আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ২৯৪১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کروایا، اس وقت اس کی بیوی امید سے تھی، عجلانی نے کہا کہ بخدا ! درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اس کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور عراس کے بال سفید مائل بہ سرخی تھے، اس عورت کو شریک بن سحماء کے ساتھ متہم کیا گیا تھا اور اس کے یہاں جو بچہ پیدا ہوا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا اور اس کے بازو بھرے ہوئے تھے، ابن شداد نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میں گواہوں کے بغیر کسی پر حد رجم جاری کرتا، تو اس عورت پر کرتا ؟ فرمایا نہیں وہ تو وہ عورت تھی جن سے زمانہ اسلام میں لعان کیا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاعَنَ بَيْنَ الْعَجْلَانِيِّ وَامْرَأَتِهِ قَالَ وَكَانَتْ حُبْلَى فَقَالَ وَاللَّهِ مَا قَرَبْتُهَا مُنْذُ عَفَرْنَا وَالْعَفْرُ أَنْ يُسْقَى النَّخْلُ بَعْدَ أَنْ يُتْرَكَ مِنْ السَّقْيِ بَعْدَ الْإِبَارِ بِشَهْرَيْنِ قَالَ وَكَانَ زَوْجُهَا حَمْشَ السَّاقَيْنِ وَالذِّرَاعَيْنِ أَصْهَبَ الشَّعَرَةِ وَكَانَ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ ابْنَ السَّحْمَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ أَجْلَى جَعْدًا عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ قَالَ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَهِيَ الْمَرْأَةُ الَّتِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ رَاجِمًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ قَدْ أَعْلَنَتْ فِي الْإِسْلَامِ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِيهِ عَبْلَ الذِّرَاعَيْنِ خَدْلَ السَّاقَيْنِ وَقَالَ الْهَاشِمِيُّ خَدْلٌ وَقَالَ بَعْدَ الْإِبَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور تازہ وضو نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَرٍو حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عُضْوًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں سرف نامی جگہ میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا ہے اور حج سے فراغت کے بعد جب نبی ﷺ روانہ ہوئے تو اسی مقام پر پہنچ کر ان کے ساتھ شب باشی فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ وَيَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ وَفِي حَدِيثِ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بَنَى بِهَا بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفُ فَلَمَّا قَضَى نُسُكَهُ أَعْرَسَ بِهَا بِذَلِكَ الْمَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ کچی اور پکی کھجور یا کشمش اور کھجور کو خلط ملط کر کے اس کی نبیذ بنا کر استعمال کریں اور اس نوعیت کا ایک خط اہل جرش کی طرف بھی لکھا تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا وَعَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا قَالَ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لئے ایک ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوسکے گے، اس وقت گھر میں کافی سارے لوگ تھے، جن میں حضرت عمر فاروق (رض) بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ پر شدت تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن کریم تو موجود ہے ہی اور کتاب اللہ ہمارے لئے کافی ہے، اس پر لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا، بعض لوگوں کی رائے یہ تھی کہ نبی ﷺ کی خدمت میں لکھنے کا سامان پیش کردو تاکہ وہ تمہیں کچھ لکھوا دیں اور بعض کی رائے حضرت عمر (رض) والی تھی، جب شور و شغب اور اختلاف زیادہ ہونے لگا تو نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس پر حضرت ابن عباس (رض) فرماتے تھے کہ ہائے افسوس ! لوگوں کے اختلاف اور شور و شغب کی وجہ سے نبی ﷺ کی اس تحریر میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا وَعَنْ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ أَنْ يُخْلَطَا جَمِيعًا قَالَ وَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ جُرَشٍ أَنْ لَا يَخْلِطُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو دس محرم کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس دن جو تم روزہ رکھتے ہو، اس کی کوئی خاص وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ بڑا اچھا دن ہے، اس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطاء فرمائی تھی، جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے روزہ رکھا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری نسبت موسیٰ کا مجھ پر زیادہ حق بنتا ہے، چناچہ نبی ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور صحابہ (رض) کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ يَوْمَ نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ فَصَامَهُ وَأَمَر بِصِيَامِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ وضو کرتے ہوئے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دو عالم ﷺ فرمایا کرتے تھے حج میں گوشہ نشینی کی کوئی حیثیت نہیں ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كُلَّ عُضْوٍ مِنْهُ غَسْلَةً وَاحِدَةً ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آکر انہیں پکارتے ہوئے کہنے لگا کہ اس نبیذ کے ذریعے آپ کس سنت کی پیروی کر رہے ہیں یا آپ کی نگاہوں میں یہ شہد اور دودھ سے بھی زیادہ ہلکی چیز ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ حضرت عباس (رض) کے پاس آئے اور فرمایا پانی پلاؤ، حضرت عباس (رض) کہنے لگے کہ یہ نبیذ تو گدلی اور غبار آلود ہوگئی ہے، ہم آپ کو دودھ یا شہد نہ پلائیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کو جو پلا رہے ہو، ہمیں بھی وہی پلا دو ، چناچہ وہ نبی ﷺ کے پاس نبیذ کے دو برتن لے کر آئے، اس وقت نبی ﷺ کے ساتھ مہاجرین و انصار دونوں تھے، نبی ﷺ نے جب نوش فرما لیا تو سیراب ہونے سے پہلے ہی اسے ہٹا لیا اور اپنا سر اٹھا کر فرمایا تم نے خوب کیا، اسی طرح کیا کرو، حضرت ابن عباس (رض) یہ کہہ کر فرمانے لگے کہ میرے نزدیک نبی ﷺ کی رضا مندی اس بات سے زیادہ اہم ہے کہ ان کے کونوں سے دودھ اور شہد بہنے لگے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَدَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ أَنَّ رَجُلًا نَادَى ابْنَ عَبَّاسٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ سُنَّةً تَبْتَغُونَ بِهَذَا النَّبِيذِ أَوْ هُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْعَسَلِ وَاللَّبَنِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فَقَالَ اسْقُونَا فَقَالَ إِنَّ هَذَا النَّبِيذَ شَرَابٌ قَدْ مُغِثَ وَمُرِثَ أَفَلَا نَسْقِيكَ لَبَنًا وَعَسَلًا فَقَالَ اسْقُونِي مِمَّا تَسْقُونَ مِنْهُ النَّاسَ قَالَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ بِعِسَاسٍ فِيهَا النَّبِيذُ فَلَمَّا شَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِلَ قَبْلَ أَنْ يَرْوَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَحْسَنْتُمْ هَكَذَا فَاصْنَعُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَرِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَسِيلَ شِعَابُهَا عَلَيْنَا لَبَنًا وَعَسَلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৪৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جب محرم کو نیچے باندھنے کے لئے تہبند نہ ملے تو اسے شلوار پہن لینی چاہئے اور اگر جوتی نہ ملے تو موزے پہن لینے چاہئیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا وَوَجَدَ سَرَاوِيلَ فَلْيَلْبَسْهَا وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ وَوَجَدَ خُفَّيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں بھاری بھرکم عورت ہوں اور حج کا ارادہ رکھتی ہوں، آپ مجھے کس طرح احرام باندھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم احرام باندھتے وقت شرط لگالو کہ میں وہیں حلال ہوجاؤں گی جہاں اے اللہ ! آپ نے مجھے روک دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُخْبِرَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي كَيْفَ أُهِلُّ قَالَ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي قَالَ فَأَدْرَكَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے قبرستان جا کر (غیر شرعی کام کرنے والی) عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان لوگوں پر بھی جو قبروں پر مسجدیں بناتے اور ان پر چراغاں کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَاتِ الْقُبُورِ وَالْمُتَّخِذِينَ عَلَيْهَا الْمَسَاجِدَ وَالسُّرُجَ قَالَ حَجَّاجٌ قَالَ شُعْبَةُ أُرَهُ يَعْنِي الْيَهُودَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ان سے عرض کیا کہ جب میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو کتنی رکعتیں پڑھوں ؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں کیونکہ یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ كَيْفَ أُصَلِّي إِذَا كُنْتُ بِمَكَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ اور حضرت میمونہ (رض) پر غسل واجب تھا، حضرت میمونہ (رض) نے ایک ٹب کے پانی سے غسل جنابت فرمایا اور نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا چاہا تو حضرت میمونہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اس سے تو میں نے غسل کیا ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَجْنَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ فَاغْتَسَلَتْ مَيْمُونَةُ فِي جَفْنَةٍ وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ اغْتَسَلْتُ مِنْهُ فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَاءَ لَيْسَتْ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ أَوْ قَالَ إِنَّ الْمَاءَ لَا يَنْجُسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا نبی ﷺ نے حج تمتع کیا ہے، عروہ بن زبیر (رح) کہنے لگے کہ حضرات شیخین تو اس سے منع کرتے رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے پوچھا عروہ کیا کہہ رہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ کہہ رہے ہیں حضرات شیخین نے تو اس سے منع فرمایا ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا لگتا ہے کہ یہ لوگ ہلاک ہو کر رہیں گے، میں کہہ رہا ہوں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرات ابوبکر و عمر (رض) نے منع کیا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ أُرَاهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا يَقُولُ عُرَيَّةُ قَالَ يَقُولُ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أُرَاهُمْ سَيَهْلِكُونَ أَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ نَهَى أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا حکم اس تاکید کے ساتھ دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں اس بارے میں مجھ پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہ ہوجائے ( اور میری امت اس حکم کو پورا نہ کرسکے)
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَنْزِلُ بِهِ عَلَيَّ قُرْآنٌ أَوْ وَحْيٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ دودھ پیا اور بعد میں کلی کر کے فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَنًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد " اے اہل ایمان ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اولی الامر کی " حضرت عبداللہ بن حذافہ قیس بن عدی سہمی (رض) کے بارے نازل ہوا ہے جبکہ نبی ﷺ انہیں ایک سرئیے میں روانہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نَزَلَتْ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ إِذْ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّرِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৫৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تم جن سورتوں کو مفصلات کہتے ہو، در حقیقت وہ محکمات ہیں، نبی ﷺ کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَمَعْتُ الْمُحْكَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ حِجَجٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ وَمَا الْمُحْكَمُ قَالَ الْمُفَصَّلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৯৬০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، حضرت حسن (رض) کھڑے ہوگے اور حضرت ابن عباس (رض) بیٹھے رہے، امام حسن (رض) نے فرمایا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گذرا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تھے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن بعد میں آپ ﷺ بیٹھے رہنے لگے تھے۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ جَنَازَةً مَرَّتْ بِالْحَسَنِ وَابْنِ عَبَّاسٍ فَقَامَ الْحَسَنُ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ الْحَسَنُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَامَ وَقَعَدَ
tahqiq

তাহকীক: