আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬২৬ টি

হাদীস নং: ১৮৬১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے تدفین کے بعد ایک صاحب کی قبر پر نماز جنازہ پڑھائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَاحِبِ قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے لئے کشمش پانی میں بھگوئی جاتی تھی، نبی ﷺ اسے آج، کل اور پرسوں کی شام تک نوش فرماتے، اس کے بعد کسی دوسرے کو پلا دیتے یا پھر بہانے کا حکم دے دیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ يُنْقَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّبِيبُ قَالَ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَى مَسَاءِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ فَيُسْقَى أَوْ يُهَرَاقُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے کہا " جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں " نبی ﷺ نے فرمایا (کیا تو مجھے اور اللہ کو برابر کر رہا ہے ؟ ) یوں کہو جو اللہ تن تنہا چاہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَجْلَحُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ فَقَالَ بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صحراء میں نماز پڑھی، اس وقت آپ ﷺ کے سامنے بطور سترہ کے کچھ نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي فَضَاءٍ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کو کسی سریہ میں بھیجا اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہ سوچ کر آگے روانہ کردیا کہ میں پیچھے رہ کر نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ لوں، پھر ان کے ساتھ جا ملوں گا، جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح روانہ ہونے سے کس چیز نے روکا ؟ عرض کیا کہ میں نے سوچا کہ آپ کے ساتھ جمعہ پڑھ کر ان سے جاملوں گا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اگر آپ زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کردیں تو آپ ان کی اس صبح کو حاصل نہیں کرسکیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَالَ فَقَدَّمَ أَصْحَابَهُ وَقَالَ أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ مَا أَدْرَكْتَ غَدْوَتَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عطاء کہتے ہیں کہ نجدہ حروری نے ایک خط میں حضرت ابن عباس (رض) سے بچوں کو قتل کرنے کے متعلق دریافت کیا اور یہ پوچھا کہ " خمس " کس کا حق ہے ؟ بچے سے یتیمی کا لفظ کب ختم ہوتا ہے ؟ کیا عورتوں کو جنگ میں لے کر نکلا جاسکتا ہے ؟ کیا غلام کا مال غنیمت میں کوئی حصہ ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے جواب میں لکھا کہ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو اگر تم خضر (علیہ السلام) ہو کر مومن اور کافر میں فرق کرسکتے ہو تو ضرور قتل کرو، جہاں تک خمس کا مسئلہ ہے تو ہم یہی کہتے تھے کہ یہ ہمارا حق ہے لیکن ہماری قوم کا خیال ہے کہ ہمارا حق نہیں ہے، رہا عورتوں کا معاملہ تو نبی ﷺ اپنے ساتھ عورتوں کو جنگ میں لے جایا کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں لیکن جنگ میں شریک نہیں ہوتی تھیں اور بچے سے یتیمی کا داغ اس کے بالغ ہونے کے بعد دھل جاتا ہے اور باقی رہا غلام تو مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے، البتہ انہیں بھی تھوڑا بہت دے دیا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنْ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنْ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنْ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عشرہ ذی الحجہ کے علاوہ کسی دن میں اللہ کو نیک اعمال اتنے محبوب نہیں جتنے ان دس دنوں میں محبوب ہیں، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں ؟ فرمایا ہاں ! البتہ وہ آدمی جو اپنی جان مال کو لے کر نکلا اور کچھ بھی واپس نہ لایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ يَعْنِي أَيَّامَ الْعَشْرِ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلًا خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ لَيْسَ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ يَعْنِي مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی، یا رسول اللہ ! ﷺ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کرسکتی ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں ؟ اس نے کہا کیوں نہیں، فرمایا پھر اللہ کا قرض ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِي عَنْهَا قَالَ فَقَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৬৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں آئندہ سال تک زندہ رہا تو دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی رکھوں گا۔
حَدَّثَنِي أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ الْيَوْمَ التَّاسِعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے حج اور تمام عمروں میں طواف کے درمیان رمل کیا ہے، حضرت صدیق اکبر (رض) عنہ، عمرفاروق، عثمان غنی اور تمام خلفاء (رض) نے بھی کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَفِي عُمَرِهِ كُلِّهَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ عَنْ مِهْرَانَ أَبُو صَفْوَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا حج کا ارادہ ہو اسے یہ ارادہ جلد پورا کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْمُحَارِبِيَّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مَهْرَانَ أَبُو صَفْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھائی اس میں آٹھ رکوع اور چار سجدے کئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ ادا کر دے (اس کی بیوی مطلقہ نہیں ہوگی) اور دلیل میں یہ آیت پیش کرتے تھے کہ تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا قَالَ هِشَامٌ وَكَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ایک عبد مامور تھے، بخدا ! انہوں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا، انہوں نے وہ پہنچا دیا اور لوگوں کو چھوڑ کر خصوصیت کے ساتھ انہوں نے ہمیں کوئی بات نہیں بتائی، سوائے تین چیزوں کے، ایک تو نبی ﷺ نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ وضو مکمل کرنے کا حکم دیا، دوسرا یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں اور تیسرا یہ کہ ہم کسی گدھے کو گھوڑی پر نہ کدوائیں، راوی کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن حسن سے ملا اور ان سے کہا کہ عبداللہ بن عبیداللہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ بنو ہاشم میں گھوڑوں کی تعداد تھوڑی ہے، وہ ان میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَالِمٍ أَبُو جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ وَاللَّهِ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ لَيْسَ ثَلَاثًا أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ قَالَ مُوسَى فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حَسَنٍ فَقُلْتُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي كَذَا وَكَذَا فَقَالَ إِنَّ الْخَيْلَ كَانَتْ فِي بَنِي هَاشِمٍ قَلِيلَةً فَأَحَبَّ أَنْ تَكْثُرَ فِيهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید (رض) ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت نبی ﷺ حضرت میمونہ (رض) کے یہاں موجود تھے، حضرت میمونہ (رض) نے فرمایا کہ کیا ہم آپ کو وہ کھانا نہ کھلائیں جو ہمیں ام عفیق نے ہدیہ کے طور پر بھیجا ہے، انہوں نے کہا کیوں نہیں، چناچہ ہمارے سامنے دو بھنی ہوئی گوہ لائی گئیں، نبی ﷺ نے انہیں دیکھ کر ایک طرف تھوک پھینکا، حضرت خالد بن ولید (رض) کہنے لگے کہ شاید آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! پھر حضرت میمونہ (رض) نے فرمایا کہ کیا میں آپ کے سامنے وہ دودھ پیش نہ کروں جو ہمارے پاس ہدیہ کے طور پر آیا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسل نے فرمایا کیوں نہیں، چناچہ دودھ کا ایک برتن لایا گیا، نبی ﷺ نے اسے نوش فرمایا : میں نبی ﷺ کی دائیں جانب تھا اور حضرت خالد بن ولید (رض) بائیں جانب، نبی ﷺ نے فرمایا پینے کا حق تو تمہارا ہے، لیکن اگر تم چاہو تو حضرت خالد (رض) کو اپنے اوپر ترجیح دے لو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ کھانا کھلائے، وہ یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس سے بہترین کھلا اور جس شخص کو اللہ دودھ پلائے، وہ یہ دعا کرے کہ اللہ ! ہمارے لئے اس میں برکت عطاء فرما اور اس میں مزید اضافہ فرما، کیونکہ کھانے اور پینے دونوں کی کفایت دودھ کے علاوہ کوئی چیز نہیں کرسکتی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقَالَتْ أَلَا نُطْعِمُكُمْ مِنْ هَدِيَّةٍ أَهْدَتْهَا لَنَا أُمُّ حُفَيْدٍ قَالَ فَجِيءَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ كَأَنَّكَ تَقْذَرُهُ قَالَ أَجَلْ قَالَتْ أَلَا أُسْقِيكُمْ مِنْ لَبَنٍ أَهْدَتْهُ لَنَا فَقَالَ بَلَى قَالَ فَجِيءَ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَخَالِدٌ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لِي الشَّرْبَةُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ آثَرْتَ بِهَا خَالِدًا فَقُلْتُ مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِسُؤْرِكَ عَلَيَّ أَحَدًا فَقَالَ مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرَ اللَّبَنِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُمِّ حُفَيْدٍ أَهْدَتْ إِلَى أُخْتِهَا مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر دو قبروں پر ہوا، فرمایا کہ ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا، اس کے بعد نبی ﷺ نے ایک ٹہنی لے کر اسے چیر کردو حصوں میں تقسیم کیا اور ہر قبر پر ایک ایک حصہ گاڑھ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا شاید ان کے خشک ہونے تک ان کے عذاب میں تخفیف رہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے جو یہاں مذکورہ ہوئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَكِيعٌ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَنْزِهُ مِنْ الْبَوْلِ قَالَ وَكِيعٌ مِنْ بَوْلِهِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا قَالَ وَكِيعٌ تَيْبَسَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قَبْرِهِمَا فَذَكَرَهُ وَقَالَ حَتَّى يَيْبَسَا أَوْ مَا لَمْ يَيْبَسَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہیجڑے بن جاتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مرد بن جاتی ہیں اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دیا کرو، خود نبی ﷺ نے بھی ایسے شخص کو نکالا تھا اور حضرت عمر (رض) نے بھی نکالا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৭৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا بعد میں آپ ﷺ کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چناچہ نبی ﷺ نے عورتوں کے پاس آکر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا، جس پر عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ اتار کر صدقہ دینے لگیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ فَيَرَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ وَمَعَهُ بِلَالٌ نَاشِرًا ثَوْبَهُ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي وَأَشَارَ أَيُّوبُ إِلَى أُذُنِهِ وَإِلَى حَلْقِهِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ التُّومَةَ وَالْقِلَادَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جس مکاتب کو آزاد کردیا گیا ہو ( اور کوئی شخص اسے قتل کردے) تو نبی ﷺ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ جتنابدل کتابت وہ ادا کرچکا ہے، اس کے مطابق اسے آزاد آدمی کی دیت دی جائے گی اور جتنے حصے کی ادائیگی باقی ہونے کی وجہ سے وہ غلام ہے، اس میں غلام کی دیت دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى دِيَةَ الْحُرِّ وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ
tahqiq

তাহকীক: