আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৪৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آکر نبی ﷺ سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہوگیا نبی ﷺ کو بتایا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا قَالُوا تَرَكَ دِينَارَيْنِ قَالَ كَيَّتَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ ﷺ جواب دے دیتے تھے لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ کا جواب دے دیتے تھے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيَّ وَإِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৪৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس ایک مرتبہ آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے، آپ عورتوں کو بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے منع کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ایسا ہی ہے، اس عورت نے پوچھا کہ یہ حکم آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے اس حوالے سے نبی ﷺ کا کوئی فرمان سنا ہے ؟ فرمایا مجھے یہ حکم قرآن میں بھی ملتا ہے اور نبی ﷺ کے فرمان میں بھی ملتا ہے، وہ عورت کہنے لگی بخدا ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے پوچھا کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی کہ پیغمبر اللہ تہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فرمایا پھر میں نے نبی ﷺ کو ان چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے بالوں کے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی سے، ہاں ! اگر کوئی بیماری ہو تو دوسری بات ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو ؟ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا اگر ایسا ہو تو میں عبد صالح حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ نصییحت یاد نہ رکھتا کہ میں تمہیں جس چیز سے روکتا ہوں، میں خود اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا (کہ میں تمہیں ایک کام سے روکوں اور خود وہی کام کرتا رہوں )
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَتْ أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنْ الْوَاصِلَةِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيْ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ قَالَ فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ مَا آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّامِصَةِ وَالْوَاشِرَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ إِلَّا مِنْ دَاءٍ قَالَتْ الْمَرْأَةُ فَلَعَلَّهُ فِي بَعْضِ نِسَائِكَ قَالَ لَهَا ادْخُلِي فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ بَأْسًا قَالَ مَا حَفِظْتُ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيْسَ بِاللَّعَّانِ وَلَا الطَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارے رب کو دو قسم کے آدمی بڑے اچھے لگتے ہیں، ایک تو وہ جو اپنے بستر اور لحاف اپنے اہل خانہ اور محلہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو ! میرے اس بندے کو دیکھو جو اپنے بستر اور لحاف اپنے محلے اور اہل خانہ کو چھوڑ کر نماز کے لئے آیا ہے، میرے پاس موجود نعمتوں کے شوق میں اور میرے یہاں موجود سزاء کے خوف سے۔ اور دوسرا وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے نکلا، لوگ شکست کھا کر بھاگنے لگے، اسے معلوم تھا کہ میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کی کیا سزا ہے اور واپس لوٹ جانے میں کیا ثواب ہے، چناچہ وہ واپس آکر لڑتا رہا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا اور اس کا یہ عمل بھی صرف میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے اس بندے کو دیکھو جو میری نعمتوں کے شوق اور میری سزا کے خوف سے تھا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں میرے اس بندے کو دیکھو جو میری نعمتوں کے شوق اور سزا کے خوف سے واپس آگیا یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا گیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنِ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلَيْنِ رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ مِنْ بَيْنِ أَهْلِهِ وَحَيِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ رَبُّنَا أَيَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ وَمِنْ بَيْنِ حَيِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي وَرَجُلٍ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَانْهَزَمُوا فَعَلِمَ مَا عَلَيْهِ مِنْ الْفِرَارِ وَمَا لَهُ فِي الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي رَجَعَ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَرَهْبَةً مِمَّا عِنْدِي حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں تجھ ہدایت تقوی عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ایک شخص کے جنت میں داخل کروانے کے لئے بھیجا اور وہ اس طرح کہ نبی ﷺ ایک گرجے میں داخل ہوئے، وہاں کچھ یہودی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک یہودی ان کے سامنے تورات کی تلاوت کر رہا تھا، جب نبی ﷺ کی صفات کا بیان آیا تو وہ لوگ رک گئے، اس گرجے کے ایک کونے میں ایک بیمار آدمی بھی تھا، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم رک کیوں گئے ؟ وہ بیمار آدمی کہنے لگا کہ یہاں سے ایک نبی کی صفات کا بیان شروع ہو رہا ہے، اس لئے یہ رک گئے ہیں، وہ مریض گھستا ہوا آگے بڑھا اور اس نے تورات پکڑ لی اور اسے پڑھنا شروع کردیا یہاں تک کہ نبی ﷺ کی صفات اور آپ کی امت کی صفات کے بیان پر پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ یہ آپ کی اور آپ کی امت کی علامات ہیں، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ کہتے ہی اس کی روح پرواز کرگئی، نبی ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا کہ اپنے بھائی سے محبت کرو ( اور اسے لے چلو)
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ عَفَّانُ عَنْ أَبِيهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَعَثَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِدْخَالِ رَجُلٍ إِلَى الْجَنَّةِ فَدَخَلَ الْكَنِيسَةَ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودَ وَإِذَا يَهُودِيٌّ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ التَّوْرَاةَ فَلَمَّا أَتَوْا عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسَكُوا وَفِي نَاحِيَتِهَا رَجُلٌ مَرِيضٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكُمْ أَمْسَكْتُمْ قَالَ الْمَرِيضُ إِنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى صِفَةِ نَبِيٍّ فَأَمْسَكُوا ثُمَّ جَاءَ الْمَرِيضُ يَحْبُو حَتَّى أَخَذَ التَّوْرَاةَ فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتِهِ فَقَالَ هَذِهِ صِفَتُكَ وَصِفَةُ أُمَّتِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لُوا أَخَاكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم کسی شخص کے متعلق یہ کہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کہ فلاں شخص شہادت کی موت سے مرا یا مارا گیا، کیونکہ بعض لوگ مال غنیمت کے حصول کے لئے قتال کرتے ہیں، بعض اپنا تذکرہ کروانے کے لئے اور بعض اس لئے جنگ میں شریک ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو اپنا مقام دکھا سکیں، اگر تم ضرور ہی کسی کے متعلق یہ گواہی دینا چاہتے ہو تو ان لوگوں کے لئے یہ گواہی دے دو جنہیں نبی ﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا تھا اور وہ شہید ہوگئے تھے اور انہوں نے دعاء کی تھی کہ اے اللہ ! ہماری طرف سے ہمارے نبی ﷺ کو یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ ہم آپ سے مل چکے، آپ ہم سے راضی ہوگئے اور ہمیں اپنے رب سے راضی کردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تَقُولُوا مَاتَ فُلَانٌ شَهِيدًا أَوْ قُتِلَ فُلَانٌ شَهِيدًا فَإِنَّ الرَّجُلَ يُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ وَيُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ فَإِنْ كُنْتُمْ شَاهِدِينَ لَا مَحَالَةَ فَاشْهَدُوا لِلرَّهْطِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقُتِلُوا فَقَالُوا اللَّهُمَّ بَلِّغْ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَاكَ فَرَضِينَا عَنْكَ وَرَضِيتَ عَنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بھی اور حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں، اے کاش ! مجھے چار رکعتوں کی بجائے دو مقبول رکعتوں کا ہی حصہ مل جائے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَوْ إِبْرَاهِيمَ شُعْبَةُ شَكَّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے فرمایا آج رات میں حجون نامی جگہ میں اپنے جنات ساتھیوں کو قرآن پڑھاتا رہا ہوں۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِتُّ اللَّيْلَةَ أَقْرَأُ عَلَى الْجِنِّ رُفَقَاءَ بِالْحَجُونِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৫৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کرو انے والی اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ يَحْيَى وَالْمُوسِمَاتِ اللَّاتِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
قبیصہ بن جابر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بنو اسد کی ایک بوڑھی عورت کو لے کر حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں میں خلا پیدا کروانے والی اور جسم گودنے والی عورتوں پر لعنت ہے جو اللہ کی تخلیق کو بگاڑتی ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ عَجُوزٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَذَكَرَ قِصَّةً فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْعَنُ الْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُوشِمَاتِ اللَّاتِي يُغَيِّرْنَ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِتَالُ مُسْلِمٍ أَخَاهُ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا گھٹیا اشعار کی طرح ؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح ؟ حالانکہ انہیں مفصلات اسی بناء پر قرار دیا گیا ہے تاکہ تم انہیں جدا جدا کر کے پڑھ سکو، میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں۔ اور اس سے حضرت ابن مسعود (رض) کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں جن میں سورت رحمن اور نجم شامل ہیں، ایک رکعت میں یہ دو سورتیں اور ایک رکعت میں سورت دخان اور سورت نباء۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ هَذًّا مِثْلَ هَذِّ الشِّعْرِ أَوْ نَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ عِشْرِينَ سُورَةً الرَّحْمَنُ وَالنَّجْمُ عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كُلُّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ وَذَكَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ فِي رَكْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اور بتایا جائے گا کہ یہ فلاں آدمی کی دھوکے بازی ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ وَيُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں آیت بھول گیا بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی۔ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو کیونکہ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے کہ جانور بھی اپنی رسی چھڑا کر اتنی تیزی سے نہیں بھاگتا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابن سخبرہ (رح) کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ہمراہ منیٰ سے عرفات کی طرف روانہ ہو، وہ راستے بھر تلبیہ کہتے رہے، وہ گھنگھریالے بالوں والے گندم گوں رنگت کے مالک تھے، ان کی دو مینڈھیاں تھیں اور اہل دیہات کی طرح انہوں نے کمبل اپنے اوپر لے رکھا تھا، انہیں تلبیہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو کر کہنے لگے اے دیہاتی ! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، آج تکبیر کا دن ہے، حضرت ابن مسعود (رض) نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا لوگ ناواقف ہیں یا بھول گئے ہیں، اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے نبی ﷺ کے ساتھ روانہ ہو تو نبی ﷺ نے جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ کو ترک نہیں فرمایا البتہ درمیان درمیان میں نبی ﷺ تہلیل و تکبیر بھی کہہ لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ غَدَوْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فَكَانَ يُلَبِّي قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ لَهُ ضَفْرَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ قَالُوا يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ هَذَا لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ قَالَ فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ أَجَهِلَ النَّاسُ أَمْ نَسُوا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا أَنْ يَخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن کے علاوہ نبی ﷺ کو قریش کے خلاف بددعا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، دائیں بائیں قریش کے کچھ لوگ موجود تھے اور نبی ﷺ کے قریب ایک اونٹ کی اوجھڑی پڑی ہوئی تھی، قریش کے لوگ کہنے لگے کہ یہ اوجھڑی لے کر ان کی پشت پر کون ڈالے گا، عقبہ بن ابی معیط نے اپنے آپ کو پیش کردیا اور وہ اوجھڑی لے آیا اور اسے نبی ﷺ کی پشت پر ڈال دیا، جس کی وجہ سے نبی ﷺ اپنا سر نہ اٹھا سکے، حضرت فاطمہ (رض) کو پتہ چلا تو وہ جلدی سے آئیں اور اسے نبی ﷺ کی پشت سے اتار کر دور پھینکا اور یہ گندی حرکت کرنے والے کو بددعائیں دینے لگیں، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اے اللہ ! قریش کے ان سرداروں کی پکڑ فرما، اے اللہ ! عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیع، ابوجہل، عقبہ بن ابی معیط، ابی بن خلف، یا امیہ بن خلف کی پکڑ فرما، حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان سب کو دیکھا کہ یہ غزوہ بدر کے موقع پر مارے گئے اور انہیں گھسیٹ کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا گیا، سوائے امیہ کے جس کے اعضاء کٹ چکے تھے، اسے کنوئیں میں نہیں ڈالا گیا۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَى قُرَيْشٍ غَيْرَ يَوْمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَرَهْطٌ مِنْ قُرَيْشٍ جُلُوسٌ وَسَلَى جَزُورٍ قَرِيبٌ مِنْهُ فَقَالُوا مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّلَى فَيُلْقِيَهُ عَلَى ظَهْرِهِ قَالَ فَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ أَنَا فَأَخَذَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَلَمْ يَزَلْ سَاجِدًا حَتَّى جَاءَتْ فَاطِمَةُ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهَا فَأَخَذَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ أَوْ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ جَمِيعًا ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ غَيْرَ أُبَيٍّ أَوْ أُمَيَّةَ فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَتَقَطَّعَ
tahqiq

তাহকীক: