আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৯০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی عورتوں اور ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ هَذَا الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ وَالْمُتَشَبِّهِينَ مِنْ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنْ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں رات کے آخری حصے میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور ان کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور مجھے اپنے برابر کرلیا، نبی ﷺ جب نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پھر پیچھے ہوگیا، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا بات ہے بھئی ! میں تمہیں اپنے برابر کرتا ہوں اور تم پیچھے ہٹ جاتے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا کسی آدمی کے لئے آپ کے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مناسب ہے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے آپ کو بہت کچھ مقام و مرتبہ دے رکھا ہے ؟ نبی ﷺ کو اس پر تعجب ہوا اور میرے لئے علم و فہم میں اضافے کی دعاء فرمائی، اس کے بعد میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خر اٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ أَبُو يُونُسَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ كُرَيْبًا أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَرَّنِي فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَلَاتِهِ خَنَسْتُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِي مَا شَأْنِي أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ حِذَاءَكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْجَبْتُهُ فَدَعَا اللَّهَ لِي أَنْ يَزِيدَنِي عِلْمًا وَفَهْمًا قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُهُ يَنْفُخُ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَامَ فَصَلَّى مَا أَعَادَ وُضُوءًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ نو آدمیوں پر مشتمل لوگوں کا ایک وفد آیا تھا اور کہنے لگا کہ اے ابو العباس ! یا تو آپ ہمارے ساتھ چلیں یا یہ لوگ ہمارے لئے خلوت کردیں، ہم آپ سے کچھ سوالات پوچھنا چاہتے ہیں، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا میں ہی آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہوں، یہ حضرت ابن عباس (رض) کی بینائی ختم ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ ان لوگوں نے گفتگو کا آغاز کیا اور بات چیت کرتے رہے لیکن ہمیں کچھ نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کہا ؟ تھوڑی دیر بعد حضرت ابن عباس (رض) اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے اف، تف، یہ لوگ ایک ایسے آدمی میں عیب نکال رہے ہیں، جسے دس خوبیاں اور خصوصیات حاصل تھیں، یہ لوگ ایک ایسے آدمی کی عزت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اب میں ایک ایسے آدمی کو بھیجوں گا جسے اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا، جھانک کر دیکھنے والے اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لئے جھانکنے لگے لیکن نبی ﷺ نے فرمایا علی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ چکی میں آٹا پیس رہے ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آٹا کیوں نہیں پیستا ؟ پھر نبی ﷺ ان کے پاس آئے تو انہیں آشوب چشم کا عارضہ لاحق تھا، گویا انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، نبی ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور تین مرتبہ جھنڈا ہلا کر ان کے حوالے کردیا اور وہ ام المومنین حضرت صفیہ بنت حیی کو لانے کا سبب بن گئے۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) کو سورت توبہ کا اعلان کرنے کے لئے مکہ مکرمہ روانہ فرمایا : بعد میں ان کے پیچھے حضرت علی (رض) کو بھی روانہ کردیا، انہوں نے اس خدمت کی ذمہ داری سنبھال لی اور نبی ﷺ نے فرمایا یہ پیغام ایسا تھا جسے کوئی ایسا شخص ہی پہنچا سکتا تھا جس کا مجھ سے قریبی رشتہ داری کا تعلق ہو اور میرا اس سے تعلق ہو۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے چچا زاد بھائیوں سے فرمایا دنیا و آخرت میں تم میں سے کون میرے ساتھ موالات کرتا ہے، اس وقت حضرت علی (رض) بھی تشریف فرما تھے، باقی سب نے انکار کردیا لیکن حضرت علی (رض) کہنے لگے کہ میں آپ کے ساتھ دنیا و آخرت کی موالات قائم کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تم دنیا اور آخرت میں میرے دوست ہو، اس کے بعد نبی ﷺ دوبارہ ان میں سے ایک آدمی کی طرف متوجہ ہوئے اور یہی صورت دوبارہ پیش آئی۔ حضرت خدیجہ (رض) کے بعد تمام لوگوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا اعزاز بچوں میں حضرت علی (رض) کو حاصل ہے، ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک کپڑا لے کر حضرت علی، حضرت فاطمہ، حسن اور حسین (رض) پر ڈالا اور فرمایا اے اہل بیت ! اللہ تم سے گندگی کو دور کرنا اور تمہیں خوب پاک کرنا چاہتا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے اپنا آپ بیچ دیا تھا، انہوں نے نبی ﷺ کا لباس شب ہجرت زیب تن کیا اور نبی ﷺ کی جگہ سو گئے، مشرکین اس وقت نبی ﷺ پر تیروں کی بوچھاڑ کر رہے تھے، حضرت صدیق اکبر (رض) وہاں آئے تو حضرت علی (رض) سوئے ہوئے تھے لیکن حضرت ابوبکر (رض) یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ نبی ﷺ لیٹے ہوئے ہیں اس لئے وہ کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! حضرت علی (رض) نے منہ کھول کر فرمایا کہ نبی ﷺ بیر میمون کی طرف گئے ہیں، آپ انہیں وہاں جا کر ملیں، چناچہ حضرت ابوبکر (رض) چلے گئے اور نبی ﷺ کے ساتھ غار میں داخل ہوئے، حضرت علی (رض) کے پاس تیروں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی جیسے نبی ﷺ پر ہوئی تھی اور وہ تکلیف میں تھے، انہوں نے اپنا سر کپڑے میں لپیٹ رکھا تھا، صبح تک انہوں نے سر باہر نہیں نکالا، جب انہوں نے اپنے سر سے کپڑا ہٹایا تو قریش کے لوگ کہنے لگے تم تو بڑے کمینے ہو، ہم تمہارے ساتھی پر تیربرسا رہے تھے اور ان کی جگہ تمہیں نقصان پہنچ رہا تھا اور ہمیں یہ بات اوپری محسوس ہوئی۔ ایک مرتبہ نبی ﷺ لوگوں کو لے کر غزوہ تبوک کے لئے نکلے، حضرت علی (رض) نے پوچھا کیا میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا ؟ فرمایا نہیں، اس پر وہ رو پڑے، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون (علیہ السلام) کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھی، البتہ فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو اور میرے لئے جانا مناسب نہیں ہے الاّ یہ کہ تم میرے نائب بن جاؤ، نیز نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میرے بعد ہر مومن کے بارے میں میرے دوست ہو، نیز مسجد نبوی کے تمام دروازے بند کردیئے گئے سوائے حضرت علی (رض) کے دروازے کے، چناچہ وہ مسجد میں حالت جنابت میں بھی داخل ہوجاتے تھے کیونکہ ان کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ہی نہ تھا۔ نیز نبی ﷺ نے فرمایا جس کا میں مولیٰ ہوں، علی بھی اس کا مولیٰ ہے، نیز اللہ نے ہمیں قرآن کریم میں بتایا ہے کہ وہ ان سے راضی ہوچکا ہے یعنی اصحاب الشجرہ سے (بیعت رضوان کرنے والوں سے) اور ان کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ سب جانتا ہے، کیا بعد میں کبھی اللہ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ ان سے ناراض ہوگیا ہے، نیز حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ نبی ﷺ سے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کے متعلق عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئے، میں اس کی گردن اڑا دوں تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم واقعی ایسا کرسکتے ہو ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا تم جو مرضی عمل کرتے رہو (میں نے تمہیں معاف کردیا اور حضرت علی (رض) بھی اہل بدر میں سے تھے) گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ فَقَالُوا يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا وَإِمَّا أَنْ يُخْلُونَا هَؤُلَاءِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلْ أَقُومُ مَعَكُمْ قَالَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى قَالَ فَابْتَدَءُوا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا قَالَ فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ أُفْ وَتُفْ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنْ اسْتَشْرَفَ قَالَ أَيْنَ عَلِيٌّ قَالُوا هُوَ فِي الرَّحْلِ يَطْحَنُ قَالَ وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ لِيَطْحَنَ قَالَ فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ يُبْصِرُ قَالَ فَنَفَثَ فِي عَيْنَيْهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَ ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ قَالَ لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ قَالَ وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ وَعَلِيٌّ مَعَهُ جَالِسٌ فَأَبَوْا فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَأَبَوْا قَالَ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ قَالَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا قَالَ وَشَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ قَالَ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعَلِيٌّ نَائِمٌ قَالَ وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ قَالَ وَجَعَلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا إِنَّكَ لَلَئِيمٌ كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ وَأَنْتَ تَتَضَوَّرُ وَقَدْ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ قَالَ وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ أَخْرُجُ مَعَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ لَا فَبَكَى عَلِيٌّ فَقَالَ لَهُ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي قَالَ وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي وَقَالَ سُدُّوا أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ فَقَالَ فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرُهُ قَالَ وَقَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ قَالَ وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ أَوَكُنْتَ فَاعِلًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدْ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں عید کے موقع پر نبی ﷺ ، حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) کے ساتھ موجود رہا ہوں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ ارشاد فرمایا : بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کے ہمراہ عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی، آیت بیعت کی تلاوت کی اور فراغت کے بعد ان سے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتی ہو ؟ تو ان میں سے ایک عورت جس کا نام راوی کو یاد نہیں رہا اور جس کے علاوہ کسی نے جواب نہیں دیا تھا، کہنے لگی جی ہاں یا رسول اللہ ! ﷺ پھر نبی ﷺ نے انہیں صدقہ نکالنے کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، حضرت بلال (رض) نے کپڑا بچھا لیا تھا اور کہتے جارہے تھے کہ صدقات نکالو تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْفِطْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَكُلُّهُمْ كَانَ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ بَعْدُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجْلِسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّى جَاءَ النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا أَنْتُنَّ عَلَى ذَلِكَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَدْرِي حَسَنٌ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ قَالَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ لَكُنَّ فِدَاكُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْخَوَاتِيمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ اس وقت حاضر رہا ہوں جب کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں، نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو وہ چیزیں جمع کرنے کا حکم دیا اور واپس چلے گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْءَ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَهُ فِي ثَوْبٍ حَتَّى أَمْضَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے موصولا اور منقطعا دونوں طرح مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گذرنے والوں کے لئے بھی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں، حتی کہ اہل مکہ کا حرام وہاں سے ہوگا جہاں سے وہ ابتداء کریں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَّةً عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَمْ يَكُنْ يُجَاوِزُ بِهِ طَاوُسًا فَقَالَ بَلَى هُوَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ثُمَّ سَمِعَهُ يَذْكُرُهُ بَعْدُ وَلَا يَذْكُرُ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِمَّنْ سِوَاهُمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمَنْ كَانَ بَيْتُهُ مِنْ دُونِ الْمِيقَاتِ فَإِنَّهُ يُهِلُّ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ أَحْرَمْتُ مِنْ يَلَمْلَمَ حِينَ جِئْتُ مِنْ عِنْدِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے چار قسم کے جانوروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے، چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنْ الدَّوَابِّ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں بھنی ہوئی دو عدد گوہ پیش کی گئیں، اس وقت وہاں حضرت خالد بن ولید (رض) بھی موجود تھے، نبی ﷺ نے ابھی کھانے کے لئے ہاتھ بڑھانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ کسی نے بتادیا کہ یہ گوہ ہے، نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، حضرت خالد بن ولید (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا یہ حرام ہے ؟ فرمایا نہیں، لیکن چونکہ یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی اس لئے میں اس سے بچنا ہی بہتر سمجھتا ہوں، چناچہ حضرت خالد (رض) نے اسے کھالیا اور نبی ﷺ انہیں دیکھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَأَهْوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ لِيَأْكُلَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ فَأَمْسَكَ يَدَهُ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور بڑی شستہ گفتگو کی، اسے سن کر جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بعض اشعار دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں اور بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُثْنِي عَلَيْهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا وَإِنَّ مِنْ الشِّعْرِ حُكْمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے اور پنجے سے شکار کرنے والے ہر پرندے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے ابو العباس ! میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس تھا، وہ یہ آیت پڑھ کر رونے لگے، انہوں نے پوچھا کون سی آیت ؟ میں نے عرض کیا " ان تبدوا مافی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ " حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو صحابہ کرام (رض) پر شدید غم و پریشانی کی کفییت طاری ہوگئی اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ اگر ہماری باتوں اور ہمارے اعمال پر مواخذہ ہو تو ہم ہلاک ہوجاتے ہیں، ہمارے دل تو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم یہی کہو کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، صحابہ کرام (رض) حکم نبوی کی تعمیل میں کہنے لگے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا، بعد میں یہ حکم اگلی آیت " لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا " نے منسوخ کردیا اور دل میں آنے والے وسوسوں سے در گذر کرلی گئی اور صرف اعمال پر مواخذہ کا دار و مدار قرار دے دیا گیا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبَّاسٍ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَبَكَى قَالَ أَيَّةُ آيَةٍ قُلْتُ إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ أُنْزِلَتْ غَمَّتْ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَمًّا شَدِيدًا وَغَاظَتْهُمْ غَيْظًا شَدِيدًا يَعْنِي وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا إِنْ كُنَّا نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمْنَا وَبِمَا نَعْمَلُ فَأَمَّا قُلُوبُنَا فَلَيْسَتْ بِأَيْدِينَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ فَنَسَخَتْهَا هَذِهِ الْآيَةُ آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَى لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ فَتُجُوِّزَ لَهُمْ عَنْ حَدِيثِ النَّفْسِ وَأُخِذُوا بِالْأَعْمَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے لوگ ایک کاہن عورت کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ یہ بتائیے، ہم میں سے اس مقام ابراہیم والے کے مشابہہ سب سے زیادہ کون ہے ؟ اس نے کہا کہ تم اس زمین پر ایک چادر بچھاؤ اور اس پر چلو تو میں تمہیں بتاؤں ؟ چناچہ انہوں نے اس پر چادر بچھائی اور اس پر سے چل کر گئے، اس کاہنہ نے نبی ﷺ کے نشانات قدم کو غور سے دیکھا اور کہنے لگی کہ یہ تم میں سے سب سے زیادہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشابہہ ہے، اس واقعے کے بیس یا بیس سال کے قریب گذرنے کے بعد نبی ﷺ کو مبعوث کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ وَالْأَسْوَدُ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوْا كَاهِنَةً فَقَالُوا لَهَا أَخْبِرِينَا بِأَقْرَبِنَا شَبَهًا بِصَاحِبِ هَذَا الْمَقَامِ فَقَالَتْ إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَاءً عَلَى هَذِهِ السَّهْلَةِ ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ فَجَرُّوا ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَذَا أَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِهِ فَمَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ قَرِيبًا مِنْ عِشْرِينَ سَنَةً أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ بُعِثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) اور امیر معاویہ (رض) کے ساتھ تھا، حضرت معاویہ (رض) خانہ کعبہ کے جس کونے پر بھی گذرتے، اس کا استلام کرتے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کا استلام فرماتے تھے، حضرت معاویہ (رض) فرمانے لگے کہ بیت اللہ کا کوئی حصہ بھی مہجور و متروک نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ فَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَسْتَلِمَ إِلَّا الْحَجَرَ وَالْيَمَانِيَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْ الْبَيْتِ مَهْجُورًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے حالت احرام میں (حضرت میمونہ (رض) سے) نکاح فرمایا اور حالت احرام میں سینگی لگوائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے بیری ملے پانی سے غسل دو ، اس کے احرام ہی کی دونوں چادروں میں اسے کفن دے دو ، نہ اسے خوشبو لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو، کیونکہ قیامت کے دن یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے ساتھ حج میں شریک تھا، حالت احرام ہی میں وہ اپنی اونٹنی سے گرا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ ان کی والدہ نے ایک منت مانی تھی، لیکن اسے پورا کرنے سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا، اب کیا حکم ہے ؟ فرمایا آپ ان کی طرف سے اسے پورا کردیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَنْ بَعِيرِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَصَهُ أَوْ أَقْصَعَهُ شَكَّ أَيُّوبُ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبِهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَنْ بَعِيرٍ نَادٍّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوُقِصَ وَقْصًا ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَيُّوبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سینگی لگوائی اور نبی ﷺ جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، نبی ﷺ کو بنو بیاضہ کا ایک غلام سینگی لگاتا تھا جس سے روزانہ ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے لئے گاتی تھی، نبی ﷺ نے اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چناچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کردیا، نبی صلی اللہ علیہ نے اسے اس کی اجرت دی تھی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کبھی نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَبَيْنَ الْكَتِفَيْنِ حَجَمَهُ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ وَكَانَ أَجْرُهُ مُدًّا وَنِصْفًا فَكَلَّمَ أَهْلَهُ حَتَّى وَضَعُوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَعْطَاهُ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أَعْطَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا " عدن " سے بارہ ہزار آدمی اللہ اور اس کے رسول کی مدد کے لئے نکلیں گے، یہ لوگ میرے اور ان کے درمیان تمام لوگوں سے بہتر ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَفْطَسِ قَالَ سَمِعْتُ وَهْبًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ عَدَنِ أَبْيَنَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا يَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ هُمْ خَيْرُ مَنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ قَالَ لِي مَعْمَرٌ اذْهَبْ فَاسْأَلْهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی والدہ کا انتقال ہوا، وہ اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھے، بعد میں انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میری غیر موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے تو کیا اگر میں ان کی طرف سے کچھ صدقہ کروں تو انہیں اس کا فائدہ ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس پر وہ کہنے لگے کہ پھر میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا ایک باغ ہے، وہ میں نے ان کے نام پر صدقہ کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَخَا بَنِي سَاعِدَةَ تُوُفِّيَتْ أُمُّهُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا فَهَلْ يَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ بِشَيْءٍ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطَ الْمَخْرَفِ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ الْمِخْرَافِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کے قریب ایک مرتبہ میری امامت کی، چناچہ انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال شمس ہوگیا اور ایک تسمہ کے برابر وقت گذر گیا، عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور عشاء کی نماز غروب شفق کے بعد پڑھائی اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا، مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے، عشاء کی نماز رات کی پہلی تہائی میں پڑھائی اور فجر کی نماز خوب روشنی کر کے پڑھائی اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا اے محمد ﷺ ! یہ آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا وقت رہا ہے، نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ فَصَلَّى بِي الظُّهْرَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ فَكَانَتْ بِقَدْرِ الشِّرَاكِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ حِينَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعَصْرَ حِينَ صَارَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ثُمَّ صَلَّى بِي الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ ثُمَّ صَلَّى بِي الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْفَجْرِ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي لَا أَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ قَالَ وَقَالَ فِي الْعِشَاءِ صَلَّى بِي حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ
tahqiq

তাহকীক: