আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৮৪৯ টি

হাদীস নং: ৩৭৬৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سب سے بہترین وہ ہیں جو میرے زمانہ میں ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، پھر وہ جو ان کے بعد ہوں گے، اس کے بعد ایسی قوم آئے گی جس کی گواہی قسم سے آگے بڑھ جائے گی اور قسم گواہی سے آگے بڑھ جائے گی۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي الَّذِينَ يَلُونِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ وَلَا أَدْرِي أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ ثُمَّ يَخْلُفُ بَعْدَهُمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے ساری امتوں کو پیش کیا گیا، پھر ان کی امت کو پیش کیا گیا جس کی کثرت نبی ﷺ کو بہت اچھی لگی، نبی ﷺ کو بتایا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے بھی ہیں جو جنت میں بلاحساب کتاب داخل ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ فَأَعْجَبَتْهُ كَثْرَتُهُمْ فَقِيلَ إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৬৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح حضرت ابو لبابہ (رض) اور حضت علی (رض) نبی ﷺ کے ساتھی تھے، جب نبی ﷺ کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی ﷺ نے فرمایا تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ بَيْنَ كُلِّ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ بَعِيرٌ وَكَانَ زَمِيلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ وَأَبُو لُبَابَةَ قَالَ وَكَانَ إِذَا كَانَتْ عُقْبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَا لَهُ ارْكَبْ حَتَّى نَمْشِيَ عَنْكَ فَيَقُولُ مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي وَمَا أَنَا بِأَغْنَى عَنْ الْأَجْرِ مِنْكُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ قضاء حاجت کے لئے نکلے تو مجھ سے فرمایا کہ میرے پاس تین پتھر تلاش کر کے لاؤ میں دو پتھر اور لید کا ایک خشک ٹکڑا لاسکا، نبی ﷺ نے دونوں پتھر لے لئے اور لید کے ٹکڑے کو پھینک کر فرمایا یہ ناپاک ہے۔ سفیان نے ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) کے نقل کردہ تشہد کا ذکر کیا اور پوری سند ذکر کی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَلَمْ أَجِدْ الثَّالِثَ فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ هَذِهِ رِكْسٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَذَكَرَ التَّشَهُّدَ تَشَهُّدَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْصُورٌ وَالْأَعْمَشُ وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) جس کا نام نہیک بن سنان تھا، حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا گھٹیا اشعار کی طرح ؟ یا ردی قسم کی نثر کی طرح ؟ حالانکہ نبی ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ ایک جیسی سورتوں مثلا سورت رحمان اور سورت نجم کو ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے، پھر ابو اسحاق نے دس رکعتوں کا بیس سورتوں کے ساتھ تذکرہ کیا اور اس سے حضرت ابن مسعود (رض) کے جمع کردہ مصحف کے مطابق مفصلات کی ابتدائی بیس سورتیں مراد ہیں جن کا اختتام سورت تکویر اور دخان ہوا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ فَقَالَ بَلْ هَذَذْتَ كَهَذِّ الشِّعْرِ أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ كَانَ يَقْرَأُ النُّظُرَ الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ قَالَ فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ کے میدان میں حضرت ابن مسعود (رض) کے ساتھ تھا، انہوں نے دو نمازیں پڑھیں۔ ہر نماز تنہا ایک اذان اور اقامت کے ساتھ پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کھانا بھی کھایا اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جب طلوع فجر ہوگئی (یا راوی نے یہ کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے تھے کہ صبح صادق ہوگئی ہے اور بعض کہہ رہے تھے کہ ابھی نہیں ہوئی) پھر انہوں نے نبی ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا کہ صرف اس جگہ پر ان دو نمازوں کا وقت بدل دیا گیا ہے، لوگ مزدلفہ میں رات کے وقت آتے ہیں اور فجر کی نماز اس وقت پڑھی جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ فَصَلَّى الصَّلَاتَيْنِ كُلَّ صَلَاةٍ وَحْدَهَا بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ وَالْعَشَاءُ بَيْنَهُمَا وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ حِينَ قَالَ قَائِلٌ طَلَعَ الْفَجْرُ وَقَالَ قَائِلٌ لَمْ يَطْلُعْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا فِي هَذَا الْمَكَانِ لَا يَقْدَمُ النَّاسُ جَمْعًا حَتَّى يُعْتِمُوا وَصَلَاةُ الْفَجْرِ هَذِهِ السَّاعَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت نبی ﷺ نے مجھے اس طرح پڑھائی تھی " انی انا الرزاق ذوالقوۃ المتین "
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے اس ارشاد باری تعالیٰ " دل نے جھوٹ نہیں بولا جو دیکھا " کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو باریک ریشمی حلے میں دیکھا کہ انہوں نے آسمان و زمین کے درمیان تمام ح سے کو پر کر رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور حضرات ابوبکر و عمر (رض) ہر مرتبہ جھکتے اٹھتے، کھڑے اور بیٹھتے وقت تکبیر کہتے تھے اور دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَأَبُو أَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رُكُوعٍ وَسُجُودٍ وَرَفْعٍ وَوَضْعٍ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا وَيُسَلِّمُونَ عَلَى أَيْمَانِهِمْ وَشَمَائِلِهِمْ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ ﷺ مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ وَأَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ فَقَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَوْ اسْتَزَدْتُ لَزَادَنِي قَالَ حُسَيْنٌ اسْتَزَدْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں نماز سکھاتے ہوئے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو جوڑ کر گھٹنوں کے درمیان کرلیا، حضرت سعد (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میرے بھائی نے سچ کہا ہے، ہم پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں ہمیں گھٹنے پکڑنے کا حکم دے دیا گیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ أَمْلَاهُ عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَكَعَ وَطَبَّقَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَهُمَا بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ فَبَلَغَ سَعْدًا فَقَالَ صَدَقَ أَخِي قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا وَأَخَذَ بِرُكْبَتَيْهِ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ هَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کوئی نماز پڑھائی، مجھے یہ یاد نہیں کہ اس میں کچھ کمی ہوگئی یا بیشی ؟ بہرحال ! جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً لَا أَدْرِي زَادَ أَوْ نَقَصَ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৭৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) مزدلفہ سے واپسی پر تلبیہ پڑھتے رہے اور فرمایا جس ذات پر سورت بقرہ کا نزول ہوا میں نے اسی ذات کو اس مقام پر تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ لَبَّى لَيْلَةَ جَمْعٍ ثُمَّ قَالَ هَاهُنَا رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ يُلَبِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو ماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص اپنا ایک بھتیجا حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہ میرا بھتیجا ہے اور اس نے شراب پی رکھی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہوا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ وَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ قُطِعَ فِي الْإِسْلَامِ أَوْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَجُلٌ أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا سَرَقَ فَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَادًا فَقَالَ بَعْضُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْ يَقُولُ مَا لَكَ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَنْتُمْ أَعْوَانُ الشَّيْطَانِ عَلَى صَاحِبِكُمْ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَلَا يَنْبَغِي لِوَالِي أَمْرٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ ثُمَّ قَرَأَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ قَالَ يَحْيَى أَمْلَاهُ عَلَيْنَا سُفْيَانُ إِمْلَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہوگا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جارہا ہوگا اور اگر وہ ایسا نہ ہو تو اہل جہنم کو دور ہی ہوجانا چاہئے اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى الْجَابِرِ عَنْ أَبِي الْمَاجِدِ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ فَقَالَ السَّيْرُ دُونَ الْخَبَبِ فَإِنْ يَكُ خَيْرًا تُعْجَلْ إِلَيْهِ وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے وہ وقت دیکھا ہے کہ جب تک ہماری صفیں مکمل نہیں ہوتی تھیں، نماز کھڑی نہیں ہوتی تھی اس لئے جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے، جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہاے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا تُقَامُ الصَّلَاةُ حَتَّى تَكَامَلَ بِنَا الصُّفُوفُ فَمَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت معدی کرب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابن مسعود (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے سورت طسم جو دو سو آیات پر مشتمل ہے، سنانے کی فرمائش کی، وہ کہنے لگے کہ یہ سورت مجھے یاد نہیں ہے، البتہ تم ان صاحب کے پاس چلے جاؤ جنہوں نے اسے خود نبی ﷺ سے یاد اور حاصل کیا ہے یعنی حضرت خباب بن ارت (رض) چناچہ ہم حضرت خباب بن ارت (رض) کے پاس آئے تو انہوں نے ہمیں وہ سورت پڑھ کر سنائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَقْرَأَ عَلَيْنَا طسم الْمِائَتَيْنِ فَقَالَ مَا هِيَ مَعِي وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ مَنْ أَخَذَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ قَالَ فَأَتَيْنَا خَبَّابَ بْنَ الْأَرَتِّ فَقَرَأَهَا عَلَيْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورت احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا اور میں اسے ایک تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی ﷺ کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یا انہیں نبی ﷺ کے دل کی بات معلوم ہوگئی ؟ اور راوی نے بتایا کہ وہ آدمی حضرت علی (رض) تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةً مِنْ الثَّلَاثِينَ مِنْ آلِ حم يَعْنِي الْأَحْقَافَ قَالَ وَكَانَتْ السُّورَةُ إِذَا كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ آيَةً سُمِّيَتْ الثَّلَاثِينَ قَالَ فَرُحْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَؤُهَا عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِي فَقُلْتُ مَنْ أَقْرَأَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقُلْتُ لِآخَرَ اقْرَأْهَا فَقَرَأَهَا عَلَى غَيْرِ قِرَاءَتِي وَقِرَاءَةِ صَاحِبِي فَانْطَلَقْتُ بِهِمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَيْنِ يُخَالِفَانِي فِي الْقِرَاءَةِ قَالَ فَغَضِبَ وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلَافُ قَالَ قَالَ زِرٌّ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا أُقْرِئَ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلَافُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَا أَدْرِي أَشَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَلِمَ مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالرَّجُلُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
طارق بن شہاب نے ایک مرتبہ حضرت ابن مسعود (رض) سے عرض کیا کہ اے ابو عبدالرحمن ! ایک آدمی نے آپ کو سلام کیا اور آپ نے اس کے جواب میں یہ کہا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے قریب سلام مخصوص ہوجائے گا، تجارت اتنی پھیل جائے گی کہ بیوی شوہر کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹائے گی اور رشتہ داریاں ختم ہوجائیں گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ أَخْبَرَنَا بَشِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ عَنْ طَارِقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَسْلِيمُ الرَّجُلِ عَلَيْكَ فَقُلْتَ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ تَسْلِيمُ الْخَاصَّةِ وَتَفْشُو التِّجَارَةُ حَتَّى تُعِينَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا عَلَى التِّجَارَةِ وَتُقْطَعُ الْأَرْحَامُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৭৮৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر یا عصر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا نماز کی رکعتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، لوگوں نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے سہو کے دو سجدے کر لئے اور فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جیسے تم بات یاد رکھتے ہو میں بھی یاد رکھتا ہوں اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّهْشَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ لَا قَالُوا فَإِنَّكَ صَلَّيْتَ خَمْسًا قَالَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَذْكُرُ كَمَا تَذْكُرُونَ وَأَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ
tahqiq

তাহকীক: