আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৫৮৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خانہ کعبہ کا رخ کر کے قریش کے سات آدمیوں کا نام لے کر بد دعاء فرمائی جن میں ابو جہل، امیہ بن خلف، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط بھی شامل تھے، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، چونکہ وہ گرمی کے دن تھے اس لئے سورج کی حرارت سے ان کی لاشیں بگڑ گئیں تھیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَدَعَا عَلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَبْعَةٍ فِيهِمْ أَبُو جَهْلٍ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةُ وَعُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى عَلَى بَدْرٍ وَقَدْ غَيَّرَتْهُمْ الشَّمْسُ وَكَانَ يَوْمًا حَارًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ ٢٩ کبھی نہیں رکھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا صُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو ہڈی والے گوشت میں بکری کی دستی کا گوشت زیادہ پسند تھا اور دستی ہی کے گوشت میں زہر ملا کر آپ ﷺ کو کھلایا گیا تھا اور عام خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی ﷺ کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ أَوْ سَعِيدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْعَرْقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذِرَاعُ الشَّاةِ وَكَانَ يَرَى أَنَّهُ سُمَّ فِي ذِرَاعِ الشَّاةِ وَكُنَّا نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ الَّذِينَ سَمُّوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں اور ہمارا خیال یہی تھا کہ یہودیوں نے نبی ﷺ کے کھانے میں زہر ملایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ مِنْ الْبَيَانِ سِحْرًا قَالَ وَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُمَّ فِي ذِرَاعِ شَاةٍ سَمَّتْهُ الْيَهُودُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَمَعَهُ قَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ وَمِنْ الْجِنِّ قَالُوا وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنَا إِلَّا أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ وَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو اسحاق شیبانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت زر بن حبیش کے پاس آیا، ان کے دروازے پر دربان مقرر تھا، اس کے دل میں میری محبت پیدا ہوئی ( اور اس نے مجھے اندر جانے دیا) ان کے پاس کچھ نوجوان بھی تھے، وہ کہنے لگے کہ ان سے " فکان قاب قوسین او ادنیٰ " کی تفسیر پوچھو، چناچہ میں نے ان سے اس کی تفسیر پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ہمیں حضرت ابن مسعود (رض) نے یہ حدیث سنائی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ أَتَيْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ وَعَلَيَّ دَرْبَانِ فَأُلْقِيَتْ عَلَيَّ مَحَبَّةٌ مِنْهُ وَعِنْدَهُ شَبَابٌ فَقَالُوا لِي سَلْهُ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
مسروق (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمیں قرآن پڑھا رہے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی آکر کہنے لگا اے ابو عبدالرحمن ! کیا آپ لوگوں نے نبی ﷺ سے یہ پوچھا تھا کہ اس امت میں کتنے خلفاء ہوں گے ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا میں جب سے عراق آیا ہوں، تم سے پہلے آج تک مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا، پھر فرمایا ہاں ! ہم نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ بارہ خلفاء ہوں گے، نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کی طرح۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنِ الْمُجَالِدِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَلْ سَأَلْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَمْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ خَلِيفَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ قَدِمْتُ الْعِرَاقَ قَبْلَكَ ثُمَّ قَالَ نَعَمْ وَلَقَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اثْنَا عَشَرَ كَعِدَّةِ نُقَبَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ لیلۃ الجن کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ موجود تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا عبداللہ ! کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک برتن میں نبیذ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو، نبی ﷺ نے اس سے وضو کیا اور فرمایا اے عبداللہ بن مسعود ! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَمَعَكَ مَاءٌ قَالَ مَعِي نَبِيذٌ فِي إِدَاوَةٍ فَقَالَ اصْبُبْ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ شَرَابٌ وَطَهُورٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک معاملے میں دو معاملوں کو جمع کرنے سے منع فرمایا ہے، راوی اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی شخص یوں کہے کہ یہ چیز ادھار میں اتنے کی ہے اور نقد ادائیگی کی صورت میں اتنے کی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَأَبُو النَّضْرِ وأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَفْقَتَيْنِ فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ أَسْوَدُ قَالَ شَرِيكٌ قَالَ سِمَاكٌ الرَّجُلُ يَبِيعُ الْبَيْعَ فَيَقُولُ هُوَ بِنَسَاءٍ بِكَذَا وَكَذَا وَهُوَ بِنَقْدٍ بِكَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی ابتداء بھی اجنبی میں ہوئی اور عنقریب یہ اسی حال پر لوٹ جائے گا جیسے اس کا آغاز ہوا تھا، سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے، کسی نے پوچھا غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا قبائل سے کھینچ کر لائے جانے والے لوگ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ قِيلَ وَمَنْ الْغُرَبَاءُ قَالَ النُّزَّاعُ مِنْ الْقَبَائِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص تھا جس نے توحید یعنی اللہ کو ایک ماننے کے علاوہ کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا حتی کہ جب میں جل کر کوئلہ بن جاؤں تو اسے پیسنا، پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو، مجھے سمندر میں بہا دینا، اس کے اہل خانہ نے ایسا ہی کیا، لیکن وہ پھر بھی اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے اس کام پر کس چیز نے مجبور کیا ؟ اس نے عرض کیا آپ کے خوف نے، اس پر اللہ نے اس کی بخشش فرما دی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ إِذَا أَنَا مِتُّ فَخُذُونِي وَاحْرُقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً ثُمَّ اطْحَنُونِي ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ قَالَ فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ قَالَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ مَخَافَتُكَ قَالَ فَغَفَرَ اللَّهُ لَهُ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ملیکہ کے دونوں بیٹے ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہماری والدہ اپنے شوہر کی بڑی عزت کرتی تھیں، بچوں پر بڑی مہربان تھیں، ان کی مہمان نوازی کا بھی انہوں نے تذکرہ کیا، البتہ زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کردیا تھا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری ماں جہنم میں ہے، یہ سن کر وہ دونوں واپس جانے لگے اور ان دونوں کے چہروں سے ناگواری کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے، پھر نبی ﷺ کے حکم پر ان دونوں کو واپس بلایا گیا، چناچہ جب وہ واپس آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے، کیونکہ انہیں یہ امید ہوچلی تھی کہ شایدان کی والدہ کے متعلق کوئی نیا حکم نازل ہوگیا ہو، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہوگی۔ ایک منافق یہ سن کر چپکے سے کہنے لگا کہ ہم ان کی پیروی یوں ہی کر رہے ہیں، یہ تو اپنی ماں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے ؟ ایک انصاری جس سے زیادہ سوال کرنے والا میں نے نہیں دیکھا، کہنے لگا یا رسول اللہ ! کیا آپ کے رب نے اس عورت یا ان دنوں کے بارے کوئی وعدہ فرمایا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اس کا سوال کیا ہے اور نہ ہی اس نے مجھے کوئی امید دلائی ہے، البتہ میں قیامت کے دن مقام محمود پر فائز کیا جاؤں گا، اس انصاری نے پوچھا مقام محمود کیا چیز ہے ؟ فرمایا جس وقت قیامت کے دن تم سب کو برہنہ جسم، برہنہ پا اور غیر مختون حالت میں لایا جائے گا اور سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل کو لباس پہناؤ، چناچہ دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) انہیں زیب تن فرما لیں گے، پھر وہ بیٹھ جائیں گے اور عرش الٰہی کی طرف رخ کرلیں گے۔ اس کے بعد میرے لئے لباس لایا جائے گا اور میں بھی اسے پہن لوں گا، پھر میں اپنی دائیں جانب ایک ایسے مقام پر کھڑا ہوجاؤں گا جہاں میرے علاوہ کوئی اور کھڑا نہ ہو سکے گا اور اولین و آخرین اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کریں گے، پھر جنت کی نہر کوثر میں سے حوض کوثر تک ایک نہر نکالی جائے گی۔ یہ سن کر منافقین کہنے لگے کہ پانی تو ہمیشہ مٹی پر یا چھوٹی اور باریک کنکریوں پر بہتا ہے، اس انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ پانی کسی مٹی پر بہتا ہوگا یا کنکریوں پر ؟ فرمایا اس کی مٹی مشک ہوگی اور اس کی کنکریاں موتی جیسے چاندی کے دانے ہوں گے، ایک منافق آہستہ سے کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جب بھی کسی مٹی یا کنکریوں پر پانی بہتا ہے تو وہاں کچھ چیزیں یقینا اگتی ہیں، اس منافق کی بات سن کر اس انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا وہاں کچھ چیزیں بھی اگتی ہوں گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! سونے کی شاخیں، وہ منافق پھر کہنے لگا کہ یہ بات تو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنی، جہاں شاخیں اگتی ہیں وہاں پتے اور پھل بھی ہوتے ہیں، اس انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا وہاں پھل بھی ہوں گے ؟ فرمایا ہاں ! جواہرات کے رنگ جیسے اور حوض کوثر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہ لگے گی اور جو شخص اس سے محروم رہ جائے گا وہ کبھی سیراب نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ عَنْ عُثْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ قَالَ وَذَكَرَ الضَّيْفَ غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ أُمُّكُمَا فِي النَّارِ فَأَدْبَرَا وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا فَرَجَعَا وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجِيَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ فَقَالَ أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ شَيْئًا وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ وَعَدَكَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا قَالَ فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ فَقَالَ مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ قَالَ ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام يَقُولُ اكْسُوا خَلِيلِي فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَلَيَلْبِسْهُمَا ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي فَأَلْبَسُهَا فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ قَالَ وَيُفْتَحُ نَهَرٌ مِنْ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ فَإِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ حَالُهُ الْمِسْكُ وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتَةٌ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَهُ نَبْتٌ قَالَ نَعَمْ قُضْبَانُ الذَّهَبِ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ وَإِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ ثَمَرٍ قَالَ نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ إِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ وَإِنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مجھے اپنے ساتھ کہیں لے کر گئے، ہم چلتے رہے یہاں تک کہ جب ایک مقام پر پہنچے تو نبی ﷺ نے زمین پر ایک خط کھینچا اور مجھ سے فرمایا کہ اس خط سے پیچھے رہنا، اس سے آگے نہ نکلنا، اگر تم اس سے آگے نکلے تو ہلاک ہوجاؤ گے، چناچہ میں وہیں رہا اور نبی ﷺ آگے بڑھ گئے، آپ ﷺ اتنی دور گئے جہاں تک انسان کی پھینکی ہوئی کنکری جاسکتی ہے یا اس سے کچھ آگے، وہاں کچھ لوگ محسوس ہوئے جو ہندوستان کی ایک قوم " جاٹ " لگتے تھے، انہوں نے کپڑے بھی نہیں پہن رکھے تھے اور مجھے ان کی شرمگاہ بھی نظر نہیں آتی تھی، ان کے قد لمبے اور گوشت بہت تھوڑا تھا وہ آئے اور نبی ﷺ پر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگے، نبی ﷺ ان کے سامنے کچھ پڑھتے رہے، وہ میرے پاس بھی آئے اور میرے ارد گرد گھومنے اور مجھے چھیڑنے کی کوشش کرنے لگے جس سے مجھ پر شدید قسم کی دہشت طاری ہوگئی اور میں اپنی جگہ پر ہی بیٹھ گیا۔ جب پو پھوٹی تو وہ لوگ جانا شروع ہوگئے، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ واپس آگئے، اس وقت آپ ﷺ بہت بوجھل محسوس ہو رہے تھے اور آپ ﷺ کے جسم میں درد ہو رہا تھا، اس لئے مجھ سے فرمانے لگے کہ مجھے طبیعت بوجھل لگ رہی ہے، پھر اپنا سر میری گود میں رکھ دیا، اسی اثناء میں کچھ لوگ اور آگئے جنہوں نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے اور ان کے قد بھی لمبے لمبے تھے، نبی ﷺ سوچکے تھے اس لئے مجھ پر پہلی مرتبہ سے بھی زیادہ شدید دہشت طاری ہوگئی۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اس بندے کو خیر عطاء کی گئی ہے، اس کی آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے، آؤ، ہم ان کے لئے کوئی مثال دیتے ہیں، تم مثال بیان کرو، ہم اس کی تاویل بتائیں گے یا ہم مثال بیان کرتے ہیں، تم اس کی تاویل بتانا، چناچہ ان میں سے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ان کی مثال اس سردار کی سی ہے جس نے کوئی بڑی مضبوط عمارت بنوائی، پھر لوگوں کو دعوت پر بلایا اور جو شخص دعوت میں شریک نہ ہوا، اس نے اسے بڑی سخت سزا دی، دوسروں نے اس کی تاویل بیان کرتے ہوئے کہا کہ سردار سے مراد تو اللہ رب العالمین ہے، عمارت سے مراد اسلام ہے، کھانے سے مراد جنت ہے اور یہ داعی ہیں، جو ان کی اتباع کرے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو ان کی اتباع نہیں کرے گا اسے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ بھی بیدار ہوگئے اور فرمانے لگے اے ابن ام عبد ! تم نے کیا دیکھا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ یہ چیز دیکھی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا انہوں نے جو کچھ کہا، مجھ پر اس میں سے کچھ بھی پوشیدہ اور مکفی نہیں، یہ فرشتوں کی جماعت تھی۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنِي أَبُو تَمِيمَةَ عَنْ عَمْرٍو لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قَالَ الْبِكَالِيَّ يُحَدِّثُهُ عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ عَمْرٌو إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ اسْتَبْعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْتُ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَطَّ لِي خِطَّةً فَقَالَ لِي كُنْ بَيْنَ ظَهْرَيْ هَذِهِ لَا تَخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ إِنْ خَرَجْتَ هَلَكْتَ قَالَ فَكُنْتُ فِيهَا قَالَ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَذَفَةً أَوْ أَبْعَدَ شَيْئًا أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّهُ ذَكَرَ هَنِينًا كَأَنَّهُمْ الزُّطُّ قَالَ عَفَّانُ أَوْ كَمَا قَالَ عَفَّانُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ وَلَا أَرَى سَوْآتِهِمْ طِوَالًا قَلِيلٌ لَحْمُهُمْ قَالَ فَأَتَوْا فَجَعَلُوا يَرْكَبُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ قَالَ وَجَعَلُوا يَأْتُونِي فَيُخَيِّلُونَ أَوْ يَمِيلُونَ حَوْلِي وَيَعْتَرِضُونَ لِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ رُعْبًا شَدِيدًا قَالَ فَجَلَسْتُ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ فَلَمَّا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ جَعَلُوا يَذْهَبُونَ أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ثَقِيلًا وَجِعًا أَوْ يَكَادُ أَنْ يَكُونَ وَجِعًا مِمَّا رَكِبُوهُ قَالَ إِنِّي لَأَجِدُنِي ثَقِيلًا أَوْ كَمَا قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِي أَوْ كَمَا قَالَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ هَنِينًا أَتَوْا عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ بِيضٌ طِوَالٌ أَوْ كَمَا قَالَ وَقَدْ أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَأُرْعِبْتُ مِنْهُمْ أَشَدَّ مِمَّا أُرْعِبْتُ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا الْعَبْدُ خَيْرًا أَوْ كَمَا قَالُوا إِنَّ عَيْنَيْهِ نَائِمَتَانِ أَوْ قَالَ عَيْنَهُ أَوْ كَمَا قَالُوا وَقَلْبَهُ يَقْظَانُ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَارِمٌ وَعَفَّانُ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ هَلُمَّ فَلْنَضْرِبْ لَهُ مَثَلًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ اضْرِبُوا لَهُ مَثَلًا وَنُؤَوِّلُ نَحْنُ أَوْ نَضْرِبُ نَحْنُ وَتُؤَوِّلُونَ أَنْتُمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ مَثَلُهُ كَمَثَلِ سَيِّدٍ ابْتَنَى بُنْيَانًا حَصِينًا ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى النَّاسِ بِطَعَامٍ أَوْ كَمَا قَالَ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ طَعَامَهُ أَوْ قَالَ لَمْ يَتْبَعْهُ عَذَّبَهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ كَمَا قَالُوا قَالَ الْآخَرُونَ أَمَّا السَّيِّدُ فَهُوَ رَبُّ الْعَالَمِينَ وَأَمَّا الْبُنْيَانُ فَهُوَ الْإِسْلَامُ وَالطَّعَامُ الْجَنَّةُ وَهُوَ الدَّاعِي فَمَنْ اتَّبَعَهُ كَانَ فِي الْجَنَّةِ قَالَ عَارِمٌ فِي حَدِيثِهِ أَوْ كَمَا قَالُوا وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْهُ عُذِّبَ أَوْ كَمَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ مَا رَأَيْتَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا خَفِيَ عَلَيَّ مِمَّا قَالُوا شَيْءٌ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ أَوْ قَالَ هُمْ مِنْ الْمَلَائِكَةِ أَوْ كَمَا شَاءَ اللَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے یہ چیز اچھی لگتی ہے کہ میرے کپڑے دھلے ہوئے ہوں، میرے سر میں تیل لگا ہوا ہو اور میرے جوتوں کا تسمہ نیا ہو، اس نے کچھ اور چیزیں بھی ذکر کیں حتی کہ اپنے کوڑے کی رسی کا بھی ذکر کیا اور کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، یہ تو خوبصورتی ہے، اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ كِبْرٍ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَيُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي غَسِيلًا وَرَأْسِي دَهِينًا وَشِرَاكُ نَعْلِي جَدِيدًا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ حَتَّى ذَكَرَ عِلَاقَةَ سَوْطِهِ أَفَمِنْ الْكِبْرِ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا ذَاكَ الْجَمَالُ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ وَازْدَرَى النَّاسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد حکومت کی باگ دوڑ کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں بھی آئے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور بدعت کو جلاء دیں گے اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے، حضرت ابن مسعود (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر میں ایسے لوگوں کو پاؤں تو ان کے ساتھ میرا رویہ کیسا ہونا چاہئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن ام عبد ! اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں کی جاتی، یہ جملہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرایا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ قَالَ لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ و سَمِعْت أَنَا مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ گوشت تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوجاتے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَحَمْزَةَ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَمَسُّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گوشت تناول فرمایا : پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةَ مَاءٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گوشت تناول فرمایا : پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ لَحْمًا ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت سعد بن معاذ (رض) ایک مرتبہ عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے اور امیہ بن خلف ابو صفوان کے مہمان بنے، امیہ کی بھی یہی عادت تھی کہ جب وہ شام جاتے ہوئے مدینہ منورہ سے گذرتا تھا تو حضرت سعد (رض) سے کہنے لگا کہ آپ تھوڑا سا انتظار کرلیں، جب دن خوب نکل آئے گا اور لوگ غافل ہوجائیں گے تب آپ جا کر طواف کرلیجئے گا۔ جب حضرت سعد (رض) طواف کر رہے تھے تو اچانک ابو جہل آگیا اور کہنے لگا کہ یہ کون شخص خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے ؟ حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ میں سعد ہوں، ابوجہل کہنے لگا کہ تم کتنے اطمینان سے طواف کر رہے ہو حالانکہ تم نے محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے ؟ حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ ہاں ! ہم نے انہیں پناہ دے رکھی ہے، اس پر دونوں میں تکرار ہونے لگی۔ امیہ بن خلف حضرت سعد (رض) سے کہنے لگا کہ آپ ابو الحکم یعنی ابو جہل پر اپنی آواز کو بلند نہ کریں کیونکہ وہ اس علاقے کا سردار ہے، حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ بخدا ! اگر تو نے مجھے طواف کرنے سے روکا تو میں تیری شام کی تجارت کا راستہ بند کر دوں گا، امیہ باربار کہے جاتا تھا کہ آپ اپنی آواز اونچی نہ کریں اور انہیں روکے جاتا تھا، اس پر حضرت سعد (رض) کو غصہ آیا اور فرمایا کہ ہمارے درمیان سے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمہارے بارے بھی میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کردیں گے، امیہ نے پوچھا مجھے ؟ حضرت سعد (رض) نے فرمایا ہاں ! امیہ نے کہا کہ بخدا ! مجھے محمد ﷺ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، بہرحال ! جب وہ لوگ چلے گئے تو امیہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور کہنے لگا تمہیں پتہ چلا کہ اس یثربی نے مجھ سے کیا کہا ہے پھر اس نے اپنی بیوی کو سارا واقعہ بتایا، ادھر جب منادی آیا اور لوگ بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو امیہ کی بیوی نے اس سے کہا تمہیں یاد نہیں ہے کہ تمہارے یثربی دوست نے تم سے کیا کہا تھا ؟ اس پر امیہ نے نہ جانے کا ارادہ کرلیا، لیکن ابو جہل اس سے کہنے لگا کہ تم ہمارے اس علاقے کے معزز آدمی ہو، ایک دو دن کے لئے ہمارے ساتھ چلے چلو، چناچہ وہ ان کے ساتھ چلا گیا اور اللہ نے اسے قتل کروا دیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا فَنَزَلَ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتَ فَطُفْتَ فَبَيْنَمَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذْ أَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا قَالَ سَعْدٌ أَنَا سَعْدٌ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَتَلَاحَيَا فَقَالَ أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ وَاللَّهِ إِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ إِلَيْكَ مَتْجَرَكَ إِلَى الشَّأْمِ فَجَعَلَ أُمَيَّةُ يَقُولُ لَا تَرْفَعَنَّ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ فَقَالَ دَعْنَا مِنْكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ قَالَ إِيَّايَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ فَلَمَّا خَرَجُوا رَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ لِي الْيَثْرِبِيُّ فَأَخْبَرَهَا فَلَمَّا جَاءَ الصَّرِيخُ وَخَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ أَمَا تَذْكُرُ مَا قَالَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي فَسِرْ مَعَنَا يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفِ بْنِ صَفْوَانَ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّامِ وَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَرَجَعَ إِلَى أُمِّ صَفْوَانَ فَقَالَ أَمَا تَعْلَمِي مَا قَالَ أَخِي الْيَثْرِبِيُّ قَالَتْ وَمَا قَالَ قَالَ زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ وَسَاقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب سونے کے لئے اپنے بستر پر آکر لیٹتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعاء فرماتے کہ پروردگار ! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَمِينَهُ تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ
tahqiq

তাহকীক: