بھیج کر اس کی کھال اتروا لی اور اسے دباغت دے کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس پھٹ گیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت سودہ (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَتْ شَاةٌ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةُ يَعْنِي الشَّاةَ فَقَالَ فَلَوْلَا أَخَذْتُمْ مَسْكَهَا فَقَالَتْ نَأْخُذُ مَسْكَ شَاةٍ قَدْ مَاتَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّكُمْ لَا تَطْعَمُونَهُ إِنْ تَدْبُغُوهُ فَتَنْتَفِعُوا بِهِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهَا فَسَلَخَتْ مَسْكَهَا فَدَبَغَتْهُ فَأَخَذَتْ مِنْهُ قِرْبَةً حَتَّى تَخَرَّقَتْ عِنْدَهَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ماعز بن مالک (رض) سے ملے اور فرمایا تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے ؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ؟ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کرلیا، پھر نبی ﷺ نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ قَالَ فَرَجَمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں میری خالہ حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَكَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو ، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ وَأَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ وَقَصَهُ بَعِيرُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں (سماک کہتے ہیں کہ صفر انسان کے پیٹ میں ایک کیڑا ہوتا ہے) ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ( اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی ؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا ؟
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ قَالَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، حضرت میمونہ (رض) نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس (رض) نے رکھا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنْ اللَّيْلِ قَالَ فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب چلتے تو مجتمع ہو کر چلتے، آپ ﷺ کی چال میں کسی قسم کی کسلمندی یا سستی نہیں ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي فُلَانٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا مَشَى مَشَى مُجْتَمِعًا لَيْسَ فِيهِ كَسَلٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ إِذْ خَلَقَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ سب سے بہترین ہوتے ہیں اور ان ہی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اور تمہارا بہترین سرمہ " اثمد " ہے جو بینائی کو تیز کرتا ہے اور پلکوں کے بال اگاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمْ الْبِيضَ فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ وَإِنَّ مِنْ خَيْرِ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدَ إِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے قربانی سے پہلے حلق کرلیا ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے ؟ نبی ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ وَلَمْ أَنْحَرْ قَالَ لَا حَرَجَ وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ فَارْمِ وَلَا حَرَجَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے (کسی دوسرے شخص کو اپنا باپ کہنا شروع کر دے) یا کوئی غلام اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کر دے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
tahqiq

তাহকীক: