আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৬২৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کردیتے ہیں اور نبی ﷺ نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہوگئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا فَأَجَّجُوا نَارًا وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ؟ نبی ﷺ نے ان کے لئے دعاء کردی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ قَالَ فَأُرِيتُ أُمَّتِي فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَالَ عُكَّاشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهُ ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے ؟ فرمایا ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَرَكَ مِنْ أُمَّتِكَ فَقَالَ إِنَّهُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے ؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ وَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت سلمی بنت جابر کہتی ہیں کہ ان کے شوہر شہید ہوگئے، وہ حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ میرے شوہر شہید ہوگئے ہیں، مجھے کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا ہے لیکن میں نے اب مرنے تک شادی کرنے سے انکار کردیا ہے، کیا آپ کو امید ہے کہ اگر میں اور وہ جنت میں اکٹھے ہوگئے تو میں ان کی بیویوں میں شمار ہوں گی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک آدمی یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم نے جب سے آپ کو یہاں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے، کبھی اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا کہ (کہ کسی کو آپ نے اس طرح یقین دلایا ہو) ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں میری امت میں سے مجھے سب سے پہلے ملنے والی ایک عورت ہوگی جس کا تعلق قریش سے ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ اسْتُشْهِدَ زَوْجِي وَقَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي إِنْ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مَا رَأَيْنَاكَ نَقَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ آئینہ دیکھتے ہوئے یہ دعاء پڑھتے تھے کہ اے اللہ ! جس طرح آپ نے میری صورت اچھی بنائی ہے، میری سیرت بھی اچھی کر دے۔
حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابو جہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا لیکن تلوار نے اس پر کچھ اثر نہ کیا، میں اسے مسلسل تلوار مارتا رہا یہاں تک کہ میں نے اپنی تلوار سے اسے قتل کردیا، پھر میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابو جہل مارا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں، چناچہ نبی ﷺ اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، سورج کی تمازت کی وجہ سے اس کی لاش سڑنے لگی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اسے اور اس کے ساتھیوں کو کھینچ کر کنوئیں میں ڈال دو اور ان کنوئیں والوں کے پیچھے پیچھے لعنت کو لگا دیا گیا نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس امت کا فرعون تھا۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابو جہل کے متعلق فرمایا یہ میری امت کا فرعون ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا جَهْلٍ وَقَدْ جُرِحَ وَقُطِعَتْ رِجْلُهُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي فَلَا يَعْمَلُ فِيهِ شَيْئًا قِيلَ لِشَرِيكٍ فِي الْحَدِيثِ وَكَانَ يَذُبُّ بِسَيْفِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخَذْتُ سَيْفَهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى قَتَلْتُهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ قَدْ قُتِلَ أَبُو جَهْلٍ وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ آللَّهِ مَرَّتَيْنِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبْ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ فَذَهَبَ فَأَتَاهُ وَقَدْ غَيَّرَتْ الشَّمْسُ مِنْهُ شَيْئًا فَأَمَرَ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ فَسُحِبُوا حَتَّى أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ قَالَ وَأُتْبِعَ أَهْلُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً وَقَالَ كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَدَّثَنَا أَسْودُ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو نبی ﷺ بنو نخع کے اس قبیلے کے لئے دعاء یا تعریف فرما رہے تھے حتی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش ! میں بھی ان ہی میں سے ہوتا۔
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِمَّا قَالَ شَقِيقٌ وَإِمَّا قَالَ زِرٌّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ النَّخَعِ أَوْ قَالَ يُثْنِي عَلَيْهِمْ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ کو گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا، پھر نبی ﷺ پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةً مِنْ مَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعراء اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ قَالَ وَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرِيَاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی ﷺ کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَوْ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعراء اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّيْطَانِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْثِهِ وَنَفْخِهِ فَهَمْزُهُ الْمُوتَةُ وَنَفْثُهُ الشِّعْرُ وَنَفْخُهُ الْكِبْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৩৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخر زمانے میں ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو بیوقوف اور نوعمر ہوگی، یہ لوگ انسانوں میں سے سب سے بہتر انسان (نبی ﷺ کی بات کریں گے اور اپنی زبانوں سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاتی ہوگی، یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جو شخص انہیں پائے تو انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے پر قاتل کے لئے اللہ کے یہاں بڑا ثواب ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ أَحْدَاثٌ أَوْ قَالَ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ فَمَنْ أَدْرَكَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے، نبی ﷺ حضرت ابوبکر (رض) عنہ، حضرت عمار (رض) اور ان کی والدہ حضرت سمیہ (رض) ، حضرت صہیب، حضرت بلال اور حضرت مقداد (رض) جن میں سے نبی ﷺ کی حفاظت اللہ نے ان کے چچا خواجہ ابو طالب کے ذریعے کروائی اور حضرت صدیق اکبر (رض) کی ان کی قوم کے ذریعے اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا، وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے، ان میں سے سوائے بلال کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو، کہ بلال نے تو اپنی ذات کو اللہ کے معاملے میں فناء کردیا تھا اور انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا، قریش انہیں بچوں کے حوالے کردیتے اور وہ انہیں مکہ مکرمہ کی گلیوں میں لئے پھرتے تھے لیکن حضرت بلال (رض) پھر بھی احد، احد کہتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعَمَّارٌ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَالْمِقْدَادُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلَّا بِلَالٌ فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آجاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا رکھا تھا میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اند آجاؤ۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَكْشِفَ السِّتْرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، اس دوران ایک شخص ایک جھاڑی کی طرف چلا گیا، وہاں اسے لال (ایک پرندہ کا گھونسلہ نظر آیا، اس نے اس کے) انڈے نکال لئے، اتنی دیر میں وہ چڑیا آئی اور نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سروں پر منڈلانے اور چلانے لگی، نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کس نے اسے تنگ کیا ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس کے انڈے لے آیا ہوں نبی ﷺ نے فرمایا انہیں واپس کردو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ نبی ﷺ نے یہ حکم اپنی شفقت کی وجہ سے دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ فَأَخْرَجَ مِنْهَا بَيْضَ حُمَرَةٍ فَجَاءَتْ اَلْحُمَرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْدُدْهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ وَقَالَ رُدَّهُ رَحْمَةً لَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابن معیز سعدی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں صبح کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے نکلا تو بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے میرا گذر ہوا، وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا پیغمبر ہے، میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، انہوں نے سپاہیوں کو بھیج کر انہیں بلوا لیا، ان سے توبہ کروائی، انہوں نے توبہ کرلی، حضرت ابن مسعود (رض) نے ان کا راستہ چھوڑ دیا البتہ عبداللہ بن نواحہ کی گردن اڑا دی، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایک ہی معاملے میں ایک قوم کو پکڑا اور ان میں سے کچھ کو قتل کردیا اور کچھ کو چھوڑ دیا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اور ابن دجال مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی ﷺ کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا تھا کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے پیغمبر اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا، اس وجہ سے میں نے اسے قتل کیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ وَهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُهُ فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ فَجَاءُوا بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ فَتَابُوا فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ فَقَالُوا آخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ فَقَالَ أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَا نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا لَقَتَلْتُكُمَا فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو، ہدیہ مت لوٹاؤ اور مسلمانوں کو مت مارو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوا الدَّاعِيَ وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৪৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ وَلَا بِلَعَّانٍ وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ وَقَالَ ابْنُ سَابِقٍ مَرَّةً بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ
তাহকীক: