আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৮৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر مسلمان جو صاحب استطاعت ہو پر حج فرض ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ ہر سال، تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَجِّ كُلَّ عَامٍ فَقَالَ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَجَّةٌ وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ لَكَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) نبی ﷺ کے مرض الوفات کے زمانے میں نبی ﷺ کے یہاں سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا ابو الحسن ! نبی ﷺ کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ اب تو صبح سے نبی ﷺ الحمدللہ ٹھیک ہیں، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اس پر حضرت ابن عباس (رض) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا تم دیکھ نہیں رہے ؟ بخدا ! اس بیماری سے نبی ﷺ (جانبر نہ ہو سکیں گے) اور وصال فرما جائیں گے، میں بنو عبد المطلب کے چہروں پر موت کے وقت طاری ہونے والی کیفیت کو پہچانتا ہوں، اس لئے آؤ، نبی ﷺ کے پاس چلتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے بعد خلافت کسے ملے گی ؟ اگر ہم ہی میں ہوئی تو ہمیں اس کا علم ہوجائے گا اور اگر ہمارے علاوہ کسی اور میں ہوئی تو ہم نبی ﷺ سے بات کرلیں گے تاکہ وہ ہمارے متعلق آنے والے خلیفہ کو وصیت فرما دیں، حضرت علی (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اگر ہم نے نبی ﷺ سے اس کی درخواست کی اور نبی ﷺ نے ہماری درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا تو لوگ کبھی بھی ہمیں خلافت نہیں دیں گے، اس لئے میں تو کبھی بھی ان سے درخواست نہیں کروں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ عَلِيٌّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَقَالُوا كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا حَسَنٍ فَقَالَ أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَلَا تَرَى إِنِّي لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيُتَوَفَّى مِنْ وَجَعِهِ وَإِنِّي لَأَعْرِفُ فِي وُجُوهِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْمَوْتَ فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنُكَلِّمْهُ فَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ فِينَا بَيَّنَهُ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ وَأَوْصَى بِنَا فَقَالَ عَلِيٌّ إِنْ قَالَ الْأَمْرُ فِي غَيْرِنَا فَلَمْ يُعْطِنَاهُ النَّاسُ أَبَدًا وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ماعز بن مالک (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی ؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا ؟ یا اسے دیکھا ہوگا، نبی ﷺ کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ زَنَيْتُ لَعَلَّكَ غَمَزْتَ أَوْ قَبَّلْتَ أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہر سال جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دور کیا کرتے تھے، جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس میں نبی ﷺ نے دو مرتبہ دور فرمایا اور حتمی قراءت حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَلَمَّا كَانَتْ السَّنَةُ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ فَكَانَتْ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ آخِرَ الْقِرَاءَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ یتیموں کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اچھے طریقے سے، تو لوگوں نے یتیموں کا مال اپنے مال سے جدا کرلیا جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک آپہنچی کہ کھانا سڑنے لگا اور گوشت میں بدبو پیدا ہونے لگی، نبی ﷺ کے سامنے جب اس صورت حال کا تذکرہ ہوا تو آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی " اگر تم ان کو اپنے ساتھ شریک کرلو تو وہ تہمارے بھائی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح کرنے والا ہے اور کون فساد کرنے والا ؟ تب جا کر انہوں نے اپنے مال کے ساتھ ان کا مال شریک کرلیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ عَزَلُوا أَمْوَالَ الْيَتَامَى حَتَّى جَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنْ الْمُصْلِحِ قَالَ فَخَالَطُوهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا کیوں ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ قَالَ فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السَّبُعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مزدلفہ ہی میں جبکہ رات کچھ باقی تھی نبی ﷺ بنو ہاشم کے ہم کمزوروں یعنی عورتوں اور بچوں کی جماعت کے پاس آئے جو اپنے گدھوں پر سوار تھے اور ہماری رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمانے لگے، پیارے بچو ! تم روانہ ہوجاؤ لیکن طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ النَّحْرِ وَعَلَيْنَا سَوَادٌ مِنْ اللَّيْلِ فَجَعَلَ يَضْرِبُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أَبَنِيَّ أَفِيضُوا وَلَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی ﷺ رات کو اٹھارہ رکعتیں پڑھتے تھے، تین رکعت وتر اور دو رکعت (فجر کی سنتیں) پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ وَيُصَلِّ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جویریہ (رض) کا نام برہ تھا، نبی ﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الَّرحْمَنِ مَوْلَى أَبِي طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بَرَّةَ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کردیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ فَجَعَلَ يُوصِيهِمْ أَنْ لَا يَرْمُوا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن اصم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ فلاں آدمی کی شادی ہوئی اس نے ہماری دعوت کی، اس نے دستر خوان پر ١٣ عددگوہ لاکر پیش کیں، شام کا وقت تھا، کسی نے اسے کھایا اور کسی نے اجتناب کیا، ان کے ساتھی بڑھ چڑھ کر بولنے لگے حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام کرتا ہوں، نہ ہی اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ممانعت کرتا ہوں، پھر فرمایا دراصل نبی ﷺ کی خدمت میں ایک دستر خوان پیش کیا گیا جس پر روٹی اور گوہ کا گوشت رکھا ہوا تھا، نبی ﷺ نے جب اسے تناول فرمانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ گوہ کا گوشت ہے، یہ سنتے ہی نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا یہ ایسا گوشت ہے جو میں نہیں کھاتا، البتہ تم کھالو، چناچہ حضرت فضل، خالد بن ولید (رض) اور اس خاتون نے اسے کھالیا اور حضرت میمونہ (رض) فرمانے لگیں کہ جو کھانا نبی ﷺ نہیں کھاتے میں بھی نہیں کھاتی۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ تَزَوَّجَ فُلَانٌ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا طَعَامًا فَأَكَلْنَا ثُمَّ قَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَبَيْنَ آكِلٍ وَتَارِكٍ فَقَالَ بَعْضُ مَنْ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا تَقُولُونَ مَا بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَدَّ يَدَهُ لِيَأْكُلَ مِنْهُ فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَكَفَّ يَدَهُ وَقَالَ هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ فَكُلُوا فَأَكَلَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ كَانَتْ مَعَهُمْ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لَا آكُلُ مِمَّا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت قرآنی " فاذا نقر فی الناقور " کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کرسکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعاء پڑھنی چاہیے ؟ فرمایا یہ کہتے رہا کرو " حسبنا اللہ ونعم الوکیل، علی اللہ توکلنا "
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَطِيَّةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ فَقَالَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ كَيْفَ نَقُولُ قَالَ قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بعض اوقات اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ كَيْفَ تَرَى فِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ہر رمضان میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرماتے تھے، جس رات کو نبی ﷺ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو قرآن کریم سناتے، اس کی صبح کو آپ تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے اور نبی ﷺ سے جو بھی مانگا جاتا، آپ وہ عطاء فرما دیتے اور جس سال رمضان کے بعد نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوا اس سال آپ ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو دو مرتبہ قرآن کریم سنایا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَلَى جِبْرِيلَ فَيُصْبِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ لَيْلَتِهِ الَّتِي يَعْرِضُ فِيهَا مَا يَعْرِضُ وَهُوَ أَجْوَدُ مِنْ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ لَا يُسْأَلُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى كَانَ الشَّهْرُ الَّذِي هَلَكَ بَعْدَهُ عَرَضَ فِيهِ عَرْضَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مسلمانوں نے مشرکین کا ایک بڑا آدمی قتل کردیا، مشرکین اس کی لاش حاصل کرنے کے لئے مال و دولت کی پیشکش کرنے لگے، لیکن نبی ﷺ نے انہیں اس کی لاش بیچنے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ وَمُؤَمَّلٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمُسْلِمِينَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ عُظَمَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلُوهُ فَسَأَلُوا أَنْ يَشْتَرُوا جِيفَتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز والا وضو کیا تو کسی زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ تشریف رکھئے، ہنڈیا تیار ہوگئی، یہ کہہ کر انہوں نے شانے کا گوشت پیش کیا، نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور ہاتھ پونچھ کر نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ اجْلِسْ فَإِنَّ الْقِدْرَ قَدْ نَضِجَتْ فَنَاوَلَتْهُ كَتِفًا فَأَكَلَ ثُمَّ مَسَحَ يَدَهُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بری مثال ہمارے لئے نہیں ہے، جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے اسے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، کیا نبی اکرم ﷺ کی نماز اسی طرح نہیں ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَامَ فَصَلَّى فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا وَضَعَ رَأْسَهُ كَبَّرَ وَإِذَا مَا نَهَضَ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد کی طرف نکلے تو آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے جا رہے تھے کہ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہت دے دے یا اسے معاف کر دے تو اللہ اسے جہنم کی گرمی سے محفوظ فرما دے گا، یاد رکھو ! جنت کے اعمال ٹیلے کی طرح سخت ہیں اور جہنم کے اعمال نرم کمان کی طرح آسان ہیں، خوش نصیب ہے وہ آدمی جو فتنوں سے محفوظ ہو اور انسان غصہ کا جو گھونٹ پیتا ہے، مجھے اس سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں ہے، جو شخص اللہ کی رضا کے لئے غصہ کا گھونٹ پی جاتا ہے، اللہ اس کے پیٹ کو ایمان سے بھر دے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ جَعْوَنَةَ السُّلَمِيُّ خُرَاسَانِيٌّ عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ أَلَا إِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنٌ بِرَبْوَةٍ ثَلَاثًا أَلَا إِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلٌ بِسَهْوَةٍ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُقِيَ الْفِتَنَ وَمَا مِنْ جَرْعَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَرْعَةِ غَيْظٍ يَكْظِمُهَا عَبْدٌ مَا كَظَمَهَا عَبْدٌ لِلَّهِ إِلَّا مَلَأَ اللَّهُ جَوْفَهُ إِيمَانًا
tahqiq

তাহকীক: