আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৯২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ جب وہ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تھے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد فرماتے اے اللہ ! اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں جو آسمان کو پر کردیں اور زمین کو اور اس کے علاوہ جس چیز کو آپ چاہیں بھر دیں۔ اس سند سے ایک اور حدیث حضرت انس (رض) سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ مَانُوسَ الْعَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُمَرَ بْنِ كَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ وَهْبِ بْنِ مَانُوسَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے (بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا اس نے) سینگی لگائی، نبی ﷺ نے اسے (ڈیڑھ مد گندم بطور) اجرت کے عطاء فرمائی، اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو نبی ﷺ اسے کبھی نہ دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نامی برتنوں سے منع فرمایا (جو شراب پینے کے لئے استعمال ہوتے تھے اور جن کی وضاحت پیچھے کئی مرتبہ گذر چکی ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شوہر دیدہ عورت کو اس کے ولی کی نسبت اپنی ذات پر زیادہ اختیار حاصل ہے البتہ کنواری عورت سے اس کی اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی بھی اجازت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو الحسن (رح) کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کرسکتا ہے، اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کس کی طرف سے نقل کر رہے ہیں ؟ فرمایا نبی ﷺ نے یہی فتوی دیا ہے۔ عبداللہ اپنے والد امام احمد سے نقل کرتے ہیں کہ کسی نے معمر سے پوچھا اے ابو عروہ ! یہ ابو الحسن کون ہے ؟ اس نے تو بہت بڑی چٹان اٹھائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ عَنْ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ يَعْنِي أَبَا الْحَسَنِ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِطَلْقَتَيْنِ ثُمَّ عَتَقَا أَيَتَزَوَّجُهَا قَالَ نَعَمْ قِيلَ عَمَّنْ قَالَ أَفْتَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِمَعْمَرٍ يَا أَبَا عُرْوَةَ مَنْ أَبُو حَسَنٍ هَذَا لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، ہمراہی میں دس ہزار مسلمان تھے اور مدینہ منورہ آئے ہوئے آپ ﷺ کو ساڑھے آٹھ سال گذر چکے تھے، روانگی کے وقت آپ ﷺ اور تمام مسلمان روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنْ الْمَدِينَةِ مَعَهُ عَشْرَةُ آلَافٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ فَسَارَ بِمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ مَا بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ فَلَمْ يَصُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد حضرت صدیق اکبر (رض) جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو حضرت عمر (رض) لوگوں کے سامنے بول رہے تھے، حضرت صدیق اکبر (رض) چلتے ہوئے اس کمرے میں پہنچے جہاں نبی ﷺ کا وصال ہوا تھا، یعنی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے حجرہ مقدسہ میں، وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی ﷺ کے رخ زیبا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی ﷺ پر ڈال دی گئی تھی اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے، پھر فرمایا اللہ کی قسم اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کریں گا، آپ پر ایسی موت طاری ہوئی ہے جس کے بعد آپ پر کبھی موت نہ آئے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْمَسْجِدَ وَعُمَرُ يُكَلِّمُ النَّاسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) ظہر اور عصر میں قراءت نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی ﷺ کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ ﷺ نے قراءت فرمائی اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے اور تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ لَمْ يَكُنْ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ قَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بتوں کی موجودگی میں بیت اللہ کے اندر داخل ہونے سے احتراز فرمایا : نبی ﷺ کے حکم پر وہاں سے سب چیزیں نکال لی گئیں، ان میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی مورتیاں بھی تھیں جن کے ہاتھوں میں پانسے کے تیر تھے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی مار ہو ان پر، یہ جانتے بھی تھے کہ ان دونوں حضرات نے کبھی ان تیروں سے کسی چیز کو تقسیم نہیں کیا، پھر آپ ﷺ نے بیت اللہ میں داخل ہو کر اس کے کونوں میں اللہ کی کبریائی کا ترانہ بلند کیا اور باہر نکل آئے، اس موقع پر آپ ﷺ نے بیت اللہ میں نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجَ صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا السَّلَام فِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمْ اللَّهُ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اقْتَسَمَا بِهَا قَطُّ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِي الْبَيْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں مزدلفہ سے سامان کے ساتھ رات ہی کو بھیج دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي الثَّقَلِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) صرف کچی کھجور کھانے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی ﷺ نے بنو عبد القیس کے وفد کو " مزاء " منع کیا ہے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس سے مراد کچی کھجور ہی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَرِهَ نَبِيذَ الْبُسْرِ وَحْدَهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الْقَيْسِ عَنْ الْمُزَّاءِ فَأَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرُ وَحْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ قَالَ عَفَّانُ بِ الم تَنْزِيلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ أَبِي السَّمِيطِ قَالَ قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جو شخص اپنے دو کم سن بچے ذخیرے کے طور پر آگے بھیج چکا ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے عرض کیا میرے والد آپ پر قربان ہوں، یہ بتائیے کہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہو تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا اے توفیق دی ہوئی عورت ! اس کا بھی یہی حکم ہے، انہوں نے پھر پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ کی امت میں سے اگر کسی کا کوئی ذخیرہ ہی نہ ہو تو ؟ فرمایا پھر میں اپنی امت کا ذخیرہ ہوں گا اور انہیں مجھ جیسا کوئی نہیں ملے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ بِأَبِي فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ فَقَالَ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جبکہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور انہیں غافلوں میں لکھ دے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَ أَبُو سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمْ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيُكْتَبُنَّ مِنْ الْغَافِلِينَ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں داخل ہوا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا، وہ سر اٹھاتے ہوئے، جھکاتے ہوئے اور دو رکعتوں سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتا تھا، میں نے عجیب سمجھ کر یہ واقعہ حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ تیری ماں نہ رہے، نبی اکرم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنِي حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ وَإِذَا خَفَضَ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ فَذَكَرْتُهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَا أُمَّ لَكَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں تھے، میں نے رات کے وقت ان کے لئے وضو کا پانی رکھا، حضرت میمونہ (رض) نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ یہ پانی آپ کے لئے عبداللہ بن عباس (رض) نے رکھا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور کتاب کی تاویل و تفسیر سمجھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ وَضَعَ لَكَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان بن مظعون (رض) کا انتقال ہوا تو ایک خاتون کہنے لگی کہ عثمان ! تمہیں جنت مبارک ہو ! نبی ﷺ نے اس خاتون کی طرف غصے بھری نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ کے شہسوار اور ساتھی تھے، (اس لئے مرنے کے بعد جنت ہی میں جائیں گے) نبی ﷺ نے فرمایا بخدا ! مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود معلوم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہوگا، یہ سن کر لوگ حضرت عثمان بن مظعون (رض) کے بارے ڈر گئے لیکن جب نبی ﷺ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب (رض) کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے آگے جانے والے بہترین ساتھی عثمان بن مظعون سے جا ملو (جس سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہوگیا) اس پر عورتیں رونے لگیں، حضرت عمر (رض) انہیں کوڑوں سے مارنے لگے، نبی ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا عمر ! رک جاؤ، پھر خواتین سے فرمایا کہ تمہیں رونے کی اجازت ہے لیکن شیطان کی چیخ و پکار سے اپنے آپ کو بچاؤ، پھر فرمایا کہ جب تک یہ آنکھ اور دل کا معاملہ رہے تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور باعث رحمت ہوتا ہے اور جب ہاتھ اور زبان تک نوبت پہنچ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، پھر نبی ﷺ قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور حضرت فاطمہ (رض) ان کے پہلو میں روتی رہیں اور نبی ﷺ شفقت سے حضرت فاطمہ (رض) کی آنکھیں اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلَيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ مَظْعُونٍ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظْرَةَ غَضَبٍ فَقَالَ لَهَا مَا يُدْرِيكِ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي قَالَ عَفَّانُ وَلَا بِهِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ ذَلِكَ لِعُثْمَانَ وَكَانَ مِنْ خِيَارِهِمْ حَتَّى مَاتَتْ رُقَيَّةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْحَقِي بِسَلَفِنَا الْخَيْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ وَبَكَتْ النِّسَاءُ فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ دَعْهُنَّ يَبْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْمَا يَكُنْ مِنْ الْقَلْبِ وَالْعَيْنِ فَمِنْ اللَّهِ وَالرَّحْمَةِ وَمَهْمَا كَانَ مِنْ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنْ الشَّيْطَانِ وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گذر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، مجھ پتہ ہی نہیں چلا کہ نبی ﷺ نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گدی سے پکڑ کر پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی ﷺ کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی ﷺ کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الْغِلْمَانِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا فَقُلْتُ مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ قَالَ فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي فَأَخَذَ بِقَفَايَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً فَقَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ وَكَانَ كَاتِبَهُ فَسَعَيْتُ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ فَقُلْتُ أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے بغیر اذان کے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا پھر حضرت بلال (رض) کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور واپس جاتے ہوئے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا کہ ان عورتوں کے پاس جا کر انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دو ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّا مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ
tahqiq

তাহকীক: