আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ৩০২১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا جب وصال ہوا تو آپ ﷺ نے کسی کو کوئی وصیت نہیں فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ثرید کا ایک پیالہ پیش کیا گیا تو ارشاد فرمایا پیالے (برتن) کے کناروں سے کھانا کھایا کرو، درمیان سے نہ کھایا کرو، کیونکہ کھانے کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ( اور سب طرف پھیلتی ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسْطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسْطِهَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ مِنْ جَوَانِبِهَا أَوْ مِنْ حَافَتَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے آیت قرآنی " لاتحرک بہ لسانک لتعجل بہ " کی تفسیر میں منقول ہے کہ نبی ﷺ نزول وحی کے وقت کچھ سختی محسوس کرتے تھے اور وحی کو محفوظ کرنے کے خیال سے اپنے ہونٹوں کو ہلاتے رہتے تھے، یہ کہہ کر حضرت ابن عباس (رض) نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر (رح) سے فرمایا کہ میں تمہیں اس طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جیسے نبی ﷺ ہلاتے تھے، پھر ان کی نقل کی ان کے شاگرد سعید بن جبیر (رح) نے اپنے شاگرد کے سامنے کی، بہرحال ! اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ اپنی زبان کو جلدی جلدی مت حرکت دیا کریں، اس قرآن کو آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبانی اسے پڑھوانا ہماری ذمہ داری ہے، جب ہم پڑھ رہے ہوں تو آپ خاموش رہ کر اسے توجہ سے سنئے، پھر اس کی وضاحت بھی ہمارے ذمہ ہے، اس کے بعد نبی ﷺ جبرئیل (علیہ السلام) کے واپس چلے جانے کے بعد اسی طرح پڑھ کر سنا دیا کرتے تھے جیسے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے نبی ﷺ کو پڑھایا ہوتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنْ التَّنْزِيلِ شِدَّةً فَكَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ قَالَ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّكُ شَفَتَيَّ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ وَقَالَ لِي سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّكُ كَمَا رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ ثُمَّ نَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ كَمَا أَقْرَأَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم بنو عبد المطلب کے کچھ نوعمر لڑکوں کو مزدلفہ سے ہمارے اپنے گدھوں پر سوار کر کے پہلے ہی بھیج دیا تھا اور ہماری ٹانگوں پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا تھا پیارے بچو ! طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اب میرا خیال نہیں ہے کہ کوئی عقلمند طلوع آفتاب سے پہلے رمی کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلَى حُمُرَاتِنَا لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ أَبَنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا إِخَالُ أَحَدًا يَرْمِي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بکری کا بچہ نبی ﷺ کے کسی حجرے سے نکلا اور نبی ﷺ کے آگے سے گذرنے لگا تو نبی ﷺ نے اپنی نماز نہیں توڑی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي الْعُرَنِيَّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَدْيًا سَقَطَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَقْطَعْ صَلَاتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی ﷺ رات کو بیدار ہوئے، قضاء حاجت کی، پھر آکر چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا اور دوبارہ سوگئے، پھر کچھ رات گذرنے کے بعد دوبارہ بیدار ہوئے اور مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا جس میں خوب مبالغہ کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نبی ﷺ کا انتظار کرتا رہا تاکہ آپ ﷺ مجھے دیکھ نہ سکیں، پھر کھڑے ہو کر میں نے بھی وہی کیا جو نبی ﷺ نے کیا تھا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا۔ نبی ﷺ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ ﷺ کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی ﷺ اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی ﷺ کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی، جس میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل تھیں، اس کے بعد نبی ﷺ لیٹ کر سو گئے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، تھوڑی دیر بعد حضرت بلال (رض) نے آکر نماز کی اطلاع دی، تو آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوگئے اور تازہ وضو نہیں کیا۔ اور نبی ﷺ اپنی نماز یا سجدے میں یہ دعاء کرنے لگے کہ اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرما دے، میرے کان، میری آنکھ، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے آگے، میرے پیچھے، میرے اوپر اور میرے نیچے نور پیدا فرما اور مجھے خود سراپا نور بنا دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَتَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَامَّتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ قَالَ فَلَقِيتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي قَالَ وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا اس کا حج ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجرم لے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے تھے تو مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھی جاسکتی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ التَّمِيمِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِذَا سَجَدَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْت أَبِي يَقُولُ كَانَ شُعْبَةُ يَتَفَقَّدُ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ فَقَالَ يَوْمًا مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْغُلَامُ الْجَمِيلُ يَعْنِي شَبَابَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০২৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس کھال کو دباغت دے لی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّى حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
یزید بن ہرمز کہتے ہیں ایک مرتبہ نجدہ بن عامر نے حضرت ابن عباس (رض) سے خط لکھ کر چند سوالات پوچھے، جس وقت حضرت ابن عباس (رض) نے اس کا خط پڑھا اور اس کا جواب لکھ رہے تھے، میں وہاں موجود تھا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی اور آخر میں یہ کہا۔ آپ نے پوچھا ہے کہ کیا نبی ﷺ نے مشرکین کے کسی بچے کو قتل کیا ہے ؟ تو یاد رکھئے ! نبی ﷺ نے ان میں سے کسی کے بچے کو قتل نہیں کیا اور آپ بھی کسی کو قتل نہ کریں، ہاں ! ہاں ! اگر آپ کو بھی اسی طرح کسی بچے کے بارے پتہ چل جائے جیسے حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے پتہ چل گیا تھا جسے انہوں نے مار دیا تھا تو بات جدا ہے) اور تمہارے لئے ممکن نہیں ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ كِتَابَهُ وَحِينَ كَتَبَ جَوَابَهُ فَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّكَ سَأَلْتَنِي وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ وَسَأَلْتَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِكِينَ أَحَدًا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی ﷺ کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ عَلِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَقِيلَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ السُّورَةَ كُلَّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ پکڑا، اسے اپنی پالکی میں سے نکالا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ! ﷺ کیا اس کا حج ہوسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے اہل خانہ میں سے کمزوروں (عورتوں اور بچوں) کو مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کردیا اور انہیں وصیت فرمانے لگے کہ طلوع آفتاب سے پہلے جمرہ عقبہ کی رمی نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ وَقَالَ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم جمرہ عقبہ کی رمی کر چکو تو عورت کے علاوہ ہر چیز تمہارے لئے حلال ہوجائے گی، ایک آدمی نے پوچھا کیا خوشبو لگانا بھی جائز ہوجائے گا ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں نے تو خود اپنی آنکھوں سے نبی ﷺ کو اپنے سر پر مسک نامی خوشبو لگاتے ہوئے دیکھا ہے، کیا وہ خوشبو ہے یا نہیں ؟
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ وَالطِّيبُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَاكَ أَمْ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اہل مشرق کے لئے مقام عقیق کو میقات قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ الْعَقِيقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے دائیں جانب سے اپنی اونٹنی کا خون نکال کر اس کے اوپر مل دیا، پھر اس خون کو صاف کردیا اور اس کے گلے میں نعلین کو لٹکا دیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ وَأَشْعَرَ هَدْيَهُ فِي شِقِّ السَّنَامِ الْأَيْمَنِ وَأَمَاطَ عَنْهُ الدَّمَ وَقَلَّدَ نَعْلَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا صحت اور فراغت اللہ کی نعمتوں میں سے دو ایسی نعمتیں ہیں جن کے بارے بہت سے لوگ دھوکے کا شکار رہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ الْفَرَاغُ وَالصِّحَّةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৩৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
ابو البختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ذات عرق میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آگیا، ہم نے ایک آدمی کو حضرت ابن عباس (رض) کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی ﷺ نے اسے چاند دیکھنے تک طویل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ تَرَاءَيْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩০৪০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر نکلے جب قدید نامی جگہ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے روزہ ختم کردیا اور مکہ مکرمہ پہنچنے تک روزہ نہیں رکھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ صَائِمًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا أَفْطَرَ فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ
tahqiq

তাহকীক: