আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ১৮৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید الفطر مناؤ، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہوجائیں تو تیس کا عدد پورا کرو اور نیا مہینہ شروع نہ کرو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا قَالَ حَاتِمٌ يَعْنِي عِدَّةَ شَعْبَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید (رض) بیٹھے ہوئے تھے، اونٹنی نبی ﷺ کو لے کر گھومتی رہی، نبی ﷺ روانگی سے قبل عرفات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کئے کھڑے ہوئے تھے لیکن ہاتھوں کی بلندی سر سے تجاوز نہیں کرتی تھی، جب نبی ﷺ وہاں سے روانہ ہوگئے تو اطمینان اور وقار سے چلتے ہوئے مزدلفہ پہنچے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ کے پیچھے حضرت فضل (رض) سوار تھے، وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ فَسَارَ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ لوگوں میں اس شخص کی مثال نہیں ہے جو اپنے گھوڑے کے سر کو پکڑے اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور برے لوگوں سے بچتا رہے، نیز دوسرا وہ شخص جو اللہ کی نعمتوں میں زندگی بسر کر رہا ہو، مہمان نوازی کرتا ہوں اور اس کے حقوق ادا کرتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَبِيبِ بْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَطَبَ النَّاسَ بِتَبُوكَ مَا فِي النَّاسِ مِثْلُ رَجُلٍ آخِذٍ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْتَنِبُ شُرُورَ النَّاسِ وَمِثْلُ آخَرَ بَادٍ فِي نِعْمَةٍ يَقْرِي ضَيْفَهُ وَيُعْطِي حَقَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے شانہ کا گوشت تناول فرمایا : پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بکری کا دودھ استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے جو گندگی کھاتی ہو اور اس جانور سے جسے باندھ کر اس پر نشانہ درست کیا جائے اور مشکیزہ کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ وَعَنْ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنْ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
طاؤس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ تھا، حضرت زید بن ثابت (رض) ان سے کہنے لگے کہ کیا آپ حائضہ عورت کو اس بات کا فتوی دیتے ہیں کہ وہ طواف وداع کرنے سے پہلے واپس جاسکتی ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ یہ فتوی نہ دیا کریں، انہوں نے کہا کہ جہاں تک فتوی نہ دینے کی بات ہے تو آپ فلاں انصاریہ خاتون سے پوچھ لیجئے کہ کیا نبی ﷺ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا ؟ بعد میں حضرت زید (رض) ہنستے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں آپ کو سچا ہی سمجھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْتَ تُفْتِي الْحَائِضَ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تُفْتِي بِذَلِكَ قَالَ إِمَّا لَا فَاسْأَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَجَعَ زَيْدٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَضْحَكُ فَقَالَ مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اس لئے جب تم سے جہاد کے لئے نکلنے کو کہا جائے تو تم نکل پڑو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ " او اثرۃ من علم " سے مراد تحریر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ قَالَ الْخَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے اور نماز جمعہ میں سورت جمعہ اور سورت منافقون کی تلاوت فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي مُخَوَّلٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ وَهَلْ أَتَى وَفِي الْجُمُعَةِ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کھائی پھر تازہ وضو کئے بغیر ہی نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتْ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی ﷺ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سفر کیا، آپ ﷺ کو اللہ کے علاوہ کسی سے خوف نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے واپس لوٹنے تک دو دو رکعتیں کر کے نماز پڑھی (قصر فرمائی) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے عرض کیا کہ جب آپ کو مسجد میں باجماعت نماز نہ ملے اور آپ مسافر ہوں تو کتنی رکعتیں پڑھیں گے ؟ انہوں نے فرمایا دو رکعتیں، کیونکہ یہ ابو القاسم ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِذَا لَمْ تُدْرِكْ الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ كَمْ تُصَلِّي بِالْبَطْحَاءِ قَالَ رَكْعَتَيْنِ تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء فرمایا کرتے تھے۔ پروردگار ! میری مدد فرما، میرے خلاف دوسروں کی مدد نہ فرما، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور ہدایت کو میرے اوپر آسان فرما، جو مجھ پر زیادتی کرے، اس پر میری مدد فرما، پروردگار ! مجھے اپنا شکرگذار، اپنا ذاکر اپنے سے ڈرنے والا اپ نافرمانبردار اپنے سامنے عاجز اور اپنے لئے آہ وزاری اور رجوع کرنے والا بنا، پروردگار ! میری توبہ کو قبول فرما، میرے گناہوں کو دھو ڈال، میری دعائیں قبول فرما، میری حجت کو ثابت فرما، میرے دل کو رہنمائی عطاء فرما، میری زبان کو درستگی عطاء فرما اور میرے دل کی گندگیوں کو دور فرما۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ سُفْيَانُ إِلَى شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلِيقُ بْنُ قَيْسٍ الْحَنَفِيُّ أَخُو أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَاهْدِ قَلْبِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے تھے کہ ہم لوگ کہتے تھے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات اس تسلسل سے افطار فرماتے تھے کہ ہم کہتے تھے کہ نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے اور جب سے نبی ﷺ مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تھے، اس وقت سے آپ ﷺ نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے نہیں رکھے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انگوٹھا اور چھوٹی انگلی دونوں برابر ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ الْخِنْصَرُ وَالْإِبْهَامُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص علم نجوم کو سیکھتا ہے وہ جادو کا ایک شعبہ سیکھتا ہے جتنا وہ علم نجوم میں آگے بڑھتا جائے گا اس قدر جادو میں آگے نکلتا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا اقْتَبَسَ رَجُلٌ عِلْمًا مِنْ النُّجُومِ إِلَّا اقْتَبَسَ بِهَا شُعْبَةً مِنْ السِّحْرِ مَا زَادَ زَادَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی شخص نیکی ک ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس کے لئے دس نیکیوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور اگر وہ نیکی نہ بھی کرے تو صرف ارادے پر ہی ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرتا ہے اور اسے کر گذرتا ہے تو اس پر ایک گناہ کا بدلہ لکھا جاتا ہے اور اگر ارادے کے بعد گناہ نہ کرے تو اس کے لئے ایک نیکی کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ عَشْرًا وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ حَسَنَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صرف گوشت یا ہڈی والا گوشت تناول فرمایا اور نماز پڑھ لی اور پانی کو چھوا تک نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا أَوْ عَرْقًا فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৮৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) کی ایک بکری مرگئی، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا ؟ تم نے اسے دباغت کیوں نہیں دی ؟ کیونکہ دباغت سے تو کھال پاک ہوجاتی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ دَاجِنَةً لِمَيْمُونَةَ مَاتَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا أَلَّا دَبَغْتُمُوهُ فَإِنَّهُ ذَكَاتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عید کی نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعِيدَ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
তাহকীক: