আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৪৯ টি
হাদীস নং: ৩৭৮৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سانپ کو مارے اسے سات نیکیاں ملیں گی، جو کسی مینڈک کو مارے اسے ایک نیکی ملے گی اور جو سانپ کو ڈر کی وجہ سے نہ مارے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ قَالَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرداران قریش کا نبی ﷺ کے پاس سے گذر ہوا، اس وقت نبی ﷺ کے پاس حضرت خباب (رض) عنہ، حضرت صہیب، بلال اور عمار (رض) بیٹھے ہوئے تھے، سرداران قریش انہیں دیکھ کر کہنے لگے اے محمد ﷺ کیا آپ ان لوگوں پر ہی خوش ہو ؟ اس پر قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئی " وانذربہ الذین یخافون ان یحشرو الی ربہم الی قولہ واللہ اعلم بالظالمین "
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ كُرْدُوسٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَرَّ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ خَبَّابٌ وَصُهَيْبٌ وَبِلَالٌ وَعَمَّارٌ فَقَالُوا يَا مُحَمَّدُ أَرَضِيتَ بِهَؤُلَاءِ فَنَزَلَ فِيهِمْ الْقُرْآنُ وَأَنْذِرْ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَى قَوْلِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৮৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا ہم خصی نہ ہوجائیں ؟ تو نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، بعد میں نبی ﷺ نے ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے کپڑوں کے عوض بھی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی،" اے اہل ایمان ! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کر رکھی ہیں تم انہیں حرام نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْتَخْصِي فَنَهَانَا عَنْهُ ثُمَّ رُخِّصَ لَنَا بَعْدُ فِي أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت ہم لوگ نبی ﷺ کے یہاں دیر تک باتیں کرتے رہے، جب صبح کو حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا آج رات میرے سامنے مختلف انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ان کی امتوں کے ساتھ پیش کیا گیا، چناچہ ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ صرف تین آدمی تھے، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی جماعت تھی، ایک نبی گذرے تو ان کے ساتھ ایک گروہ تھا اور کسی نبی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا، حتی کہ میرے پاس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا گذر ہوا جن کے ساتھ بنی اسرائیل کی بہت بڑی تعداد تھی، جسے دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے لوگ ہیں، میں نے پوچھا کہ پھر میری امت کہاں ہے ؟ مجھ سے کہا گیا کہ اپنی دائیں جانب دیکھئے، تو ایک ٹیلہ لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کہ اپنی بائیں جانب دیکھئے، میں نے بائیں جانب دیکھا تو افق لوگوں کے چہروں سے بھرا ہوا نظر آیا، پھر مجھ سے کہا گیا کیا آپ راضی ہیں ؟ میں نے کہا پروردگار ! میں راضی ہوں، میں خوش ہوں پھر مجھ سے کہا گیا کہ ان لوگوں کے ساتھ ستر ہزار ایسے بھی ہوں گے جو بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ سن کر عکاشہ بن محصن اسدی کھڑے ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اسے بھی ان میں شامل فرما، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شال کر دے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ تَحَدَّثْنَا لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَوْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ بِأُمَمِهَا وَأَتْبَاعُهَا مِنْ أُمَمِهَا فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ النَّفَرُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِهِ وَالنَّبِيُّ مَا مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَبْكَبَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ أَعْجَبُونِي قُلْتُ يَا رَبِّ مَنْ هَؤُلَاءِ فَقَالَ هَذَا أَخُوكَ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قُلْتُ يَا رَبِّ فَأَيْنَ أُمَّتِي قَالَ انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِذَا الظِّرَابُ ظِرَابُ مَكَّةَ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ قُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَبِّ قَالَ أُمَّتُكَ قُلْتُ رَضِيتُ رَبِّ قَالَ أَرَضِيتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ انْظُرْ عَنْ يَسَارِكَ قَالَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ فَقَالَ رَضِيتَ قُلْتُ رَضِيتُ قِيلَ فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَا حِسَابَ لَهُمْ فَأَنْشَأَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ أَحَدُ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ أَنْشَأُ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تَحَدَّثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ و حَدَّثَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ تَحَدَّثْنَا عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَذَكَرَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ والْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میدان منیٰ میں ایک سانپ کو دیکھ کر اسے مار ڈالنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ پیلو کی مسواک چن رہے تھے، ان کی پنڈلیاں پتلی تھیں، جب ہوا چلتی تو وہ لڑ کھڑانے لگتے تھے، لوگ یہ دیکھ کر ہنسنے لگے، نبی ﷺ نے پوچھا کہ تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ! ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ دونوں پنڈلیاں میزان عمل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنْ الْأَرَاكِ وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ فَجَعَلَتْ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّ تَضْحَكُونَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سورت احقاف کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، وہ ایک مختلف طریقے سے قرأت کر رہا تھا، دوسرا آدمی دوسرے طریقے سے اسے پڑھ رہا تھا جو اس کے ساتھی سے مختلف تھا اور میں اسے ایک تیسرے طریقے سے پڑھ رہا تھا جس پر وہ دونوں پڑھ رہے تھے، ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس پہنچے اور انہیں اس کی اطلاع دی، نبی ﷺ کو غصہ آیا، چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا اختلاف نہ کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ زر کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ نبی ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کی تلاوت اسی طرح کیا کرے جیسے اسے پڑھایا گیا ہے، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو اختلاف ہی نے ہلاک کیا تھا، حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا مجھے معلوم نہیں کہ یہ چیز نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی سے بیان فرمائی تھی یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُورَةَ الْأَحْقَافِ وَأَقْرَأَهَا رَجُلًا آخَرَ فَخَالَفَنِي فِي آيَةٍ فَقُلْتُ لَهُ مَنْ أَقْرَأَكَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي نَفَرٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكَ أَقْرَأْتَهَا إِيَّاهُ كَذَا وَكَذَا فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي عِنْدَهُ لِيَقْرَأْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ كَمَا سَمِعَ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالِاخْتِلَافِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِذَلِكَ أَمْ هُوَ قَالَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فَغَضِبَ وَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ وَقَالَ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ الِاخْتِلَافُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ اہل صفہ میں سے ایک صاحب کا انتقال ہوگیا، ان کی چادر میں دو دینار ملے، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ مَاتَ فَوَجَدُوا فِي بُرْدَتِهِ دِينَارَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيَّتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خواتین میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوئے ہیں، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا، ان میں سب سے بڑی عورت بولی یا رسول اللہ ! ﷺ کیا دو بچے بھیجنے والی بھی جنت میں جائے گی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دو والی بھی جنت میں جائے گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النِّسَاءَ فَقَالَ لَهُنَّ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ أَجَلُّهُنَّ امْرَأَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ قَالَ وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابن مسعود (رض) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اچانک ان کی نظر ایک سانپ پر پڑی جو دیوار پر چل رہا تھا، انہوں نے اپنی تقریر روکی اور اسے اپنی چھڑی سے مار دیا یہاں تک کہ وہ مرگیا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی سانپ کو مارے، گویا اس نے کسی مباح الدم مشرک کو قتل کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْديِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ قَالَ بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ مَرَّ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৭
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ یہ بندر اور خنزیر کیا یہودیوں کی نسل میں سے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے جس قوم کو بھی ملعون قرار دے کر ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کی نسل کو باقی نہیں رکھا، لیکن یہ مخلوق پہلے سے موجود تھی، جب یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور اس نے ان کی شکلوں کو مسخ کیا تو انہیں ان جیسا بنادیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَرَوْحٌ قَالَا حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْأَعْيَنِ الْعَبْدِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَهِيَ مِنْ نَسْلِ الْيَهُودِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَلْعَنْ قَوْمًا قَطُّ قَالَ رَوْحٌ فَمَسَخَهُمْ فَيَكُونَ لَهُمْ نَسْلٌ حَتَّى يُهْلِكَهُمْ وَلَكِنَّ هَذَا خَلْقٌ كَانَ فَلَمَّا غَضِبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْيَهُودِ مَسَخَهُمْ فَجَعَلَهُمْ مِثْلَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৮
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد، نبی ﷺ نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ ﷺ مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِمَوَاقِيتِهَا قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৭৯৯
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں جن میں مفصلات کی اٹھارہ سورتیں اور حم کی دو سورتیں شامل ہیں۔ حدیث نمبر ٣٧٩٠ اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي كَانَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِي عَشْرَةَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ والْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ تَحَدَّثْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى أَكْرَيْنَا الْحَدِيثَ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০০
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کردیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، بخدا ! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی ﷺ سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا، چناچہ اس نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کردیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کردیتے ہیں، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے ؟ اے اللہ ! تو فیصلہ فرما، چناچہ آیت " لعان " نازل ہوئی اور اس میں سب سے پہلے وہی شخص مبتلا ہوا (اسی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آگیا)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عَشِيَّةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ صَالِحًا لَأَسْأَلَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَحَدُنَا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ اللَّهُمَّ احْكُمْ قَالَ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ قَالَ فَكَانَ ذَاكَ الرَّجُلُ أَوَّلَ مَنْ ابْتُلِيَ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০১
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود (رض) کو بطن وادی سے جمرہ عقہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس کے بعد انہوں نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی ﷺ پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَمَى الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ قَالَ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০২
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ بھی اور حضرت ابوبکر و عمر (رض) کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৩
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غار میں تھے، وہاں نبی ﷺ پر سورت مرسلات نازل ہوگئی، ہم نبی ﷺ سے سن کر اسے یاد کرنے لگے، اچانک ایک سانپ اپنے بل سے نکل آیا، ہم جلدی سے آگے بڑھے لیکن وہ ہم پر سبقت لے گیا اور اپنے بل میں گھس گیا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا جیسے تم اس کے شر سے بچ گئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ فَنَزَلَتْ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا قَالَ فَإِنَّا نَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ مِنْ جُحْرِهَا فَابْتَدَرْنَاهَا فَسَبَقَتْنَا فَدَخَلَتْ جُحْرَهَا فَقَالَ وُقِيَتْ شَرَّكُمْ وَوُقِيتُمْ شَرَّهَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ قَالَ وَإِنَّا لَنَتَلَقَّاهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৪
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کلمات تشہد سکھائے جن کا ترجمہ یہ ہے کہ تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جب تم اس طرح کر چکو تو تمہاری نماز مکمل ہوگئی، اب کھڑے ہونا چاہو تو کھڑے ہوجاؤ اور بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُخَيْمِرَةَ قَالَ أَخَذَ عَلْقَمَةُ بِيَدِي وَحَدَّثَنِي أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخَذَ بِيَدِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ عَبْدِ اللَّهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ قَالَ قُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ قَالَ زُهَيْرٌ حَفِظْتُ عَنْهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَإِذَا قَضَيْتَ هَذَا أَوْ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا فَقَدْ قَضَيْتَ صَلَاتَكَ إِنْ شِئْتَ أَنْ تَقُومَ فَقُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَقْعُدَ فَاقْعُدْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৫
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کرلیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ بُيُوتَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৮০৬
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابو جہل مارا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس اللہ کا شکر جس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت بخشی۔
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَتَلَ أَبَا جَهْلٍ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَصَرَ عَبْدَهُ وَأَعَزَّ دِينَهُ
তাহকীক: