আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ৩১৮১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہڈی والا گوشت تناول فرمایا : پھر تازہ کئے بغیر سابقہ وضو سے ہی نماز کے لئے چلے گئے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَرْقًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب سورت نصر نازل ہوئی تو نبی ﷺ کو پتہ چل گیا کہ اس سورت میں ان کے وصال کی خبر دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ نُعِيَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تکلیف آنے پر یہ فرماتے تھے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو بڑا عظیم اور بردبار ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے جو عرش عظیم کا مالک ہے، اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو زمین و آسمان اور عرش عظیم کا رب ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے، تو وہ حضرت عائشہ (رض) کے گھر منتقل ہوگئے، ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا میرے پاس علی کو بلاؤ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے پوچھا حضرت ابوبکر (رض) کو بھی بلالیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا بلا لو، حضرت حفصہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ حضرت عمر (رض) کو بھی بلا لیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا بلا لو، حضرت ام الفضل (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ حضرت عباس (رض) کو بھی بلالیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا بلا لو، جب یہ تمام لوگ جمع ہوگئے تو نبی ﷺ نے سر اٹھا کر دیکھا لیکن حضرت علی (رض) نظر نہ آئے جس پر نبی ﷺ خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا اب نبی ﷺ کے پاس سے اٹھ جاؤ، اتنی دیر میں حضرت بلال (رض) نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب لوگ آپ کو نہیں دیکھیں گے تو رونے لگیں گے اس لئے آپ حضرت عمر (رض) کو حکم دے دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں ؟ بہرکیف حضرت صدیق اکبر (رض) نے باہر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ ﷺ کو اپنی بیماری میں کچھ تخفیف محسوس ہوئی، چناچہ آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نکلے، جب حضرت ابوبکر (رض) کو نبی ﷺ کی آہٹ محسوس ہوئی تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، نبی ﷺ نے انہیں اشارہ کیا اور خود ان کے پہلو میں بائیں جانب تشریف فرما ہوگئے اور وہیں سے تلاوت شروع فرما دی جہاں سے حضرت ابوبکر (رض) نے چھوڑی تھی اور اسی مرض میں وصال فرما گئے، وکیع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نبی ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر (رض) کی۔ ارقم بن شرحبیل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے مدینہ منورہ سے شام کا سفر کرتے ہوئے حضرت ابن عباس (رض) کی رفاقت نصیب ہوگئی، میں نے ان سے دوران سفر پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے کسی کو اپنا وصی بنایا ہے ؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے اپنے مرض الوفات میں بھی کوئی نماز جماعت سے نہیں چھوڑی، جب آپ ﷺ کی طبیعت بہت زیادہ بوجھل ہوگئی تب بھی آپ ﷺ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے دونوں مبارک پاؤں زمین پر لکیر کھینچتے آرہے تھے، نبی ﷺ کا وصال اسی حال میں ہوگیا کہ آپ ﷺ نے کسی کو اپنا وصی نہ بنایا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا قَالَتْ عَائِشَةُ نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ قَالَ ادْعُوهُ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ عُمَرَ قَالَ ادْعُوهُ قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ قَالَ ادْعُوهُ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَرَ عَلِيًّا فَسَكَتَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ حَصِرٌ وَمَتَى مَا لَا يَرَاكَ النَّاسُ يَبْكُونَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَخَرَج أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا أَبَا بَكْرٍ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ مَكَانَكَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ قَالَ وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ وَمَاتَ فِي مَرَضِهِ ذَاكَ عَلَيْهِ السَّلَام وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلْتُهُ أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ مَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ حَتَّى ثَقُلَ جِدًّا فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَإِنَّ رِجْلَيْهِ لَتَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُوصِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے وصال کے وقت میری عمر دس سال تھی اور اس وقت تک میں ساری محکمات پڑھ چکا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ مَخْتُونٌ وَقَدْ قَرَأْتُ مُحْكَمَ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں عید الفطر یا عید الاضحی کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ نکلا، نبی ﷺ نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، پھر عورتوں کے پاس جا کر وعظ و نصیحت فرمائی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
اعمش (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ اگر امام کے ساتھ صرف ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو کیا کرے ؟ انہوں نے کہا کہ امام کی دائیں جانب کھڑا ہو، میں نے ان سے حضرت ابن عباس (رض) کی یہ حدیث ذکر کی کہ نبی ﷺ نے انہیں اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا تو انہوں نے اسے قبول کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الرَّجُلِ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ يَقُومُ عَنْ يَسَارِهِ فَقُلْتُ حَدَّثَنِي سُمَيْعٌ الزَّيَّاتُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَهُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَخَذَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ بخدا ! درختوں کی پیوندکاری کے بعد جب سے ہم نے کھیت کو سیراب کیا ہے اس وقت سے میں اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا، اس عورت کا شوہر پنڈلیوں اور بازوؤں والا تھا اور اس کے بال سیدھے تھے، اس عورت کو جس شخص کے ساتھ متہم کیا گیا تھا وہ انتہائی واضح کالا، گھنگریالے بالوں والا تھا نبی ﷺ نے اس موقع پر دعا فرمائی کہ اے اللہ ! حقیقت حال کو واضح فرما اور ان کے درمیان لعان کروا دیا اور اس عورت کے یہاں اسی شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے متہم کیا گیا تھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي عَهْدٌ بِأَهْلِي مُنْذُ عَفَارِ النَّخْلِ قَالَ وَعَفَارُ النَّخْلِ أَنَّهَا إِذَا كَانَتْ تُؤْبَرُ تُعْفَرُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا لَا تُسْقَى بَعْدَ الْإِبَارِ فَوَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا وَكَانَ زَوْجُهَا مُصْفَرًّا حَمْشًا سَبْطَ الشَّعْرِ وَالَّذِي رُمِيَتْ بِهِ خَدْلٌ إِلَى السَّوَادِ جَعْدٌ قَطَطٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ ثُمَّ لَاعَنَ بَيْنَهُمَا فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُشْبِهُ الَّذِي رُمِيَتْ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৮৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھل کی خریدو فروخت اس وقت تک نہ کی جائے جب تک وہ کھانے کے قابل نہ ہوجائے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ التَّمْرُ حَتَّى يُطْعَمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دیہات میں رہا اس نے اپنے اوپر زیادتی کی، جو شکار کے پیچھے لگا وہ غافل ہوگیا اور جس کا بادشاہوں کے یہاں آنا جانا ہوا وہ فتنے میں مبتلا ہوا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتَتَنَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام (رض) نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ ماہ تک نماز پڑھی ہے، بعد میں قبلہ کا رخ تبدیل کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَائِدَةَ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَمَنْ مَعَهُ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ ثُمَّ جُعِلَتْ الْقِبْلَةُ نَحْوَ الْبَيْتِ و قَالَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ثُمَّ حُوِّلَتْ الْقِبْلَةُ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بنو سلیم کے ایک علاقے میں جس کا نام ذی قرد تھا، نماز خوف پڑھائی، لوگوں نے نبی ﷺ کے پیچھے دو صفیں بنالیں، ایک صف دشمن کے سامنے کھڑی رہی اور ایک صف نبی ﷺ کی اقتداء میں نماز کے لئے کھڑی ہوگئی، نبی ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ دشمن کے سامنے ڈٹے ہوئے لوگوں کی جگہ الٹے پاؤں چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ نبی ﷺ کے پیچھے آکر کھڑے ہوگئے اور نبی ﷺ نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، اس طرح نبی ﷺ کی دو رکعتیں ہوئی اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ صَفًّا خَلْفَهُ وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے (فترت وحی کا زمانہ گذرنے کے بعد) حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ آپ ہمارے پاس ملاقات کے لئے اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے جتنا اب آتے ہیں ؟ اس پر آیت نازل ہوئی کہ ہم تو اسی وقت زمین پر اترتے ہیں جب آپ کے رب کا حکم ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ ذَرٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِبْرِيلَ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا قَالَ فَنَزَلَتْ وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا قَالَ وَكَانَ ذَلِكَ الْجَوَابَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونکیں مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ و حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ أَسْنَدَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے مشرکین کی اولاد کے بارے پوچھا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اللہ بہتر جانتا ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا عمل کرتے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ خَلَقَهُمْ اللَّهُ حِينَ خَلَقَهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب رات کے درمیان نماز تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے اے اللہ ! تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ ہی زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو روشن کرنے والے ہیں اور تمام تعریفیں آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کو قائم رکھنے والے ہیں اور تمام تعریفیں اللہ آپ کے لئے ہیں، آپ زمین و آسمان اور ان کے درمیان تمام مخلوقات کے بادشاہ ہیں، آپ برحق ہیں، آپ کی بات برحق ہے، آپ کا وعدہ برحق ہے، آپ سے ملاقات برحق ہے، جنت برحق ہے، جہنم برحق ہے اور قیامت برحق ہے، اے اللہ ! میں آپ کے تابع فرمان ہوگیا، آپ پر ایمان لایا، آپ پر بھروسہ کیا، آپ کی طرف رجوع کیا، آپ ہی کی طاقت سے جھگڑتا ہوں، آپ ہی کو اپنا ثالث بناتا ہوں، اس لئے میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر تمام گناہوں کو معاف فرما دیجئے، آپ ہی ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ سَمِعَهُ مِنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ يَتَهَجَّدُ مِنْ اللَّيْلِ قَالَ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک آدمی فوت ہوگیا، اس کا کوئی وارث نہ تھا سوائے اس غلام کے جسے اس نے آزاد کردیا تھا، نبی ﷺ نے اسی غلام کو اس کی میراث عطاء فرما دی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَوْسَجَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا يَرِثُهُ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى مَوْلًى لَهُ أَعْتَقَهُ الْمَيِّتُ هُوَ الَّذِي لَهُ وَلَاؤُهُ وَالَّذِي أَعْتَقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ یہاں کے لوگ ایک سال یا دو تین سال کے لئے ادھار پر کھجوروں کا معاملہ کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا پھلوں میں بیع سلم کرو تو اس کی ناپ معین کرو اور اس کا وزن معین اور اس کا وقت طے کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ أَوْ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَوَقْتٍ مَعْلُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩১৯৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ يَعْنِي ابْنَ قُدَامَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں ایک مرتبہ رات کو سویا، نبی ﷺ کے لئے تکیہ رکھ دیا گیا اور آپ ﷺ اس کی لمبائی پر سر رکھ کر سوگئے، گھر والے بھی سوگئے، پھر نصف رات یا اس سے کچھ آگے پیچھے نبی ﷺ بیدار ہوئے اور نیند کے اثرات دور کرنے لگے، پھر سورت آل عمران کی اختتامی دس آیات مکمل پڑھیں، پھر مشکیزے کے پاس آکر اس کی رسی کھولی اور وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے بھی کھڑے ہو کر وہی کیا جو نبی ﷺ نے کیا تھا اور آکر نبی ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے کان سے پکڑ کر گھمایا تو میں آپ ﷺ کی دائیں طرف پہنچ گیا، نبی ﷺ اس دوران نماز پڑھتے رہے، نبی ﷺ کی نماز کل تیرہ رکعت پر مشتمل تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُرِحَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وِسَادَةٌ فَنَامَ فِي طُولِهَا وَنَامَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ أَوْ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ فَجَعَلَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ نَفْسِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْآيَاتِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى شَنًّا مُعَلَّقًا فَأَخَذَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ أَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَ يَفْتِلُهَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَوْتَرَ
তাহকীক: