আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ৩০০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ وہ اور بنو ہاشم کا ایک غلام گدھے پر سوار ہو کر نبی ﷺ کے سامنے سے گذرا، لیکن نبی ﷺ نے اپنی نماز نہیں توڑی، اسی طرح ایک مرتبہ، بنو عبد المطلب کی دو بچیاں آکر نبی ﷺ کے گھٹنوں سے چمٹ گئیں، نبی ﷺ نے ان کو ہٹا دیا اور برابر نماز پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَالَ عَفَّانُ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنِيهِ الْحَكَمُ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ صُهَيْبٍ قُلْتُ مَنْ صُهَيْبٌ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ هُوَ وَغُلَامٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ وَجَاءَتْ جَارِيَتَانِ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا أَوْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَنْصَرِفْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صعب بن جثامہ (رض) نے نبی ﷺ کی خدمت میں ایک حمار کی ٹانگ پیش کی، لیکن نبی ﷺ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم محرم ہیں اس وقت اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ بَهْزٌ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِقُدَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَجُزَ حِمَارٍ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطُرُ دَمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں رات کو رک گیا، نبی ﷺ نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے ؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ أَنَامَ الْغُلَامُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسًا ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں رات کو رک گیا، نبی ﷺ نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے ؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقَالَ نَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باد صبا (وہ ہوا جو باب کعبہ کی طرف سے آتی ہے) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد کو پچھم سے چلنے والی ہوا سے تباہ کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا، اس لئے تم میں سے جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے، اس لئے کہ اب عمرہ قیامت تک کے لئے حج میں داخل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ رَوْحٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَقَدْ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کھجور کے درختوں کی بیع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ اس میں سے خود چکھ لے یا کسی دوسرے کو چکھادے اور یہاں تک کہ اس کا وزن کرلیا جائے، میں نے پوچھاوزن سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جس کے پاس کھجوریں، وہ وزن کرے تاکہ انہیں الگ کرکے جمع کرسکے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يُوزَنُ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، اس دوران ایک بکری کا بچہ آپ ﷺ کے آگے سے گذرنے لگا لیکن نبی ﷺ اس سے بچنے لگے (اسے اپنے آگے سے نہیں گذرنے دیا)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فَجَعَلَ جَدْيٌ يُرِيدُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ وَيَتَأَخَّرُ قَالَ حَجَّاجٌ يَتَّقِيهِ وَيَتَأَخَّرُ حَتَّى يُرَى وَرَاءَ الْجَدْيِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں رات کو رک گیا، نبی ﷺ نماز عشاء کے بعد آئے، چار رکعتیں پڑھیں اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو فرمایا بچہ سو رہا ہے ؟ اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا، پھر نبی ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھیں اور سوگئے، حتی کہ میں نے ان کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر باہر تشریف لا کر نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ أَنَامَ الْغُلَيِّمُ أَوْ الْغُلَامُ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ شَيْئًا نَحْوَ هَذَا قَالَ ثُمَّ نَامَ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ قَالَ لَا أَحْفَظُ وُضُوءَهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ قَالَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَالَ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے حوالے سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ ﷺ روزے سے تھے، جب قدید، نامی جگہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے دودھ کا ایک گلاس منگوایا اور اسے نوش فرما لیا اور لوگوں نے بھی روزہ ختم کرلیا یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ وَهُوَ يَغْزُو مَكَّةَ فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَهُ قَالَ ثُمَّ أَفْطَرَ أَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مَكَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص ہدیہ دینے کے بعد واپس مانگتا ہے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قئی کر کے اسے دوبارہ چاٹ لے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) بن متی سے بہتر ہوں اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے، نیز نبی ﷺ نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبے قد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ وسفید اور گھنگریالے بالوں والے تھے اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔
حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ قَالَ وَذَكَرَ أَنَّهُ أُسْرِيَ بِهِ وَأَنَّهُ رَأَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام آدَمَ طُوَالًا كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عِيسَى مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ جَعْدًا وَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى الدَّجَّالَ وَمَالِكًا خَازِنَ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ یوں کہے کہ میں حضرت یونس (علیہ السلام) بن متی سے بہترہوں اور اپنے باپ کی طرف اپنی نسبت کرے، نیز نبی ﷺ نے شب معراج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ گندمی رنگ، لمبے قد اور قبیلہ شنوءہ کے آدمی محسوس ہوئے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ درمیانے قد، سرخ وسفید اور گھنگریالے بالوں والے تھے اور دجال اور داروغہ جہنم مالک کو بھی دیکھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ الرَّيَاحِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ وَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ فَقَالَ مُوسَى آدَمُ طُوَالٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ وَقَالَ عِيسَى جَعْدٌ مَرْبُوعٌ وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ وَذَكَرَ الدَّجَّالَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو حسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا اے ابو العباس ! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرلے وہ حلال ہوجاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَعَّبَتْ بِالنَّاسِ أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابوحسان کہتے ہیں کہ بنو ہجیم کے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا اے ابو العباس ! لوگوں میں یہ فتوی جو بہت مشہور ہوا ہے اس کی کیا حقیقت ہے کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرلے وہ حلال ہوجاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے اگرچہ تمہیں ناگوار ہی گذرے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ يُقَالُ لَهُ فُلَانُ بْنُ بُجَيْلٍ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا هَذِهِ الْفَتْوَى الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ النَّاسَ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ فَقَالَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ رَغِمْتُمْ قَالَ شُعْبَةُ أَنَا أَقُولُ شَغَبَتْ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ هِيَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ قَدْ تَفَشَّغَ فِي النَّاسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں کو میدان منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں ایک گدھی پر سوا ہو کر آیا، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا اور اس وقت میں قریب البلوغ تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ فَتَرَكْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ الصَّفِّ فَدَخَلْتُ فِي الصَّلَاةِ وَقَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ قَالَ وَقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ وَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر آب زمزم پیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب " حروریہ " فرقے نے خروج کیا تو وہ سب سے کٹ گئے، میں نے ان سے کہا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکین سے صلح کی تو حضرت علی (رض) سے فرمایا علی ! لکھو، یہ وہ معاہدہ ہے، جس کے مطابق محمد رسول اللہ ﷺ نے صلح کی ہے، مشرکین قریش کہنے لگے کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول سمجھتے تو کبھی آپ سے قتال نہ کرتے، نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا علی ! اسے مٹا دو ، اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں، علی ! اسے مٹا دو اور یہ لکھو کہ یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے کیا ہے۔ میں نے خوارج سے کہا بخدا ! اللہ کے رسول حضرت علی (رض) سے بہتر تھے اور انہوں نے اپنا نام مٹا دیا تھا لیکن تحریر سے اسے مٹا دینے کی وجہ سے وہ نبوت سے ہی نہیں چلے گئے تھے، کیا میں اس سے نکل آیا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں !
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتْ الْحَرُورِيَّةُ اعْتَزَلُوا فَقُلْتُ لَهُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ صَالَحَ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ لِعَلِيٍّ اكْتُبْ يَا عَلِيُّ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا قَاتَلْنَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْحُ يَا عَلِيُّ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ امْحُ يَا عَلِيُّ وَاكْتُبْ هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عَلِيٍّ وَقَدْ مَحَا نَفْسَهُ وَلَمْ يَكُنْ مَحْوُهُ ذَلِكَ يُمْحَاهُ مِنْ النُّبُوَّةِ أَخَرَجْتُ مِنْ هَذِهِ قَالُوا نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابن ابی ملیکہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوی کی بناء پر چیزیں دی جانے لگیں تو بہت سے لوگ جھوٹے جانی اور مالی دعوی کرنے لگیں گے، البتہ مدعی علیہ کے ذمے قسم ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ ادَّعَى نَاسٌ مِنْ النَّاسِ دِمَاءَ نَاسٍ وَأَمْوَالَهُمْ وَلَكِنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
তাহকীক: