আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
عبداللہ بن عباس کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬২৬ টি
হাদীস নং: ৩২০১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں شراب کا ایک مشکیزہ بطور ہدیہ کے پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ شراب حرام ہوچکی ہے، یہ سن کر وہ شخص اپنے غلام کی طرف متوجہ ہو کر سرگوشی میں اسے کہنے لگا کہ اسے لے جا کر بیچ دو ، نبی صلی اللہ علیہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے اسے کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ اسے بیچ آئے، نبی ﷺ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پین احرام قرار دیا ہے، اسی نے اس کی خریدو فروخت بھی حرام کردی ہے، چناچہ اس کے حکم پر اس شراب کو وادی بطحاء میں بہا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ وَعْلَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ وَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَدَعَا رَجُلًا فَسَارَّهُ فَقَالَ مَا أَمَرْتَهُ قَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا قَالَ فَإِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَصُبَّتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عہد نبوت میں سورج گرہن ہوا، نبی ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس نماز میں آپ ﷺ نے طویل قیام کیا، غالبا اتناجتنی دیر میں سورت بقرہ پڑھی جاسکے، پھر طویل رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھا کر دیر تک کھڑے رہے، لیکن یہ قیام پہلے کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع جو کہ پہلے رکوع کی نسبت کم تھا، پھر سجدے کر کے کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی طویل قیام کیا جو کہ پہلی رکعت کی نسبت کم تھا، پھر طویل رکوع کیا لیکن وہ بھی کچھ کم تھا، رکوع سے سر اٹھا کر قیام و رکوع حسب سابق دوبارہ کیا، سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوگئے۔ جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، جنہیں کسی کی موت سے گہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی سے، اس لئے جب تم ایسی کیفیت دیکھو تو اللہ کا ذکر کیا کرو، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمیں ایسا محسوس ہوا تھا کہ جیسے آپ نے اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کسی چیز کو پکڑنے کی کوشش کی پھر آپ پیچھے ہٹ گئے ؟ فرمایا میں نے جنت کو دیکھا تھا اور انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے لگا تھا، اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے اس وقت تک کھاتے رہتے جب تک دنیا باقی رہتی، نیز میں نے جہنم کو بھی دیکھا، میں نے اس جیسا خوفناک منظر آج سے پہلے نہیں دیکھا اور میں نے جہنم میں عورتوں کی اکثریت دیکھی ہے، صحابہ کرام (رض) نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی ﷺ نے فرمایا ان کے کفر کی وجہ سے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا کیا وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا (یہ مراد نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ) وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ زندگی بھر احسان کرتے رہو اور اسے تم سے ذرا سی کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ فورا کہہ دے گی کہ میں نے تو تجھ سے کبھی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا قَالَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَالَ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِكَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاكَ تَكَعْكَعْتَ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَشُكَّ إِسْحَاقُ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا أَفْظَعَ وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِكُفْرِهِنَّ قَالَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَا وَلَكِنْ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ كُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت فضل (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اس وقت حضرت فضل (رض) نبی ﷺ کے ردیف تھے، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہوچکا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے اگر میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ادا ہوجائے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس دوران حضرت فضل (رض) اس عورت کو مڑمڑ کر دیکھنے لگے کیونکہ وہ عورت بہت خوبصورت تھی، نبی ﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت فضل (رض) کا چہرہ دوسری جانب موڑ دیا۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ میدان عرفات میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت انار کھا رہے تھے، فرمانے لگے کہ نبی ﷺ نے بھی میدان عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، ام الفضل نے ان کے پاس دودھ بھیجا تھا جو انہوں نے پی لیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ لَا أَدْرِي أَسَمِعْتُهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَمْ نُبِّئْتُهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا وَقَالَ أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَبَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت فضل (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ میرے والد نے اسلام کا زمانہ پایا ہے، لیکن وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں، اتنے کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتا ہوں، فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا اور تم وہ ادا کرتے تو کیا وہ ادا ہوتا یا نہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي وَقَالَ مَرَّةً حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَحَدُ ابْنَيْ الْعَبَّاسِ إِمَّا الْفَضْلُ وَإِمَّا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي قَالَ يَحْيَى وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ أَبِي كَبِيرٌ وَلَمْ يَحُجَّ فَإِنْ أَنَا حَمَلْتُهُ عَلَى بَعِيرٍ لَمْ يَثْبُتْ عَلَيْهِ وَإِنْ شَدَدْتَهُ عَلَيْهِ لَمْ آمَنْ عَلَيْهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ أَكُنْتَ قَاضِيًا دَيْنًا لَوْ كَانَ عَلَيْهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْجُجْ عَنْهُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے بھینچ کر یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! اسے کتاب کا علم عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ضَمَّنِي إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وصال کے وقت عمر ٦٥ برس تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بیت الخلاء سے باہر نکلے، آپ کے پاس کھانا لایا گیا، کسی نے عرض کیا کہ جناب والا وضو نہیں فرمائیں گے ؟ فرمایا مجھے وضو کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کروں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২০৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس تھے، آپ ﷺ بیت الخلاء تشریف لے گئے، پھر باہر آئے، کھانا منگوایا اور کھانے لگے، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ وضو نہیں کریں گے ؟ فرمایا کیوں، میں کوئی نماز پڑھ رہا ہوں جو وضو کروں ؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ الْخَلَاءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَعَرَضُوا عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تصویر کشی کرتا ہے، اسے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس میں روح پھونک کر دکھا، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، اسے بھی قیامت کے دن عذاب ہوگا اور اسے جو کے دو دانوں میں گرہ لگانے کا حکم دیا جائے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے گا اور جو شخص کسی گروہ کی کوئی ایسی بات سن لے جسے وہ اس سے چھپانا چاہتے ہوں تو اس کے دونوں کانوں میں قیامت کے دن عذاب انڈیلا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَعُذِّبَ وَلَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ أَوْ قَالَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَعُذِّبَ وَلَنْ يَعْقِدَ بَيْنَهُمَا وَمَنْ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَكْرَهُونَهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي الرَّصَاصَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১১
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں حضرت میمونہ (رض) سے نکاح فرمایا اور مقام سرف میں غیر محرم ہو کر ان کے ساتھ خلوت فرمائی اور مقام سرف ہی میں وہ فوت ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَبَنَى بِهَا حَلَالًا بِسَرِفَ وَمَاتَتْ بِسَرِفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১২
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس (رض) نے " دادا " کے مسئلے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ اگر میں اس امت میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہیں بناتا، یہ حضرت صدیق اکبر (رض) کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْجَدِّ أَمَّا الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ فَإِنَّهُ قَضَاهُ أَبًا يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৩
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو مجھے اہل جنت میں اکثریت فقراء کی دکھائی دی اور جب میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مجھے اکثریت خواتین کی دکھائی دی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنًَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৪
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سورت ص کا سجدہ ضروری تو نہیں ہے، البتہ میں نے نبی ﷺ کو سورت ص میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৫
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
عوام بن حوشب (رح) کہتے ہیں کہ میں نے مجاہد (رح) سے سورت ص کے سجدے کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہاں ! میں نے یہ مسئلہ حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا تھا، انہوں نے جواب دیا تھا کہ کیا تم یہ آیت پڑھتے ہو " ان ہی کی اولاد میں سے حضرت داوؤد اور سلیمان علیہماالسلام بھی ہیں "۔۔۔۔۔۔ اور اس کے آخر میں ہے کہ " آپ ان ہی کے طریقے کی پیروی کیجئے " گویا تمہارے نبی ﷺ کو داوؤد کی اقتداء کرنے کا حکم دیا گیا ہے ( اور انہوں نے سجدہ کیا تھا لہذا ان کی اقتداء میں سورت ص کی آیت سجدہ پر سجدہ کیا جائے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنْ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص فَقَالَ نَعَمْ سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَفِي آخِرِهَا فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهْ قَالَ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৬
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے یہاں رات کو رک گیا، رات کو آپ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں بھی نماز میں شرکت کے لئے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، نبی ﷺ نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ أُصَلِّي مَعَهُ فَقُمْتُ عَنْ شِمَالِهِ فَقَالَ لِي هَكَذَا فَأَخَذَ بِرَأْسِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৭
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک فرشتہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس آیا اور زمزم کے قریب پہنچ کر اپنی ایڑی ماری جس سے ایک چشمہ ابل پڑا، انہوں نے جلدی سے پیالے سے لے کر اپنے مشکیزے میں پانی بھرا، نبی ﷺ کا فرمان ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے، اگر وہ جلدی نہ کرتیں تو وہ چشمہ قیامت تک بہتا ہی رہتا (دور دور تک پھیل جاتا)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ أُنْبِئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَاءَ الْمَلَكُ بِهَا حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَضَرَبَ بِعَقِبِهِ فَفَارَتْ عَيْنًا فَعَجِلَتْ الْإِنْسَانَةُ فَجَعَلَتْ تَقْدَحُ فِي شَنَّتِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْلَا أَنَّهَا عَجِلَتْ لَكَانَتْ زَمْزَمُ عَيْنًا مَعِينًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৮
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حضرت ابن عباس (رض) سے کسی شخص نے روزے کی حالت میں بوسہ دینے کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنی کسی زوجہ کے سر کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ ﷺ روزے سے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصِيبُ مِنْ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ حَدَّثَنَاه ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২১৯
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے یوم عاشورہ کے متعلق کچھ بتائیے، انہوں نے فرمایا کہ جب تم محرم کا چاند دیکھ لو تو اس کی تاریخ شمار کرتے رہو، جب نویں تاریخ کی صبح ہو تو روزہ رکھ لو، میں نے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا أَصْبَحْتَ مِنْ تَاسِعَةٍ فَأَصْبِحْ صَائِمًا قَالَ يُونُسُ فَأُنْبِئْتُ عَنْ الْحَكَمِ أَنَّهُ قَالَ فَقُلْتُ أَكَذَاكَ صَامَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২২০
عبداللہ بن عباس کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ عبداللہ بن عباس کی مرویات
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابو العباس ! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا میں تمہیں وہ بات بتادیتا ہوں جو میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کرسکے گا یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑگیا، حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے فرمایا ارے بھئی ! اگر تمہارا اس کے بغیر گذارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ قَالَ فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا قَالَ فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ
তাহকীক: