আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৬০৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نبی ﷺ نے دور ہی سے فرمایا مانگو تمہیں دیا جائے گا، وہ یہ دعاء کر رہے تھے کہ اے اللہ ! میں آپ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جس میں کبھی ارتداد نہ آئے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں اور نبی اکرم ﷺ کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ يَدْعُو فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو فَقَالَ سَلْ تُعْطَهْ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَعْلَى غُرَفِ الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے، اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ عَلَى صُورَتِي حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی ﷺ کا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) میں سے کوئی نہ کوئی ولی ہوا ہے اور میرے ولی میرے والد (جد امجد) اور میرے رب کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں، پھر نبی ﷺ نے یہ آیت مکمل تلاوت فرمائی " ان اولی الناس بابراہیم۔۔۔۔۔۔ "
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وُلَاةً وَإِنَّ وَلِيِّي مِنْهُمْ أَبِي وَخَلِيلُ رَبِّي إِبْرَاهِيمُ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں جمع فرمایا : اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔ جو شخص اپنے قبیلے والوں کی کسی ایسی بات پر مدد اور حمایت کرتا ہے جو ناحق ہو اور غلط ہو، اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کسی کنوئیں میں گرپڑے، پھر اپنی دم کے سہارے کنوئیں سے باہر نکلنا چاہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنْ أَدَمٍ فِي نَحْوٍ مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا فَقَالَ إِنَّكُمْ مَفْتُوحٌ عَلَيْكُمْ مَنْصُورُونَ وَمُصِيبُونَ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَلْيَنْهَ عَنْ الْمُنْكَرِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ وَمَثَلُ الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى غَيْرِ الْحَقِّ كَمَثَلِ بَعِيرٍ رُدِّيَ فِي بِئْرٍ فَهُوَ يَنْزِعُ مِنْهَا بِذَنَبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر شخص کے ساتھ جنات میں سے ایک ہم نشین اور ایک ہم نشین ملائکہ میں سے مقرر کیا گیا ہے، صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ کے ساتھ بھی ؟ فرمایا ہاں ! لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اس لئے اب وہ مجھے صرف حق بات کا ہی حکم دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَبِيِه عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِيَّايَ لَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلَا يَأْمُرُنِي إِلَّا بِخَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورت احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے اس کی قراءت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا اور میں اسے تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں نہ پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی ﷺ نے فرمایا اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے، پھر فرمایا یہ دیکھ لیا کرو کہ تم میں زیادہ بڑا قاری کون ہے، اس کی تلاوت اپنا لیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ حم الثَّلَاثِينَ يَعْنِي الْأَحْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا لَمْ يَقْرَأْهُ صَاحِبُهُ وَقَرَأْتُ أَحْرُفًا فَلَمْ يَقْرَأْهَا صَاحِبَيَّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ لَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا أَقْرَأَكُمْ رَجُلًا فَخُذُوا بِقِرَاءَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو الکنود کہتے ہیں کہ کسی غزوے میں مجھے سونے کی ایک انگوٹھی ملی، میں اسے پہن کر حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا، انہوں نے اسے اپنے دو جبڑوں کے درمیان رکھ کر چبایا اور فرمایا نبی ﷺ نے سونے کے چھلے اور انگوٹھی سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ عَنْ أَبِي الْكَنُودِ قَالَ أَصَبْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي بَعْضِ الْمَغَازِي فَلَبِسْتُهُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَأَخَذَهُ فَوَضَعَهُ بَيْنَ لَحْيَيْهِ فَمَضَغَهُ وَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَخَتَّمَ بِخَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ بِحَلَقَةِ الذَّهَبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے سورت نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کرلیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہی کافی ہے، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُورَةِ النَّجْمِ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ إِلَّا سَجَدَ إِلَّا شَيْخٌ أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ وَقَالَ يَكْفِينِي هَذَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُتِلَ كَافِرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی ﷺ کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا، چناچہ ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا گذر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ پھر میری امت کہاں ہے ؟ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کیا آپ راضی ہیں ؟ میں نے کہا پروردگار ! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ نبی ﷺ نے صحابہ (رض) سے فرمایا تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اگر تم ستر ہزار والے افراد میں شامل ہو سکو تو ایسا ہی کرو، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو ٹیلے والوں میں شامل ہوجاؤ اور اگر یہ بھی نہ کرسکو تو افق والوں میں شامل ہوجاؤ، کیونکہ میں نے وہاں بہت سے لوگوں کو ملتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر پوچھنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں بھی ان میں شامل ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے، پھر نبی ﷺ اٹھے اور اپنے گھر میں داخل ہوگئے اور لوگ یہ بحث کرنے لگے کہ بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہونے والے یہ لوگ کون ہوں گے ؟ بعض کہنے لگے کہ ہوسکتا ہے یہ نبی ﷺ کے صحابہ ہوں، بعض نے کہا کہ شاید اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے ہوں اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کیا ہو، اسی طرح کچھ اور آراء بھی لوگوں نے دیں۔ جب نبی ﷺ کو پتہ چلا تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ وَالنَّبِيُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ فَقِيلَ لِي هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ أُمَّتِي فَقِيلَ لِيَ انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الظِّرَابُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ثُمَّ قِيلَ لِيَ انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ فَقِيلَ لِي أَرَضِيتَ فَقُلْتُ رَضِيتُ يَا رَبِّ رَضِيتُ يَا رَبِّ قَالَ فَقِيلَ لِي إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدًا لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي إِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنْ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الظِّرَابِ فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْ السَّبْعِينَ فَدَعَا لَهُ فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ قَالَ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعُونَ الْأَلْفُ قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، پانی نہیں مل رہا تھا، نبی ﷺ کی خدمت میں پانی کا ایک برتن پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے اپنا دست مبارک اس میں ڈالا اور انگلیاں کشادہ کر کے کھول دیں، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہہ پڑے اور نبی ﷺ فرماتے جا رہے تھے وضو کے لئے آؤ، یہ برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ اعمش کہتے ہیں کہ مجھے سالم بن ابی الجعد نے بتایا کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے پوچھا اس دن کتنے لوگ تھے ؟ فرمایا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار افراد پر مشتمل تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ وَالْبَرَكَةُ مِنْ اللَّهِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ كَمْ كَانَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اپنی نیکی اور برائی کا کیسے پتہ چلے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے پڑوسیوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا تو واقعی تم نے اچھا کام کیا اور جب تم لوگوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تو نے برا کام کیا تو تم نے واقعی برا کام کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو، نیز یہ کہ جس قوم میں سود اور زنا کا غلبہ ہوجائے، وہ لوگ اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو حلال کرلیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَكَاتِبَهُ قَالَ وَقَالَ مَا ظَهَرَ فِي قَوْمٍ الرِّبَا وَالزِّنَا إِلَّا أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬১৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں لیلۃ الجن کے موقع پر نبی ﷺ کے ساتھ تھا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا عبداللہ ! کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی ﷺ نے پوچھا اس برتن میں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا نبیذ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو، نبی ﷺ نے اس سے وضو کیا اور فرمایا اے عبداللہ بن مسعود ! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے، پھر نبی ﷺ نے ہمیں اسی سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ لَقِيَ الْجِنَّ فَقَالَ أَمَعَكَ مَاءٌ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ مَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ قُلْتُ نَبِيذٌ قَالَ أَرِنِيهَا تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا ثُمَّ صَلَّى بِنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی ﷺ سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی ﷺ نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ و قَالَ وَأُخْرَى أَقُولُهَا لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ مَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا، میں عرض کروں گا پروردگار ! میرے ساتھی ؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کرلی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ ﷺ فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ وَيُفْطِرُ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يَدَعُهُمَا يَقُولُ لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا يَعْنِي الْفَرِيضَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمًا يُحَدِّثُ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬২৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو وائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) اور حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب جو زمانہ ہوگا اس میں جہالت کا نزول ہوگا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہوگی، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا قتل۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهِنَّ الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ قَالَ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ
tahqiq

তাহকীক: