আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৫৬৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سود جتنا مرضی بڑھتا جائے اس کا انجام ہمیشہ قلت کی طرف ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فَإِنَّ عَاقِبَتَهُ تَصِيرُ إِلَى قُلٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے یہ آیت اس طرح پڑھائی ہے " ولقد یسرناالقرآن للذکر فہل من مدکر " ایک آدمی نے پوچھا اے ابو عبدالرحمن ! " مد کر " کا لفظ دال کے ساتھ ہے یا ذال کے ساتھ ؟ فرمایا مجھے نبی ﷺ نے دال کے ساتھ پڑھایا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُدَّكِرٍ أَوْ مُذَّكِّرٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّكِرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৬৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں، بعض گھوڑے تو رحمان کے ہوتے ہیں، بعض انسان کے اور بعض شیطان کے، رحمان کا گھوڑا تو وہ ہوتا ہے جسے اللہ کے راستہ میں باندھا جائے، اس کا چارہ، اس کی لید اور اس کا پیشاب اور دوسری چیزیں، شیطان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جس پر جوا لگائے یا اسے گروی کے طور پر رکھا جائے اور انسان کا گھوڑا وہ ہوتا ہے جسے انسان اپنا پیٹ بھرنے کے لئے روزی کی تلاش میں باندھتا ہے اور وہ اسے فقروفاقہ سے بچاتا ہے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَفَرَسٌ لِلرَّحْمَنِ وَفَرَسٌ لِلْإِنْسَانِ وَفَرَسٌ لِلشَّيْطَانِ فَأَمَّا فَرَسُ الرَّحْمَنِ فَالَّذِي يُرْبَطُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَفُهُ وَرَوْثُهُ وَبَوْلُهُ وَذَكَرَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَأَمَّا فَرَسُ الشَّيْطَانِ فَالَّذِي يُقَامَرُ أَوْ يُرَاهَنُ عَلَيْهِ وَأَمَّا فَرَسُ الْإِنْسَانِ فَالْفَرَسُ يَرْتَبِطُهَا الْإِنْسَانُ يَلْتَمِسُ بَطْنَهَا فَهِيَ تَسْتُرُ مِنْ فَقْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی چکی ٣٥، ٣٦ یا ٣٧ سال تک گھومتی رہے گی، اس کے بعد اگر مسلمان ہلاک ہوئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ پر چلے جائیں گے اور اگر باقی بچ گئے تو ستر سال تک ان کا دین باقی رہے گا، راوی نے پوچھا کہ اس کا تعلق ماضی کے ایام سے ہے یا مستقبل سے ؟ انہوں نے فرمایا مستقبل سے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ الْكَاهِلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَحَى الْإِسْلَامِ سَتَزُولُ بِخَمْسٍ وَثَلَاثِينَ أَوْ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ أَوْ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ يَهْلَكْ فَكَسَبِيلِ مَنْ أُهْلِكَ وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا قَالَ قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبِمَا مَضَى أَمْ بِمَا بَقِيَ قَالَ بَلْ بِمَا بَقِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آکر خبریں نہ دیا کرے کیونکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جب تمہارے پاس آؤں تو میرا دل ہر ایک کی طرف سے مکمل طور پر صاف ہو، ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس کہیں سے مال آیا، نبی ﷺ نے اسے تقسیم فرما دیا، میں دو آدمیوں کے پاس سے گذرا تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے یہ کہا کہ بخدا ! یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضاء یا آخرت کا گھر حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے خوب غور سے ان کی بات سنی اور نبی ﷺ کے پاس آکر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے یہ فرما رکھا ہے کہ کوئی شخص مجھے میرے کسی صحابی کے متعلق آکر خبریں نہ دیا کرے، ابھی فلاں فلاں آدمی کے پاس سے میرا گذر ہوا تھا، وہ دونوں یہ کہہ رہے تھے، اس پر نبی ﷺ کے روئے انور کا رنگ سرخ ہوگیا، پھر فرمایا موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ إِسْرَائِيلَ بْنَ يُونُسَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ مَوْلَى الْهَمْدَانِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ قَالَ وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالٌ فَقَسَمَهُ قَالَ فَمَرَرْتُ بِرَجُلَيْنِ وَأَحَدُهُمَا يَقُولُ لِصَاحِبِهِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِقِسْمَتِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَلَا الدَّارَ الْآخِرَةَ فَتَثَبَّتُّ حَتَّى سَمِعْتُ مَا قَالَا ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا لَا يُبَلِّغْنِي أَحَدٌ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي شَيْئًا وَإِنِّي مَرَرْتُ بِفُلَانٍ وَفُلَانٍ وَهُمَا يَقُولَانِ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَاحْمَرَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَقَدْ أُوذِيَ مُوسَى أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ثُمَّ صَبَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے نماز عشاء میں کافی تاخیر کردی، پھر جب باہر مسجد کی طرف نکلے تو لوگوں کو نماز کا منتطر پایا، نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روئے زمین پر کسی دین سے تعلق رکھنے والے اللہ کو یاد نہیں کر رہے سوائے تمہارے اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ " سب اہل کتاب برابر نہیں۔۔۔۔۔۔ اور تم جو نیکی کرو گے اس کا انکار نہیں کیا جائے گا اور اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے "
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَدْيَانِ أَحَدٌ يَذْكُرُ اللَّهَ هَذِهِ السَّاعَةَ غَيْرُكُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَتَّى بَلَغَ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ تُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ابن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا تھا کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے پیغمبر اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا، اس وقت سے یہ رواج ہوگیا کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ ابْنُ النَّوَّاحَةِ وَابْنُ أُثَالٍ رَسُولَا مُسَيْلِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكُمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ فَمَضَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے دور باسعادت میں معجزات کو برکات سمجھتے تھے اور تم ان سے خوف محسوس کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی جگہ پر پڑاؤ کیا اور قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے، واپس تشریف لائے تو دیکھا کہ زمین پر یا کسی درخت پر ایک شخص نے چیونٹیوں کے ایک بل کو آگ لگا رکھی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا یہ کس نے کیا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے کیا ہے فرمایا اس آگ کو بجھاؤ، اس آگ کو بجھاؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَجَاءَ وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلَى قَرْيَةِ نَمْلٍ إِمَّا فِي الْأَرْضِ وَإِمَّا فِي شَجَرَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ فَعَلَ هَذَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اطْفُهَا اطْفُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے آکر بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ شب قدر کب ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے وہ رات کسے یاد ہے جو سرخ وسفید ہو رہی تھی ؟ میں نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یاد ہے، میرے ہاتھ میں اس وقت کچھ کھجوریں تھیں اور میں چھپ کر اپنے کجاوے کے پچھلے حصے میں ان سے سحری کر رہا تھا اور اس وقت چاند نکلا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَعْدَةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَا وَاللَّهِ أَذْكُرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَإِنَّ فِي يَدَيَّ لَتَمَرَاتٍ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ مُسْتَتِرًا بِمُؤْخِرَةِ رَحْلِي مِنْ الْفَجْرِ وَذَلِكَ حِينَ طَلَعَ الْقَمَرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ کا وصال مبارک ہوگیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہوگا، حضرت عمر (رض) ان کے پاس آئے اور فرمایا اگر وہ انصار ! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں حضرت صدیق اکبر (رض) کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا ؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ ابوبکر سے آگے بڑھ سکتا ہے ؟ اس پر انصار کہنے لگے اللہ کی پناہ ! کہ ہم حضرت ابوبکر (رض) سے آگے بڑھیں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْأَنْصَارُ مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ قَالَ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، نبی ﷺ نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا، ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا آپ نے کیا ارادہ کیا تھا ؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی ﷺ کو کھڑا چھوڑ دوں۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ قَالَ قُلْنَا وَمَا هُوَ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৭৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے بڑا ظلم کیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کر کے لے لے، زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری کو قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اسی ذات کو ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَعْظَمُ قَالَ ذِرَاعٌ مِنْ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَتْ حَصَاةٌ مِنْ الْأَرْضِ أَخَذَهَا إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا الَّذِي خَلَقَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنادیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَمِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ فَمَسَخَهُمْ وَكَانَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَضِبَ عَلَى الْيَهُودِ فَمَسَخَهُمْ وَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو تین مرتبہ دعاء مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو تین مرتبہ دعاء مانگنا اور تین مرتبہ استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی ﷺ نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی " انی ان انا الرزاق ذو القوۃ المتین۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو محمد جو حضرت ابن مسعود (رض) کے شاگردوں میں سے ہیں، نبی ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے ایک مرتبہ شہداء کا تذکرہ ہوا تو فرمایا کہ میری امت کے اکثر شہداء بستر پر مرنے والے ہوں گے اور میدان جنگ میں دو صفوں کے درمیان مقتول ہونے والے بہت کم ہوں گے جن کی نیتوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ عِنْدَهُ الشُّهَدَاءَ فَقَالَ إِنَّ أَكْثَرَ شُهَدَاءِ أُمَّتِي أَصْحَابُ الْفُرُشِ وَرُبَّ قَتِيلٍ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ اللَّهُ أَعْلَمُ بِنِيَّتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے بڑا ظلم کیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا زمین کا وہ ایک گز جو کوئی آدمی اپنے بھائی کے حق کو کم کر کے لے لے، زمین کی گہرائی تک اس کی ایک ایک کنکری کو قیامت کے دن اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا اور زمین کی گہرائی کا علم صرف اسی ذات کو ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ قَالَ ذِرَاعٌ مِنْ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَيْسَ حَصَاةٌ مِنْ الْأَرْضِ يَأْخُذُهَا أَحَدٌ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي خَلَقَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৫৮৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس چیزوں کو ناپسند کرتے تھے، سونے کی انگوٹھی پہننے کو، تہبند زمین پر کھینچنے کو، زرد رنگ کی خوشبو کو، سفید بالوں کے اکھیڑنے کو، پانی (مادہ منویہ) کو اس کی جگہ سے ہٹانے کو، معوذات کے علاوہ دوسری چیزوں سے جھاڑ پھونک کرنے کو، رضاعت کے ایام میں بیوی سے قربت کر کے بچے کی صحت خراب کرنے کو، لیکن ان چیزوں کو آپ ﷺ نے حرام قرار نہیں دیا، نیز تعویذ لٹکانے کو اور اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کے لئے بناؤ سنگھار کرنے کو اور گوٹیوں سے کھیلنے کو بھی آپ ﷺ ناپسند فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ الصُّفْرَةُ وَتَغْيِيرُ الشَّيْبِ وَتَخَتُّمُ الذَّهَبِ وَجَرُّ الْإِزَارِ وَالتَّبَرُّجُ بِالزِّينَةِ بِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَضَرْبُ الْكِعَابِ وَعَزْلُ الْمَاءِ عَنْ مَحَلِّهِ وَفَسَادُ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهِ وَعَقْدُ التَّمَائِمِ وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ
তাহকীক: